میری تحریر کے دریچے

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ ایک سال ہو گیا ہے شاعری اور نثر لکھتے اب کچھ وقفہ بریک بھی ضروری ہے اب میں کیسے سمجھاوں کہ میری تحریر کے بریک فیل ہو چکے ہیں
میری تحریر میری تنہای کی بہترین ساتھی ہے جیسے پہلے کتاب بہترین ساتھی تھی اور آج بھی ہے مگر میرے مطلب کی کتابیں کم ہی دستیاب ہوتی ہیں اور کسی پسند کی چیز میں انسان محو ہو جاے تو دنیا کے دکھ جو آدمی خود ہی پالتا رہتا ہے تمام نعمتوں کے باوجود وہ بھول جاتا ہے

کسی کی دعا سے اور کچھ حالات کے بہاو سے جو میں لکھنے تک پہنچ گیا جو زندگی کے پرانے واقعات اور مشاہدے اور یہی کتابیں جو زہن میں جمع ہوتی رہتی تھیں ان کو تحریر کی شکل میں لانے کا شوق اچانک پیدا ہو گیا حالانکہ ادب سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا اور نہ ہی بےادبی سے کہ ادیبوں کا اور ادب کا ادب ضرور کرتا تھا کیونکہ کتاب کا ادب لازم ہے اور پڑھنے والے قاری کی داد اور دلچسپی نے حوصلہ دیا اور تنقید اور مخالفت کی باد مخالف نے اونچا اُڑنے کی خواہش مزید بیدار کر دی

‎تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
‎یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

مگر ہماری ایک کزن تو باد مخالف کے بغیر ہی مجھے اونچا اُڑا چکی تھیں تعریف کر کے کہ اونچای کا خوف نکل گیا جو اکثر لوگوں کو ہوتا ہے اور یہ ہر انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی پہلے دو خوف اونچای اور تیز آواز کا جو اس کے بچاو کے لیے قدرت نے رکھا ہے شائد اور دوسرے خوف اطراف کے لوگ ڈراکر پیدا کرتے ہیں اور اب وہ آرام کا مشورہ دے رہی ہیں مگر مجھے اس پر عمل کرنا ایسے ہی لگ رہا ہے جیسے ایک بڑھیا نے ڈاکٹر کے آرام کے مشورے پر کیا تھا کہ
آپ سیڑھیاں نہ چڑھا کریں تو وہ بلڈنگ کے پائپ سے چڑھتی رہی پانچویں منزل اور یہ کزن بھی ڈاکٹر ہیں مگر میں بڑھیا نہیں اور پہلے انہوں نے سڑک پار کروای جو ایک بڑھیا کو چند لڑکوں نے کرای تھی کیو نکہ اسکول کے استاد نے کہا تھا کل سب نے کوی نیکی کر کے آنا ہے تو استاد نے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی دوسرے دن تو سب نے ایک ہی وجہ بتای کہ سب بڑھیا کو سڑک پار کروا کر نیکی سر انجام دے رہے تھے
پوچھا سب مل کر کیوں ؟
جواب ملا
وہ کرنا نہیں چاہ رہی تھی

میرے ساتھ ذرا مختلف ہوا کہ ایک دلچسپ گفتگو جو میرے اور ایک میری کزن کے درمیان ہوی جن کے میاں بھی کزن ہیں اور ڈاکٹری چھوڑ کر اپنی انتھک محنت سے دواساز کمپنی کے بڑے عہدے تک جا پہنچے ہیں جو کہ پہلے بھی کم پہنچے ہوے نہ تھے اور کسی کو گھر تک پہنچا دیتے تھے اپنے نوکیلے جملے سے مگر مریض سے شفقت بھرے میٹھے بول سے حوصلہ بھی دیتے تھے تو وہ گفتگو سن کر والدہ نے کہا کہ اتنے خوبصورت جملے کہیں لکھ لو آور میں نے لکھا اور لکھتا ہی چلا گیا اور ان کا کہا کسی سعد لمحہ میں پورا ہو گیا اور مجھے ادب کی نا معلوم دنیا میں دھکہ دے دیا گیا حالانکہ اُن کا خود کا شوق باغبانی اور اُسی باغ میں مرغبانی اور میرا شوق تو یہی رہا
دلبر جانی
چلی ہوا مستانی

اور یہ تحریر اور شاعری کا شوق اس سے بہتر ہے جو پہلے تھا کہ ٹی وی پر ہر وقت سیاسی بحث اور لڑای دیکھنا

مجھ سے بہتر حاضر جواب اور بڑی پیاری گفتگو کرنے والے ایک کزن جن کو گانے اور ایکٹنگ کا شوق تھا کبھی ان کا دیا حوصلہ بھی موجود ہے جن کے نام کا مطلب شیر ہے لیکن اُن کی دھاڑ بڑی مدھم ہو جاتی ہے خدمت گُزار بیگم پر کہ اس دھاڑ پر پیار آے مگر وہ شیر کے نشان کے مخالف ہیں
اور شاعری میں سب سے پہلی حوصلہ افزای میری کزن جن کا فقرہ
I love nomi s shairee
میں نہیں بھولتا اور ان کے شوہر اتنے پیار سے نومی کہتے ہیں کہ اگر صنف مخالف سے ہوتے تو میں دوسری والی محبت میں گرفتار ہو جاتا اور فیض کے شعر کا اثر بھی نہ ہوتا

