سفر سوات کی کچھ بے مثال یادیں

(Babar Alyas, Chichawatni)
شمالی علاقہ جات کو قدرت نے حسن کل بخشا ھے یہ پاکستان کے لیے سرمایہ ھے بس وہاں ضرورت زندگی کی فراہمی سیاحوں کے لیے ضروری ہے

گزشتہ سال اپنے دل کے قریب دوستوں جن میں پرنسپل قائد اعظم ہائی سکول کسووال جناب محمد عمران احسن صاحب, پرنسپل نیو بیکن ہاؤس گرامر سکول چیچہ وطنی جناب محمد افضل مغل صاحب, پرنسپل کڈز کالج سکول سسٹم چیچہ وطنی جناب مرزا سجاد عالم صاحب, پرنسپل علامہ اقبال کالج چیچہ وطنی جناب عامر شہزاد صاحب, پرنسپل قائد اعظم سکول اکانوالہ بنگلہ چیچہ وطنی جناب عتیق الرحمن صاحب, جناب رانا امجد صاحب نقشبندی فوٹو کاپی کالج روڑ چیچہ وطنی کے ساتھ ملکر میں خود ٹرپ پر جانے کا پروگرام فاہنل کیا مگر اتفاق سے عتیق الرحمن صاحب نے بوجہ عمرہ کے , محمد افضل مغل صاحب ,مرزا سجاد عالم صاحب اور رانا امجد صاحب نے راونگی سے ایک گھنٹہ قبل گھریلو پریشانی اور کچھ ﺫاتی مصروفیت کے انکار کیا اب کیا تھا کہ ہم باقی تین ساتھی ( یعنی عمران..عامر.بابر) باقی رہ گے پروگرام طے تھا ٹکٹ ھو چکا تھا بس اللہ کو یاد کیا اور چیچاوطنی سے لاہور اور پھر مردان سے ھوتے ھوے سوات اپنے اللہ کے کرم سے پہینے صبع کا ناشتہ سوات( منگورہ) میں کیا وہاں سے ایک مقامی ساتھی( گاڑی والا جس کا نام فدا حسین کے) ساتھ معاملات طے کر کے اصل منزل کی طرف سفر کا آغاز ھوا جو کہ وادی کالام تھی جو سوات سے 100 کلومیٹر ھے تقریباً 5 گھنٹے کا سفر) کے بعد وادی کالام پہنچے کیوں کہ سژک خراب تھی سیلاب وجہ سے اس لیے کچھ سفرمیں مشکل بھی پیش آہی مگر پریشانی والی بات نہ تھی ایک بات اور کہ مردان سے کالام تک کے پی کے پولیس اور پاکستان آرمی کے جوانوں کی چوکیاں بھی تھی مگر وہ جوان محبت اور اخلاق کے پیکر تھے تمام آنے والے لوگوں اور گاڑیوں کو چیک کرتے نام و منزل اور قیام و واپسی پوچھنے کے بعد سلام کرتے اور بس راونہ ھونے کا اشارہ کرتے میں انکو سلام پیش کرتا ھوں ان کے اس اخلاق اور محبت پر اللہ انکی حفاظت فرماۓ.
