ووٹ کی عزت

(Amjad Siddique, Lahore)

عدلیہ ایک بار پھر فرنٹ فٹ پر کھیلتی نظرآرہی ہے۔افتخار محمد چوہدری کے جانے کے بعد کئی برس تک عدالتی ایوانوں میں خاموشی تھی۔یوں لگ رہا تھا جیسے عدلیہ ملک میں جاری کسی بھی بحران میں لاتعلق رہنے کا ذہن بنائے ہوئے ہے۔بڑے بڑے بحران آئے۔مگر عدلیہ کی طرف سے کوئی بڑی پیش قدمی نہ دیکھی گئی۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی آمد کے بعد سے یہ ادارہ بالکل متحرک ہوچکا۔کچھ مہینوں تک جناب ثاقب نثار خاموش رہے۔مگر تب بھی کچھ دیگر ججز حضرات عدلیہ میں پھونکی گئی نئی روح کا تاثر دیتے رہے تھے۔بالخصوص جو تاثر پانامہ بنچ نے دیا۔وہ روایت سے ہٹ کر تھا۔کیس کی شنوائی مکمل ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا گیا کہ ایسا فیصلہ سنائیں گے۔جو بیس سال تک یاد رکھا جائے گا۔عمران خاں کو صادق و امین قراردینے کا فیصلہ دینے کے بعد سے ثاقب نثار بھی پور ی طرح متحرک ہوچکے۔۔اب کبھی وہ مرکزاور صوبائی حکومتوں پر برستے دکھائی دیے۔کبھی سیاسی جماعتوں سے پرسش کرتے نظر آئے۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اپنی ترجیحات کا اظہا رکیا۔بولے کس میں ہمت ہے کہ مارشل لاء لگائے۔عدلیہ بالکل آزاد ہے۔کسی کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔زندگی کسمپرسی سے گزانے کے لیے نہیں ہے۔نہ مار کھانے کے لیے۔عوام کا چیف جسٹس ہوں۔ملک میں صرف جمہوریت رہے گی۔ حقوق کے لیے علم بلند کیا کیا غلط کیا؟

چیف جسٹس کی باتیں بڑی مسحور کن ہیں۔وہ آمریت کو چیلج کررہے ہیں۔کہہ رہے ہیں کہ کسی کی مجال نہیں کہ آمریت لاسکے۔وہ اس کے خلاف سینہ سپر ہونے کا اعلان کررہے ہیں۔مگر انہیں اندازہ نہیں کہ یہ کام بڑا مشکل ہے۔یہ راستہ بڑا دشوار گذار ہے۔انہیں یہاں مدد گارکم اور مخالف زیادہ ملیں گے۔خود ان کے اپنے ادارے کا ماضی اس ضمن میں کوئی قابل فخر تاریخ نہیں رکھتا۔اس ادارے کے لوگ آمریت کے سچے اور پکے دوست ثابت ہوئے ہیں۔جب بھی آمریت آئی۔عدلیہ نے اس کے لیے بازو واکیے اس کی کمرٹھونکی اسے دلاسہ دیا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ ان کا ادارہ ہر دورمیں آمریت کا رضائی بھائی بنا رہا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ آمریت کو کبھی بھی عدالت کی طرف سے پرسش نہیں کی جاسکی؟ ہوئی۔جب بھی کسی آمر کی بات عدالتوں میں پہنچی۔اہل عدل کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔جتنی جلدی ممکن ہوسکا۔اس بھاری پتھر سے جان چھڑانے کی کوشش کی گئی۔سوائے افتخار محمد چوہدری کے دور کے عدلیہ کبھی بھی آمریت کو سیدھی ہوتی نظر نہیں آئی۔آمریت مسلط کرنے میں عدلیہ کا رول سب سے زیادہ ہے۔سیاسی قیادت نے آمریت کو قبو ل کرنے کی کمزوری دکھائی ضرور ہے۔مگر عدلیہ اس سے بھی بہت پہلے ڈھیر ہوتی رہی۔سیاسی قیادت کو اگر عدلیہ کی طر ف سے ذرا مذاحمت نظر آتی تو شاید وہ بھی اس طوفان کے آگے کھڑے ہونے کی ہمت پاتے۔عدالتوں کی طرف سے آمریت کو پاک صاف قراردیے جانے کے بعد سیاست دانوں کے لیے قلم او رتلوار دونوں سے بیک وقت الجھنے کی بجائے سمجھوتہ کرنا آسان سمجھا۔اگر قلم والے اہل جمہور کا ساتھ دیتے تو یہاں مارشل لاء مارشل لاء کا کھیل کھیلنا مشکل ہوجاتا۔

نوازشریف ووٹ کو عزت دو کی تحریک چلارہے ہیں۔ووٹ کی یہ عزت کچھ برے جرنیلوں نے روندی۔کچھ برے ججز نے اس روندے جانے کو درست قراردیا۔بعد میں کچھ برے سیاس دان نے اس درست قرار دیے جانے کو میں مدد کی۔نوازشریف کی تحریک دراصل کسی ایک شخص یا کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں۔بلکہ یہ ہر اس شخص کے خلاف ہے جو ووٹ کی عزت کو روندنے کے برے فعل کا حصے دار ہو۔چیف جسٹس کہہ رہے ہیں کہ کسی کی مجال نہیں کہ مارشل لاء لگاسکے۔مگر عملا موجودہ عدلیہ کا کردا راس دعوے کے برعکس ہے۔اس کے فیصلے اور ریماکس اس دھڑے کو جشن منانے کا سامان دے رہے ہیں۔جومارشل لا ء کے چاہنے والے ہیں۔جو ملک میں جنگل کا قانون چاہتے ہیں۔جہاں افراتفری ہو۔بے ترتیبی ہو۔بے یقینی ہو۔اس طرح کے ماحول میں ان کی لوٹ ما رچھپی رہتی ہے۔ نالائقوں کو اقتدار ملنے کے چانسز بڑھتے ہیں۔اس ماحول میں عیاری اور ٹھگی کی موج ہوتی ہے۔ شارٹ کٹ کے رسیاؤں کے لیے مواقع نکلتے ہیں۔موجودہ عدلیہ کے فیصلے اور ریمارکس اتفاق سے اس دھڑے کو کمزور کررہے ہیں۔جو اس نامعقول سسٹم کو ختم کرنے کی کوشش میں ہیں۔نوازشریف کی ووٹ کو عزت دو کی تحریک مسلسل عدلیہ کے کچھ فیصلوں اور کچھ ریمارکس کی نذرہورہی ہے۔بیان تو یہ ہے کہ کس کی مجا ل ہے کہ مارشل لاء لگاسکے مگرعملا کردار اس کی نفی کررہا ہے۔یہ تو ایسا کردار ہے جیسے کوئی کہنا چاہ رہا ہو کہ کس کی مجا ل ہے کہ وہ مارشل لاء کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔اہل عدل کے لیے مقام فکر ہے۔اگر عدالتی فیصلوں اور ریماکس پر وہ لوگ بغلیں بجارہے ہیں۔جو خود کو علی الاعلان غیر جمہوری قوتوں کے خدمت گار قراردے رہے ہیں تو پھر موجودہ عدلیہ کے لیے اپنے دعووں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ناگزیر ہوچکی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 66214 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 May, 2018 Views: 376

Comments

آپ کی رائے