علمائے بد عمل (الحق المبین کی روشنی میں)

(Peer Tabasum, Narowal)

اﷲ تبارک و تعالیٰ بہت ہی مہربان اور بے انتہا رحم والا ہے اس کو اپنی مخلوق بہت پیاری ہے جو انسان اُس کی مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں اُن کو وہ پسند فرماتا ہے اور جو اُس سے بُری طرح پیش آتے ہیں وہ اُس کی ناراضگی مول لیتے ہیں ۔ چنانچہ ایثار و ہمدردی ،عفو و درگزر ،رحم و کرم ،جود و سخا وغیرہ اچھے اخلاق کو ہر مذہب و ملت میں نیکیاں کہا گیا ہے او ر خود غرضی و ایذارسانی ،ظلم و ستم ،مکر و دغا ،لو ٹ کھسوٹ کو سب نے گناہ ،معاصی اور پاپ وغیرہ سے موسوم کیا ہے ۔

اگر کوئی خوش نما باغ لگائے تو جو شخص اس باغ کے پودوں کی دیکھ بھال کرے اُن کو صاف ستھرا پانی دے اور اُن کی بیماریوں کے دفع کرنے کی تدابیر کرے وہ مالک باغ کی خوشنودی حاصل کرے گا۔ برخلاف اس کے جو اُن پودوں کی بلا وجہ شاخیں تراشے ،پتے نوچے ،کھال چھیلے اور اُن کو کوڑے کرکٹ یا ایسی گندگیوں سے آلودہ کرے جو اُن کی شادابی کو خراب ،پھلوں کو ناقص اور بیجوں کو ناکارہ کر کے باغ کو گھناؤنا بنادے وہ باغ والے کے غصے کو بیدار کرے گا۔ مالکِ باغ کی خوشنودی یا غصے میں کمی و بیشی علی الترتیب ان دونوں شخصوں کے اُن اچھے بُرے افعال کے نتائج کے لحاظ سے واقع ہو گی جو اُن سے باغ کی آرائستگی یا بربادی کیلئے ظہور میں آئے ہیں۔

انسان اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور جو اُس کی ظاہری و باطنی خوش حالی ،آرام و آسائش اور فلاح چاہتا ہے اور اس سے ہمدردی و شفقت کا اظہار کرتا اور عملاً ثبوت دیتا ہے ،اس کا سمجھدار انسانوں نے ہمیشہ احترام کیا ہے جو اُس کی مخلوق کو تکلیف دیتا ،ستاتا اور تباہ و برباد کرتا وہ ہر معاشرے میں نہ صرف بُرا سمجھا جاتا ہے ،بلکہ مختلف قوانین کی رُو سے ،ایسے جرائم کا مرتکب بلحاظ نوعیت جرم ،سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔بلاوجہ قتلِ عمد کی سزا ہر قوم میں کافی سخت رکھی گئی ہے ۔لیکن مضرات جرم کے وسیع ہونے کی وجہ سے فتنہ و فسا د پھیلانا قتلِ عمد سے بھی شدید جرم ہے ۔کماقولہٗ تعالیٰ:’’فتنہ قتل سے بھی زیادہ شدید ہے ۔‘‘(البقرہ آیت نمبر191)

لیکن ان سب کے مقابلے میں وہ انسان وہ افراد اور وہ گروہ درجہ بدرجہ سخت ترین جرموں کے مرتکب اور بد ترین سزا کے مستحق ہوں گے جن کے ہاتھوں کسی قوم کی دولتِ ایمان لُٹی ،آخرت برباد ہوئی اور وہ دیدارِ رحمان کی دولت سے ہمیشہ کیلئے محروم ہو گئے ۔ نعوذ باﷲ ،یہ خلاف عقل نہیں کیوں کہ کسی کے مال اور جسم کو برباد کرنا اگر چہ کافی سنگین جرم ہے لیکن کسی فرد یا قوم کی آخرت کو برباد کرنا اور اس کو مسلسل تکلیفوں میں مبتلا کردینا بہت ہی بڑا گناہ ہے ۔دُنیائے فانی کی زندگی تھوڑے عرصے میں بعد موت ختم ہو جاتی ہے اور حیاتِ اُخروی کے عذاب شدید اور باقی رہنے والے ہیں ۔اس جُرم کا مرتکب وہی ہو سکتا ہے جو حقیقی ایمان سے بے بہرہ ہو اور لوگوں سے اپنا دنیاوی مفاد ،مال و دولت اور عزت و شہرت حاصل کرنے کو ہی ایمان سمجھتا ہے ۔چنانچہ قرآن مجید اور احادیث شریف میں منافقین اور علماء سُو ء کو جن کے ہاتھوں قوم میں فتنہ و فساد پھیلتا اور اس کی روحانی صلاحیتیں برباد ہو جاتی ہیں شدید ترین عذاب کا سزاوار کہا گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ۔اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔’’بے شک منافقین کیلئے جہنم کے طبقات میں سے نیچا طبقہ ہے۔‘‘(النساء آیت نمبر145)

