ایک کڑوا سچ

(پلوشہ نیلم, کراچی)

خوشخبری ۔۔۔۔۔ جی ھاں ان غریب لوگوں کے لیے جو خط غربت سے بہت ہی نیچے زندگی گزار رہے ھیں وہ خوش ھوجائیں( صرف رمضان تک کےلئے) کیونکہ جو امیر اور متوسط " مسلمان" ھیں وہ دل و جان سے خیرات اور امداد دینے کے لئے تیار ھیں تاکہ انکا روزہ فورا قبول ھوجائے۔۔۔۔۔
غریب لوگوں کو اب دال چاول بھی ملے گا اور افطاری کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی " ھوٹل" کا شاندار کھانا بھی۔۔۔۔۔اب دیر کس بات کی ھے۔۔۔۔۔سارے غریبوں جلدی کرو یہ آفر صرف اور صرف رمضان تک ھے۔۔۔۔۔۔۔
پھرگیارہ مہینے مرو یا جیو۔۔۔۔۔۔ھمیں کیا۔۔۔۔۔

جی ھاں پھر گیارہ مہینے بھوک سے خودسوزی کرو، اپنے بچوں کو بیچ دو یا گھر والوں سمیت مار ڈالو کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔

زکات وخیرات تو صرف رمضان میں ادا کی جاتی ھے باقی پورے سال غریبوں کو دھتکارتے رھو۔۔۔۔

💐رمضان میں ہی ھم غریبوں کے لئے پیکچ بناتے ھیں۔

💐رمضان میں ہی بس غریبوں کو روشن دیتے ھیں،آخر یہ ہمارا فرض ھے۔

💐غریب کی بیٹی کی شادی کی امداد بھی بس رمضان میں ہی کرتے ھیں۔

💐مفت علاج جس غریب کو کروانا ھو وہ رمضان تک زندہ رہنے کی کوشش کرے ورنہ خود ہی پیسے دے کر علاج کرا لے۔

💐فری کے انعامات جن غریبوں کو چاہیے وہ امیروں کے ٹیلیوژن پروگرام میں اپنی سفید پوشی کو بھول کر انعامات کے لئے بھیک مانگے۔

غریبوں ۔۔۔۔۔۔غریبوں۔۔۔۔۔
یہ رمضان تم ہی لوگوں کے لئے تو آتا ھے تاکہ جو ابھی تک آخری سانس لے رہے ھیں انکی آخری مدد کی جا سکے ۔۔۔۔۔

رمضان کے بعد صدقہ ،خیرات اور امداد کا کھیل ایکدم بند کیوں ھو جاتا ھے؟؟؟؟

کیا صرف رمضان میں ہی غریب کو چاول دال اور دوا کی ضرورت پڑتی ھے ؟؟

کیا رمضان کے بعد غریب کی خبر گیری نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے پڑوس اور محلے کے ضرورت مندوں کی بھوک پیاس اور ضروریات کا خیال رکھنا ھم پر فرض ھے جو ھم بھول گئے ہیں یہی وجہ ھے کہ ھر چند دنوں بعد خبر آتی ھے کی کسی شخص نے اپنے گھر والوں کو مفلسی سے تنگ آکر مار دیا یا خودکشی کر لی یا آگ لگا کر خودسوزی کرلی (یقیناً یہ سب کچھ اسلام سے دوری، ایمان کی کمزوری اور شرک جہالت ھے) لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اسکے ذمہ دار ھم ھیں۔

ایک خوشخبری۔۔۔۔۔امیروں کے لئے بھی ھے۔۔۔۔

امیر لوگ جلدی جلدی غریبوں کو رمضان پیکچ دیں ( اخبار میں تصویر دینا نہیں بھولئے گا) تاکہ آپ کے دنیا کے بینک اکاوئنٹ کے ساتھ ساتھ آخرت کا بھی آکاوئنٹ بن جائے۔غریب بھی خوش --- آپ بھی خوش۔۔۔۔۔

جو غریب امداد نہیں لے اسے زبردستی دیں تاکہ دوسرے امیروں کے مقابلے میں آپ کی زیادہ " واہ واہ " ھو۔

جلدی جلدی جتنا بھی ھو سکے رمضان تک غریبوں کو دیں پھر چاند رات سے دس گھنٹے پہلے غریبوں کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کریئے گا۔
اب رمضان تک تو غریبوں کے نخرے بہت اٹھا لیے،عید کی صبح تو گھر کے گیٹ پر غریبوں کو پیر بھی رکھنے نہیں دیں ورنہ لوگ کیا کہیں گے۔
کسی غریب مالی، بابا، ماسی، ڈرائیور، درزن اور سارے ہی غریبوں کو عید کے دن بلانے کی غلطی بلکل نہیں کریئے گا اور اگر وہ لوگ آپ کو دعوت دیں تو انکی اوقات یاد دلا دیجیئے گا۔

--- اعلان ختم ھوا ۔۔۔۔

غریبوں ۔۔۔۔اپنی زندگی بدلو۔۔۔۔کیونکہ رمضان چل رہا ھے ۔۔
اور امیروں اپنی واہ واہ کرواؤ کیونکہ رمضان چل رہا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

------ ایک کڑوا سچ -----
--------ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: پلوشہ نیلم

Read More Articles by پلوشہ نیلم: 15 Articles with 16332 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2018 Views: 287

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