دلی کے دل میں جمہوریت نہ انسانیت

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

اسلام آباد میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلباء و طالباتبھارت کی کشمیر پالیسی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔قائد اعظم یونیورسٹی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور بارانی یونیورسٹی میں گزشتہ دنوں کئی نشستوں میں شرکت کا موقع ملا۔ نئی نسل ہی نہیں بلکہ پروفیسرز اور سکالرز میں بھی پاکستان اور بھارت کے بیانیے متضاد تاثر دیتے ہیں۔ اس بارے میں سرینگر میں سکالر ڈاکٹر جاوید اقبال نے زبردست تجزیہ پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ واجپائی سے لے کے مودی تک بھاجپا کے رہبراں انسانیت،جمہوریت و کشمیریت کے دلفریب نعروں سے اہلیاں کشمیر کو بہلانے کی کوشش کررہے ہیں۔اِن سب نعروں کا مدعا و مقصد ایک ہی ہے کہ کوئی بھی سیاسی رعایت دیئے بغیر خالی خولی نعروں سے حالات کو جوں کا توں رکھنے کی سعی کی جائے۔گزشتہ دنوں جب نریند مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیرکا دورہ کیا تو اُنہوں نے پھر جمہوریت اور کشمیرت کا راگ الاپا۔اب کی بار ماضی کے برعکس انسانیت کی بات منظر عام پہ نہیں آئی کیونکہگزشتہ ایک دو سال میں جس شے کا کشمیر میں فقدان رہا ہے وہ انسانیت ہے۔اٹل بہاری واجپائی ایک سیاستداں ہونے کے علاوہ شاعرانہ شعور بھی رکھتے تھے اور سیاسی امور میں بھی اپنی بات کو عوام الناس کے سامنے رکھنے کی خاطر طبع آزمائی کرتے تھے۔اپنی بات کو شاعرانہ روش میں بیاں کرنے سے وہ سیاسی اہداف کے حصول کی تلاش میں رہتے تھے۔ مودی نے واجپائی کی تقلید میں جمہوریت و کشمیریت کا راگ چھیڑا ہے جس کی گہرائی و گیرائی کو مسلہ کشمیر کے ضمن میں جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ اِس حقیقت کا تجزیہ ہو سکے کہ بھارتی قول و فعل میں کتنا تفادہے۔جمہوریت! دیکھا جائے تو جب سے مہاراجہ ہری سنگھ نے 1947ء کے مخصوص حالات میں بھارت سے کچھ شرائط پہ عائد ایک نام نہاد عبوری الحاق کیا جس کی حمایت شیخ محمد عبداﷲ نے کی تب سے آج تک لکھن پور کے اِس پار جمہوریت کی کوئی بھی علامت ریاست جموں و کشمیر میں شاز و نادر ہی نظر آئی۔ لکھن پور کے اِس پارریاست جموں وکشمیر میں جمہوریت کا رنگ و روپ وہی رخ اختیار کرتا ہے جو دہلی سرکار چاہتی ہو بلکہ جمہوریت کس مقدار میں مصرف میں آئے اِس کا تعین دہلی میں ہی ہوتا ہے۔جمہوریت کی بنیادی ضرورت صاف ستھرا الیکشن ہوتا ہے لیکن کشمیر میں 1951ء میں جب آئین ساز اسمبلی کا الیکشن ہوا تب ہی سے الیکشن کے نام پہ ایک مذاق منظر عام پہ آتا رہا۔آئین ساز اسمبلی میں کم و بیش سب ہی ممبراں بلا مقابلہ منتخب قرار دیئے گئے اور اُس کے بعد ایک روش چل پڑی۔اِس روش کے بارے میں مرحوم شمیم احمد شمیم کی وہ طرح یاد آئی جو اُنہوں نے 1967ء کے الیکشن کے بارے میں کسی۔مرحوم شمیم اِس الیکشن میں شوپیاں حلقہ انتخاب سے ایک امیدوار تھے۔کشمیر کے جنوبی ضلع اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عبدالخالق نے رٹر ننگ آفیسر کی حثیت سے 22امیدواروں کو مد مقابل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی رد کروا کے بلا مقابلہ منتخب قرار دلوایا۔مرحوم شمیم احمد شمیم نے بلا مقابلہ منتخب شدگاں کو خالق میڈ ایم ایل اے کے خطاب سے نوازا۔اُس زمانے سے خالق میڈ کی طرح ایسی چپک گئی کہ بعد کے انتخابات میں بھی بلا مقابلہ منتخب شدگاں کو خالق میڈ کہا جانے لگا۔یہ ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات پہ ایک گہرا سیاسی طنز رہا۔انتخابات کی یہ روش کچھ ایسی چل پڑی کہ جہاں مدمقابل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی رد کرنا مناسب نظر نہیں آیا وہاں ووٹوں کی گنتی میں ہیر پھیر کے کئی واقعات پہ پیش آئے اور کبھی کبھی تو انتخاب جس نے جیتا اُس کے نام کے بجائے منظور نظر امیدوار کے نام کا اعلان کیا گیا۔پاکستان میں بھی عمران خان نے 2013کے انتخابات کے بارے میں فوج کو مورد الزام ٹھہراکر اسی روش کی راہ لی۔ریاست جموں و کشمیر میں 1951ء سے 1987ء تک انتخابات کی یہی روش رہی۔1987ء کے الیکشن کو جمہوری بے راہروی کی انتہا مانا گیا اور اِس الیکشن میں جو دھاندلی ہوئی اُسے بہت سے مبصرین جن میں کئی نامور بھارتی مبصرین بھی شامل ہیں، جنگجویانہ تحریک کی بنیادی وجہ مانتے ہیں۔مسلم متحدہ محاز کے نام پہ ایک سیاسی فرنٹ کی تشکیل ہوئی جو کانگریس و نیشنل کانفرنس کے انتخابی گٹھ جوڑ کیلئے ایک چلینج بن گئی۔ اِس فرنٹ میں کئی ایسے چہرے بھی شامل تھے جو بعد جنگجو تحریک کے رہنما بنے۔اِن چہروں میں محمد یوسف عرف سید صلاح الدین،اشفاق مجیدوانی شہید اور یاسین ملک نمایاں حثیت رکھتے ہیں۔1987ء کے بعد الیکشن عمل پہ اعتبار نہ ہونے کے برابر رہا اور 1989-90ء کے بعد مقاومتی تحریک نے شدت اختیار کرلی جس میں جنگجویانہ مزاحمت بھی شامل رہی۔مقاومتی تحریک کی شدت نام نہاد جمہوری عمل کی معطلی کا سبب بن گئی اور 1996ء تک ریاست کبھی گورنر راج اور کبھی صدر راج کے تحت رہی اور 1996ء میں بھارت نے اپنے آزمائے ہوئے سیاسی چہرے فاروق عبداﷲ کو پھر منظر عام پہ لایا۔اِس الیکشن میں لوگوں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی۔فاروق عبداﷲ کی رہبری میں تشکیل شدہ اسمبلی کی قدر و قیمت کے بارے میں یہ کہنا کافی ہے کہ جب اِس اسمبلی نے اٹانومی یا اندرونی خود مختاری کے ضمن میں ایک قراداد منظور کی تو اُسے دہلی نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیااور اِس سیاسی اہانت پہ فاروق عبداﷲ اور عمر عبد اﷲ نے چپ سادھ لی۔

