کھلاڑی کم عمر ، کارنامے بڑے

(Rafi Abbasi, Karachi)
کوہ پیمائی،تیراندازی، ایتھلیٹک، ویٹ لفٹنگ، اسکواش، شطرنج کے کھیل میں
کارہائے نمایاں انجام دیئے

پاکستان کے نوجوانوں کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتیں ودیعت کی ہیں۔مختلف کھیلوں میں ان کے کارنامے اکثرو و بیشتر دنیا کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ملک کے بچے بھی ان سے پیچھے نہیں ہیں، وہ بھی انتہائی صغیر سنی میں ملک و قوم کا نام روشن کررہے ہیں۔پاکستان کی ایک بچی ، مدیحہ غفور،ہالینڈ کی’’اسپرنٹرکوئین‘‘، سیلینا خواجہ دنیا کی کم سن ترین خاتون کو ہ پیما،مہک گل شطرنج کے کھیل میں عالمی ریکارڈ قائم کرچکی ہیں۔ ایسے ہی چند کم عمر بچوں کا تذکرہ نذر قارئین ہے-
 

مسکان آفریدی، کم سن تیر انداز
خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والی15سالہ مسکان آفریدی کا شمار دنیا کی کم عمر تیراندازوں میں ہوتا ہے ، یہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی اس کھیل میں پہلی خاتون کھلاڑی ہیں۔ ملکی و علاقائی سطح کے کئی مقابلوں میں حصہ لیا اور ان گنت انعامات و اعزازات حاصل کیے۔ انہوں نے خیبر پیس گیمز اور گورنر یوتھ اسپورٹس میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے سونے کے تمغے جیتے ۔ رواں سال جنوری میں تیر اندازی کی قومی چیمپئن شپ ،خیبر پختون خواہ میں قیوم اسپورٹس گراؤنڈ پشاور میں منعقد ہوئی ، جس میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ ان کے علاقے میں تیر اندازی کی سہولتیں ناپید ہیں۔ ٹریننگ کے لیے روزانہ پشاور جانا ان کے لیے ناممکن ہے۔ فاٹا تیراندازی فیڈریشن کے مطابق، قبائلی علاقوں میں اس کھیل کے آٹھ کھلاڑی ہیں جن میں سے چار مرد اور چار خواتین تیر اندازی سیکھ رہی ہیں لیکن ضروری آلات اور دیگر سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے وہ قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لینے سے محروم ہیں۔ مسکان آفریدی اس کھیل میں بہت محنت کررہی ہیں، قومی چیمپئن شپ کے بعد ان کی توجہ ایشین گیمز ، دولت مشترکہ ، اولمپکس اور عالمی چیمپئن شپ پر مرکوز ہے۔


مدیحہ غفور
پاکستانی نژاد ولندیزی ایتھلیٹ، مدیحہ غفور کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری کے بلوچ خاندان سے ہے۔ ان کے دادا لعل بخش رند سندھ کے بزرگ سیاست داں تھے۔ ان کے والدین ہالینڈ منتقل ہوگئے تھے جہاں 1992 میں مدیحہ غفور کی پیدائش ہوئی۔اسکول کے زمانے سے ہی انہیں ایتھلیٹک کے کھیل کا شوق تھا۔ 10سال کی عمر میں انہوں نے اس کھیل کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنا شروع کی اور 13سال کی عمر میں ایمسٹرڈیم کے اولمپک اسٹیڈیم میں ہالینڈ کے ایتھلیٹک کوچ ، ارٹاروزاسٹروئیک نے ان کی ٹریننگ شروع کی، جس کے بعد انہوں نے کلب کی سطح پر منعقد ہونے والے دوڑ کے مقابلوں میں میں حصہ لیا، وہ اس کھیل میں ہالینڈ کی کمسن ترین کھلاڑی تھیں۔ 19سال کی عمر میں انہیں ہالینڈ کی قومی ایتھلیٹکس ٹیم میں شامل کیا گیا ۔ اسی سال انہوں نے ایسٹونیا میں منعقد ہونے والی یورپین ایتھلیٹک چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور 400میٹر کی ریلے دوڑ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا، اس کے کچھ دنوں بعد مدیحہ نے یورپین ایتھلیٹک انڈور چیمپئن شپ میں ہالینڈ کی نمائندگی کی اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ 2016کے ریوڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے اولمپکس گیمز میں ہالینڈ کی ایتھلیٹکس ٹیم اسکواڈ کا حصہ بنیں اور 4x400میٹر ریس میں حصہ لیا۔وہ ہالینڈ کی ’’اسپرنٹرکوئین‘‘ کہلاتی ہیں۔ مدیحہ اردو زبان سے نابلد ہیں ، لیکن ہالینڈ میں رہتے ہوئے وہ پاکستان کی مقامی زبان، بلوچی روانی کے ساتھ بولتی ہیں۔


