اور پھر ہم ایٹمی قوت بن گئے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: اسریٰ نوشین ملک (خوشاب)
14اگست 1947ء کے یوم آزادی کے بعد 28مئی کا دن اور سہ پہر3.30 منٹ کا وقت پاکستان کی تاریخ کا وہ ساز لمحہ ہے، جس کے احساس تفاخر نے پوری قوم اور عالم اسلام کے مسلمانوں کا سر فخر اور خوشی سے بلند کر دیا۔ 28 مئی یوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے، جس دن پاکستان نے بلوچستان کے مقام چاغی کے پہاڑی سلسلے راس کوہ میں زیر زمین چھ ایٹمی دھماکے کر کے عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور 11مئی 1998ء کو پوکھران میں 3اور 13مئی کو 2ایٹمی دھماکوں کے بھارتی ایٹمی ایڈونچر کا دندان شکن جواب دے کر بھارتی جوہری بالا دستی کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔ اس تاریخ ساز موقع پر اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے قوم سے اپنے خطاب میں کہا: ’’الحمدﷲ ہم نے گزشتہ دنوں کے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا حساب 6کامیاب ایٹمی دھماکوں سے چکا دیا ہے۔ اب ہم پر کوئی دشمن شب خون مارنے کی جرات نہیں کر سکے گا‘‘۔۔۔کامیاب ایٹمی دھماکوں سے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں بعض لمحات اتنے منفرد، اہم اور تاریخی ہوتے ہیں کہ ان لمحات کی اہمیت اور حیثیت کا مقابلہ کئی صدیاں بھی مل کر نہیں کر سکتیں۔ یہ منفرد و قیمتی لمحات دراصل تاریخ کا وہ حساس موڑ ہوتے ہیں، جہاں کوئی قوم اپنے لئے عزت و وقار یا ذلت و رسوائی اور غلامی و محکومی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرتی ہے۔ بزدل، ڈرپوک، ابن الوقت اور غلام ذہنیت کے لوگ ان تاریخ ساز لمحات کی قدر و قیمت نہیں جانتے اور نہ ہی ان کے دل و دماغ کسی چیلنج کو قبول کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ایسی اقوام شاہراہ حیات پر دوسری اقوام سے پیچھے رہ جاتی ہیں ، پھر ان اقوام کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے، جب یہ قومیں ماضی کی گرد میں کھو کر قصہ پارینہ بن کر تاریخ کی بوسیدہ کتابوں کا حصہ بن جاتی ہیں، لیکن اس کے برعکس جرات مند اور بہادر لوگ تاریخ کے ان نازک لمحات میں ہوش مندی اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے ایسے تاریخی فیصلے کرتے ہیں جو قومی تحفظ کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کا عزم تھا کہ ’’ہم گھاس کھا لیں گے، لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے‘‘۔۔۔یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی کا کارنامہ تھا کہ جہاں ایک طرف انہوں نے فرانسیسی حکومت کو جوہری ری پراسیسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید پر آمادہ کیا، وہیں انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لئے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو جو اس وقت ہالینڈ میں مقیم تھے، پاکستان بلوا کر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی ذمہ داریاں سونپیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جس تیزی سے پاکستان کا جوہری پروگرام بڑھا رہے تھے، وہ امریکہ اور صہیونی لابی کے نزدیک کسی طور پر بھی قابل قبول اور قابل معافی جرم نہیں تھا، چنانچہ 1976ء میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو دھمکی دی کہ ایٹمی ری پراسیسنگ اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے منصوبے پر کام جاری نہ رکھا جائے، لیکن قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کیسنجر کی اس دھمکی کے باوجود پاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری رکھا، کیونکہ ان کے نزدیک ملک و قوم کی سلامتی اور بقاء زیادہ اہمیت کی حامل تھی جو پہلے ہی بھارتی ایٹمی پروگرام کی وجہ سے شدید خطرے میں تھی۔ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو کے حکم پر عالمی شہرت یافتہ مایہ ناز ایٹمی سائنسدان اور پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے بانی و معمار ڈاکٹر عبد القدیر خان نے انتہائی نامساعد حالات میں پاکستان کے جوہری پروگرام کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زیر نگرانی 1976ء میں پاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ لیبارٹری میں یورینیم کی افزودگی کا کام شروع کیا اور 1982ء تک پاکستانی سائنسدان 90فیصد افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے، بالآخر وہ دن بھی آیا جب قومی و ملی جذبوں سے سرشار ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک محنت نے 28مئی 1998ء کو بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف وطن عزیز کو ناقابل تسخیر قلعہ بنا دیا، بلکہ قوم و مسلح افواج کے مورال کو بھی آسمان کی بلندیوں پر لے گئے اور پوری قوم کے اعصاب سے بھارتی تسلط کے خوف کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کی ٹیم کے اس عظیم کارنامے کی بدولت 28مئی1998ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں یوم تکبیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایٹم بم پر کام کئی مراحل میں ہوا اور اس کی تخلیق میں کئی ادوار گزرے اور کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں، لیکن جب پاکستان کو اپنی ایٹمی صلاحیت کا اعلان کرنا تھا تو اس وقت نواز شریف برسر اقتدار تھے۔ کلنٹن انتظامیہ نے پاکستان کی حکومت پربے پناہ دباؤ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی تجربے سے باز رہے، لیکن نواز شریف نے پاکستان کی عزت اور وقار کا سودا نہیں کیا اور پاکستان کو بھارت کے دباؤ میں آنے سے بچا لیا۔ یقیناًجب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کا تذکرہ ہو گا، تب اس مشکل فیصلے کا بھی تذکرہ ہو گا،جس کی بدولت پاکستان کو ایک نئی شناخت ملی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1240 Articles with 518175 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2018 Views: 212

Comments

آپ کی رائے