اللہ کا ڈر ہی اثاثہ کل ھے

(Babar Alyas, Chichawatni)
اللہ کا ڈر اوت خوف کی ہماری زندگی کو راہ نجات پر لا سکتا ھے اور یہ ہی ایمان والوں کی نشانی ھے

اللہ کا خوف نفس کو (نفسانی) خواہشات سے روکتا ہے، اور اسے فتنے کے بارے میں ڈانٹتا ہے، اور اسے نیکی اور کامیابی کے کاموں کی طرف لے جاتا ہے۔

اور اللہ کا خوف توحید کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے، (اس لئے) ضروری ہے کہ وہ(خوف) اللہ ہی کے لئے ہو، اور اللہ کے علاوہ کسی اور کا خوف ہونااللہ کے ساتھ شرک کرنے کی اقسام میں سے ایک قسم ہے،
قرآن مجید کی آیات اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارک اور بزرگان دین کے واقعات میں جو اللہ جل شان سے ڈرنے کے متعلق جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس کا احاطہ تو دشوار ہے لیکن مختصر طور پر اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ دین کے ہر کمال کا زینہ اللہ کا خوف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حکمت کی جڑ اللہ کا خوف ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت رویا کرتے تھے حتیٰ کہ روتے روتے آنکھیں بھی بیکار ہو گئیں تھیں، کسی شخص نے ایک مرتبہ دیکھ لیا تو فرمانے لگے میرے رونے پر تعجب کرتے ہو اللہ کے خوف سے سورج روتا ہے، اسی طرح ایک مرتبہ فرمایا اللہ کے خوف سے تو چاند بھی روتا ہے، اللہ سے خوف کی ایک جھلک صحابہ اکرامؓ کی زندگی سے تحریر کررہا ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو با اجماع اہل سنت انبیاء ؑ کے علاوہ تمام دنیا کے آدمیوں سے افضل ہیں اور ان کا جنتی ہونا یقینی ہے کہ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنتی ہونے کی بشارت دی بلکہ جنتیوں کی ایک جماعت کا سردار بتایا اور جنت کے سب دروازوں سے ان کی پکار اور بلاوے کی خوشخبری دی اور یہ بھی فرمایا کہ میری امت میں سب سے پہلے ابوبکر ؓ ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت میں داخل ہونگے اس سب کے باوجود فرمایا کرتے کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا، کبھی فرماتے کاش میں کوئی گھاس ہوتا کہ جانور اس کو کھا لیتے کبھی فرماتے کاش میں کسی مومن کے بدن کا بال ہوتا۔ ایک مرتبہ ایک باغ میں تشریف لے گئے اور ایک جانور کو بیٹھا ہوا دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھر ااور فرمایا کہ تو کس قدر لطف میں ہے کہ کھاتا ہے پیتا ہے، درختوں کے سائے میں پھرتا ہے۔ اور آخرت میں تجھ پر کوئی حساب کتاب نہیں، کاش ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تجھ جیسا ہوتا۔ ربیعہ ؓ اسلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی بات پر مجھ میں اور حضرت ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کچھ بات بڑھ گئی اور انہوں نے مجھے کوئی سخت لفظ کہہ دیا جومجھے ناگواز گزرا۔