ٹوئنکل سہیل
19سالہ خاتون ویٹ لفٹر، ٹوئنکل سہیل کا تعلق لاہور کے عیسائی گھرانے سے ہے، ان کی بہن سبیل سہیل بھی ان کے ساتھ اس کھیل میں حصہ لیتی ہیں، اور کئی بین الاقوامی مقابلوں میں دونوں بہنیں ایک ساتھ شرکت کرچکی ہیں۔ٹوئنکل پہلی پاکستانی خاتون ویٹ لفٹر ہیں جنہوں نے کسی بین الاقوامی مقابلے میں پہلی بار سونے کا تمغہ حاصل کیا۔یہ بچپن میں سائیکل چلایا کرتی تھیں اور انہیں سائیکلسٹ بننے کا جنون کی حد تک شوق تھا، لیکن ان کے کوچ، راشد ملک نے انہیں ویٹ لفٹنگ کے کھیل کی طرف راغب کیا اور اس میں ان کی تربیت کی۔ 2015میں جب وہ صرف 14سال کی تھیں، انہیں اومان میں منعقد ہونے والی ایشین بنچ پریس چیمپئن شپ کے ویٹ لفٹنگ کے قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ یہ مقابلے مسقط کے ’’سلطان قابوس اسٹیڈیم ‘‘میں منعقد ہوئے جس میں دنیا کے بارہ ممالک کے ویٹ لفٹرز نے شرکت کی تھی۔انہوں نے انڈر 21میں 47 کلوگرام کٹیگری کے جونئیر ایونٹ میں فتح حاصل کی۔ اس چیمپئن شپ میں بھارت اور ترکمانستان کی ویٹ لفٹرز ،دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرسکیں۔دسمبر 2017میں انہوں نے سنگاپور میں منعقد ہونے والی اوشیانا پیسیفک پاور ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور 70کلوگرام کٹیگری میں سونے کا تمغہ حاصل کیا ۔ وہ دو ممالک میں سبز ہلالی پرچم لہرانے والی پاکستان کی پہلی کم عمرخاتون ویٹ لفٹر بنیں۔


