مساجد ریفارمز پروگرام ۔ مختصر جائزہ وگزارشات

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

ایک قومی اخبارمیں خبرہے کہ اسلام آبادمیں جزوی کامیابی کے بعدحکومت نے ملک بھرکی مساجدپرمحدودکنٹرول کافیصلہ کرتے ہوئے فوری عملدرآمدکاآغازکردیا ہے ۔اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے تمام اضلاع کے ڈپنی کمشنرزکوہدایات جاری کی ہیں کہ ان کے مطابق مساجدامام کودرج ذیل پابندیوں کوخودپرلاگوکرناہوگا۔جن کی تفصیلات یوں ہیں شہرمیں تمام چھوٹی بری مساجدامام کواپنے آنے والے فنڈزکی تمام تفصیلات رکھنی ہوں گی اورضلع کے ڈپٹی کمشنرکوان تفصیلات کی رپورٹ ماہانہ بنیادوں پرڈپٹی کمشنرآفس میں جمع کرواناہوگی۔مسجدمیں ہونے والے تعمیراتی کام ،مرمت اورمسجدکی توسیع کے لیے اجازت بھی لینی ہوگی اوراس سے متعلق تمام امورکے ٹھوس دلائل بھی دیناہوں گے۔جس کی بنیادپرمسجدمیں مرمت کاکام اورتوسیع کی جارہی ہے۔اوراس کے لیے ملنے والافنڈزکے متعلق بھی ضلعی انتظامیہ کوآگاہ کرناہوگاکہ مسجدکی توسیع کی مرمت کے لیے فنڈزکس نے دیا۔اس سلسلہ میں مسجدامام کوماہانہ بنیادوں پرگورنمنٹ کی طرف سے وظیفہ بھی دیاجائے گا۔نمازجمعہ کے خطبہ میں کوئی بھی امام متنازعہ بیان نہیں دے سکے گا۔جب کہ حکومت کی طرف سے جمعہ کے خطبہ کے لیے تحریری خطبہ نہیں دیاجائے گا۔صرف موضوع دیاجائے گا۔جس کے مطابق امام مسجدجمعہ کے خطبہ میں گورنمنٹ کی طرف سے دیے گئے موضوع پراپناخطبہ دیں گے ۔ ذرائع کاکہناہے کہ کچھ دہشت گردتنظیمیں اسلام کے نام پراپنامقصدحاصل کرناچاہتی ہیں۔اورملک میں اپنامقصدحاصل کرنے کے لیے دہشت گردی کوفروغ دے رہی ہیں۔ان میں سے چندتنظیموں پرپابندی بھی عائدکردی گئی ہے۔ان دہشت گردوں پرنظررکھنے کے لیے سپیشل برانچ کے اہل کاروں پرمشتمل ایک ٹیم بنائی جائے گی۔جوان مساجدکی مانیٹرنگ کرے گی۔نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے تحت مساجدکے لیے ریفارمزپروگرام کے تحت وفاقی وصوبائی حکومتیں ایک ساتھ مل کر مسجدریفارمزپروگرام پرکام کریں گی۔جس کے تحت مسجدکے لیے بنائی جانے والی لوکل انتظامیہ ڈپٹی ڈائریکٹراوقاف کی زیرنگرانی کام کرے گی۔نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے مطابق مسجدکے لیے کی جانے والی ان ریفارمزکامقصدمعاشرے میں ہونے والی اچانک تبدیلی اوراسلام کواپنے مقصدکے لیے استعمال کرنے کی وجہ ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ ان ریفارمزکے ذریعے سے آہستہ آہستہ معاشرے میں تبدیلی آئے گی اوران ریفارمزکے متعلق ملک کے اکثرمساجدکے امام اورخطیب نے ہرسطح پرتعاون کایقین بھی دلایاہے۔مساجدمیں ہونے والے مسائل سے متعلق شہری شکایات لے کرڈپٹی کمشنرکے پاس جاسکتے ہیں۔جوان کوسننے کے بعدان شکایات پرایکشن بھی لیں گے۔

