نثر کی آڑ غزل کی باڑ

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

ادب میں ایک نیا کھلاڑی ہوں اور شائد اناڑی بھی ہوں مگر سلیقہ سے بات کہہ بھی جاتا ہوں اور کہتے کہتے رہ بھی جاتا ہوں اور کسی کی کڑوی سہہ بھی جاتا ہوں اور لکھتے لکھتے کسی سمت بہہ بھی جاتا ہوں

شاعری کی بنیادی شروعات کی بہت سی وجوہات ہونگی جو تاریخ میں درج ہونگی اور باعثِ بحث و گھن گرج ہونگی جن سے اتفاق و اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
ایک بات زاتی طور پر محسوس یہ بھی کی کہ شاعری میں پسند ناپسند تو ہوسکتی ہے مگر نثر کی طرح موقع پر دبوچا نہیں جاسکتا بلکہ ایک آڑ رہتی ہے اور اگر اس کے خلاف مقدمہ بھی پیش ہو تو ادھر اُدھر ہوا جاسکتا ہے اگر منصف نے کسی کا ظاہری یا باطنی حلفِ جبری نہ اُٹھایا ہوا ہو
ایسی صورت میں فوراً دھر لیے جائیں اور بچی کچی نثر گھر لیے جائیں اور مفت کے الزامات اپنے سَر لیے جایں
شعر کی تشریح کے مختلف ہونے کی آڑ میں چُھپا جاسکتا ہے جبکہ نثر میں قاری کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے کا غالب امکان رہتا ہے اور کہتے ہیں کہ گناہ کا امکان گناہ ہو جانے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور آپ کو اچانک بے خبری میں کسی بھی جملے پر پکڑ لیا جاتا ہے اور آپ بے موت مارے جاتے ہیں

نثر کا اپنا اثر اور شاعری کی اپنی خوبصورتی ہے اور جو بات نثر میں نہ کہہ سکیں وہ شعر میں کہی جاسکتی ہے اور تہہ میں اور لے میں کہی جاسکتی ہے اور کچھ ایسا منظر بنتا ہے

کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے

اور دوسری طرف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نثر کا اقتباس ایک شعر میں سما جاۓ اس طرح نہ صرف دریا کو کوزہ میں بند کر دیا جاۓ بلکہ ایک در کُھلا رکھا جاۓ کہ پڑھنے والا اُسے اپنے زہن کے مُطابق ڈھال لے اور اُس کی تشریح سمجھ سکے

نظم گیت اور غزل وغیرہ کے اپنے اپنے انداز اور اُصول و قوائد ہوتے ہونگے جن کا مجھے علم نہیں

میں نے چند اشعار لکھ کر کسی ادبی گروپ میں بھیجے تو کسی کا شفقت بھرا جواب آیا
آپ نے چار اشعار کہے ہیں ایک اور کہہ دیتے تو غزل بن جاتی
یوں مجھے علم ہوا کہ غزل میں کم از کم پانچ ہونے چاہیے اور زیادہ بھی ہو سکتے ہیں
غزل کی باقی تعریف ایک مشہور شاعر کے لیکچر کے ایک وڈیو کلپ پر اتفاق سے نظر پڑنے سے معلوم ہوئ کہ اس کی ابتدا عربی زبان سے شروع ہوئ اور پھر کئ زبانوں میں کہی گئ اور اس کی شکل بدلتی گئ
غزل کا پہلا شعر مطلع اور آخری مقطع کہلاتا ہے

غزل کا ہر شعر ایک مکمل
کہانی ہوتی ہے اور دوسرے شعر کا اس سے تعلق ہونا ضروری نہیں جبکہ پوری نظم میں موضوع subject ایک ہی ہوتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ غزل کے شعر کا عوام اور خواص میں استعمال زیادہ دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی شعر میں
ایک مکمل کہانی اور پوری بات کہہ دی جاتی ہے جو محبت سیاست اور معاشرت وغیرہ سے متعلق ہو سکتی ہے اور گفتگو میں کوئ شعر موقع محل کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔قومی اسمبلی میں بھی اکثر استعمال ہوتا ہے مثلاً ایک صاحب نے حزب اختلاف کی جانب سے حکومت کو مخاطب اس طرح کیا کہ