سنیہا غفور
15سالہ سنیہا غفورکا تعلق پاکستان کے ویٹ لفٹر گھرانے سے ہے ،وہ ملک کی کم عمر ایتھلیٹ ہیں۔اس خاندان کے عبداللہ غفور اور اشتیاق غفور، ملک کے نام ور ویٹ لفٹر تھے۔ عبداللہ غفور نے2010میں ڈھاکا میں منعقد ہونے والے جنوبی ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کر کے کانسی کا تمغہ جب کہ اسی سال نئی دہلی میں منعقد ہونے والے دولت مشترکہ گیمز اور چین میں ہونے والے ایشین گیمز میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ سنہیا، پاکستان کی دوسری خاتون ویٹ لفٹر ہیں جنہوں نے اس کھیل میں بیرون ملک ، پاکستان کا نام روشن کیا۔دسمبر 2017میں پاکستانی ویٹ لفٹرز کے آٹھ رکنی دستے کے ساتھ اوشیانا پیسفک پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیا۔ اس مقابلے کا انعقاد سنگاپور کے کنونشن سینٹر میں کیا گیا تھا، جس میں ان کے ہم راہ سیبل سہیل نے 47کلوگرام، ٹوئنکل سہیل نے 72کلوگرام،رابعہ رزاق 84کلوگرام، محمد احمد خان105کلوگرام، سید ندیم ہاشمی105کلوگرام اور محمود ہیرا نے 120کلوگرام کٹیگری مقابلوں میں شرکت کی۔ اس چیمپئن شپ میں دنیا کے بارہ ممالک کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ سنہیا نے ان مقابلوں میں فقیدالمثال کارکردگی پیش کی اور انتہائی کم عمری میں اپنی جسامت سے زائد وزن اٹھا کر تماشائیوں کو حیران کردیا اور چیمپئن شپ میں اسکواٹ 115کلوگرام، بنچ پریس 55کلوگرام، ڈیڈ لفٹ110کلوگرام اور مجموعی ویٹ280کلوگرام کے مقابلوں میں 4طلائی تمغے جیت کے دو نئے قومی ریکارڈ قائم کیے۔


مہک گل
2002 میں پیدا ہونے والی مہک گل، دنیا کی کم عمر ترین شطرنج کی کھلاڑی ہیں جو چھ سال کی عمر سےاس کھیل میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے والد محمد زاہد کا شمار بھی ، شطرنج کے بہترین قومی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مہک گل کی شطرنج کے کھیل میں تربیت کے لیے کوچ کے فرائض انجام دیئے ہیں۔ 2006میں صرف چار سال کی عمر میں انہوں نے اپنے اسکول میں منعقد ہونے والے ’’لٹل ماسٹر چیس ٹورنامنٹ ‘‘ میں حصہ لے کر تیسری پوزیشن لی تھی۔2012ء میں صرف 45سیکنڈ میں شطرنج کی بساط بچھانے اور مہرے رکھنے کا عالمی ریکارڈ بنانے کے علاوہ ’’گیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘ میں اپنا نام ثبت کرایا۔اسی سال ترکی میں منعقد ہونے والے چالیسویں چیس اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔وہ پنجاب میں منعقد ہونے والی چیس چیمپئن شپ میں تیسری اور کراچی میں منعقد ہونے والی قومی چیمپئن شپ کے مقابلے میں پانچویں پوزیشن حاصل کرچکی ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں آذربائیجان میں منعقد ہونے والے ورلڈ چیس اولمپیاڈ میں انہوں نے پاکستان کے پانچ رکنی دستے کے ساتھ شرکت کی تھی۔اس ٹورنامنٹ میں، مہک نے 11میں سے چھ مقابلوں میں فتح حاصل کرکے ورلڈ ویمن کینڈیڈیٹ ماسٹر کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی پہلی کم عمر ترین کھلاڑی ہیں،جنہوں نے یہ اعزاز جیتا ہے۔اس ایونٹ میں150 ممالک کے شاطروں نے شرکت کی تھی جن میں سے82 کھلاڑیوں کو ورلڈ ویمن کینڈیڈیٹ ماسٹر کے اعزاز سے نوازا گیا تھا جن میں مہک گل بھی شامل ہیں۔ سولہ سالہ پاکستانی کھلاڑی کا ہدف ویمن چیس چیمپئن شپ کا عالمی اعزاز ہے، اگر وہ اسی طرح اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی رہیں تو یہ ہدف حاصل کرنا ان کے لیے ناممکن نہیں ہوگا۔