وادی سوات کا شمار پاکستان کے قدرتی حسن سے مالامال پُرفضا مقامات میں ہوتا ہے۔ دریائے سوات کی سرد لہریں، برفیلے اور بلند و بالا پہاڑ، گھنے جنگلات، سرسبز اور کھلے میدان، ہر طرف ہریالی، پھلوں کے باغات، چشمے اور شفاف ندیاں، بلند آبشاریں، طلسماتی جھیلیں، گلیشئئر اور گرمیوں میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اس کے مو سم اور خوبصورتی میں مزید اضا فہ کردیتی ہیں۔

سوات جہاں اپنی خوبصورتی اور رعنائی کے لحاظ سے پوری دنیا میں مشہور ہے وہیں یہ ماضی میں آزاد اور خودمختار ریاست کے ساتھ ساتھ ہزاروں سال پرانی تہذیب بھی اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہے۔ ہر سال آثارِقدیمہ کو دیکھنے کےلیے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کرتی ہے۔ یہا ں 2200 کے قریب تاریخی مقامات موجود ہیں۔ سوات کے پی کے)(خیبر پختو نخوا )کا ایک کوہستانی ضلع ہے۔ سوات ايک سابقہ رياست تھی جسے 1970ء ميں ضلع کی حيثيّت دي گئ۔ ملاکنڈ ڈويژن کا صدر مقام سیدو شریف ھے اسی ضلع ميں واقع ہے۔ سوات کو (کے پی کے )کے شمالی خطے ميں امتيازي حيثيّت حاصل ہے۔سوات ضلع سنٹرل ايشياء کی تاريخ ميں علمِ بشريات اور آثارِ قديمہ کے لیے مشہور علاقہ ہے۔کیونکہ بدھ مت تہذيب و تمدن کے زمانے ميں سوات کو بہت شُہرت حا صل تھی.اور اسے اوديانہ يعنی باغ کے نام سے پکارتے تھے۔
وادی سوات کی تاریخ پر بحث کی جائے تو بات بہت لمبی ہو جائے گی۔ مختصر یہ کہ بہت اتار چڑھاؤ کے بعد 1917 میں میاں گل عبدالودود نے یہاں ایک منظم اور جدید فلاحی ریاست قائم کی جس میں انصاف کی فراہمی، صحت، مواصلات کا بہترین نظام اور سب سے بڑھ کر تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے بنتے چلے گئے جن کی تعداد 1576 تک جاپہنچی۔ یہی وجہ ہے کہ سوات کے عوام آج بھی ان کی حکومت کی مثال دیتے نہیں تھکتے۔

ملکہ الزبتھ بھی دو مرتبہ ریاست سوات کا دورہ کرچکی ہیں۔ غرض یہ ایک تاریخی ریاست تھی جسے بجا طور پر مشرق کا سوئٹزرلینڈ قرار دیا گیا۔ پھر 1969 میں ایوب خان کے دور میں باہمی رضامندی سے سوات کا ادغا م پاکستان میں کردیا گیا۔
ماضی میں پاکستانی موسیقی اور ثقافت وادی سوات کی وجہ شہرت تھی۔ یہاں سے درجنوں گلوکار، موسیقار اور رقاص صوبہ خیبرپختونخواہ میں شہرت حاصل کر نے میں کامیاب ہوئے، تاہم طالبان دور میں فن ثقافت دم توڑنے لگا، مگر اب وہاں ایک بار پھر ثقافتی سرگرمیاں سر اٹھا رہی ہیں۔
آج وادی سوات کی آبادی 23 لاکھ سے متجاوز ہے۔ پشاور اور مردان کے بعد یہ خیبر پختونخواہ کا تیسرا بڑا ضلع ہے۔حکومت پاکستان میں 1998ء کی مردم شماری و خانہ شماری کے مطابق ضلع سوات کی کل آبادی بارہ لاکھ ستاون ہزار چھ سو دو (12,57,602), اور اس کا کل رقبہ 5337 مربع کلومیٹر پر پھیلاہوا ہے۔ اس کے شمال میں ضلع چترال، جنوب میں ضلع بغیر، مشرق میں ضلع شانگلہ، مغرب میں ضلع دیراور ملاکنڈ ایجنسی کے علاقے اور جنوب مشرق میں سابق ریاستِ امب(دربند) کا خوب صورت علاقہ واقع ہے۔ سوات کو تین طبعی حصوں میں تقسیم ھے. بالائی سوات (2) زیریں سوات (3) کوہستان سوات
