جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یُوں بھی ہے اور یُوں بھی

(نذر حافی, اسلام آباد)
مذہبی رہنما خود ہر مسئلے پر تقسیم ہیں۔ کچھ علما پاکستان کے آئین کو اسلامی کہتے ہیں تو کچھ غیر اسلامی، کچھ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہتے ہیں اور کچھ کافرستان، کچھ علما ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے کو عالمِ اسلام کے لئے بہت بڑی خوشخبری قرار دیتے ہیں اور کچھ علمائے کرام ایم ایم اے کو عالم اسلام کی تمام تر مصیبتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، کچھ علمائے دین ایم ایم اے کے قائد کواپنے قائد کا بھی قائد قرار دیتے ہیں اور کچھ ایم ایم اے کے قائد کو پاکستان کے تمام بنیادی مسائل کا سبب گردانتے ہیں۔
کچھ کے نزدیک پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینا شرعی ذمہ داری ہے اور کچھ کے نزدیک انتخابات میں حصہ لینا کفر و شرک کا موجب ہے

انسان دیگر موجودات سے بہت مختلف ہے، دوسروں کی بات کو سمجھنا اور اپنی بات کو سمجھا نا انسان کی جبلت ہے۔ افہام و تفہیم کے بغیر انسانی سماج کا تصور ممکن نہیں۔انسانوں کے برعکس جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈال کر کھینچا جاتا ہے۔ جانوروں کے جہان میں افہام و تفہیم کی وہ اہمیت نہیں جو انسانوں کے ہاں ہے۔
ہمارے ہاں سیاست دانوں سے ناامید ہونے کے بعد لوگ مذہبی رہنماوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، لیکن مذہبی رہنما خود ہر مسئلے پر تقسیم ہیں۔ کچھ علما پاکستان کے آئین کو اسلامی کہتے ہیں تو کچھ غیر اسلامی، کچھ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہتے ہیں اور کچھ کافرستان، کچھ علما ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے کو عالمِ اسلام کے لئے بہت بڑی خوشخبری قرار دیتے ہیں اور کچھ علمائے کرام ایم ایم اے کو عالم اسلام کی تمام تر مصیبتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، کچھ علمائے دین ایم ایم اے کے قائد کواپنے قائد کا بھی قائد قرار دیتے ہیں اور کچھ ایم ایم اے کے قائد کو پاکستان کے تمام بنیادی مسائل کا سبب گردانتے ہیں۔

کچھ کے نزدیک پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینا شرعی ذمہ داری ہے اور کچھ کے نزدیک انتخابات میں حصہ لینا کفر و شرک کا موجب ہے۔المختصر یہ کہ اگر اُس طرف جنابِ شیخ ہیں تو اس طرف بھی جنابِ شیخ ہی ہیں۔ ہر کسی کا یہی دعویٰ ہے کہ وہی انقلاب کا علمبردار ، بصیرت کا مینار اور سیرت کا پیروکار ہے۔

ہر کو ئی اپنے عمل کے لئے آیات و روایات کا سہارا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس زمانے میں فلاں امامؑ کی سیرت پر عمل کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے جب ہر طرف سے انالحق کی صدا آنے لگے تو عوام پر حق مشتبہ اور مبہم ہو جاتا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات لوگوں کی گردنوں میں افکارو نظریات کو پٹے کی صورت میں ڈال کر زبردستی کھینچا جاتا ہے اور مخالفت کرنے والے کی تکفیر تک کی جاتی ہے۔ یعنی عام آدمی سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کر لی جاتی ہے اور اسے کہاجاتا ہے کہ بس فلاں نے کہہ دیا ہے لہذا فلاں کی بات پر ہی عمل کرو ، صرف یہی حق کا راستہ ہے ورنہ گمراہ ہو جاو گئے۔