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

اور اس میں ہر ایک کی محبت شامل ہے جن میں ایک زمیں دار عزیز بھی شامل ہیں اور انہیں اپنی زمینوں کے ساتھ میری شاعری بھی عزیز ہے جو واٹسایپ میں سنبھال کر رکھی ہے اور وہ زمین بھی فراہم کرتے ہیں یہاں مراد وہ زمین ہے جس پر شاعری کی جاتی ہے

اور کچھ اسکول کے بچپن کے دوست جو پچپن کے نہیں ہوے حوصلہ افزای کرتے رہتے ہیں اُسی لڑکپن کی زبان میں

اور ایک عزیز جو میڈیا سے منسلک ہیں انہوں نے تو آسمان پر پہنچا دیا حوصلہ دینے میں اور میں فضاوں میں اُڑنے لگا مگر ان کی بیگم نے شاعری کی برای کر کے دھڑام سے نیچے گرا دیا لیکن ساتھ ہی نثر کی تعریف کر کے جلد ہی مرہم پٹی بھی کر دی

اور تنقید کرنے والے بھی ہیں جن کی بدولت شاعری اور خود میری دونوں کی اصلاح بیک وقت ہو جاتی ہے
مگر ایک تحقیق کے مطابق آدھے سر کا درد بلڈ پریشر اور السر کا علاج یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ایک مہینے تک تنقید کرنے سے پرہیز کیا جاے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تنقید کرنے سے زیادہ محبت کرنا اثر انداز ہوتا ہے اصلاح کے لیے

میں نے سوچا کہ لوگوں کی بات صحیح ہے کچھ وقفہ دے دینا چاہیے ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ایک ادبی اون لائن گروپ سے جہاں محبت اور حوصلہ افزای تو مل ہی رہی تھی مگر اس کمنٹ نے تو قدم ہی جکڑ لیے اور وہ بھی اُسی دن آنا تھا جو کہ اشارہ بھی سمجھا جا سکتا ہے جاری رکھنے کا اور میں پھر سے اس محبت میں رہای سے پہلے ہی گرفتار ہو گیا اور اب نکلنا یوں بھی مشکل ہے کہ

‎اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے

اور وہ کمنٹ پیش خدمت ہے

السلام علیکم دریچہ والو!!
کیسے ہیں آپ سب؟
امید ہے خیریت سے ہوں گے
دوستو جب کسی محرومی کا دکھ ستانے لگے تو اپنی ان نعمتوں کو شمار کریں جو اگر چھن گئیں تو جینا مشکل ہو جائے گا۔
اللہ پاک ہم سب کو شکر کرنے والا بنا دے ہمیں آپ کو ہمارے سوھنے وطن کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
جی تو حاضر ہیں سلسلہ
‏#Post_Of_the_day
کے ساتھ!
اس سلسلے میں ہم ترجیح دیتے ہیں ایسی پوسٹ کو جو پوسٹ کرنے والے کی اپنی کاوش ہو.

آج کی منتخب کردہ تحریر "تنہائی اور خوف" نامی تحریر پر مشتمل ہے جس میں لکھاری اپنی زندگی کے سات سنہری دنوں کے بارے میں بتا رہا ہے جن میں اسے انسانی احساسات کے متعلق منفرد تجربے ہوئے. تحریر کے مطابق قرآنی آیات اس کے علاوہ فیض و غالب کی شاعری سے سجی یہ ایک بہت خوبصورت تحریر ہے.ضرور پڑھیے گا نیچے لنک دیا جا رہا ہے.یہ آپ بیتی ہے
جناب #نعمان_باقی صاحب کی
آپ دریچہ کے ساتھ معقول عرصے سے منسلک ہیں.
بہت اچھے لکھاری و شاعر ہیں. آپ کا تحریر لکھنے کا انداز بہت دلچسپ و منفرد ہے ۔ بات سے شعر، شعر سے قصہ، اس سے جڑی کوئی یاد اور آخر میں اللہ کا احکام بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں.
کل نعمان صاحب نے ہمارے ساتھ اپنی دو بہترین کاوش "ہنس مکھ" , " تنہائی اور خوف" شئیر کیں تحریر کی صورت میں اور ایک کاوش کسی شاعر کی زمین پہ بہت عمدہ غزل تھی ۔ بہترین اندازِ بیاں.
بہت بہت مبارک نعمان باقی صاحب.
اللہ پاک آپ کے علم عمل اور قلم میں مزید برکت عطا فرمائے. اور آپکا اور دریچہ کا ساتھ بنائے رکھے آمین.
جزاک اللہ خیر
#ٹیم_دریچہ

اور اس کے علاوہ ڈرتا بھی ہوں کہ کہیں ناشکری کے زمرے میں نہ آجاے اور مفت کی نعمت ہاتھ سے نہ چلی جاے اور ہر قسم کی زوال نعمت سے پناہ پناہ مانگتے ہوے اور شُکر کی توفیق مانگتے ہوے یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب کچھ خُدا کے فضل سے ہے

مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91638 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jun, 2018 Views: 297

Comments

آپ کی رائے