یار کو ہم نے جا بجا دیکھا - قسط نمبر 12

(Adeela Chaudry, Renalakhurd)

اس کے بیہوش ہونے کی وجہ سے دادا جی نے اپنے پاس روک لیا۔فون کرنے پہ اس کی ماں نے بھی بابا جی سے بحث نہیں کی کیونکہ اس کے پاپا کسی کام سے دوسرے شہر گئے ہوۓ تھے۔بہت دیر بیہوش رہنے کے بعد اسے دوپہر کو ہوش آ گیا اور وہ اٹھتے ہی سوال کرنے لگا کہ اسے سوۓ ہوۓ کتنی دیر ہو گئی؟دادا جی نے جب اسے بتایا کہ وہ کل رات سے سو رہا تھا تو وہ اچھل ہی پڑا
میں کل رات سے یہاں ہوں؟؟؟ ہے بھگوان اب تو پاپا مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی
گھبراؤ نہیں تمہارا باپ شہر سے باہر ہے کسی کام کے سلسلہ میں۔دادا جی پیار سے اس کے سر پہ ہا پھیرتے ہوۓ کہا
پھر بھی بابا میں چلتا ہوں کل رات سے یہاں پڑا ہوں ماں کو چنتا رہے گی کہ جانے کہاں رہ گیا۔ وہ جلدی گھر جانا چاہتا تھا اسی لیے اٹھ کھڑا ہوا
بیٹھ جاؤ کھانا کھاتے ہیں دونوں پھر چلے جانا۔دادا جی نے اسے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا۔دونوں نے کھانا کھایا پھر وہ گھر چلا گیا
کیسی ہیں مما؟؟ اس گھر آتے ہی سب سے پہلے ماں کا حال پوچھا
ٹھیک ہوں تم بتاؤ کیا کام تھا بابا جی کو؟ ان کو بہت تجسس تھا کل سے
کچھ نہیں مما کسی کا لکھت پڑھت کا معاملہ تھا بس اور کچھ بھی نہیں۔ اس نے بہت مہارت سے جھوٹ بولا اور فریش ہونے کا کہہ کر کمرے میں چلا گیا۔جاتے جاتے اس کی نظرسٹور روم پہ پڑی تو رک کر ماں سے پوچھنے لگا
یہ کیا کر رہی ہیں مما؟؟ وہ ملازمہ کو سٹور روم سے سارا سامان باہر لیجاتے ہوۓ دیکھ کر پوچھنے لگا
کچھ نہیں بیٹا بس سٹور روم کی صفائی کروا رہی ہوں۔ اتنا کہہ کر وہ پھر سے ملازمہ کو ہدایات دینے لگیں
وہ فریش ہو کر آیا تو لاؤنج میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اسے ماں کے زور زور سے بولنے کی آواز آنے لگی اس نے اگنور کرنا چاہا لیکن آوازوں سے لگ رہا تھا کہ کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے آخر اس سے رہا نہ گیا اور اٹھ کر سٹور روم جا پہنچا
کیا بات ہے بات ہے مما کیوں چھایا پہ غصہ کر رہی ہو؟؟ وہ ماں سے غصے کی وجہ پوچھ رہا تھا
کیوں نہ کروں غصہ؟؟؟ یہ کونسا خیال کرتی ہے اب دیکھو صرف اس کی لاپرواہی سے سٹور روم میں بلی اپنے بچوں کو لے کے قبضہ جماۓ بیٹھی ہے جیسے اس کے باپ کی پراپرٹی ہو۔ ماں شدید غصے میں بولتی جا رہی تھیں
کوئی بات نہہں مما وہ بیچاری اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لیکر اس گرمی میں کہاں جاۓ گی؟؟ وہ بلی کو بہت رحم دلی سے دیکھ رہا تھا جو اپنے دونوں بچوں کو بازوؤں میں سمیٹے سہمی بیٹھی تھی اس کا دل بیچاری کے لیے تڑپ گیا
چھایا کی بچی اب میرا منہ کیا دیکھتی ہے اٹھا اس گندگی کے ڈھیر کو اور باہر پھینک۔ ماں نے ملازمہ کو ڈانٹتے ہوۓ کہا جو بیچاری کب سے ماں کی ڈانٹ سن رہی تھی وہ جلدی سے بلی کی طرف لپکی اسے ڈرا کر بھگایا اور بچے جو کہ ایک گتے کے کارٹن میں تھے انہیں کارٹن سمیت اٹھا کر باہر کی طرف چل پڑی
کیا کر رہی ہو چھایا چھوڑو انہیں۔ کیوں ان کو تنگ کرتی ہو رہنے دو یہاں ان کو۔ اس دل اچانک سے یوں ہو گیا گویا کسی کھائی میں دھڑک رہا ہو اسے اس قدر اپنے دل کی آواز گونج کر سنائی دینے لگی
