اسرائیلی بربریت اور مسلم امہ کی بے بسی

(Muhammad Amjad, Rawalpindi)

14 مئی دنیا کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس دن ٹرمپ نے تمام اخلاقی، سیاسی اور سفارتی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا۔ اس طرح دنیا میں امریکی دھونس اور دھاندلی کی ایک اورتاریک تاریخ رقم ہوئی ہے۔ اس اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے مظلوم اور نہتے فلسطینیوں پر جب اسرائیلی فوج اندھا دھند فائرنگ کررہی تھی تو ٹرمپ اس دن کو "عظیم" قراردے رہا تھا جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "آج ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔" واقعی اس دن نئی تاریخ رقم ہوئی مگر فلسطینیوں کے خون سے جو دنیا میں انتہائی ارزاں ہوچکا ہے ۔ ستر فلسطینی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، بے دردی سے شہید کردیئے گئے جبکہ تین ہزار کے قریب شدید زخمی ہیں۔اس اسرائیلی بربریت کے خلاف دنیا کے کسی ٹھیکیدار نے آواز بلند کی نہ کوئی نام نہاد سلامتی کونسل حرکت میں آئی۔کوئی قرار دادمنظور ہوئی نہ کوئی این جی او یا انسانی حقوق کی تنظیم ’’آزادی اظہار‘‘ کرسکی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ستر سال سے مظلوم فلسطینی عالمی بے حسی اور بے توجہی کا شکار ہیں۔ امریکہ جو دنیا میں "ثالثی" اور "امن" کا علمبردار ہونے کا دعویدار ہے،حقیقت میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتا رہا ہے۔ اس کی غیرجانبداری ہمیشہ ایک مکر رہی ہے۔ اس کی بالواسطہ اور بلاواسطہ مداخلت یا سازشوں سے دنیا کا کوئی خطہ محفوظ نہیں رہا۔ امریکہ نے بہت سے ممالک میں شورشوں کی پشت پناہی کی ہے۔ عرب ممالک میں خانہ جنگی کی خونیں بہاروں کوفروغ دیا، دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کی، پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں ڈرون حملوں کی بوچھاڑ کی، عراق، لیبیا، افغانستان اور شام میں نہتے عوام پر گولہ و بارود کی بارش کی۔ ناگاساکی اور ہیروشیما آج بھی امریکی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں جہاں اس نے ایٹم بم گرا کر پل بھر میں لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ کی اس ظالمانہ روش میں مزید تیزی آگئی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت بہت سے عالمی ادارے اس کے گھر کی لونڈی بنے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر جب بھی مسلمانوں کے مفاد کی بات ہوتی ہے، ان اداروں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ان اداروں کی طرف سے فلسطین، کشمیراور روہنگیا میں ظلم و تشدد کے حوالے سے آج تک کوئی جاندار موقف سامنے نہیں آسکا ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے ستر سال قبل یہودی ریاست کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کے دل میں چھرا گھونپا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ گھاؤ ناسور کی شکل اختیار کرکے نہ صرف فلسطین بلکہ دوسرے مسلمان ممالک کے لیے خطرہ بن چکا ہے ۔ وہ اپنی مکارانہ پالیسی کے ذریعے مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ آج امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں سے امت مسلمہ تقسیم ہوچکی ہے۔ عرب دنیا چھوٹے چھوٹے ایشوز پر ایک دوسرے دست و گریبان ہے۔ اس عداوت نے انہیں اندر سے اس قدر کمزور اور کھوکھلا کردیا ہے کہ وہ یہودونصاری کے ظلم وتشدد اور ہٹ دھرمیوں کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت تو کیاآواز تک بلند کرنے سے گھبراتے ہیں۔ دنیا کے ہر خطے اور علاقے میں وہ پستے چلے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ تو دور اوآئی سی میں وہ متحد نظر نہیں آتے۔ اتحاد و یگانگت میں فقدان ہونے کے باعث ان کی آواز جاندار ہے نہ کوئی وقعت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرکے وہاں باقاعدہ سفارت خانہ کھول لیا ہے۔ امریکہ کے اس یکطرفہ اقدام کے خلاف فلسطینی عوام سراپا احتجاج ہیں۔ پاکستان سمیت بہت سے مسلمان ممالک اس واقعے کی مذمت کررہے ہیں۔ تاہم یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ محض خالی نعرے اور مذمتی قراردادیں کسی کا کچھ نہیں بگاڑسکتیں۔ مسلمانوں کو دنیا میں اپنی بات منوانے کے لیے اپنے اختلافات کو مٹا کر اتحاد ویگانگت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ خود کودفاعی لحاط سے بھی مضبوط بنانا ہوگا ۔بصورت دیگر غیرمسلم طاقتیں انہیں اسی طرح اپنا تختہ مشق بناتی رہیں گی۔آخر میں حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کی ’’جواب شکوہ‘‘ سے چند اشعارملاحظہ کیجئے جو امت مسلمہ کی موجودہ حالت زار کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں:
منفعت ایک ہے اِس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی اﷲ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad Ch

Read More Articles by Muhammad Amjad Ch: 94 Articles with 44004 views »
Columnist/Journalist.. View More
19 May, 2018 Views: 295

Comments

آپ کی رائے