ماریہ طور پاکئی وزیر
ماریہ طور پاکئی وزیر 22نومبر 1990ء کو جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ انہیں بچپن سے ہی مختلف کھیلوں کا شوق تھا لیکن وزیرستان کی قبائلی روایات کے مطابق خواتین کے کسی بھی کھیل میں برقعے کے بغیر اور ناکافی لباس میں حصہ لینا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ابتداء میں انہوں نے لڑکوں کے لباس اور حلیے کے ساتھ ویٹ لفٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا اور اپنے ہم عمر لڑکوں کو متعدد ٹورنامنٹس میں شکست دی، بعدازاں ان کے والد نے انہیں اسکواش کے کھیل سے مربوط کردیا،ماریہ طور پاکئی ’’گنگش خان‘‘ کے نام سے اسکواش کے کھیل کی تربیت حاصل کرکے، علاقائی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیتی رہیں، لیکن جب اسکواش کی قومی ٹیم میں شمولیت کے لیے ان سے پیدائشی سرٹیفکٹ طلب کیا گیا تو یہ راز افشاء ہوا کہ وہ لڑکا نہیں ، لڑکی ہیں۔2007ء میں 17 سال کی عمر میں، انہوں نے پاکستان آرڈننس فیکٹری کے زیر اہتمام ، عالمی اسکواش پلیئرز ایسوسی ایشن میں حصہ لیا جس کا انعقاد جہانگیر خان اسکواش کمپلیکس، واہ کینٹ میں کیا گیا تھا۔انہوں نے اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل مرحلے تک رسائی حاصل کرلی اور عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر انہیں دنیا کی کم عمر ترین کھلاڑی کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اسی سال انہیں صدر پاکستان کی طرف سے ’’سلام پاکستان کے ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ لیکن اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا ان کے لیے جرم بن گیا، گھر واپسی پر،علاقے میں اس پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ وہ تین سال تک اپنے گھر کے ایک کمرے میں محبوس رہیں۔ اس دوران وہ گھر کی دیواروں پر ریکٹ اور گیند کی مدد سے،اسکواش کھیلنے کی مشق کرتی رہی، اس دوران انہوں نے انٹرنیٹ پر اسکواش کی عالمی تنظیموں سے خط و کتابت جاری رکھی۔ان کی کاوش رنگ لائی اور 2011ء میں انہیں اسکواش کے عالمی چیمپئن جوناتھن پاور نے اپنی شاگردی میں لے لیا ، جس کے بعد ان کے کھیل میں مزید نکھار آیا، لیکن ان سے کوچنگ کے لیے، انہیں اونٹاریو کینیڈا کا سفر کرنا پڑا۔ 2012ء میں پاکستان کی نمبر ون خواتین اسکواش کی کھلاڑی بن گئیں۔اسکواش کے 30ملکی و بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا اور سے 20مقابلوں میں وہ فاتح رہیں۔ 2013ء میں کینیڈا میں ’’ناش کپ‘‘ کا ٹائٹل جیتا، جس کے بعد وہ خواتین کی عالمی درجہ بندی میں تیسرے جب کہ پاکستان میں پہلے نمبر پر آگئیں۔ پاکستان میں منعقدہ ورلڈ اسکواش ایسوسی ایشن ورلڈ ٹور کے ایونٹ بحریہ ٹاؤن میں منعقد ہوئےتو ماریہ نے عالمی انٹرنیشنل ویمنز اسکواش چیمپئن شپ کی ٹرافی جیت لی۔ 2012ء میں کینیڈا کی خاتون اول لورین ہارپر نے ’’وائس آف ہوپ‘‘کا ایوارڈ دیا۔وہ 2016ء کی عالمی درجہ بندی میں 56ویں جب کہ قومی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔


طورسم خان
27 ستمبر 1951ء کوپشاور میں پیدا ہونے والے طورسم خان نے، اسکواش کی تربیت اپنے والد روشن خان سےحاصل کی۔، 1967ء میں صرف 16سال کی عمر میں انہوں نے قومی اسکواش چیمپئن شپ میں حصہ لیا، جس کے وہ فاتح رہے۔ اسکواش کے قومی چیمپئن بننے والے پاکستان کے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے ۔1971ء میں عالمی ایمیچر اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1972ء میں برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتی، اس میں ان کا کوارٹر فائنل میں ہم وطن کھلاڑی قمر زمان سے مقابلہ ہوا، 1974ء میں شمالی انگلستان اوپن چیمپئن شپ، یو ایس اوپن چیمپئن شپ اور ویلش اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے ٹائٹل جیتے۔28نومبر 1979ء کووہ آسٹریلیا کے شہر ایڈی لیڈ میں آسٹریلین اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کا میچ کھیلتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سےاسکواش کورٹ میں گرگئے، اس سے قبل کہ انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا جاتا،انتقال کرگئے، اس وقت ان کی عمر صرف 27سال تھی۔ یہ اسکواش کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جب کوئی کھلاڑی، کھیل کے دوران اسکواش کورٹ میں فوت ہوا تھا۔ طورسم خان 1979ء میں اسکواش کی عالمی رینکنگ میں 13ویں نمبر پر تھے، اور اسی سال وہ عالمی اسکواش پلیئرز ایسوسی ایشن کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔


سیلینا خواجہ
ایبٹ آباد کی نو سالہ بچی سیلینا خواجہ ، 21فروری2018کو ہنزہ کی وادی شمشال کی 5675میٹر(17 ,025فٹ )بلندچوٹی سر کرکے دنیا کی سب سے کم عمر خاتون کوہ پیما بن گئی ہیں۔اس مہم میں ان کے ہم راہ ان کے والد، یوسف خواجہ، گائیڈ وزیر بیگ، پورٹر، عارف بیگ اور ٹیم کے دوسرے ساتھی شامل تھے۔ پاکستانی کوہ پیماؤں کی تنظیم کی طرف سے سیلینا کو ’’پہاڑوں کی شہزادی‘‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔ 19اکتوبر2008میں پہاڑوں کے شہر ایبٹ آباد میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے پہاڑوں پر چڑھنے کا شوق تھا اور شوق کو ان کے والد یوسف خواجہ نے مہمیز دی اور ان کی تربیت، کوہ پیما کے طور پر کی۔ آٹھ سال کی عمرمیں پہنچنے تک سیلینا نے 45مرتبہ 3000میٹر بلند ’’میراں جان چوٹی‘‘ کی بلندیوں پر چڑھ چکی ہیں جب کہ تین بار4000 میٹر بلند ’’مکڑا چوٹی ‘‘ سرکرچکی ہیں۔ پہاڑی بلندیوں کی طرح ان کے عزائم بھی انتہائی بلند ہیں۔ اس سال وہ مزید چوٹیوں کو سر کرنا چاہتی ہیں جن میں6050میٹر’’منگلنگ سر‘‘،7027میٹر ’’سپانٹک‘‘ اورآخر میں 8051میٹربلند ’’براڈپیک‘‘ کی چوٹی کو سر کرنا چاہتی ہیں۔ اس چوٹی کا شمار دنیا کی 12ویںبلند ترین چوٹیوں میں ہوتا ہے۔ 2019میں جب ان کی عمر 10سال اور چند مہینےہوگی، ان کا ارادہ ماؤنٹ ایورسٹ کی مہم جوئی کا ہے۔ اگر سیلینا اسے سر کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو وہ بھارتی کوہ پیما ’’مالواتھ پورنا‘‘ کا ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنے کا عالمی ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گی جنہوں نے یہ کارنامہ 2010میں13سال کی عمر میں انجام دیا تھا۔

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
13 May, 2018 Views: 3572

Comments

آپ کی رائے
Pakistan is home to a lot of talent. Many children of this nation have gone on to do great things and have made their mark around the globe. One such celebrated example of talent was Arfa Karim, one of the youngest Microsoft Certified professionals in the world