سوات میں سیروسیاحت کے لیے خاص کر مالم جبہ, ڈاگے,کبل,سیدو شریف, شریف آباد, خوازہ خیلہ,بحرین,مدین,کالام,مٹہ,بری کوٹ, چار باغ, مینگورہ, خزانہ زیادہ مشہور ہیں,کالام پہبچے تو چھ بج چکے تھے کھانا کھانے کے بعد آرام کا مشورا ھوا ہوٹل پیلس میں کمرہ لیا اور اگلی صبع تک قیام کیا. اس دوران بھائی فدا جو مقامی تھا نے بتایا کہ سوات میں زیادہ تر چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں۔
جس میں سے کچھ مشہور گاؤں کے اس نے نام بھی جو کہ مندرجہ ذیل ہیں,
1۔ ڈاگے2۔ شریف آباد 3۔ گاڑی 4۔ ڈڈھارہ 5۔ پارڑھئی 6۔ ناگوھا 7۔ کوٹلئی 8۔ میلگاہ 9۔ زوڑہ 10۔ مرچکی 11۔ موڑہ خونہ 12۔ کبل (جو اب ایک شہر کی حیثیت رکھتا ہے) 13۔ لنڈئی 14۔ اخوند کلے 15۔ سویگلئیِ (جاونڈ) 16۔ خوازہ خیلہ 17۔ بہاروڑنگا18-شانګواټئ.شور یہ دیر اور کو ہستان سے ملے ہوئے گاوں ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ضلع سوات کا کُل رقبہ 5337 مربع کلوميٹر ہے۔اور یہاں فی مربع کلو میٹر تقریباً 295 افراد آباد ہيں۔دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔کُل قابِل کاشت رقبہ98720 ہيکٹيرزھے
وادی کالام سے وادی میدام اورمالم جبہ کے سفر آغاز کیا تو فدا نے بتایا کہ میدام جاتے ھوۓ دریاۓ سوات کے ساتھ سڑک پر گاؤں کیدام,سیرت,نکیال,پرمیٹ,وغیرہ آتے ہیں.بحرین اور بدین سے ھوتے ھوے میدام کی طرف فتع پور کے علاقے سے ھو کر بل کھاتی سڑک جاتی ھے جس کے ایک جانب ناشپتاہی اخروٹ کے درخت ہیں,یہ لوگ شلجم,آلو,بند گوبھی,گندم,کاشت کرتے ہیں,میاندم بھی خوبصورت جگہ ھے ایک چھوٹا چشمہ ھے اور اسکے کنارے پر( پی ٹی ﮈی سی )(PTDC) ہوٹل ھے جو اپنی مثال آپ ھے.دریاۓ سوات کے کنارے دونوں جانب بلند پہاڑ ہیں مگر یہ پہاڑ زیادہ نرم مٹی کے ہیں.یہ لوگ بھی سادہ ہیں انکی زندگی مشکل ھے مگر وہ اس پر شکر ادا کرتے ہیں.مدین سے نیچے کی جانب حکومت کا فش فارم ھے جس کے ساتھ دریاۓ ایمن ھے جو بدین کے قریب جا کر سوات میں ملتا ھے.میاندم سے واپس آ کر آپکو فتع پور ,گل باغ,چارباغ سے ھوتے ھوے مینگورہ پل کے راستے سے مالم جبہ کی طرف سڑک جاتی ھے جس کے دونوں جانب خوبانی...ناشپاتی...گندم...پیاز....آلو کے کھیت ملتے ہیں راستے میں آرمی کی چوکی پر جو پیار ملا اسکو بیان کرنا مشکل ھے کس طرح تعاون کیا اور ہم سے مدد کے بارے میں بھی پوچھا بہرحال مالم جبہ تک کا سفر بہت شاندار اور مقامی ساتھی فدا بھاہی کی نگرانی میں مکمل ھوا اور کیا خوبصورت نظارہ تھا قدرت کا ایک بس کیا بتاؤ میرے بیان سے باہر ھے اسکو اپنے کالم میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا کچھ دن کے بعد....مالم جبہ پر سیاحوں کے لیے مزید کام جاری ھے تاکہ وہ اللہ پاک کے نظاروں کو قریب سے دیکھ سکے...مالم جبہ پر وقت گزارنے کے بعد واپس مینگورہ میں فضاگٹ کے مقام پر قیام کا فصیلہ ھوا اور دریاۓ سوات کے کنارے گرین ایوار ہوٹل میں کمرہ حاصل کیا گیا اور قیام طے پایا.....