پتہ نہیں ہم کب یہ سمجھیں گے کہ نظریا ت و افکار ٹھونسنے اور پوجنے کے لئے نہیں بلکہ سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں سوچ و بچار کے بجائے نظریات و افکار کو بھی عقیدت کے ساتھ منوانے کی سعی اور کوشش کی جاتی ہے۔ لوگوں کو تحقیق اور موازنہ کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے ان سے اطاعتِ محض کا تقاضہ کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لکھنے والا ایک ہی نکتہ نظر کو لکھتا ہے، بولنے والا ایک ہی بات دہراتا رہتا ہے اور سننے والا ہر وقت سر دھنتا رہتا ہے۔ صرف واہ واہ اور چاپلوسی کرنے والوں کی کبھی نہ ماضی میں کمی تھی اور نہ آج ہے۔ لیکن اب دنیا بہت ترقی کرچکی ہے، افکار و نظریات کے طوق نماٹھیلوں کی رونق ماند پڑتی جا رہی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے سوچنا ، سمجھنا اور پرکھنا شروع کر دیا ہے۔

اب جان لیجئے کہ تسبیح کے دانے جتنے بھی ہوں ، تسبیح کا گھمانا بھی ایک فن ہے، لوگ مذہبی رہنماوں کے ہاتھوں کی حرکات، چہرے کے تاثرات، زبان کی لکنت اور بیان کی روانی سے بھی بہت کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ اب وہ دور نہیں رہا کہ لوگوں کی گردنوں میں عقیدت کا پٹہ ڈال کر انہیں زبردستی کھینچا جائے ، اب تحقیق اور جستجو کا زمانہ ہے لہذا ہمارے مذہبی حلقوں کوبھی چاہیے کہ وہ عوام کی شہ رگ سے تکفیر کا خنجر ہٹائیں، لوگوں کو سیاسی و قومی مسائل کی گہرائی میں اترنے دیں، بال کی کھال اتارنے دیں ، مکالمے کو رواج پکڑنے دیں، افکارونظریات پر مناظرات ہونے دیں۔

جب تک مکالمہ نہیں ہوگا، بحث نہیں ہوگی تب تک کھرے اور کھوٹے میں جدائی نہیں ہو سکتی۔ ضروری ہے کہ تمام مسائل میں قصیدہ گوئی کے بجائے تجزیہ و تحلیل اور تقابلی جائزہ پیش کیا جائے اور مختلف سیاسی و نظریاتی آرا و نظریات کا باہمی موازنہ کیا جائے۔

تجزیہ و تحلیل کے دوران شخصیات اور تنظیموں کی تعریفوں کے پُل باندھنے کے بجائے ہمیں ہر مسئلے پر طرفین کا موقف بیان کر کے موازنہ کرنا چاہیے۔

پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے یا نہیں، پاکستان کے انتخابات میں عوام کو حصہ لینا چاہیے یا نہیں، اور ایم ایم اے کا اتحاد پاکستان کی سلامتی کے لئے کس قدر مفید اور ضروری ہے !ان سوالات کا گہراتعلق پاکستان کی سلامتی کے ساتھ ہے۔لہذا پاکستان کی سلامتی کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی کی قصیدہ گوئی کے بجائے حق گوئی کی روش اپنا ئی جائے چونکہ دلیل کے بدن پر تاویل کا پتھر رکھنے سے سچائی مر نہیں سکتی اور حق گوئی کے بجائے واہ واہ کرنے اور قصیدہ نگاری سے قوم کی حالت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

اب یہ ذمہ داری بنتی ہے ہمارے لکھنے اور بولنے والوں کی کہ وہ لکھتے اور بولتے وقت مذہبی رہنماوں کے بیانات اور اقدامات کی تاویلات پیش کرنے کے بجائے ملکی مسائل پر مختلف آرا کو سچائی کے ساتھ ویسے بیان کریں جیسا کہ بیان کرنے کا حق ہے۔ورنہ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یُوں بھی ہے اور یُوں بھی-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 34126 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 May, 2018 Views: 183

Comments

آپ کی رائے