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :’’یعنی مجھے سب سے زیادہ اپنی اُمت کیلئے علماء سے خوف ہے ۔(جن کا ظاہر اچھا اور باطن خستہ خراب ہے۔)‘‘(بخاری و مسلم)

دوسری جگہ ارشاد ہے :’’میں سب سے زیادہ اپنی اُمت کے بارے میں بُرے علماء سے ڈرتا ہوں۔‘‘(بخاری)

کسی قوم کی جسمانی ،اخلاقی اور روحانی ترقی یا تنزلی کا انحصار عموماً قوم کے ان افراد پر ہوتا ہے جن سے کسی نہ کسی حد تک اس کی رہنمائی متعلق ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کی رہنمائی کی باگ ڈور شروع ہی سے علمائے اُمت کے ہاتھوں میں رہی ہے ۔ جب تک یہ گروہ پاک باطن اور صالح رہا مسلمان برابر ترقی کرتے رہے ۔ لیکن مرور زمانہ کے ساتھ جب علمائے اُمت دُنیاوی زندگی ،مال و دولت اور لذات جسمانی کی طرف مائل ہوگئے تواُن کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں بھی اِن مہلکات نے گھر کر لیا اور رفتہ رفتہ وہ تمام اخلاقی اور روحانی خوبیوں سے دو ر جا پڑے ۔ آج بھی یہ جماعت کافی حد تک مسلمانوں کی رہنمائی اور تنزلی کی ذمہ دار ہے اور اس میں ایسے افراد بہت ہی کم ہیں جن کے متعلق رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ہے ۔’’میری اُمت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔‘‘(بخاری)

واقعی مولوی بننے کیلئے مذہبی کتابوں کا علم حاصل کر لینا ہی کافی نہیں بلکہ عالم ربانی کیلئے ان تمام اوامر پر خلوص نیت اور استقامت سے عمل کرنا اور ان تمام نواہی سے مردانہ وار اجتناب کرنا اشد ضروری ہے جن کیلئے کلام الہٰی اور احادیث نبوی ﷺ تاکید کرتے ہیں ۔دُنیاکی محبت نے علماء عہد کو عموماً ناکارہ کر دیا ہے ۔انکے قوائے عمل جواب دے چکے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے ۔ترجمہـ’’بھلا دیکھ تو جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا اور اﷲ تعالیٰ نے علم ہوتے ساتے اسے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پٹی چڑھادی تو کون اسے راہ پر لائے اﷲ کے بعد تو کیا تم دھیان نہیں کرتے ۔‘‘(الجاثیہ آیت نمبر23)

علماء سُو ایسے ہیں کہ وہ اکلِ حلال، صدقِ مقال، ریاضت و مجاہدہ اور ذکر و فکرِ الہٰی کی طرف مطلق راغب نہیں ۔رسول اﷲ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی طرزِ زندگی کو سامنے رکھ کر اگر وہ اپنے حالات کا انصاف سے جائزہ لیں تو ان کو اپنی غلط روی کا احساس ہو جائے گا ۔ نیکوں کی سی صورت بنا لینا ،خاص قسم کے کپڑے پہن لینا اور چند آیات کلام اﷲ و احادیث وغیرہ کو دُنیا کمانے کی غرض سے یاد کر لینا ۔آج کل اس گروہ کا خاص مشغلہ ہے ۔

اے مسلمانو! تاج دارِ مدینہ ﷺ نے ان قطب نما مولویوں کو اپنی اُمت کے ہلاک کرنے والے خونخوار بھیڑیوں سے تعبیر فرمایا ہے ۔ احادیث میں وارد ہوا ہے کہ ۔’’ان کے ظاہری کام انبیاء کے مانند ہوں گے اور دل مثل بھیڑیوں کے ۔میں ان سے بیزار ہوں وہ مجھ سے بے تعلق ہیں۔‘‘