فوراً اُن کو خیال ہوا، مجھ سے فرمایا کہ تو بھی مجھے کہد ے تاکہ بدلہ ہو جائے، میں نے کہنے سے انکار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یا تو کہہ لو ورنہ میں حضور ﷺ سے جا کر عرض کروں گا، میں نے اس پر بھی جوابی لفظ کہنے سے انکار کیا۔ وہ تو اُٹھ کر چلے گئے، بنو اسلم کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ یہ بھی اچھی بات ہے کہ خود ہی تو زیادتی کی اور خود ہی اُلٹی حضور ﷺ سے شکایت کریں۔ میں نے کہا تم جانتے بھی ہو کہ کون ہیں۔ یہ ابوبکر ؓ صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اگر یہ خفا ہو گئے تو اللہ کا لاڈلا رسول ﷺ مجھ سے خفا ہو جائے گا۔ اور ان کی خفگی سے اللہ تعالیٰ شانہ ناراض ہو جائیں گے تو ربیعہ ؓ کی ہلاکت میں کیا تردد ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور قصہ عرض کیا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے تجھے جواب میں اور بدلہ میں کہنا نہیں چاہیے۔ البتہ اس کے بدلہ میں یوں کہہ کہ اے ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تمہیں معاف فرما دیں۔ یہ ہے اللہ کا خوف کہ ایک معمولی سے کلمہ میں حضرت ابوبکر ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بدلہ کا اس قدر فکر اور اہتمام ہوا، کہ اول خود درخواست کی اور پھر حضور ﷺ کے واسطہ سے اس کا ارادہ فرمایا کہ ربیعہ ؓ بدلہ لے لیں۔ آج ہم سینکڑوں باتیں ایک دوسرے کو کہہ دیتے ہیں، اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ اس کا آخرت میں بدلہ بھی لیا جائے گا یا حساب کتاب بھی ہوگا۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ بسا اوقات ایک تنکاہاتھ میں لیتے اور فرماتے، کاش میں یہ تنکا ہوتا کبھی فرماتے کاش مجھے میری ماں نے جنا ہی نہ ہوتا، ایک مرتبہ کسی کام میں مشغول تھے۔ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔ آپ چل کر مجھے بدلہ دلوا دیجئے۔ آپ ؓ نے اس کے ایک دُرہ مار دیا کہ جب میں اس کام کے لیے بیٹھتاہوں اس وقت تو آتے نہیں،جب میں دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہوں تو آکر کہتے ہیں کہ بدلہ دلوا، وہ شخص چلا گیا۔ آپ ؓ نے آدمی بھیج کر اس کو بلوایا اور دُرہ اس کو دے کر فرمایا کہ بدلہ لے لو، اس نے عرض کیا میں نے اللہ کے واسطے معاف کیا۔ گھر تشریف لائے دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد اپنے آپ کو خطاب کرکے فرمایا۔اے عمر تو کمینہ تھا اللہ نے تجھ کو اونچا کیا۔ تو گمراہ تھا اللہ نے تجھ کو ہدایت کی۔ تو ذلیل تھا اللہ نے تجھے عزت دی، پھر لوگوں کا بادشاہ بنایا۔ اب ایک شخص آکر کہتا ہے کہ مجھے ظلم کا بدلہ دلوا دے تو تُو اس کو مارتا ہے۔ کل کو قیامت کے دن اپنے رب کو کیا جواب دے گا۔ بڑی دیر تک اسی طرح اپنے آپ کو ملامت کرتے رہے۔ آپ ؓ کے غلام حضرت اسلم ؓ کہتے کہ میں ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ کے ساتھ حرّۃ کی طرف جارہا تھا۔ ایک جگہ آگ جلتی ہوئی جنگل میں نظر آئی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ شاید یہ کوئی قافلہ ہے جورات ہو جانے کی وجہ سے شہر میں نہیں گیا باہر ہی ٹھہر گیا۔چلو اس کی خیر خبر لیں رات کو حفاظت کا انتظام کریں، وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت ہے جس کے ساتھ چند بچے ہیں جو رو رہے ہیں اور چلا رہے ہیں اور ایک دیگچی چولہے پر رکھی ہوئی ہے جس میں پانی بھرا ہوا ہے۔ اور اس کے نیچے آگ جل رہی ہے۔ انہوں نے سلام کیا اور قریب آنے کی اجازت لے کر اس کے پاس گئے اور پوچھا کہ یہ بچے کیو ں رو رہے ہیں۔ عورت نے کہا بھوک سے لاچار ہو کر رو رہے ہیں۔ دریافت فرمایا کہ اس دیگچی میں کیا ہے؟ عورت نے کہا کہ پانی بھر کر بہلانے کے واسطے آگ پر رکھدی ہے کہ ذرا ان کو تسلی ہو جائے اور سو جائیں۔ امیر المومنین عمر ؓ کا اور میرا اللہ ہی ک یہاں فیصلہ ہو گا کہ میری اس تنگی کی خبر نہیں لیتے۔ حضرت عمر ؓ رونے لگے اور فرمایا کہ اللہ تجھ پر رحم کرے بھلا عمر ؓ کو تیرے حال کی کیا خبر ہے، کہنے لگی کہ وہ ہمارے امیر بنے ہیں اور ہمارے حال کی خبر بھی نہیں رکھتے۔ اسلم ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ مجھے ساتھ لے کر واپس ہوئے اور ایک بوری میں بیت المال میں سے کچھ آٹا اور کھجوریں اور چربی اور کچھ درہم لئے۔ غرض اس بوری کو خوب بھر لیا، اور فرمایا کہ یہ میری کمر پر رکھدے۔ میں نے عرض کیا کہ میں لے چلوں۔ آپ ؓ نے فرمایا! نہیں میری کمر پر رکھد ے۔ دو تین مرتبہ جب میں نے اصرار کیا تو فرمایا کہ قیامت میں بھی میرے بوجھ کو تو ہی اٹھا ئے گا۔ اس کو میں ہی اٹھاؤں گا۔ اس لئے کہ قیامت میں مجھ ہی سے اس کا سوال ہوگا۔ میں نے مجبور ہو کر بوری کو آپ کی کمر پر رکھد یا۔ آپ نہایت تیزی کے ساتھ اس کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی ساتھ تھا۔ وہاں پہنچ کر اس دیگچی میں آٹا اور کچھ چربی اور کھجوریں ڈالیں اور س کو چلانا شروع کیا اور چولہے میں خود ہی پھونک مارنا شروع کیا۔ اسلم ؓ کہتے ہیں کہ آپ ؓ کی گنجان داڑھی سے دھواں نکلتاہوا میں دیکھتا رہا، حتی ٰ کہ حریری ساتیار ہوگیا۔ اس کے بعدا ٓپ نے اپنے دست مبارک سے نکال کر اُن کو کھلایا۔ وہ سیر ہو کر خوب ہنسی کھیل میں مشغول ہوگئے، اور جو بچا تھا وہ دوسرے وقت کے واسطے ان کے حوالے کردیا۔ وہ عورت بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے تم تھے اس کے مستحق کہ بجائے حضرت عمر ؓ کے تم ہی خلیفہ بنائے جاتے۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو تسلی دی اور فرمایا کہ جب تم خلیفہ کے پاس جاؤ گی تو مجھ کو بھی وہیں پاؤ گی۔ حضرت عمر ؓ اس کے قریب ہی ذراہٹ کر زمین پر بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد چلے آئے اور فرمایا کہ میں اس لئے بیٹھا تھا کہ میں نے ان کو روتے ہوئے دیکھا تھا۔ میرا دل چاہا کہ تھوڑی دیر ان کو ہنستے ہنستے بھی دیکھوں۔ صبح کی نماز میں اکثر سورۃ کہف، طٰحہٰ وغیرہ بڑی سورتیں پڑھتے اور روتے کہ کسی کسی صفوں تک آواز جاتی۔ مرتبہ صبح کی نماز میں سورۃ یوسف پڑھ رہے تھے ”انما اشکوا بثی و حزنی الیٰ اللہ“پر پہنچے تو روتے روتے آواز نہ نکلی، تہجد کی نماز میں بعض مرتبہ روتے روتے گر جاتے اور بیمار ہو جاتے۔ یہ ہے اللہ کا خوف اس شخص کا جس کے نام سے بڑے بڑے نامور بادشاہ ڈرتے تھے، کانپتے تھے بلکہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس راستے سے عمر ؓ گزرتا ہے، شیطان وہ رستہ چھوڑ دیتا ہے۔ آج بھی ساڑھے تیرہ سو برس کے زمانہ تک اس کا دبدبہ مانا ہوا ہے۔ آج کوئی بادشاہ نہیں، حاکم نہیں، کوئی معمولی سا امیر بھی اپنی رعایا کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتا ہے؟ ہمارے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے تاریخ اسلامیہ میں اللہ کے خوف کی ایک اور مثال وہب بن منبتہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ظاہری بینائی جانے کے بعد میں ان کو لئے جا رہا تھا وہ مسجد حرام میں تشریف لئے گئے۔ وہا ں پہنچ کر ایک مجمع سے کچھ جھگڑے کی آواز آرہی تھی، فرمایا مجھے اس مجمع کی طرف لے چلو۔ میں اس طرف لے گیا، وہاں پہنچ کر آپ ؓ نے سلام کیا، ان لوگوں نے بیٹھنے کی درخواست کی تو آپ نے انکار فرمادیا اور فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ کے خاص بندوں کی جماعت وہ لوگ ہیں جن کو اُس کے خوف نے چپ کرا رکھا ہے۔ حالانکہ نہ وہ عاجز ہیں نہ گونگے بلکہ فصیح لوگ ہیں۔ بولنے والے ہیں،سمجھدار ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے ذکر نے ان کی عقلوں کو اُڑا رکھا ہے۔ ان کے دل اس کی وجہ سے ٹوٹے رہتے ہیں اور زبانیں چپ رہتی ہیں اور جب اس حالت پر اُن کو پختگی میسر ہو جاتی ہے تو اس کی وجہ سے نیک کاموں میں وہ جلدی کرتے ہیں تو لوگ ان سے کہاں ہٹ گئے، وہب ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے دو آدمیوں کو بھی ایک جگہ جمع نہیں دیکھا۔ حضرت ابن عباس ؓ اللہ کے خوف سے اس قدر روتے تھے کہ چہرہ پر آنسوؤں کے ہروقت بہنے سے دو نالیاں سی بن گئی تھیں۔ اوپر کے قصہ میں حضرت ابن عباس ؓ نے نیک کاموں پر اہتمام کا یہ ایک سہل نسخہ بتلایا کہ اللہ کی عظمت اور اس کی بڑائی کا سوچ کیا جائے کہ اس کے بعد ہرقسم کا نیک عمل سہل ہے اور پھر وہ یقیناً اخلاص سے بھرا ہوا ہوگا۔
قال اللہ تبارك و تعا لٰی :
وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّـهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ غَنِيًّا حَمِيدًا ﴿١٣١﴾
زمین اور آسمانوں کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں ہے اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کرو تو یاد رکھو کہ اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے (131) سورة النساء

خوف دل کی بے چینی کا نام ہے ۔ جب انسان حرام کام اورمعاصیات کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کے خوف سے لرز جاتا ہے.
