قدرتی آفات اور ہمارے اعمال

(Rufan Khan, )

صحابہ کرام کے دور میں جب کوئی شخص تکلیف میں مبتلا ہوجاتاتو اس کے اعمال کودیکھا جاتاکہ ان کے اعمال کس طرح ہیں اگر اس کا عمل اچھا ہوتااور پھر بھی تکلیف میں مبتلا ہوتاتویہ بات بھی ہوتی تھی کہ یہ بندہ اﷲ تعالیٰ کے قریب ہے اور اﷲ تعالی اس سے امتحان لے رہا ہے اور یہ بھی سننے کو ملتا کہ بندہ جتنااﷲ کے قریب ہوگاوہ آزمایا جائے گا یہ اس وجہ سے نہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس سے محبت نہیں کرتے بلکہ بندے کے اخلاص کو آزمایاجاتا ہے، مسلمان بندے کواﷲ تعالیٰ اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے آزمائش میں ڈال دیتا ہے جو بندہ اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع کرکے اﷲ تعالیٰ سے اپنے گناہوں پر معافی مانگتے ہیں تواﷲ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرکے ان کو اپنے خاص بندوں میں شامل کرلیتا ہے اس کے برعکس جو قومیں سرکشی پر اُتر آتی ہیں اﷲ تعالیٰ ان کو آسمانی آفات کی شکل میں عذاب میں مبتلا کردیتی ہے اوریہ قرآن مجیدمیں بھی مذکورہے کہ بنی اسرائیل ،قوم نوح،نصاریٰ اور دیگر قومیں ظالم تھیں اورہمیشہ ظلم ،زیادتی اورگناہوں میں مبتلا تھیں اور ان کا کردار اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں تھا پھر اﷲ تعالیٰ نے ظلم و زیادتی پران کومہلت دی کہ لاعلم قوم سبق سیکھے گی اور کئے گئے گناہوں پر توبہ تائب ہوجائے گی لیکن نہ ہی توبہ کیا اور نہ ہی سبق سیکھاپھر اﷲ تعالیٰ نے اس پر عذاب نازل کیا اور آسمان کی طرف سے آفات آئیں اور ان قوموں پر پتھروں کی بارش ہوئی ،خون برسایا،مینڈک نازل کئے،جوآج بھی نافرمان لوگ کیلئے ایک سبق کی طور پر لکھا ہوا موجود ہے اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس معاشرے میں ناانصافی،زیادتی،کسی کے حق پر ڈاکہ،مظلوموں کاساتھ نہ دینے اور ظالم کی پشت پناہی ہونے لگے تو اس حالت میں ایسے معاشرے پر مختلف قدرتی آفات نازل کئے جاتے ہیں،ایک واقعے میں رسول مہربانﷺ نے اﷲ تعالیٰ سے امت مسلمہ کیلئے دعا کی ہے کہ اے اﷲ جس طرح بنی اسرئیل پرتو نے اپنے عذاب نازل کئے میری امت کو ایسے عذاب سے محفوظ رکھنا قارئین کرام ایک طرف سردار دوجہان حضرت محمد ﷺاﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ میرے رب میری امت پر غذاب نہ لا ہمارے رسولﷺ اپنی امت کے ساتھ کتنی محبت کرتے ہیں اور امت دنیاوی عیش وعشرت میں مصروف ہیں اسلامی تعلیمات ہم بھلا چکے ہیں اور دنیاکے دھوکے میں آگئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان مختلف مسائل سے دوچار ہیں آج کے مسلمانوں نے کونسی نافرمانی ہے جو اُس نے نہیں کی مسلمان بھائی کودھوکہ دینا ،ناپ تول میں کمی کرنا،ملاؤٹ کرنا ،مسلمانوں کا خون بہانا، عزتیں لوٹنا، زنا،چوری ،شراب پیناوغیرکو نسا گناہ ہے جوہم مسلمانوں نے چھوڑاہے،یہ سب کچھ ہم مسلمان جانتے بوجھتے کرتے ہیں پھر بدلہ تو ضرور ملے گااور وہ یہ ہے زلزلے کے جھٹکے، سیلاب ،ژالہ باری ،خودکش دھماکے، اغواء برائے تاؤان، قتل عام،مسلمانوں کے درمیان محبتیں سب ختم ہوگئیں ہیں یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آفات ہیں گزشتہ روز بھی پاکستان میں ایک روزمیں دودفعہ زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے تھے یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے اگر سوچا جائے تو یہ قیامت کی نشانیاں بھی ہیں اگرہم چاہتے ہیں کہ ملک میں امن ہو ہر طرف خوشخالی ہو تو بحیثیت مسلمان ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ پچھلے گناہوں اور زیادتیوں پر اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور توبہ کریں اور آئندہ ان گناہوں کا آعادہ نہیں کریں گے اور اﷲ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں طلب کریں گے تو اﷲ تعالیٰ ظالم نہیں ہے اور وہ ہماری دعا قبول کرے گا اور ہماری دنیاؤی زندگی میں سب چین وسکون پیدا کرے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rufan Khan

Read More Articles by Rufan Khan: 28 Articles with 10990 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2018 Views: 402

Comments

آپ کی رائے