یہ اپنی اغراض کیلئے رحمت اللعالمین ﷺ کی اُمت کو ہلاک کرنے میں بھیڑیوں سے کسی طرح کم نہیں ۔ ان میں یہ اہلیت نہیں کہ کسی کے ساتھ ہمدردی کریں ۔اس گروہ کی داستان بہت طویل اور دردناک ہے ۔تاریخِ انسان کی ابتداء سے اس وقت تک ان کی درازدستیاں اور فتنہ پر دازیاں یکساں اخلاق انسانی کو برباد کرنے والی ثابت ہوتی چلی آئی ہیں۔سابقہ اُمتوں کی بربادیوں میں انہی جیسے بُرے علمائے مذہب کا ہاتھ رہا ہے ۔حضرت زکریا ،عیسیٰ اور یحییٰ علیہم السلام کے خلاف فتوے دینے والے اُس وقت کے علمائے سوء ہی تو تھے ۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:’’وہ جن پر توریت کا بوجھ رکھا گیا مگر انہوں نے اسے نہ اٹھایا ان کا حال اس گدھے کاسا ہے جس پر ، کتابیں لدی ہوں ،کیا بری مثال ہے ان کی جنہوں نے اﷲ کی آیتیں جھٹلائیں اور اﷲ ظالم کو ہدایت نہیں کرتا۔‘‘(الجمعہ آیت نمبر5)

عراق و شام کی بربادی ،ترکستانؔ کی تباہی اور افغانستان کی زبوں حالی یہ سب انہیں بے برکت ہستیوں کی کار فرمائی کا نتیجہ ہے ۔

نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں اسلام میں مقلد ، غیر مقلد ،شیعہ سُنّی ،نیچری وغیرہ کا ایک فرقہ بھی نہ تھا وہ صرف مسلمان تھے اور خلوص،محبت، اتفاق، ہمدردی، اتحاد قلبی اور جمیع اعمالِ شائستہ اور اخلاق حمیدہ سے متصف تھے ۔لیکن آج اسلام میں یک جہتی مفقود ہے ۔کیوں اور کس کے ہاتھوں اسلام کے اس قدر ٹکڑے ہوئے ہیں۔۔۔؟کیا نادان اور بے علم مسلمانوں کے ہاتھوں ۔۔۔۔؟ نہیں، ہر گز نہیں ،اسلامی دُنیا میں اب امن و سُکون کا وجود نا پید ہے ۔مذہبی تنگ نظری ،حسد کے آتشیں خیالات کو ان کی ہی ناقص ذہنیت نے مشتعل کر کے کفر کی مضطرب لہروں سے زریں اسلام کی پر کیف فضا کو گندہ اور تباہ کر دیا اور اُن کے ظاہری ہمدردانہ اور محبت آمیز برتاؤں سے آج بھی اسلام کو بُری طرح نقصان پہنچ رہا ہے ۔(الحق المبین)

مسلمانو!جو تمہاری نظروں میں دہکتے ہوئے انگارے معلوم ہوں ان پر پانی ڈالکر بجھا دینا تمہارا فرضِ اولین ہے ۔ورنہ اُنکی صحبت سے تم جل کر خاکستر ہو جاؤ گے ۔ انگارے کبھی یاقوت نہیں ہو سکتے ۔ غلط رہنمائی اور مادیت کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کر دینے سے اُن کو اور اسلام کو کبھی فائدہ پہنچنے کی اُمید نہیں ۔کیونکہ خود غرضانہ مقاصد سے زیادہ کوئی چیز مسلمانوں کا شیرازہ پراگندہ نہیں کر سکتی ۔ اگر بہ نظرِ غور دیکھا جائے تو اُنہیں اسلام سے زیادہ اپنی ذات سے ہمدردی ہے ۔اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ترجمہ :’’بھلا دیکھ تو جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا تو کیا تو اس کا ذمہ لے گا یا تجھے گمان ہے کہ ان میں بہت سے کچھ سنتے یا عقل رکھتے ہیں وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے ،بلکہ وہ تو ان سے بھی بڑھ کر گمراہ ہیں۔‘‘(الفرقان آیت نمبر44-43)

