جینے کی اُمنگ تحریر کی ترنگ

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

مجھے کسی عزیز کے گھر دوسرے شہر جانا تھا جب ہم وہاں ٹھیرے تو پرانی محبتیں کھوئ ہوئ دولت کی طرح واپس مل گئ اور رنجشیں دور ہو گئیں
انسان کتنا سکون میں آجاتا ہے اور پرانی ناراضگیوں کے دور ہوتے ہی برسوں کا
مفت کا بوجھ اتر جاتا ہے
اس سفر میں کچھ اور کام تھے جن کا ارادہ کر چکا تھا
کسی سے ملنا تھا اور اپنی تحریر کے بارے میں مشورہ کرنا تھا
ایک اور ملاقات طے تھی اور کہیں حاضری بھی دینی تھی
ملاقات ریسٹورنٹ میں تھی ایک خاتون جن کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور شادی دو بچوں کے بعد ناکام ہو گی تھی اور اچھا خاصا پڑھا لکھا شوہر نہ جانے کن حالات میں نشہ کا عادی ہو چُکا تھا اور اب یہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی تھی اور مشورہ کے لیے بلایا تھا
اُن کی والدہ سے کسی زمانے میں راہ چلتے ملاقات ہوئ تھی اور بڑھاپے کی وجہ سے لفٹ لی تھی اور گھر پر آنا جانا تھا اور جمعہ کے دن کا کھانا تھا جو نماز کے بعد خُدا کے فضل کا ٹھکانہ تھا ۔
اتنے سے عرصہ میں بہت کچھ بدل چکا تھا
لڑکی کا سراپا عورت میں بدل چکا تھا عورت کا روپ دو بچوں کی ماں کے روپ میں بدل چکا تھا
والدین نہ رہے اور وہ وقت نہ رہا وہ شہر نہ رہا اور شوہر شوہر نہ رہا

وہ اُن کے والد کی دوسری بیگم کی اولاد تھیں اور شائد پہلی بیگم کے بچوں نے اُن کا مکان بھی چھین لیا تھا

حالات نے بہت کچھ سکھا دیا تھا اور بہت کچھ دکھا دیا تھا مگر شائد کسی کی دعا سے حوصلہ قائم و دائم تھا اور اولاد کی خاطر جینے کی اُمنگ باقی تھی ۔
اس کے لیے اُس نے گھر پر ہی سلائ کا کام شروع کرنے کا ارادہ کر لیا تھا
میں نے بھی حوصلہ بڑھاتے اُمید دلاتے الفاظ کا گُلدستہ پیش کر دیا

وہاں سے ٹیکسی بلائ تو ایک خاتون ڈرائور کا نام لکھا آیا

کپتان رابعہ حاضر ہے!!

مجھے حیرت ہوئ
ریسٹورنٹ کے باہر نکلا تو پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گیا کیونکہ آگے سامان رکھا تھا اور عورت کی کپتانی قبول کرلی
بیٹھتے ہی ساتھ انہوں نے خاتون ہونے کا ثبوت دیا اور کہانی سنانا شروع کر دی
حالانکہ باقی ساری باتیں ان میں مردانہ یا مردوں کے شانہ بہ شانہ اور زرا نہ شرمانا اور بیچاری کیا کرتی اُن کے بقول شوہر چھوڑ چکا تھا یا پتہ نہیں وہ چھوڑ چکی تھیں یہ تو راز عام طور پر پردہ کے پیچھے ہی رہتا ہے اور پردہ نہ اُٹھایا جاۓ تو اچھا ہی ہوتا ہے اور اگر تعلق ٹوٹ بھی جاۓ تو بھی ایک دوسرے کا لباس ہونا بھی ممکن ہے مگر ان چیزوں کو اُچھالا جاتا ہے حالانکہ خوبصورتی سے الگ ہونے کی تاکید کی گئی ہے اگر الگ ہونا بھی پڑ جاۓ
خیر وہ مردوں کو برا بھلا کہتے اپنی زبان اور ڈرائونگ کی مہارت دکھاتے ایک مردانہ شان سے مرد کو پیچھے بٹھاۓ اپنے چار پہیے والے گھوڑے کی رفتار کو آسمان سے باتیں کراتے مجھ سے باتیں بھی اسی رفتار سے کیے جا رہی تھیں