مہوﮈ ند جھیل کا سفر
ایک رات آرام کے بعد اگلی صبع ناشتے کر کے پروگرام فاہنل ھوا کے مہوﮈند جھیل کا نظارہ کیا جاۓ تو اسکے لیے مقامی ساتھی امین بھاہی کی نگرانی میں سفر کا آغاز ھوا اور ہمارے کچھ پوچھنے سے پہلے امین بھاہی نے عمران خان صاحب کی تعریف کرتے ھوے وادی کالام کے لوگوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے پر داد دی اور جنگل کی لکڑی کاٹنے پر پابندی کو اس علاقے کی ترقی کا آغاز کہا.اس دوران سفر اور بات چیت چلتی رہی پھر اچانک امین بھاہی نے وادی سوات سے کالام اور پھر اس سے آگے کے گاؤں اور مہوﮈند جھیل تک کے روڑ( سڑک) کے بانی والی سوات باچا خاں صاحب کا ﺫکر کیا کے جن کی بدولت آج(2016) سے ستر(70) سال پہلے یہ بنواہی گی اور ان کی وجہ سے آج سوات کی عوام ٹیکس کے بری ھے کیوں کہ حکومت وقت نے والی سوات باچا خان صاحب کی خواہش پر معاف کیا تھا.انکی وفات کے بعد آج تک سیلاب بھی آۓ اور خاص طور پر سال دو ہزار پانچ کا زلزلہ بھی مگر کسی بھی حکومت نے اس علاقے کی ترقی کے بارے میں توجہ نہ دی اور نہ ہی وہ سڑک جو ستر سال پہلے باچا خان صاحب نے بنواہی تھی اس پر توجہ دی امین بھاہی کے بقول یہ سڑک یاد ھے نشانی ھے باچا خان صاحب کی اور وہ دعا گو ہین ان کے لیے آج بھی اور اللہ سے ایک اور باچا خان مانگتے ہین اور وہ مزید کہتے ہین کہ جب بھی کوہی مشکل آتی ھے پاکستان آرمی انکی مدد کرتے ہیں جس پر وہ انکو سلام پیش کرتے ہیں.دریاۓ سوات کے کنارے کنارے سڑک ھے اور ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے گاؤں بھی اور ان گاؤں کے لوگ ہی جب ضروت پیش آتی ھے اس سڑک کی مرمت کرتے ہیں وہ بھی کسی لالچ کے اور امید کی تمنا کے اس سڑک اور دریا کے کنارے کچھ لوگ چترال سے ہجرت کر کے بھی آۓ ہیں جو اب گاؤں کی شکل اختیار کر چکے ہیں.اس علاقےکے لوگوں کی زبان چترال .. پشو..کوہستانی...اردو ھے مگر یہ لوگ پنجابی کو بھی بہت خوبصورتی سے بولتے اور سمھجتے ہیں سوات سے لے کر مہوﮈند جھیل تک کے لوگوں کا اخلاق بھی اپنی مثال آپ ھے اور یہ لوگ با حیا ہیں سخت زبان نہیں ہیں.کالام سے جاتے ھوۓ دریاۓ سوات کے ساتھ سڑک کے کناروں پر آپکو اگر آپ سفر کریں تو شہد ....کستوری تک ملے گی یہ سفر 38 کلو مٹیر (3 گھنٹے) کا ھے بس ایک دو جگہ کے علاوہ باقی سڑک ٹھیک ھے یہ لوگ سادہ ہیں اور امین بھاہی کے بقول کے اللہ کا شکر ھے جو دو وقت کی روٹی دیتا ھے کافی ھے ادھر کے لوگوں کے تیس فیصد نوجوان فارغ ہیں ان کا کوہی کام نہیں ھے بس بکریاں چرانے کے علاوہ اور اگر کوہی گاڑی جو مسافر لے کر جاتی ھے خراب ھو جاۓ تو اسکی مدد کے کوہی نہیں اگر رات ھو بھی جاۓ تو کوہی چوری کا خطرہ نہ ھے..ادھر مناسب کرایہ ..