حقیقت کا متلاشی جب صراط المستقیم کی تلاش میں نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسے چورا ہے پر پاتا ہے جس کے ہر راستے پر ایک مقتدر مولوی اپنے علم و عقل کے زعم میں اس انداز سے ڈٹا ہوا نظر آتا ہے گویا سراسر اُس کی ملکیت ہے ۔پھر یہ ننگِ اسلاف اور دنیا دونوں کا پرستار اُس کو یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ ۔’’اے ایمان والو ! خوب کان کھول کر سُنو اور یہی ایک راستہ جس پر میں کھڑا ہوں جادۂ مستقیم ہے اور باقی دوسرے علماء جو تم دوسرے راستوں پر کھڑے دیکھتے ہو ، آیات بینہ کی رُو سے سب کے سب حق سے دور اور کافر مطلق ہیں ۔متلاشیٔ حق یہ سُن کرششدررہ جاتا ہے ۔اُس کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کدھر جائے اور وہ خیال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف کلام اﷲ کے صریح استدلال سے کفر کے فتوے علی الاعلان دینے والے خود گمراہ اور جاہل ہیں۔‘‘

مسلمانو۔۔۔! تم کسی کی نہ سُنو ۔ اگر تم کو حق کی طلب ہے تو رسول اﷲ ﷺ کی اتباع کرو۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اپنے راسخ العلم اسلاف کی زندگیوں اوراُن کی تعلیم سے سبق لیکر دُنیا کی محبت کو بہ فرصتِ اولین دل سے نکال ڈالو۔

حضرت عبد اﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ راوی ہیں کہ :’’رسول اﷲ ﷺ نے ایک سیدھا خط ہمارے سامنے کھینچا اور فرمایا یہ راہ (عرفان ) اﷲ کی ہے ۔پھر اس کے دائیں بائیں خطوط کھینچ کر ارشاد فرمایا کہ یہ ٹیڑھے طریقے ضلالت ہیں ان پر شیطان مسلط ہے ۔صرف یہ ایک میرا سیدھا راستہ ہے ۔اُس کی پیروی کرو۔‘‘(احمد ،النسائی ،دارمی)

متلاشیٔ حق کو چاہیے کہ ان عَلَم بردارانِ مذہب کی نفسانیت اور کشاکشِ بیجا کو دیکھے اور ان سے دور رہے ۔ قرآنی تعلیم پر عمل کرنے کیلئے اگر کوئی با عمل عالم ربانی جس کو دُنیا سے نفرت ہو ،مل جائے تو صرف اُس کی صحبت سے دینی فہم حاصل کرے۔ جیسا کہ ابو داؤد میں ہے ’’جس شخص کو اﷲ تعالیٰ کے قرب کی آرزو ہو وہ فقراء کی صحبت میں بیٹھے۔‘‘

عہدِ حاضر کی عام مولویت کی ذہنیت سے اجتناب ہی مفید ہے ۔اس کے ہاتھوں وہ قوم جو وحدۂ لاشریک کی پرستار ،عمدہ اخلاق اور روحانی خوبیوں سے مالا مال تھی ۔لُٹ گئی اب اس کے پاس سوائے نام کے کچھ نہ رہا ۔ آج کل کا نام نہاد مولوی بظاہر کیسا ہی زاہد ،متقی ،اور نیکوکار کیوں نہ ہو نفسانیت کے بد نما داغ سے اس کا دامنِ تقویٰ پا ک نہیں ہوتا۔ وہ شعارِ مذہبی کی بالکل پرواہ نہیں کرتا۔ ضوابطِ اسلامی صرف زبانی و مفاد دنیاوی کی خاطر مانے اور دوسروں کو بتائے جاتے ہیں۔عملاً انتہائی بے اعتنائی اور بے پروائی کے ساتھ اس کی تحقیر کی جاتی ہے ۔زبان پر توحید کا نام لیکن جب وقت آتا ہے اپنی نفسانی چاہتوں کے آگے سرِ نیاز خم کر دیا جاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کے حکموں کی مطلق پرواہ نہیں رہتی جس کے ہمہ گیر اثرات سے مسلمان برابر تباہ ہو رہے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے ۔ترجمہ :’’تو کیا اﷲ کے کلام کا کچھ حصہ مانتے ہو اور کچھ حصے سے منکر ہو ،توجو کوئی تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے ۔ مگر یہ کہ دنیا کی زندگی میں رسوائی اور قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کی طرف پلٹے جائیں گے اور اﷲ تعالیٰ تمہارے کر توتوں ،عملوں سے غافل نہیں، یہ ہی لوگ ہیں جنہوں نے عقبیٰ کے بدلے دنیا خرید ی تو ان پر سے نہ عذاب ہلکا ہو نہ ان کو مدد پہنچے۔‘‘(البقرہ آیت نمبر86-85)