چھوڑو دیپ بیٹا دیکھا نہیں کتنا گند پھیلا دیا پہلے ہی انہوں نے۔ وہ ملازمہ سے کارٹن چھیننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کی ماں نے اس کے ہاتھ سے چھین کر دوبارہ ملازمہ کو دے کے بھگا دیا وہ تقریباًبھاگتی ہوئی انہیں باہر لیجا رہی تھی وہ پہلے تو کچھ دیر بت بنا دیکھتا رہا پھر باہر کو دوڑ لگا دی اور جا کر ملازمہ سے کارٹن چھیننے لگا
مت کرو چھایا پلیز یہ مجھے دے دو نہ کرو ایسے یہ مر جائیں گے بیچارے۔ادھر دیکھو انکی ماں بیچاری کیسے تم سے اپنے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اس نے دور کھڑی میاؤں میاؤں کر کے فریاد کرتی بلی کی طرف اشارہ کیا
نہ کرو چھوٹے مالک چھوڈ دیو آپ اگر میں نہ فینکی نا ان کو تو مالکن مجھے نوکری سے نکال دیوے گی۔میرا مزبوری ہے صاب میرے کو جانے دیو۔ ملازمہ اس سے کارٹن چھین کر باہر کو چل پڑی اور وہ بھاگتا ہوا ماں کے پاس پہنچا تا کہ ماں کا دل موم کر سکے
مما بھگوان کے لیے چھایا کو روک لو وہ ان کو پھینک دے گی۔وہ معصوم مر جائیں گے مما نہ کرو پلیز ایسا نہ کرو۔ وہ ماں کے سامنے ہاتھ جوڑے رو رہا تھا
کیا ہو گیا ہے تم کو دیپ تم پہلے تو اتنا سینسٹِو کبھی نہ تھے پھر اب کیا ہو گیا تم کو؟؟ ماں اس کے گڑگڑانے کو کسی خاطر میں نہ لارہی تھی
کیوں بددعا لیتی ہو ان معصوموں کی مما مت کرو ایسا وہ مر جائیں گے ایک بار اس بیچاری ماں کی حالت تو دیکھومما وہ بیچاری رورو کے اپنے بچوں کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ مجھ سے اس کی آواز نہیں سنی جا رہی مما پلیز مما چھایا کو روک لو بھگوان جانے آپ اتنی پتھر کیوں ہورہی ہیں۔ وہ رو رو کر ماں کی منتیں کر رہا تھا لیکن ماں تھی کے سچ مچ کی پتھر بنی ہوئی تھی
کچھ نہیں ہوا دیپ تم کیوں خود کو ایسا پاگل کرتے ہو۔ چھایا اس کے بچے باہر رکھے گی اور وہ انہیں اٹھا کر کہیں اور لے جاۓ گی تم یونہی خود کو پریشان کرتے ہو۔ ماں نے اس قدر تسلی سے کہا کہ اس نے مزید سر ٹکرانے سے جا کر خود ہی چھایا کو روکنے کا سوچا اور باہر کو دوڑ لگا دی لیکن باہر نکلتے ہی اسے چھایا خالی ہاتھ واپس آتی دکھائی دی
کہاں پھینک کے آئی ہو ان کو؟؟ بولو کہاں پھینکا ہے ان کو؟؟ وہ اسے جھنجھوڑ کر پوچھ رہا تھا لیکن وہ اپنی مالکن کے ڈر سے کچھ نہ بولی خود کو اس سے چھڑا کر اندر بھاگ گئی اور وہ باہر نکل کر خود ہی انہیں ڈھونڈنے لگا
کبھی ادھر کبھی ادھر شدید گرمی میں پسینے سے شرابور وہ بلی کے بچوں کو تلاش کر رہا تھا وہ ان کو مرنے سے بچانا چاہتا تھا بہت دیرکے بعد وہ ہانپ کر ایک جگہ بیٹھا ہی تھا کہ اسے ایک طرف سے وہی بلی اپنی سمت آتی نظر آئی۔اس نے قریب آ کے یوں میاؤں میاؤں کیا جیسے اسے بلا رہی ہو وہ اسی وقت اٹھ کر بلی کے پیچھے چل پڑا کچھ ہی فاصلے پرایک خالی جگہ تھی جہاں لوگ کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے بلی اسے وہاں لے آئی اور بچوں کے پاس کھڑی ہو کر میاؤں میاؤں کرنے لگی جیسے اسے کہہ رہی ہو کہ خدا کے لیے میرے بچوں کو بچا لو۔
قریب پہنچ کر اس نے دیکھا کہ ایک بچہ تو مر چکا ہے دوسرا ہچکیوں سے چند آخری سانسیں لے رہا ہے۔ وہ کبھی اٹکی ہوئی چند آخری سانسیں لیتے بچے کو دیکھتا تو کبھی میاؤں میاؤں سے فریاد کرتی ان کی ماں کو دیکھتا۔منظر آہستہ آہستہ دھندلا رہا تھا اور پانی تھا کہ آنکھوں سے ٹپ ٹپ بہے جا رہا تھا