مناسب کھانا اور کھانے کا بل ھے...ادھر کے لوگ فضول گفتگو نہ ھے..ادھر کے لوگ بند گوبھی...آلو....اور سوات کے کچھ علاقے میں بدین تک گندم بھی کاشت کی جاتی ھے...سوات سے مہوﮈند جھیل تک سیب..اخروٹ اور آڑو کے درخت ملتے ہیں اور سڑک اور دریا کے دونوں جنا ادھر لوگوں کی ایک اور خوبی کہ ادھر بجلی نہ ھے مگر ادھر لوگ خود مل کر اپنے علاقے اور گاؤں میں ٹرباہین لگاتے ہیں اور بجلی پیدا کرتے ہیں جس پر حکومت کو بھی سوچنا ھوگااور اپنی ضروت پوری کرتے ہیں یہ علاقہ ایک قدرت کا دل کش نظارہ ھے دریاۓ سوات کا رنگ بدلتا اور شور کرتا خنک پانی خنک ھوا کے ساتھ مل کر دھوپ میں ایک الگ نظارہ پیش کرتا ھے اگر اس علاقے پر پوری توجہ کے پی کے یا وفاقی حکومت دے تو ادھر کے لوگوں کے حالات اور انداز زندگی بھی بدل سکتی ھے اور ناران و کاغان اور شوگران کی طر ح ادھر بھی سیاحوں کا رش ھو سکتا ھے اور بہتری آ سکتی ھے..سردی کے موسم میں ادھر برف باری ھوتی ھے اور دسمبر میں سکول بند اور ہر گھر کا ایک فرد ادھر سے ہجرت کر کے پنجاب کا رخ کرتا ھے تاکہ اپنے بچوں کے لیے روزی روٹی کما سکے اور باقی کے لوگ فروری تک رات کو سو کر اور روزانہ صبع کو چھت پر سے برف کی تہہ کو اتارنے میں شام کر کے گزارتے ہیں.مہوﮈند جھیل جاتے ھوۓ دریاۓ سوات پر کئ گلیشیر آتے ہیں جو گرکر سڑک کو بند کرچکے ہیں مگر علاقے لوگوں کی اپنی مدد آپ کے تحت اس گرنے والے گلیشیر پر مٹی ﮈال کر راستہ بنایا گیا ھے جو کسی بھی وقت پریشانی اور حادثہ کا باعث بن سکتا ھے.سوات سے کالام تک کے لوگوں نے اب اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا شروع کر دیا ھے اور اسکی وجہ جو امین بھاہی نے بتاہی کہ اب سکول کا نظام عمران خان صاحب کی بدولت بہتر ھوا ھے ورنہ پہلے سکولوں میں تو استاد تاش کھلیتے تھے مگر اب کوہی بچہ سکول نہ جاۓ تو وہ فون کر کے وجہ پوچھتے ہیں ادھر سکول میں انگلش ..اردو...پشتو....عربی پر توجہ دی جاتی ھے اور ان لوگوں کا خیال ھے کے اگلے دس سال تک ادھر سکولوں کی حالات مزید بہتر ھو جاۓ گی.مہوﮈند جھیل تک سڑک اور دریاۓ سوات کے دونوں جانب چھوٹی چھوٹی کئ آبشاروں نے علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگاۓ ہیں آخر کار مشکل سفر طے کر کے فلک بوس پہاڑوں کے درمیان ہم اپنی منزل مہوﮈند جھیل تک پہنچ ہی گۓ اللہ کے کرم سے اور جھیل کو دیکھ کر بے ساختہ زبان سے اللہ اکبر نکلا کیس نظارہ قدرت تھا کشتی اور گھڑروں کی سیر نے سفر کی مشکل اور پریشانی کو ختم کر دیا دوپہر کا کھانا کھا کر واپسی ھوہی.یہ وہ جھیل ھے جس سے دریاۓ سوات جنم لیتا ھے کیا نظارہ ھے اللہ اکبر اگر اپکو موقع بھی ملے تو اس نظارے کو ضرور دیکھے.