اے مسلمانو! اگر تم دنیا میں سلامت رہنا چاہتے ہو تو مناسب ہے کہ مفسد مولویوں کے سنگ گراں کو اپنی راہِ ترقی سے دور کر دو اور توحید کے پلیٹ فارم پر آنے کی خود بھی کوشش کرو اور اپنے حلقۂ رفقاء میں اپنے خیالات کی تبلیغ کرو۔ تاکہ دُنیا میں ایک عالمگیر عقیدہ قائم ہو جائے اور تم اس مشترکہ حقیقی اسلام سے وابستہ ہو کر ویسے ہی مسلمان ہو جاؤ یا موحد بن جاؤ جیسے نبی معظم ﷺ کے زمانے میں تھے ۔(الحق المبین)

کل او امر شرعیہ سے خود واقفیت حاصل کرو۔ یہ کوئی بہت لمبا چوڑا کام نہیں ہے ۔ عموماً ہر معمولی پڑھا لکھا مسلمان جانتا ہے کہ ہر بالغ مسلمان پر نماز پنجگانہ، رمضان کے روزے اور صاحبِ استطاعت پر حج و زکوٰۃ فرض ہیں اور نواہی بھی عموماً مشہور ہیں ۔مسلمانوں کیلئے اعمال مذکورہ بس یہی ہیں اور صراطِ مستقیم پر عمل کرنے کیلئے تھوڑا علم بھی بہت ہے ۔ قولہٰ تعالیٰ :’’تم فرماؤ کہ آؤ میں تم کو پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو (نیک سلوک کرو) اور اپنی اولاد کو مفلسی کے باعث قتل نہ کرو ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دینگے اور کھلی اور چھپی ہوئی بے حیائیوں (بے شرمی) سے دور رہو اور جس جان کی اﷲ نے حرمت رکھی اسے نا حق نہ مارو یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقے سے جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کرو ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدو ر بھر اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگر چہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ اور اﷲ تعالیٰ سے عہد پورا کرو یہ تمہیں تاکید فرمائی ہے کہ شاید تم نصیحت مانواور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور، اورراہیں نہ چلو تمہیں اس کی راہ سے جدا کر دیں گی یہ تمہیں حکم فرمایا کہ شاید تمہیں پرہیز گاری ملے ۔ ‘‘(الانعام آیت نمبر 153-152-151)

جس نے علم دین حاصل کیا قرآن اور احادیث کی تعلیم پائی اور اس پر عمل نہیں کیا ،وہ کل روزِ قیامت دوزخ میں سب سے زیادہ شدید عذاب سے دو چار ہو گا۔

اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’انہیں سناؤ خبر اس کی جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں وہ ان سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہو گیا اور ہم چاہتے تو اس علم کے باعث اسے اٹھا لیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا پیرو ہو گیا۔‘‘(الاعراب آیت نمبر175 تا 176)

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :’’سخت ترین لوگوں میں از راہ عذاب کے قیامت کے روز وہ عالم ہو گا جس کو اﷲ تعالیٰ نے اُس کے علم سے نفع نہ دیا ۔‘‘(مشکوٰۃ)

’’افسوس ہے جاہل کیلئے ایک بار اور عالم کیلئے سات بار۔‘‘(مشکوٰۃ)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’دوزخ کے فرستے بُت پرستوں سے پہلے انہیں علماء سُو کو پکڑیں گے ۔یہ کہیں گے کیا ہمیں بُت پوجنے والوں سے پہلے لیتے ہو ، جواب ملے گا۔ لیس من لا یعلم لمن لا یعلم۔ جاننے والے اور انجان برابر نہیں۔‘‘(طبرانی نے معجم الکبیر ،ابو نعیم نے حلیہ میں عن انس رضی اﷲ عنہ)

حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے :’’عنقریب میری امت پر ایک زمانہ آئے گا کہ اسلام باقی نہ رہے گا ۔ صرف اس کا نام رہ جائے گا اور قرآن کو رسماً تلاوت کیا جائے گا۔ مسجدیں آباد ہوں گی ۔(لوگ ان میں جمع ہونگے) لیکن ہدایت سے بیگانہ ہونے کی وجہ سے وہ خراب ہوں گی ،ان کے (مسلمانوں کے) علماء آسمان کے نیچے بد ترین خلائق میں سے ہوں گے ۔ (اپنی خواہشات کے بر آنے کی غرض سے وہ ظالموں کے معاون بن کر دین و دُنیا میں ) فتنا و فساد ڈالیں گے ۔ ‘‘(البیقہی فی شعب الایمان)

