رمضان امت مسلمہ کے لیے فتوحات کا مہینہ

(Sameera siddiqui, Karachi)
رمضان امت مسلمہ کے لیے وہ مبارک مہینہ ہے ہےجس میں مسلمانوں نے بڑی سے بڑی فتوحات کیں۔

رمضان مبارک وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمام مسلمانوں کے کبیری اور صغیرہ گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں سورہ البقرہ میں ہے کہ
” یایھاالذین امنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون“(183:البقرہ)
” اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیۓ گۓ تھے،تاکہ تم تقوی اختیار کرو“

زمانہ جاہلیت میں لوگ عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر دو ہجری رمضان مبارک کےمہینے میں اللہ نے تمام مسمانوں کےلیے روزے فرض کیۓ۔ اللہ کے اس حکم کااحترام پوری امت مسلمہ پورے روزے رکھ کرتی ہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ
”الصوم جنتہ یسجن بھا العبد من النار“
(صحیح الجامع ،ح:3867)
”روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعہ سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے“

رمضان مغفرت کا مہینہ ہے جس میں تمام مسلمانوں کے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں یہ وہ رحمت کا مہینہ ہےجس میں تمام آسمانی کتابوں کا نزول ہوا یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں مسلمانوں نے سب سے بڑی فتح حاصل کی مسلمانوں نے مکہ کو فتح کیا تقریبا کم وبیش دس ہزار صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کو لے کر خاتم انبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پر حملہ آور ہوۓ تو مشرکین مکہ مسلمانوں کو دیکھ کر ڈر گۓ ان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ابو سفیان وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور امان چاہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واسلم نے اسے امان دی اور فرمایا کہ جو کعبہ کے انرر پناہ لے جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اور جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے اسے بھی امان ہے۔آپ کےاسی سلوک کی وجہ سے اسلام کا داٸرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا اور بڑے سے بڑے دشمنان اسلام آپ کے آگے زیر ہو گۓ۔

رمضان کا وہ مقدس مہینہ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے اورگرمی کی شدت اتنی ہے کہ صحابہ اکرام فرماتے ہیں کہ گرمی اتنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنےسر پر بار بار پانی ڈالتےاور اس دور میں ریگستان کا طویل سفر گرمی کی شدت اور اس میں مسلمانوں نے مکہ کو فتح کیا یہ وہی مسلمان تھے جن پر بے پناہ ظلم و ستم کیے گۓ تھے اور ان کا رہنا مکہ میں دشوار کر دیا گیا تھا ان میں وہ لوگ شامل تھے جو دین اسلام کی خاطر اپنا گھر بار خاندان چھوڑ کر ہجرت کر گۓ تھے اللہ نے ان لوگوں کو بڑی سے بڑی فتح نصیب کی یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے جنگ بدر،جنگ تبوک، جنگ خندق اور غزوہ حنین جیسی بڑی بڑی فتح کیں اپنے جوش و جزبے اور ایمان کی وجہ سے جب مسلمان ایک بند مٹھی کے مانند تھے ایک تسبیح کے مانند تھے جس کا ہر دانہ دوسرے دانے کے ساتھ جڑا تھا جب ہی انہوں نے اپنے سے دگنے کافروں کا جنگ میں مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی اور بغیر لڑے مکہ کو فتح کیا۔

آج کا مسلمان خود اپنے بھاٸ سے لڑ رہا ہے اس وقت مسلمان بڑی بڑی سے بڑی مصیبت کا سامنا کرتاتھا اس وقت کا مسلمان واقعی میں مسلمان تھا آج کا مسلمان فرقوں میں بٹ گیا ہے سنی، دیوندی ، شعیہ سب گروہوں میں بٹ گۓ ہیں بس چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑاٸیاں اور فساد برپا کردیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ مشرکین ہمیں اندر سے کمزور کر رہے ہیں انہیں اس بات کا علم ہے کہ اگر تمام مسلمان متحد ہو گۓ تو پھر سے یہ ہم سے ذیادہ طاقتور ہو جاٸیں گےاورپھر ان کا مقابلہ کوٸ نہیں کر سکے گا۔اس وقت امت مسلمہ ایک نازک دور سے گزر رہی ہے اور اس وقت میں ہمیں تمام فرقوں سے آذاد ہو کر صرف مسلمان بننا ہے نہ کہ سنی دیوبندی ۔

اگر دیکھا جاۓ تو آج کا نوجوان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ اسے گرمی برداشت نہیں وہ گرمی سے گھبرا کر روضے نہیں رکھ رہا وہ اللہ کے حکم پر عمل نہیں کرے گا اپنی نسل کو سیدھے راستے پر نہیں چلاۓ گا انہیں روزوں کے فواٸد اور روزے چھوڑنے پر عزاب کے بارے میں نہیں بتاۓ گا تو انہیں کیا پتا چلے گا کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔آج اگر ایک مسلمان گھرانے کا بچہ سحری میں نہیں اٹھتاہے اور روزے اس وجہ سے نہیں رکھتا کہ مجھے بھوک یا گرمی برداشت نہیں ہوتی تو یہ والدین کا فرض ہے کہ اس کو صحیح راستہ بتاٸیں اسے سمجھاٸیں اسے عزاب سے ڈراٸیں حدیث شریف میں ہے کہ
”الصوم الجنتہ من عزاب اللہ“
(صحیح الجامع،ح:3866)
”روزہ اللہ کے عزاب سے (بچاٶ کی) ڈھال ہے“ اسے روزے رکھنے پر مجبور کریٸں تاکہ وہ روزہ رکھے اور آٸندہ آنے والی نسلوں کو صحیح راستہ بتا سکے انہیں بتاٸیں کہ ہمارے بزرگوں نے کس طرح فتوحات کیں ہیں یہاں تک کہ پاکستان بھی رمضان میں آذاد ہوا اور کتنی مشکلوں سے لوگوں نے اپنا ملک حاصل کیا۔

آج اس مشکل وقت میں ہمیں آنے والی نسلوں کی حفاظت کرنی ہے اور انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ پہلے کے مسلمانوں کی طرح ایک مضبوط مٹھی کی مانند ہو جاٸیں اس تسبیح کے دانوں کی طرح ہو جاٸیں جنہیں اگر کوٸ الگ کرنے کا سوچے تو خودسوچنے پر مجبور ہو جاۓ ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sameera siddiqui

Read More Articles by Sameera siddiqui: 8 Articles with 5155 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jun, 2018 Views: 309

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