پاکستانی فوج کی جانب سے موسم گرما میں جشن سوات کے رنگا رنگ فیسٹیول ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ موٹرسائیکل سے چھلانگ، چوگان کے مقابلے، گھڑسواری، گھوڑوں کا رقص، پیرا شوٹ سے چھلانگ، پیرا گلائیڈنگ کے شاندار مظاہرے اور رات کو آتشبازی سے آسمان پر رنگ و نور کی بارش جیسا منظر دیکھا جاتا ہے۔ اس سے سیاح بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ پلوں کی تعمیراور سڑکوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال سے اس علاقے میں سیاحت کے فروغ کے کافی امکانات بن چکے ہیں۔
فضا گٹ سے سیدوشریف.. سفید محل اور سوات عجاہب گھر(حصہ 3)
صبع ناشتے کے مقامی ساتھی فدا بھاہی کی زیر نگرانی ہمارا سفر مینگورہ سے ھوتے ھوۓ دربار سیدوشریف فاتحہ کے لیے روکے مگر وہاں پہلے سے موجود شخص سے والی سوات کی موجودگی کے وقت دربار شریف کی حالت کا ﺫکر شروع کر دیا جو آج سے اچھا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ تبدیل ھو جاتا ھے وہ سوچ ھو یا کردار...حالات تبدیل ھوتے رہتے ہیں..آج بھی دربار کی حالت ٹھیک ھے عقیدت مند آتے ہیں فاتحہ کرتے ہیں اور واپس چپ چاپ چلے جاتے ہیں اسی طرح ہم بھی فاتحہ کے اپنے اگلے سفر پر روانہ ھوے جو والی سوات صاحب (امیر اورنگزیب) کا گھر اور انکی عدالت کی جگہ کہ جس جگہ سردی کے موسم میں لوگوں کی شکایت سنی جاتی تھی.وہ سفید محل بھی دیکھنے کی جگہ ھے سوات سے تیس منٹ کی مسا فت پر ھے سڑک یہ بھی بن رہی ھے اسکے دونوں جانب بھی فلک بوس پہاڑ اور پھر کناروں پر آبادی ھے اور گندم..آلو..پیاز...بند گوبھی...مکئ...کے کھیت اور آرڑو...خوبانی...ناشپاتی....کے باغات ملے گۓ.فلک بوس پہاڑوں کے درمیان سفید محل بہت خوبصورت نظارہ پیش کرتا ھے ہر طرف خاموشی اور پرسکون ماحول زندگی کو ایک نیا رنگ دیتی ھے...سفید سنگ سنگ مرمر بھارت سے منگوا کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا ھے...واپسی پر عجاہب گھر سوات کا نظارہ کرنے کے لیے روکے اور وہاں موجود تاریخی اشیاء کو دیکھا جس نے مزید اس ٹرپ کو بے مثال بنا دیا.ا
سب اپنی جگہ اعلی اوخوب صورت ر مگر سوات سے آگے بدین اور بحرین کے بعد کا روڑ(سڑک) کوئی 40 کلو مٹیر جو کالام تک جاتی ھے وہ بہت خراب تھی( لیکن تازہ معلومات کے مطابق بن چکی ھے)یہ سیاحوں کے لیے پریشانی کا باعث تھی جس کے لیے کے پی کے اور وفاقی حکومت دونوں کا شکریہ کہ سیاحوں کی پریشانی کو ختم کیا.
چیچاوطنی سے سوات اور پھر وادی سوات میں کالام,مالم جبہ,سیدو شریف,عجاہب گھر سوات,
فضا گٹ پارک,اشو گلیشیر,والی سوات کا
سفید محل,دریاۓ سوات کے کنارے گاؤں میاندم,دریاۓ سوات کا شہر مدین ؤ بحرین,
مہوﮈندﮈ جھیل,پی سی بھوربن,مری,پترہاٹہ,اور واپسی چیچاوطنی کا سفر ھو اور عمران صاحب اور عامر صاحب کا ساتھ ھو کیا ہی بات ھے انکے ساتھ اور سفر کی ..ان پانچ دن کے قیام نے مجھے تو سارے غم اور ہر قسم پریشانی سے فری کردیا... اللہ پاک حفاظت فرماۓ...اس پورےسفر میں ہم نے اپنے وہ تمام ساتھی جو کسی نہ کسی وجہ سے ہمارے ساتھ اس سفر میں شریک نہ ھو بے والے دوستوں کو کثرت سے یاد کرتے رہے مجھے قوی امید ھے کہ اگلے سفر میں یہ تمام ساتھی ہمارے ساتھ ھوں گے اللہ پاک اپنی توفیق ؤ رحمت فرماۓ .آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90588 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
15 May, 2018 Views: 231

Comments

آپ کی رائے