پرہیزگاری و تقویٰ کا موسم بہار ماہ رمضان المبارک : چند اصلاح طلب پہلو

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

روزہ نعمت ہے۔ روزہ رحمت ہے۔ روزہ پرہیزگاری کا پیام ہے۔ روزہ نیکی کا پیغام ہے ۔ مومن کے لیے فرحت و انعام ہے۔ روزے کا اصل مقصد قرآن پاک نے یہ بیان کیا ہے کہ انسان کے اندر تقویٰ کو فروغ ملے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمھیں پرہیزگاری ملے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳؛ کنزالایمان)

یعنی روزے کی فرضیت اس لیے ہے کہ ایمان والے پرہیزگار ہو جائیں، گناہوں سے بچ جائیں اور آئندہ بھی ان میں گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو جائے، آدمی بھوکا پیاسا اس لیے رہتا ہے اور حلال چیزوں کو خواہش کے باوجود اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ رب عز و جل راضی ہو جائے۔رب کی خوش نودی حاصل ہوجائے۔

صفائی قلب: اسلام نے ظاہر کی صفائی پر بھی زور دیا ہے اور اس سے زیادہ باطن کی صفائی کو ضروری فرمایا۔ اسی لیے تقویٰ و پرہیزگاری کو اہمیت دی ہے۔ تقویٰ کی تعمیر و تربیت کی غرض سے ایک مکمل مہینہ ماہِ رمضان عطا فرما دیا۔ باطنی تربیت، تطہیر قلب، پاکیزگیِ نفس کا یہ موسم یوں ہی نہیں عطا کیا گیا۔ بلکہ اسلام کے فطری نظام کایہ سال بہ سال وارد ہونے والا ایک نظامِ کامل ہے۔ جس کا صحیح صحیح استعمال بندے کو معبودِ حقیقی سے قریب کر دیتا ہے۔ رمضان المبارک مقصد حیات کی تعمیل کے لیے حکمتِ الٰہی ہے۔

غریبوں سے ہمدردی: غریب بڑے اچھے ہوتے ہیں۔ ان کے دل کینے سے صاف ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو ستاتے نہیں۔ ظلم نہیں ڈھاتے۔ سیدھے سادھے لوگ ہوتے ہیں۔ تکالیف سہہ لیتے ہیں۔ درد اٹھا لیتے ہیں۔ ان کی اضطراری بھوک، پریشاں حالی کا احساس دوسروں میں موجود رہے؛ افلاس کے احساس سے ہم محروم نہ ہوں۔ اسی احساس کی جِلا کا نام ہے روزہ۔ ایک ماہ کی اختیاری بھوک سے ہمیں غریبوں کی اضطراری بھوک کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس طرح پوری سوسائٹی کے درد کا احساس بیدار ہوتا ہے۔ ورنہ مصائب سے دور رہنے والا مسکینوں کے فاقے کس طرح محسوس کرتا؟ ماہِ رمضان غریبوں سے ہم دردی و مخلصانہ برتاؤ کی فکر کا احساس جگاتا ہے۔

نعمتوں سے استفادہ: اﷲ نے ہر ایک کا رزق مقرر فرمایا۔ انسان سادہ غذا استعمال کرتا ہے۔ امرا کی خواہشات ان کے ذرائع آمدن کے مطابق بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔ عام آدمی اس طرزِ حیات کو قبول نہیں کرسکتا۔ ماہِ رمضان کی برکتیں ہیں کہ عام آدمی بھی قسم قسم کی نعمتیں پاتا ہے۔ رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ شانِ کریمی کہ بندہ نوازہ جاتا ہے۔ عام دنوں کے مقابلے رمضان میں فیض و کرم میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔اس طرح اسلامی سوسائٹی کا ہر ممبر اپنے رب کے کرم خاص سے حصہ پاتا ہے۔ نعمتوں کی اس قدر بارش یقینا رمضان کے سبب ہے۔

انعام کی سمت: روزہ تقویٰ و خشیت الٰہی کا مظہر ہے۔ اس منزل سے کامیاب گزرنے والے باطنی طور پر بھی پاکیزگی پاتے ہیں اور ظاہری نعمتوں سے دامن بھرتے ہیں۔ پھر ماہِ رمضان میں عبادتوں اور رب کی رضا و خوش نودی کے امور کے سبب یہ انعام ملتا ہے کہ عید کی صبح مسرت طلوع ہوتی ہے اور خوشیوں کی سوغات بٹتی ہے۔ ہماری خوشی کا آغاز امتحان و صبر؛ استقامت کی راہ سے گزر کر ہوتا ہے۔ رمضان میں غریبوں کی غم گساری و دل جوئی ، عبادت و ریاضت، تقویٰ و طہارت کا انعام ’’عید‘‘ ہے، خوشی و مسرت ہے۔ ہماری خوشیوں کے دیپ مسکینوں کی رضا و دل جوئی سے جلتے ہیں۔ ہماری مسرتیں مظلوموں کی ہمدردی سے تشکیل پاتی ہیں۔ اسلام کا یہ درس ساری انسانیت کے لیے پیغام ہے کہ امن و امان چاہیے تو مظلوموں سے محبت کرو، انسانیت کی بقا چاہتے ہو تو محبتوں کے خوگر بن جاؤ، نفرتوں کو ختم کرو تا کہ انسانیت کے یومِ مسرت منانے کے حق دار بنو۔ اس طرح اسلام نے فطری نظام کی تشکیل کی ہے اور ظلم و جور کے مقابل امن و اخوت کی فکر دی ہے۔ جس کی اس زمانے میں زیادہ ضرورت ہے۔

ریا سے بچئے: ریا اور دکھاوا مہلک مرض ہیں۔ ماہِ رمضان باطن کی تعمیر کرتا ہے اور دل کی ستھرائی۔ دکھاوا اور ریا سے اعمال کے اکارت ہونے کا اندیشہ ہے۔ چاہیے کہ اس ماہِ مبارک میں ریا کاری جیسے مرض سے نجات حاصل کریں اور اس کے علاج کے لیے روزوں سے دوا لیں۔ جو کام کریں اﷲ کی رضا و خوش نودی کے لیے کریں۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مال کی نمائش کی خاطر لوگ غریبوں کی مدد بھی بڑی لائنیں لگا کر کرتے ہیں کہ ہم غریبوں پر لُٹا رہے ہیں۔ ہاں اگر اس میں یہ نیت ہوتی کہ نمایاں کرنے سے دوسروں کو بھی غریب پروری کا جذبہ پیدا ہو تو بات جدا تھی؛ لیکن عام طور پر اپنی دولت کا رعب جمانے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ضرورت مندوں کی امداد اس طرح کریں کہ ان کی داد رَسی بھی ہو جائے اور نمائش و کھاوا بھی نہ ہو، نہ ہی عزتِ نفس مجروح ہو۔

اﷲ کی رضا جوئی کی خاطر روزہ رکھیے۔ روزے کے برکات کثیر ہیں، ان سے فیض یابی کے لیے ضروری ہے کہ نیتوں کو ستھرا رکھیں اور دل کو بھی پاک رکھیں۔ خیالات کی اصلاح کریں اور کردار و اعمال کی ستھرائی و صفائی کا بھی خیال رکھیں تا کہ ماہِ صیام کے برکات و حسنات سے وافر حصہ پاسکیں اور اپنی اخروری زندگی کی جِلاکا ساماں بھی مہیا ہو۔
٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 146245 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2018 Views: 288

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