موہے عشق نچایا کر تھیا تھیا (بارہویں قسط)

(Mona Shehzad, Calgary)

صبا تیار ہوکر سر پر سکارف لے کر نیچے آئی تو عمران نے اسے دیکھ کر بے ساختہ ماشاءاللہ کہا.
صبا شرم سے سرخ ہوگئی. عمران کے دوست نے یہ افطار پارٹی اپنے گھر کے لان میں مینج کی ہوئی تھی. افطار پارٹی میں صبا نے بہت انجوائے کیا. ہر ایک نے ان دونوں کی جوڑی کو بہت سراہا. عمران بھی جیسے نظروں ہی نظروں میں اس کی نظر اتار رہا تھا.
گھر واپسی پر صبا کی آنکھیں شکرگزاری کے باعث بھرتی رہیں.
رمضان المبارک کا مہینہ پر لگا کر گزر گیا. ہر گزرتے دن کے ساتھ صبا کے دل میں عمران کی محبت، چاہت اور عزت بڑھتی گئی.
چاند رات والی رات عمران نے صبا کو بھرپور شاپنگ کروائی، نہ صرف صبا کے عید کے کپڑوں میں اپنی پسند شامل کروائی بلکہ اپنے عید کے کپڑے بھی صبا کی مشاورت سے خریدے. نئے جوتے، چوڑیاں ،مہندی، بوتیک سے ڈیزائنر کپڑے صبا نے زندگی میں پہلی بار ایسی بھرپور عید کی تیاری کی تھی. شاپنگ سے فارغ ہوکر انہوں نے ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے کھانا کھایا. اتنی شاپنگ کے بعد دونوں کا بھوک سے برا حال تھا. گھر واپسی پر ایک پھول فروش بچے پر رحم کھا کر عمران نے صبا کو گجرے اور کنگن لے کر دئیے.
فلیٹ میں پہنچ کر دونوں نے نماز عشاء ادا کی.نماز کی ادائیگی کے بعد صبا نے بہت دل سے شکرانے کے نفل عطا کئے اور پھر گجروں والا لفافہ لے کر عمران کو دیکھنے کے ارادے سے باہر آئی. قسمت سے عمران ابھی بالکونی میں ڈے بیڈ پر نیم دراز سمندر سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے رہا تھا. صبا نے ہلکے سی کھانسی سے اپنی موجودگی کا احساس دلایا. عمران نے فورا سیدھے ہوکر بیٹھتے ہوئے صبا کو نرمی سے مخاطب کرکے کہا :
"جی صبا! کیا بات ہے؟
صبا کو زندگی میں پہلی بار اپنا مافیا الضمیر پیش کرنے میں دقت پیش آئی. اس نے جھجکتے جھجکتے عمران کے آگے پھولوں کے کنگن اور گجرے رکھ کر کہا:
آپ نے میری زندگی میں ان پھولوں کی طرح خوشبو بکھیر دی ہے. میں آپ کی نیک نیتی سے بخوبی واقف ہوچکی ہوں. اگر آپ مجھے موقعہ دیجئے تو میں ایک وفاشعار بیوی بن کر آپ کو دکھاؤں گی. "
صبا کی یہ بات سن کر عمران کے دل کے تار چھڑ گئے. اس نے صبا کے ہاتھوں میں پھولوں کے کنگن پہنائے اور اس کے ہاتھوں کو چوم کر کہا :
"آپ کو اپنے انتخاب پر کبھی زندگی میں پچھتاوا نہیں ہوگا. میں آپ کی چھت ہوں اور ہمیشہ آپ کی چھت بنا رہونگا. صبا نے مطمئن ہو کر اپنا سر عمران کے کاندھے پر ٹیک دیا.
(باقی آئندہ ).

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178238 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
18 May, 2018 Views: 895

Comments

آپ کی رائے