بخشی غلام محمد سے لے کے غلام محمد صادق تک اور صادق سے لے کے میر قاسم تک بھارت کو فارق عبداﷲ و مفتی محمدسعیدسمیت ایسے سیاسی چہرے ملتے رہے جنہوں نے اپنا نصب العین دہلی کے احکامات کی بجا آوری مانا۔ 2002ء کے الیکشن اور اُس کے بعد 2008ء اور 2014ء میں جو الیکشنمقبوضہ جموں و کشمیر میں منعقد ہوئے اُس میں بھارتی ایجنسیاں ایک نئی حکمت عملی لے کے سامنے آئیں۔نیشنل کانفرنس کے مدمقابل دہلی کے قابل اعتماد سیاستداں مفتی محمد سعید کی رہبری میں ایک اور علاقائی پارٹی منظر عام پہ آئی۔عبداﷲ خاندان اور مفتی خاندان کے بیچ علاقائی سیاست کی بندر بانٹ ہوئی جس کا مدعا و مقصد یہ رہا کہ عبداﷲ خاندان سے ناراضی کو مفتی خاندان اور مفتی خاندان سے ناراضی کو عبداﷲ خاندان کیش کرلے اور مقاومتی تحریک اِسے کیش کرنے کے قابل نہ رہے۔ نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی کو گاہ بگاہ نرم رو آزادی پسندی کی ترجمانی کی چھوٹ دی گئی۔اِس نئی حکمت عملی کا ہدف یہ رہا کہ مقاومتی تحریک کیلئے سیاسی محل و مکاں کم سے کم کیا جائے، ثانیاََ سیاسی ترکیب کچھ ایسی رہی کہ ریاستیپارٹیاں نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی کیلئے قومی بھارتی قومیپارٹیاں کانگریس یا بھاجپا کی شراکت کے بغیر حکومت سازی کا کام مشکل رہے۔ چناچہ 2002ء سے 2014ء تک نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی نے باری باری کانگریس کے ساتھ حکومت تشکیل دی اور 2014ء کے بعد بھاجپا کے ساتھ پی ڈی پی نے حکومت اِس اعتراف کے باوجود تشکیل دی کہ یہ قطب شمالی و قطب جنوبی کا ملاپ ہے۔سچ تو یہ ہے کہ حقیقی جمہوریت اور اُس جمہوریت میں جو جموں و کشمیر میں رواں ہے قطب شمالی سے قطب جنوبی تک کی دوری ہے!۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 596 Articles with 235841 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
28 May, 2018 Views: 369

Comments

آپ کی رائے