شہباز شریف ۔۔تابع سیاست کی وکالت

(Amjad Siddique, Lahore)

کارگل کا واقعہ تاریخ ساز ثابت ہوا۔اس نے نوازشریف اور واجپائی کی ان کوششوں پر پانی پھیر دیا جو ستر سالوں کی بے سود بھاگ دوڑ کے خاتمے کے لیے کررہے تھے۔اس ایک واقعہ نے دونوں ممالک کی قیادت کو یکایکی یو ٹرن لینے پر مجبور کردیا۔وہ ہاتھ جو ایک دوسرے کی حمایت اور احترام کے لیے اٹھے تھے۔ان میں پھر اسلحہ بارود نظر آنے لگا۔واجپائی کا شکوہ تھا کہ میاں صاحب نے میر ی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔نوازشریف کی مشکل تھی کہ انہوں نے چھرا گھونپا تو نہ تھا۔مگر مصلحتا خاموشی اختیار کرنا پڑی۔جب یہ معاملہ ٹھنڈا پڑاتو تب کے آرمی چیف کے دل میں چو رتھا کہ اس مہم جوئی پر پرسش ہوسکتی ہے۔اس لیے وہ بچاؤ میں پلاننگ کرنے لگے۔بہتر تو تھا کہ آرمی چیف یا کوئی دوسرا ذمہ داری وزیراعظم کو کسی مناسب طریقے سے مطئن کرلیتا۔یہ معاملہ نبٹ جاتا۔ایسا نہ ہوا بلکہ مشکوک سرگرمیوں سے اسے مذیدبگاڑا گیا۔بجائے اپنی کوتاہی کی تلافی کرنے کے مشرف اور ان کے ہم خیال گروہ نے عوامی حکومت سے بغاوت کی لابنگ شروع کردی۔وزیر اعظم نے آئینی اختیارکے تحت مشرف کو ہٹایا تو اس کا منہ توڑجواب دیا گیاوزیراعظم اور ان کی کابینہ کو گھر بھجواکر دنیا بھر میں یہ میسج دیا گیا کہ پاکستان میں کچھ لوگ آئین اور قانون سے بالاترہیں۔

شریف فیملی کے اتحاد کو جب بھی ڈینٹ پڑا ملٹر ی اسٹیبلشمنٹ کے ایشو پر پڑا۔پارٹی معاملات۔ملک میں جاری ترقیاتی منصوبہ جات اور دیگر اہم ایشوز مین دونوں میاں صاحبان کی سوچ میں بڑا فرق نہیں۔البتہ جب اسٹیبلمشنٹ سے متلق رائے کی بات آجائے تو چھوٹے بڑے میاں صاحبان کے درومیان ایک ایسی خلیج قائم ہوجاتی ہے۔شہباز شریف روایتی سیاست دانوں کی طرح جو تھوڑا بہت ملتا ہے۔اس پر قناعت کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ترقیاتی منصوبہ جات کی بہات سے غیر جمہوری قوتوں کو کمزورکیا جاسکتا ہے۔ان کے نزدیک خلائی مخلوق کا کوئی وجود نہیں۔بڑے بڑے منصوبوں سے آئی ترقی شعور کو جنم دے گی او رشعور اس ادھورے اقتدار کو پورا کرنے میں مدددے گا۔بڑے میاں صاحب اس فلسفے سے مطمنئن نہیں۔وہ بالکل برعکس سوچ رکھتے ہیں۔ا ن کے مطابق اس آدھ ادھورے اختیا رکے ساتھ ملے اقتدار سے قیامت تک حالات نہ بدلیں گے۔وہ خلائی مخلو ق کو ام المسائل سمجھتے ہیں۔جو پتلی تماشوں کے ذریعے ہر دس پندرہ سال بعد ملک کو پھر پچاس سال پیچھے لے جاتی ہے۔

