سلسہ وار ناول رازی قسط نمبر ١٣

(Akram Saqib, Sahiwal)

وہ بابا کو ایک فرلانگ ہی آگے گئے تھے کہ ایک سیاہ رنگ کی مرسیڈیز عامل بابا کے ڈیرے کے سامنے رکی اور اس سے ایک غیر ملکی جوڑا اترا۔ علوی نے احمد یسٰین کو بتایا ۔ اب ان کا واپس آنے کا کوئی ارادہ نہ تھا کیونکہ ایسی صورت میں بابا کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
علوی نے رفتار بڑھا دی اور کچھ موڑ مڑنے کے بعد وہ عامل بابا کو اپنے ایک ساتھ کے گھر میں لے آئے۔ ایک کمرہ خالی کروایا گیا اور اس میں عامل بابا کو ضروری سامان دے کر بٹھا دیا گیا کہ وہ آسیب نکالیں۔وہ ساتھ اس کے پاس رہ گیا اور وہ دونوں وہاں سے آگئے ۔ آنے سے پہلے انہوں نے ساتھ کو ہدایت کر دی کہ بابا کو ایسی دوا پلا دینا جس سے یہ ایک روز سوتا ہے۔ اور جب جاگے تو اسے جانے نہیں دینا بلکہ ہمیں بتانا ۔ یہ ہمارا مجرم ہے ۔ ہمیں رازی کی طرف سے یہ ہدایات ملی ہیں ۔
خدا حافظ
**۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔**
عامل بابا کا مشن مکمل کر کے جب وہ ٹرسٹ پہنچے تو اس وقت بمشکل چند منٹ باقی تھے ایس ون سے رابطہ میں۔ وہ دونوں احمد یسٰین کے دفتر میں آئے اور آتے ہی لیپ ٹاپ آن کیا۔ احمد یسٰین نے کوڈز کا تبادلہ کیا اور ایس ون سے رابطہ ہو گیا ۔
سر کیا حکم ہے میرے لئے ؟ احمد یسٰین نے لکھا۔
سپر مین کی ٹیم اسی شہر میں موجود ہے اور بہت جلد وہ تم سے رابطہ کرے گی ۔
مگر میرا ایڈریس اور نمبر ؟
سب کچھ انہیں بتا دیا گیا اور ان کے ساتھ رابطہ ان کوڈز سے ہے ۔ سپر مین اینڈ ایس ون آر فرینڈز (سپر مین اور ایس ون دوست ہیں ) انہوں نے عامل بابا کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے یا نہیں سر؟
شاید وہ کر چکے ہوں کیونکہ مجھ سے ایڈریس لے لیا تھا انہوں نے ۔
او کے سر۔
اور وہاں وہ جو نہی رابطہ کریں مجھے اطلاع ضرور دینا ۔
رائٹ سر۔
بائے ۔
یہ تو اچھی بات ہو گئی کہ سپر مین کی ٹیم ہم سے خود رابطہ کرے گی۔ علوی نے کہا۔ ہاں یہ انہیں ٹریپ کرنے کا سنہری موقع ہو گا۔ میں ابھی سے اپنے آدمی تیار کرتا ہوں۔ احمد یسٰین نے کہا ۔
**۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔**
سب لوگ اسے سٹرا بری کہتے تھے کیونکہ وہ ہر وقت سرخ اور سبز لباس پہنے رہتی تھی ۔ اس کا اصل نام کسی کو نہیں آتا ہے۔ بس اسی نام سے پکارتے تھے ۔ اورہ بُرا بھی نہیں مانتی تھی کیونکہ وہ سارے اس کے بھائی بہن ہی تھے جو اس کے ساتھ کام کرتے تھے ۔ سب لوگ اسے پسند بھی کرتے تھے ۔ ہر کوئی یہ چاہتا یا چاہتی کہ سٹرابری کو اس کے ساتھ بھیجا جائے مگر وہ اکیلے اپنے کام پر جانا پسند کرتی اور اکیلے ہی کام کر کے آتی تھی۔ سٹرابری ایک اخبار کی صحافی تھی ۔ اور بڑی لگن سے اپنا کام کرتی تھی ۔ وہ بہت ہنس مکھ اور ہر دل عزیز صحافی تھے ۔ اسے اپنے رویے کی وجہ سے ایسی جگہوں پہ جانے کی اجازت بھی مل جاتی تھی جو دوسرے صحافیوں کے لئے ممنوع قرار دی جاتی۔ ایسے میں اس نے بہت سے مشاہدات کیے۔ اس نے دیکھا کہ پوری دنیا میں مسلمان سب سے پسماندہ ہیں ۔ زندگی کے ہر شعبے میں وہ باقی تمام اقوام سے پیچھے ہیں ۔ حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں ہر طرح کے قدرتی وسائل بدرجہ اُتم عطا کر رکھے ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ سب کچھ ہونے کے باوجود باقی اقوام کے ماتحت ہیں ۔ کسی بھی چیز کا نام لے لیں آپ کو یہ مسلمان ملک میں مل جائے گی ۔ آبادی کے لحاظ سے مسلمان پوری دنیا میں دوسرے نمبر کا مذہب ہے ۔ افرادی قوت اس کے پاس ہے ۔ تیل ، گیس اور قیمتی معدنیات کے ذخائر اور یہ مالا مال ہے ۔ یہاں تک کہ قدرت نے ا پنے سب سے حسین مناظر بھی مسلمانوں کو ہی عطا کئے ہیں ، لیکن یہ پھر بھی اوندھے منہ کے بل گرے پڑے ہیں۔ ایسا کیوں ہے ۔ ان موضوعات پر اس نے بہت کچھ لکھا مگر اس کا اثر صرف اتنا ہوا کہ اس کے ادارئیے یا کالم اخبار میں چھپ جاتے اور اس کی علمیت کی داد دے جاتی ۔ اس رویے نے اسے مایوس کیا۔ پھر بھی اس نے اپنی ریسرچ جاری رکھی۔ اور اس نتیجے پر پہنچی کہ مسلمان ممالک سب سے پہلے تو ورلڈ بنک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ قرضوں کا یہ جال وہاں کے حکمرانوں کی وجہ سے ہے ۔ کہ یہ قرضے اصل کام کے لئے نہیں استعمال ہوئے بلکہ انہیں حکومت سازی میں استعمال کیا گیا یا پھر ذاتی جبیں بھرلی گئیں اور اقوام کو گروی رکھ دیا گیا۔ یہ جال مکڑی کا جالا بن گیا جس سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش میں اور زیادہ پھنستی چلی جاتی ہے ۔ اس غیر ملکی سرمائے نے طبقات پیدا کر دئیے اور اب یہ طبقات اتنے پختہ ہو چکے ہیں کہ اعلی طبقہ نیچے کی طرف نہیں دیکھتا جبکہ غریب طبقہ غربت کی لکیر کے نیچے آ رہا ہے ۔ متوسط طبقہ ختم ہو گیا ہے یا ہو رہا ہے ۔
دوسرے یہ کہ تقریباً تمام اسلامی ممالک میں عوام کی مرضی کی حکومتیں نہیں ہوتی ۔ زیادہ تر مملکتیں ڈکٹیٹروں کے مرہون منت ہیں۔ جہنوں نے حکومت پر قبضہ جما رکھا ہے اور عوام کی ترقی کی طرف جانا تو درکنار سوچنے بھی نہیں دیتے ۔
اور تیسرے نمبر پر یہ کہ مسلمان ممالک اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد نہیں رہے۔ اگر کوئی مسلما ن ملک کوئی بڑا ہتھیارحاصل کر لیتا ہے یا بنا لیتا ہے تو عالمی مالیاتی ادارے اس پر پابندیاں لگا دیتے ہیں اور عالمی طاقتیں اس ملک کی دشمن بن جاتی ہیں کہ یہ ہمارے ہم پلہ ہونے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یوں ان کی خود مختاری ختم ہو گئی ہے ۔ اپنی اسی تحقیق بنیاد پر اس نے ایک این جی او
قائم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور اس کا نام بھی سٹرابری ہی رکھا۔
اس کا نام رکھنے کی وجہ اس نے یہ بتائی کہ سٹرابری کے دو رنگ ہیں جو مسلمانوں کے مسائل کے حل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سرخ رنگ انقلاب کی علامت ہے اور سبز رنگ اسلام کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ یوں سٹرابری اسلامی انقلاب کی علامت بن جاتی ہے ۔
اس کی این جی او
کا منشور اس کی ریسرچ کے تین نکات ہیں کہ مسلمان ممالک اور اقوام کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانا ۔
اسلامی ممالک میں آزاد اور خودمختار حکومتوں کا ہونا۔
اور بیرونی اداروں اور ملکوں کی اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت بند کرانا۔
اس کا منصوبہ سن کر داد تو سب نے دی مگر جب اس پر عمل کا وقت آیا تو اس کے ساتھ صرف نجیب باقی بچا۔ باقی سب لوگ بھاگ گئے ۔
**۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔**

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 31008 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
28 May, 2018 Views: 351

Comments

آپ کی رائے