آج کل کے حالات زبان حال سے حدیث مذکورہ بالا کی صداقت کی شہادت دے رہے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت زیادہ تر رسمی نظر آتی ہے ۔ اکثر و بیشتر نام نہاد علمائے ملت جو قرآن دانی کے مدعی ہیں از سر تا بہ قدم دنیا و زینتھا کی محبت میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔حالانکہ مومنوں کے دلوں میں سب سے زیادہ اﷲ تعالیٰ کی محبت ہونا لازمی ہے ۔کما قال اﷲ تعالیٰ :’’اہل ایمان کو اﷲ کی محبت سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔‘‘(البقرہ آیت نمبر165)

وہ علم الٰہی ، معرفت رحمن، تزکیہ نفس ،صدق و حیا اور قلبِ سلیم کی طرف برائے نام بھی متوجہ نہیں ہیں۔ حالانکہ اُمت محمدی ﷺ کے علمائے ربانی کو بنی اسرائیل کے نبیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ظاہر ہے نبوت میں تشبیہہ مقصود نہیں ہے ۔بلکہ کمالِ معرفت الہٰی ،اخلاق حسنہ اور نفرت دنیا وغیرہ کی وجہ سے اُن کی انبیائے بنی اسرائیل سے مشابہت ظاہر فرمائی گئی ہے ۔ تمام انبیاء والمرسلین اور اُن کے صالح متبعین نے دُنیاوی نام و نمود اور مال و اسباب کو کبھی للچائی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھا ،اُن کے دل ہمیشہ اﷲ تعالیٰ کے ذکر پاک اور اُس کی محبت سے سرشار رہے اور انہوں نے قیدی کی طرح رہ کر منزل دُنیا کو طے کیا اور کسی طرح بھی اس کو جائے آرام و آسائش نہ سمجھا۔

رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ :’’کافر کیلئے یہ دُنیا جنت اور مومن کے واسطے قید خانہ ہے ۔‘‘(مسلم ،ترمذی)

اﷲ تعالیٰ تو صدق ،حیا، تسلیم و رضا، تفویض و توکل اپنا ذکرِ پاک اور قلبِ سلیم کو پسند فرماتا ہے ۔دُنیاوی جاہ و مرتبہ ،نمود و شہرت اور مال و دولت سے وہ اپنے فدائیوں کو عموماً دور ہی رکھتا ہے ۔سہل ابن سعد رضی اﷲ عنہ راوی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ :’’اگر اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دُنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی نہ دیتا۔ ‘‘(ترمذی)

علم دین حاصل کرنے کا مقصد اگر اﷲ تعالیٰ کی رضا ،قرب اور اُس کا دیدارِ پاک نہ ہو تو وہ بڑا تباہی خیز ہو جاتا ہے ، کیونکہ ایسا عالم نیکی کے پردے میں برائی کماتا اور اعلیٰ کو چھوڑ کر اسفل کو اختیار کرتا ہے ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو اﷲ تعالیٰ اور عالم آخرت پر یقین نہیں ہے ۔ کیونکہ یقین ہونے کی صورت میں کوئی معمولی ہیرے کو بھی گندگی کے عوض فروخت نہیں کر سکتا ،چہ جائے کہ عالم آخرت پر دنیا کو ترجیح دے ۔اﷲ تعالیٰ پر یقین نہ کرنے والا، کس طرح فلاح پاسکتا ہے ۔۔۔؟ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ :’’جس علم سے رضائے الہٰی حاصل ہو سکتی ہے اگر اُس کو اس غرض سے حاصل کیا کہ دُنیا کا کوئی اسباب حاصل کرے تو وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔‘‘(ابو داؤد)

مسلمانو۔۔۔! جن کے دل نفسانیت سے خالی نہیں ہوئے ہیں،جو اپنے نفسوں کے عیوب سے بے خبر ہیں،جن کی اپنی نمازوں میں یہ اثر نہیں ہے کہ اُن کو منکرات اور معاصی سے باز رکھیں ،جن کے قلوب یادِ حق سے بیدا ر نہیں ہیں اور جن کو خودان کے علم سے فائدہ نہیں پہنچا ہے ۔ایسی ہستیوں کی اتباع کی اﷲ اور اُس کے رسول برحق نے ممانعت فرمائی ہے ۔تم کو اُن سے کوئی اچھائی نہیں مل سکتی ۔کیونکہ ہر شخص وہی چیز دے سکتا ہے جو اس کے پاس ہو اور جو شے اُس کے پاس نہ ہو وہ اگر دوسروں کو دینا بھی چاہے گا تو دے گا کہاں سے ۔۔۔۔؟ کوئی ناخواندہ کسی کو پڑھانا لکھنا نہیں سکھا سکتا۔

