بیانہ اور بیان بازی

(Akram Saqib, Sahiwal)
حکومت کی طرف سے اعلان ہو گا کہ اب کوئی بیانیہ کا نام نہ لے بلکہ اسے بیان ہی کہے کیونکہ اس سے کسی کا بیانیہ یاد آ جاتا ہے۔

بیانہ گرچہ نیا لفظ نہںم ہے مگر آج کل اسے ایک نئے آنے والے فیشن کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ ویسے یہ کوئی عام لفظ بھی نہیں ہے۔ وہ تمام لوگ جو تیلی ویژن چینلز (ٹیلی شعوری طور پر نہیں لکھا) پر آ کر بیانیہ بیانیہ کرتے ہیں ذرا ان سے پوچھیں کہ یہ ہوتا کیا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ننانوے فی صد نام نہاد صحافی اور خود ساختہ مفکرین کو اس کے مفہوم کا پتہ تو کیا اندازہ ہی نہیں ہو گا۔ وہ بیانیہ کو بیان بازی سے ہی منطبق کرتے ہہون گے اور اس کا مفہوم یہی مانتے ہوں گے۔ بیانیہ ایک ادبی اصطلاح ہے اور ہمارے معزز سیاستدانوں اور اینکرز کا جس سے یعنی ادب سے دور دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ ادب جو بھی ہو انسان کو انسان بناتا ہے اسی لئے شائد ہمارے ہاں صرف اینکرز اور سیاستدان ہیی باقی ہیں ان کے علاوہ باقی افراط الرجال ہے۔

اگر اسے لسانی ادب کے حوالے سے دیکھیں تو بیانیہ ایک خاص طرح کا انداز بیان ہے جس کے پیچھے ایک خاص نظریہ اور اصول کارفرما ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص انداز سے کوئی کہانی قصہ یا انشائیہ لکھنے اور پڑھنے کا نام ہے۔ مثال کے طور پر مارکسی بیانیہ،سرمایہ دارانہ بیانیہ ۔ بیانیہ کے حوالے سے یہ بات نہائیت اہم ہے کہ یہ ایک نطریاتی عمل ہے اور جو بات بھی کی جائے اس میں اس نظریہ سے متعلق الفاظ کردار اور اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔

لو بھائی بیانیہ کی تعریف تو ہم نے کچھ کر ہی دی اب بتائیں کہ بیانیہ کیا ہوتا ہے؟
ہر کوئی اس ایک لفظ کے پیچھے ایسے بھاگ رہا ہے جیسے اپنا ک کان کتے سے چھیننے کے لئے بھاگ رہا ہو۔ پتہ نہیں وہ کونسا اینکر تھا جس نے حالیہ موسم سیاست میں یہ لفظ بولا اور کس کے لئے بولا کہ جیسے اس کی فصل ہی اگ آئی۔ اب ہر نتھو خیرا بیانیہ بیانیہ کر رہا ہے۔ جیسے کسی شوقین ان پڑھ عورت نے میک اپ کیا ہوا تھا تو دوسری نے پوچھا کہ آج بہت سج دھج کے نکلی ہو۔ پہلی نے عالم ہونے کی دلیل کے طور پر اپنی طرف سے انگریزی میں کہا کہ آج میں میک آف کرایا ہوا ہے۔ دوسری کو پتہ تھا کہ یہ لفظ میک اپ ہوتا ہے تو اس نے غلطی نکالی۔ پہلی بولی کہ کیا ہوا تھپنا تو سرخی پوڈر ہی ہوتا ہے۔ یہی حال اس بیانیہ کا کر دیا گیا ہے۔
اب چٹے ان پڑھ سیاست دان بھی کہ رہے ہیں کہ ہمارا بیانیہ تمہارا بیانیہ!
یہ لفط اتنا زائد الاستعمال ہے کہ
جسے بات کر نہیں آتی
وہ بیانیہ ہی کرتا ہے

مجھے امید ہے کہ جس طرح کمیٹی کمیشن کا نام بدل کر جے آئی ٹی بن گیا ہے آنے والے کچھ دنوں میں یہ بیانیہ بھی بیان ہی لکھا پڑھا اور سمجھا جائے گا بلکہ حکومت کی طرف سے اعلان ہو گا کہ اب کوئی بیانیہ کا نام نہ لے بلکہ اسے بیان ہی کہے کیونکہ اس سے کسی کا بیانیہ یاد آ جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 32119 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
14 May, 2018 Views: 412

Comments

آپ کی رائے