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ(التغابن : 16)
ترجمہ: جتنی طاقت رکھتے ہو اللہ سے ڈرو۔
نذیر: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (الاحزاب:45)
ترجمہ: اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ۔
خوف: إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (آل عمران:175)
ترجمہ: یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے ، تم ان کافروں سے نہ ڈرواور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو۔
وجلت : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال:2)
ترجمہ: بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔
خشیہ: إِنَّ الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ (المومنون:57)
ترجمہ: یقینا جو لوگ رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔
رھبت :وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (البقرة:40)
ترجمہ:اور مجھ ہی سے ڈرو۔
رھق: وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا (الجن:6)
ترجمہ: بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے بعض نے کہا جنات نے انہیں مزید خوف میں مبتلا کردیا۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ( 1 ) انفال - الآية 1
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ( 2 ) انفال - الآية 2
مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ( 3 ) انفال - الآية 3
(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں
أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ ( 4 ) انفال - الآية 4
یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

ایک بزرگ کہتے ہیں کہ بیٹا ! اللہ سے ڈرتے رہا کرو ۔جس دل میں اللہ کا خوف آجائے ،اس دل کو راہ حق سے کوئی نہیں ہٹا سکتا ۔زندگی کی ڈوری بہت کمزور ہے ، کب کہاں کس موڑ پہ ٹوٹ جایے ،کچھ معلوم نہیں ، اس لیے اس ڈوری میں اللہ کے خوف کا دھاگہ شامل کر لوگے تو اس کے ٹوٹنے کا دکھ نہیں ہوگا ۔‘‘
عن عبد الله بن عمرو قال کان رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول'' اللهم إني أعوذ بک من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بک من هؤلا الأربع'' وفي الباب عن جابر وأبي هريرة وابن مسعود قال أبو عيسی وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ دُعَائٍ لَا يُسْمَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ هَؤُلَائِ الْأَرْبَعِ (یعنی اے اللہ میں تجھ سے ایسے دل سے پناہ مانگتا ہوں جس میں خوف خدا نہ ہو اور ایسی دعا سے پناہ مانگتا ہو جو قبول نہ ہوتی ہو اور ایسا نفس جو سیر نہ ہوتا ہو اور ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جس سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ میں ان چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں) جس سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابوہریرہ اور ابن مسعود سے بھی روایت ہے۔ یہ حدیث اسی سند سے حسن صحیح غریب ہے۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1436
سئلت فاطمة بنت عبد الملك زوجة عمر بن عبد العزيز - رحمه الله - عن عبادة عمر فقالت || و الله ما كان بأكثر الناس صلاة , و لا أكثرهم صياما , و لكن و الله ما رأيت أحدا أخوف لله من عمر , لقد كان يذكر الله فى فراشه , فينتفض انتفاض العصفور من شدة الخوف حتى نقول : ليصبحن الناس , ولا خليفة لهم.
فاطمہ بنت عبد الملک جو عمر بن عبد العزیزرحمہ اللہ کی اہلیہ ہیں اُ ن سے سید نا عمر بن عبد العزیز کی عبادت کا حال پوچھا گیا کہنے لگیں :
اللہ کی قسم وہ بہت زیادہ نفلی نماز یں نہیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہی کثرت سے نفلی روزے رکھا کرتے تھے
لیکن
اللہ کی قسم میں نے عمر سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا کوئی نہیں دیکھا ،
وہ اپنے بستر میں اللہ کو یاد کرتے
وہ اس طرح اللہ کے خوف سے کانپتے تھے جس طرح چڑیا خوف کی شدت سے پھڑپھڑاتی ہے
حتٰی کہ ہم کہتے : لوگ اِس حال میں صبح کریں گے کہ اُن کا کوئی خلیفہ نہیں ہوگا ( عمر بن عبد العزیز وفات پا جائیں گے)
رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں اگر تھوڑا ساوقت بھی ہم لوگ اس سوچنے کی خاطر نکال لیں تو کیا مشکل ہے؟محمد بن منکدر جب روتے تھے اللہ کے خوف سے تو آنسوؤں کو اپنے منہ اور داڑھی سے پونجھتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے روایت پہنچی ہے کی جہنم کی آگ اس جگہ کو نہیں چھوتی جہاں آنسوپہنچتے ہوں اور ثابت ؒ بنانی آنکھیں دکھنے لگیں طبیب نے کہا کہ ایک بات کا وعدہ کر لو آنکھیں اچھی ہو جائیں گی ”رویا نہ کرو“ کہنے لگے آنکھ میں کوئی خوبی ہی نہیں اگر وہ روئے نہیں، یزید بن میسرہ کہتے کہ رونا سات وجہ سے ہوتا ہے، خوشی سے،جنون سے، درد سے، گھبراہٹ سے، دکھلاوے سے، نشے سے، اور اللہ کے خوف سے۔ یہی ہے وہ رونا کہ اس کا ایک آنسو آگ کے سمند ر کو بجھا سکتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو شریعت کے اسلامیہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90729 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
23 May, 2018 Views: 356

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