خلائی مخلوق سے متعلق دونوں میاں صاحبان کی الگ الگ رائے اختلاف رائے کا ثبوت ہے۔ چوہدری نثار سے متعلق دونوں کا الگ الگ موقف بھی اسی سبب ہے۔چوہدری صاحب اس مدعے پر شہبازشریف سے ہم آواز ہیں۔ نوازشریف او رمریم کے موقف کو کمزور کرنے والے قصے بیان کرتے رہتے ہیں۔چھوٹے میاں صاحب یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی چوہدری صاحب کی کمر ٹھوک رہے ہیں۔چوہدر ی نثار کا موقف شیخ رشید اور عمران خاں سے بالکل برابر ہے۔فرق صر ف اتنا ہی ہے کہ و ہ پارٹی کے اندر رہ کر یہ نیک کام کررہے ہیں۔اور شیخ صاحب پارٹی سے باہر رہ کر۔نوازشریف گروپ کو اپنے اس غیر روایتی موقف کے سبب زبردست رگڑا مل رہا ہے۔نوازشریف سے حکومت چھین لی گئی۔پارٹی صدارت غصب کرلی گئی۔اب جیل بھجوانے کی تیاریاں ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ جو دوسرا دھڑا ہے جو آدھ ادھورے پر مان رہا ہے۔اس کے ہاتھ کیالگ رہا ہے۔اسے اپنے آپ کو گروی رکھنے کی کیا قیمت مل رہی ہے۔بظاہر وہ بھی مطمئن نہیں۔اس دھڑے کو بھی کچھ نہیں ملتا نظر آرہا۔جس طرح نیب شہبازشریف اور ان کے فیملی ممبرز کی طرف متوجہ ہوچکی۔اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ خلائی مخلوق کا دفاع کرنا بھی زیادہ سود مند نہیں ہورہا۔تب تک اطینان نہیں ہوگا جب تک نوازشریف کو سرنڈر نہ کرلیا جاسکے۔جہاں تک اس سرنڈر ہونے کا تعلق ہے۔وہ مشکل ہے۔نوازشریف اس سلسلے میں اوور مائی ڈیڈ باڈی کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

ہم اس وقت باغی سیاست اور تابع سیاست کے جھنجٹ میں پڑگئے ہیں۔دونوں طر ف سے بے پناہ پراپیگنڈہ کیاجارہاہے۔مگر نوازشریف دھڑے کا پلڑابھاری ہے۔اگررائج اوٹ پٹانگ سسٹم کی مخالفت اس دھڑے کی جانب سے کی جارہی ہے تو بے سبب نہیں۔یہ ایسا سسٹم ہے جس میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔سبھی بس استعمال ہوتے ہیں۔پھر کسی کو کسی مرحلے پر آؤٹ کردیا جاتاہے او رکسی کو کسی اور مرحلے پر۔جس طرح شہبازشریف کے خلاف کبھی ماڈل ٹاؤن کا ہوااٹھا یا جارہاہے۔جس طرح احد چیمہ کو نیب والے مجرم ثابت کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔جس طرح میٹرو بس کا سکینڈل اچھالاجارہاہے۔اس کی مثالیں ہیں۔نوازشریف ڈٹے ہوئے ہیں۔مخالفین کے وار اوچھے جارہے ہیں۔دھرنا جوڑی ہانپنے لگی۔زرداری بابا کے شوچل تو رہے ہیں۔مگر صرف ڈرائینگ روموں میں۔وہ جب بھی عوام کے پاس گئے ہیں۔انہیں دھتکاردیا گیا۔ الیکشن دوہزار اٹھارہ میں انہیں پچھلے الیکشن سے زیادہ بے زاری ملتی نظر آرہی ہے۔تابع سیاست زوروں پر ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کب تک یہ تابع سیاست نوازشریف کی باغی سیاست کے سامنے ٹھہر پاتی ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 69620 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2018 Views: 167

Comments

آپ کی رائے