کیسا عجوبہ ہے جو خود طبیب نہ ہو وہ دوسروں کو طب سکھائے اور جو معمار نہ ہو وہ دوسروں کو فن تعمیر کی تعلیم دے ،جو خود علم سائنس سے نا واقف ہو وہ دوسروں کو سائنس دان بنائے ،جو خود گھڑی سازی سے نا واقف ہو وہ دوسروں کو اس کی تربیت دے اور ۔۔۔جو خود سویا ہوا ہو وہ دوسروں کو بیدار کرے ۔

اگر کوئی شخص کسی علم و ہنر کے بے انتہا فوائد پر یقین رکھتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کسی شخص کو اپنے گھر میں خزانہ کا پوشیدہ ہونا یقینی طور پر معلوم ہو اور وہ خود اس کو حاصل کرنے کی ہمت نہ کرے بلکہ صرف دوسرو ں ہی کو اس کا پتہ بتابتا کر لے لینے پر آمادہ کرتا رہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نام نہاد علماء سُو کے دلوں میں اخلاص ،صداقت ،تزکیۂ نفس ،تصفیۂ روح ،قلبِ سلیم،ذِکر الہٰی ،محبتِ الہٰی اور دیدار رحمن کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے ،ورنہ ان لاثانی برکتوں اور لاجواب نعمتوں کے حاصل کئے بغیر اُن کے دن کا چین اور رات کی نیند حرا م ہو جاتی ہے ۔یہ اُن کے قلوب کی غفلتوں کا کھلا اور ناقابل تردید ثبوت ہے کہ وہ خود نعائم حقیقی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور خود اُس کی طرف ہر قدم نہیں بڑھانا چاہتے ۔ جس کی طرف دوسروں کو بُلاتے ہیں ۔وہ جو کچھ بظاہر نیک اعمال کرتے نظر آتے ہیں اُس سے اُن کا مقصد حق کی یافت نہیں بلکہ دُنیا حاصل کرنا ہوتا ہے ۔نیکی کے پردے میں برائی حاصل کرنے یا اﷲ رب العزت اور اُس کے محبوب رسول ﷺ کی آڑلیکر دنیاداری کی تکمیل کرنا ایسا شدید جرم اور ایسا زبر دست گناہ ہے جس کی سزا انتہائی دردناک ہے ۔حضرت انس بن مالک راوی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ :’’جس رات مجھے معراج میں لے گئے تو میرا گزر ایک قوم پر ہوا کہ آگ کی قینچیوں سے اُن کے ہونٹ کاٹے جا تے تھے ۔میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو جبرائیل کہنے لگے کہ یہ لوگ آپکی اُمت کے خطیب ہیں جو اہل دُنیا میں سے تھے کہ لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے اور اپنے نفوس کو بھول جاتے تھے ۔ حالانکہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے ۔‘‘(احمد ،عبد بن حمی، ابن صبان،ابن مردویہ )

حضرت اسامہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’قیامت کے روز آدمی کو لاکر دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کی انتڑیاں گِر پڑیں گی ۔وہ اُن کے ساتھ آگ میں چکراتا پھرے گا، جیسے گدھا اپنی چکی گھماتا ہے ۔پس دوزخی اُس کے گرد ہجوم کریں گے کہ ’’اے فلاں تجھے یہ کیا مصیبت پہنچی کیا تو ہم کو نیک باتوں کی نصیحت نہیں کرتا تھا اور بُرے کاموں سے منع نہیں کرتا تھا ۔‘‘وہ کہے گا۔’’ہاں کیا کرتا تھا اور خود نہیں کرتا تھا اور تم کو منع کیا کرتا تھا اور خود کرتا تھا ۔‘‘(بخاری ، احمد)

ابتدائے اسلام میں علمائے ربانی اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کو ہر بات پر مقدم سمجھتے تھے اُن کو اپنی کمزوریوں کا احساس تھا اور خوفِ الہٰی کی وجہ سے وہ دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کو ضروری خیال کرتے تھے ۔ آج کل جیسا عالم نہیں تھا کہ جس نے چند کتابیں پڑھ لیں منبر پر جا پہنچا ۔(الحق المبین)

مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے آکر عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو نیک نصیحت کروں اور بدی سے منع کروں۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کیا تو اس درجے تک پہنچ گیا ہے ۔۔۔؟ اُس نے جواب دیا کہ اُمید تو کرتا ہوں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ۔ اگر قرآن مجید کی تین آیتوں سے تجھ کو رسوائی کا خوف نہ ہو تو البتہ یہ کام کر ۔اُس نے عرض کیا وہ کیا ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ایک یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :ترجمہ’’کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور بھولتے اپنے ہو آپ کو ۔‘‘(البقرہ آیت نمبر44)

کیا تو اس بات میں مستحکم ہو گیا ۔۔۔؟ اُس نے عرض کیا نہیں ۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے دوسری آیت ارشاد فرمائیے ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ قولہٗ تعالیٰ:ترجمہ’’(اے ایمان والو!)تم کیوں ایسی بات کہتے ہوخود جو نہیں کرتے ہو ۔ اﷲ کو ناراض کرنے والے کاموں میں یہ امر گراں ہے کہ ایسی بات کہو جو نہیں کرتے ہو ۔‘‘(الصف آیت نمبر3-2)

کیا تو اس میں مستحکم ہے ۔۔۔؟ اُس نے کہا نہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ تیسری آیت فرمائیے ۔آپ نے کہاقرآن حکیم میں قول شعیب ہے :ترجمہ ’’جس چیز سے میں تم کو منع کرتا ہوں اُس کے مخالف عمل کرنا نہیں چاہتا ہوں۔‘‘(ھود آیت نمبر88القرآن )

کیا تو نے اس آیت کو مستحکم کر لیا ۔۔۔؟ اُس نے عرض کیا کہ نہیں۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پہلے اپنے نفس سے شروع کر ۔ (ابن مردویہ )

ابراہیم نخعی (جیسے صالح تابعی) فرماتے تھے کہ مجھ کو تین آیتوں کی وجہ سے وعظ کہنا گوارہ نہیں ہوتا اور پھر وہی تین آیات بیان کیں جو ابن عباس رضی اﷲ عنہ کی روایت میں گذری ہیں۔(تفسیر ابن کثیر)

حضرت بشر حافی رحمۃ اﷲ علیہ سے جب پوچھا گیا کہ آپ حدیث کی روایت کیوں نہیں کرتے ۔۔۔؟ تو آپ نے فرمایا کہ میرا نفس اس بات سے خو ش ہوتا ہے کہ منبر پر چڑھوں اور حدثنی عن رسول اللّٰہ ﷺ کہوں۔

نام و نمود ،عزت و شہرت ،اپنی تعریفوں اور نفس کو خوش کرنے کیلئے وعظ کہنے اور لوگوں کو نصیحت کرنے کا جو نتیجہ ہو ا وہ سب پر ظاہر ہے ۔ لوگوں میں دین کی وقعت کم ہو گئی اور اُن کے دلوں سے حیاتِ آخرت کی رغبت اور اﷲ تعالیٰ کا خوف اور محبت جاتی رہی۔(الحق المبین)

سلف صالحین نے دینی فعل پر اُجرت لینا جائز نہیں سمجھا۔ چنانچہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا اس بات پر فتویٰ ہے اور آپ نے دینی تعلیم و افعال پر اُجرت لینے سے منع فرمایا ہے ۔لیکن آج علماء کا جو عمل ہے وہ سب پر ظاہر ہے ۔نماز پڑھنے کی اُجرت ،اذان دینے کی اُجرت ،وعظ کہنے کی اُجرت حتیٰ کہ ایصال ثواب کیلئے اور نمازِ تراویح میں قرآن خوانی تک کی بھی اُجرت مقرر کر کے خوشی خوشی وصول کی جاتی ہے ۔ایسی صورت میں کیا ان عبادات میں ﷲیت کا شائبہ بھی باقی رہتا ہے ۔کیا یہ سب کچھ رسمیات کے تحت اور نفسانیت کیلئے نہیں ہو رہا ۔۔۔؟ حضور اکرم ﷺ کے ارشادات کو دیکھئے،صالحین کے فیصلوں کو دیکھئے اور پھر وہ سب کچھ دیکھئے جو اﷲ اور رسول ﷺ کے مقدس اور پاک ناموں پر کیا جا رہا ہے ۔اﷲ تعالیٰ سمجھ اور عمل کی توفیق دے ۔آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Tabasum

Read More Articles by Peer Tabasum: 40 Articles with 28151 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 May, 2018 Views: 1084

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