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

یہ بھی حقیقت ہے کہ غزل میں سب سے زیادہ زکر عورت اور مرد کے دمیان محبت اور کشش کا ہوا ہے اور جو ہوا ہے وہی کہا گیا ہے

شاعری سے معاشرے کی عکاسی اور ایک مثبت پیغام بھی دیا جاسکتا ہے اور جو اس کے بارے میں اک غلط تاثر بن گیا ہے کہ شائد اس میں صرف شراب اور شباب ہی ہوتا ہے اور ہوتا بھی ہے مگر کہیں کہیں صرف تشبیہ دی جاتی ہے اور استعارہ سے کام لیا جاتا ہے اور کوئ علامت symbol جو شاعر استعمال کرتے ہیں کسی خاص انداز فکر اور سوچ کے لیے جیسے رند یا مے خوار کا مطلب آزاد سوچ اور شیخ جی کا کثرت سے استعال جس کا مطلب ایک خاص طرح کا مزہبی لبادہ اوڑھے لوگ اور ایک مخصوص سوچ کی طرف اشارہ ہوتا ہے

غزل میں پہلے شعر میں ردیف اور قافیہ (rhyme ) دونوں موجود ہوتے ہیں
مثال کے طور پر

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

اس میں "ہوا " اور "دوا "
قافیہ ہیں
اور "کیا ہے " ردیف جو غزل کے ہر شعر میں عام طور پر چلتے رہتے ہیں آخر تک
اور پہلے کے بعد ہر شعر کی دوسری لائن قافیہ بناتی جاتی ہے مثال کے طور پر

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

اب دوسرے شعر کی دوسری لائن میں قافیہ ملا اور ردیف کی تکرار ہوی " ماجرا کیا ہے "اور یہ پیٹرن ساری غزل میں چلتا رہے گا
کچھ غزل میں صرف قافیہ بھی چلتا نظر آتا ہے جو پہلے شعر کی دو لائن میں قافیہ جو مطلع کہلاتا ہے اور پھر ہر شعر کی دوسری لائن میں چلتا ہوا نظر آتا ہے
مثلاً

ﭼﻠﻮ ﺑﺎﻧﭧ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ
ﻧﮧ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺅ ﻧﮧ ﮨﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯿﮟ
ﺳﺒﮭﯽ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﭼﮩﺮﮦ
ﮐﺴﮯ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﺴﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ
ﺑﺮﺳﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﯾﮧ ﮔﮭﭩﺎﺋﯿﮟ

مجھے بڑی خوشی ہوئ کیونکہ میری شعر کہنے میں آمد یا آور کچھ اسی انداز کی تھی
اب یہ اتفاق سے تھا یا غزل سُنتے سُنتے بچپن سے لا شعور نے یہ پہچان بنا لی ہو اور حافظہ میں یہ انداز محفوظ کر لیا ہو
ایسے سیکھتا جا رہا ہوں اور شائد زندگی میں آدمی چلتے چلتے یوں بھی سیکھتا رہتا ہے اُس سے ہٹ کر جو کہیں باقائدہ کسی ادارے میں سکھایا جاتا ہے

سیکھنے کا عمل تو پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور شائد تاحیات رہتا ہے کچھ شعوری اور کچھ لاشعوری اور غیر ارادی طور پر

یہ کہانی سن کر آپ کس نتیجہ پر پہنچے اور پہنچے بھی یا نہ پہنچے اور کہیں راستہ ہی میں رہ گۓ۔
اس کے نتیجہ کی پروا کئے بغیر اس غیر مستند تحریر کو بھی شعر کی طرح اس کا مفہوم قاری پر چھوڑتے اور زندگی کے نتائج خدا پر چھوڑتے اس تحریر کے اختتام پر نئ تحریر کے آغاز تک اجازت دیجیے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91100 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2018 Views: 281

Comments

آپ کی رائے