ہے بھگوان آج میں تجھ سے اس معصوم کی زندگی مانگتا ہوں۔ اس کی سانسیں بحال کر دے میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتا بس اس معصوم کی زندگی دے دے۔ پہلی بار ایک بے زبان نے مجھ سے مدد مانگی ہے اسے مایوس نہ ہونے دے۔ وہ رو رو کے بھگوان سے ایک بلی کے بچے کی زندگی یوں مانگ رہا تھا گویا وہ بلی کا نہیں اس کا بچہ ہو۔تھوڑی ہی دیر میں اسے لگا کے بھگوان نے اس کی بات سن لی ہے اس نے اپنے اٹھے ہوۓ ہاتھوں کو چہرے پہ پھیرا اور سکون کی ایک لمبی سانس لی۔لیکن شاید اوپر والے کو کچھ اور ہی منظور تھا۔چند ہی لمحوں بعد دوسرا بچہ بھی دم توڑ گیا۔بلی اب بچوں کے قریب آ چکی تھی وہ کبھی ان کے پاس لیٹ کر میاؤں میاؤں کرتی کبھی ان کے گرد چکر کاٹ کر۔کچھ دیر کے بلی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بنا میاؤں کیے مایوس لوٹ گئی۔دیپ کو لگا جیسے وہ اسے کہہ کر گئی ہو کہ دیکھا کچھ نہیں کیا تیرے بھگوان نے۔کیسا بھگوان ہے تیرا جو انسانوں کی پیدائش کاتو دعوی ٰکرتا ہے مگر ایک چھوٹے سے جانور کو زندگی نہ دے سکا وہ وہیں بیٹھا آسمان کی طرف سر اٹھا ۓ چیخ چیخ کے بھگوان سے شکوہ کر رہا تھا
کیا چلا جاتا تیرا اگر تو ان معصوموں کی زندگی بخش دیتا تو۔کیسا بھگوان ہے تو؟تجھے تو زرا ترس بھی نہیں آتا۔کتنی دعائیں مانگی ہیں میں نے تجھ سے تو نے ایک نہ سنی۔ لے لی جان ان معصوموں کی۔لے لی جان تو نے۔کیسا بھگوان ہے تو؟؟بول نا کیسا بھگوان ہے تو؟؟ وہ جانے کتنی ہی دیر وہاں بیٹھا بھگوان سے شکوے کرتا رہتا کہ اتنے میں چھایا آئی اور اس کو بازو سے پکڑ کر گھر لے گئی۔وہ مڑ مڑ کر انہی بلی کے بچوں کو ہی دیکھ رہا تھا
کہاں چلے گئے تھے بیٹا پتا ہے میں کتنی پریشان ہ رہی تھی؟؟ اس کے گھر آتے ہی ماں فکر مندی سے اسے چھو کر دیکھنے لگی
کر لی نا من مانی آپ نے؟؟ مار دیا نا ان کو؟؟ میرا اتنی سی دیر غائب ہونا آپ سے سہا نہیں گیا نا مما پر اس مظلوم نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کو آخری سانسیں لیتا دیکھا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکی مما۔آپ نے دیکھا ہے کسی کو ایسے چند اٹکی ہوئی سانسیں لیتے ہوۓ؟ نہیں دیکھا نا؟ میں نے دیکھا ہے مما۔وہ پاس ہی کھڑی تھی پر وہ نہیں بچا سکی اپنے بچوں کو۔میں بھی نہیں بچا سکا ان کو۔آپ نے مار دیا انکو مما مار دیا آپ نے۔ اگر کوئی مجھے آپ کی آنکھوں کے سامنے مار دے اور آپ کچھ نہ کر سکیں تو بولیں مما کیا آپ جی سکیں گی؟؟ وہ بیچاری ماں کیسے جیے گی اب جس کے بچوں کو آپ نے مار دیا۔کیسے جی پاۓ گی وہ بولیں نا مما بولیں پلیز۔
چیخ چیخ کر اب اس کا گلا بند ہو رہا تھا اچانک اس نے اپنا چہرہ نوچنا شروع کر دیا۔وہ کبھی اپنے بال کھینچتا تو کبھی اپنے ہی منہ پہ تھپڑ مارنے لگتا۔ اس کی ماں اور چھایا اسے سمبھالتے سمبھالتے ہانپنے لگیں وہ جیسے ہی بیہوش ہو کر زمین پر گرا ماں نے چھایا کو تقریباًدھکیلتے ہوۓ اٹھایا کہ جاؤ جلدی سے ڈاکٹر کو بلا کر لاؤ۔وہ بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی اور مما اپنی گود میں پڑے بیہوش بیٹے کا سر دیوانہ وار چومنے لگیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adeela Chaudry

Read More Articles by Adeela Chaudry: 23 Articles with 29334 views »
I am sincere to all...!.. View More
31 May, 2018 Views: 826

Comments

آپ کی رائے
wow. very nice. i love this novel.or kis kis ko psnd ha ye novel???
By: Faisal, Karachi on Jun, 01 2018
Reply Reply
0 Like
Another exciting episode. Beautiful emotions. Deep u made me cry. Seriously. 😭😭😭
By: Ramis, Lahore on Jun, 01 2018
Reply Reply
0 Like