اُن کی باتوں اور سواری کی رفتار زرا کم ہوئ تو میں نے موبائل کی نوٹ بک پر اپنی تحریر لکھنا شروع کر دی کہ وہ پوچھنے لگی کہ کیا لکھ رہے ہیں ۔ میں نے جواب دیا
زندگی میں جو دیکھا ہے وہی لکھ رہا ہوں
کہنے لگی میری کہانی لکھیں
اور وہ کہانی سنانا شروع ہو گئیں
اور میں ہوں ہوں کرتے اپنی کہانی لکھنے لکا
مگر انسان کو کس وقت کون کہاں کیا سکھا جاۓ جیسے وہ خاتون ایک ٹوٹکا بتا گئیں جو لکھنے میں معاون ثابت ہوا موبائل پر جو میرے موبائل میں سہولت موجود تھی مگر میں لا علم تھا
اسی طرح انسان کے اندر علم اور صلاحیت چُھپی ہوتی ہے جو کوئ صاحبِ علم پہچان لیتا ہے یا خوش قسمتی سے خود بخود سامنے آجاتی ہے یا تلاش کر لیتا ہے جیسے موبائل کا کارڈ اسکریچ کرنے سے نمبر اچانک دکھنے لگتا ہے

انہوں نے بتایا کہ وہ جز وقتی وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں ۔ وہ کچھ دبنگ سی خاتون تھیں جو حالات سے ہار مانّے کے بجاۓ ایک عزم کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چل رہی تھیں اور گھر والوں کے لیے سائبان کی صورت تنی ہوئ کھڑی تھیں لیکن کچھ تلخ ہو گئ تھیں اور اس تلخی میں شائد میں نے تھوڑی سی مٹھاس گھولنے کی اپنی سی ناکام کوشش کی تھی
اچانک انہوں نے گاڑی ایک گلی میں موڑ دی اور سائڈ میں کھڑی کر کے دو چاٹ کا آرڈر کر کے ایک مجھے پیش کر دی کہ میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا آپ اجازت دیں تو کھالوں
مجھے جن صاحب سے ملنا تھا وہ کراچی گئے ہوۓ تھے اور مجھے واپس کراچی پہنچنا تھا اور یہ لاہور تھا
بس ہر ملاقات کا ایک وقت ہوتا ہے اور ہر کام اپنے وقت پر ہی ہوتا ہے۔
واپسی اسلام آباد سے ہوتے ہوۓ تھی اور اُدھر رات ایک قریبی عزیز کے ہاں ٹھیرنا تھا وہاں ایک عجیب تجربہ ہوا
جاتے ہی جلدی سو گیا اُٹھا تو دو بج رہے تھے۔ گھر والے شائد سو رہے تھے ۔ میں نے سوچا اتنا تو کبھی نہیں سویا
تیار ہو کر باہر جانے کو نکلا کہ کسی کو ظہر کا ٹائم دیا تھا ۔ ٹیکسی بلالی تھی جو آنے والی تھی ۔ باہر جو نکلا تو گھٹا چھائ ہوئ تھی
جیسے رات کی تاریکی

اُف !!!!!!

اب جو گھڑی دیکھی تو رات کے دو بج رہے تھے
واپس بستر پر آ کر تحریر لکھنا شروع کر دی
انسان اپنی خیالی زندگی میں جی رہا ہو تو جو دکھتا ہے وہی حقیقت لگتی ہے حالانکہ اطراف میں حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ تھوڑے دن بعد ہی ایک کتاب میں پڑھا "اکثر انسان کو وہی کچھ دکھائ دیتا ہے یا پیش آتا ہے جو اُس کے خیالات میں ہوتا ہے" ۔

کراچی پہنچ کر اُن کو فون کیا جن کی کتاب کا قاری تھا اور اپنی تحریر دکھانی تھی کہ اس کام کو جاری رکھا جاۓ یا نہیں
جب میں نے اپنی کچھ تحریر واٹس ایپ پر اُنہیں بھیجی تو اُنہوں نے بڑی حوصلہ افزائ فرمائ اور فرمایا کہ آپ کو لکھنا چاہیے اور رُکنا نہیں چاہیے پھر ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا اور مجھے اطمئنان ہو گیا
زندگی اور تحریر کا سفر جاری ہے دونوں کی رفتار گھٹتی بڑھتی رہتی ہے دیکھیں کون پہلے کب اور کہاں تک پہنچے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 231 Articles with 86598 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2018 Views: 308

Comments

آپ کی رائے