ا نیس جنوری کو واٹس گروپ میں نعمان مصطفائی نے امام کی تلاش کے عنوان سے ایک میسج بھیجا۔جس میں انہوں نے لکھا کہ پچھلے دنوں ایک مسجدمیں نئے امام کی تلاش جاری تھی چندکمیٹی ممبران ایک مفتی صاحب کے پاس چلے گئے رسمی سلام ودعاکے بعدمفتی صاحب نے آنے والوں سے آنے کامدعاپوچھا کیسے آناہوا۔مسجدکی کمیٹی والوں نے کہا کہ بس آپ کی زیارت کے لیے حاضرہوئے تھے ۔ آپ جیسے بزرگوں کی صحبت نصیب ہونابھی سعادت کی بات ہے۔مفتی صاحب نے کہا ماشاء اللہ اللہ خوش رکھے پھربھی اگرکوئی کام ہے توبتادیں کیوں کہ مجھے کسی کام سے باہرجاناہے۔مسجدکی کمیٹی والوں نے کہا جی بس آپ سے ملنابھی تھا اورایک عرصے سے ہماراآپ کے ہاں آناجانا ہے توہم نے چاہا کہ ہم اپنی مسجدکے لیے امام صاحب بھی آپ ہی کے پاس سے لے جائیں۔مفتی صاحب نے پوچھاپہلے امام صاحب کہاں ہیں ۔مسجدکی کمیٹی والوں نے کہا انہیں فارغ کردیا ہے۔مفتی صاحب کے وجہ پوچھنے پرمسجدکی کمیٹی والوں نے کہا کہ ٹائم نہیں دیتے تھے۔مفتی صاحب نے حیرت سے کہا کہ کیامطلب؟جس پرمسجدکی کمیٹی والوں نے کہا کہ جی وہ نمازکے لیے ٹائم پرنہیں آتے تھے اورچھٹیاں بھی بہت کرتے تھے۔مفتی صاحب نے پوچھاٹائم پرکیوں نہیں آتے تھے۔مسجدکی کمیٹی والوں نے کہا کہ جی وہ ادھرادھرٹیوشن پڑھانے نکل جاتے تھے پھرنمازپہ کبھی ایک منٹ رہتا پہنچتے توکبھی عین جماعت کے ٹائم پرپہنچتے تھے اورکبھی پہنچتے ہی نہیں تھے روزکسی نہ کسی نمازکی چھٹی کرلیتے تھے۔مفتی صاحب نے پوچھا وظیفہ کتنادیتے ہیں مسجدکی کمیٹی والوں نے کہا کہ جی ان کوآٹھ ہزارروپے دیتے تھے اورآپ کے امام صاحب کودس ہزارروپے دیں گے۔مفتی صاحب نے پوچھا کیامام صاحب فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔مسجدکی کمیٹی والوں نے کہا نہیں اکیلے تھے ہمارے پاس فیملی رہائش کی سہولت نہیں ہے۔اب کوشش کررہے ہیں۔مفتی صاحب نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس منصب کی ابتداسیّدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی اورخلفائے راشدین نے اسے پروان چڑھایا ۔خلفائے راشدین بیک وقت حاکم بھی تھے اورامام بھی۔ان کے بعدمنصب امامت والے انہیں کے نائبین کہلاتے ہیں۔اس لیے مصلائے امامت کومصلائے رسول اورمنبرمسجدکومنبررسول بھی کہتے ہیں۔اب خودہی سوچیں یہ کتنامقدس منصب ہے اوراس کی کتنی قدرہونی چاہیے ۔آج کل لوک یہ سمجھتے ہیں کہ امام صاحب چوبیس گھنٹے مسجدمیں موجودرہیں اورہم جوبھی کہیں امام صاحب وہی کریں لیکن دوسری طرف لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں اتنابھی وظیفہ نہیں دیتے جس سے ان کی ضروریات پوری ہوسکیں۔آج اس دورمیں سرکاری طورپر ایک مزدورکاوظیفہ بھی چودہ ہزارروپے مقررہے (اب پندرہ ہزارروپے ہوچکا ہے) لیکن لوگوں کی کم ظرفی تودیکھیں کہ جس منصب کارتبہ ملک کے صدر،وزیراعظم سے بھی اعلیٰ ہے اسے ایک مزدورکے برابربھی اہمیت نہیں دیتے۔ارے میرے نزدیک امام وقرآن کی قدرتویہ ہے کہ امام صاحب جوصر ف نمازفجرمیں ہمیں قرآن سناتے ہیں اگرصرف ایک نمازپرہم انہیں ایک لاکھ روپے وظیفہ بھی دیں تویہ بھی کم ہے ۔اوریہاں اس مقام کی قدریہ ہے کہ لوگ سات آٹھ ہزاردے کرسمجھتے ہیں کہ ہم ان پربڑااحسان کرتے ہیں اوراگران کااپنابیٹا تیس یاچالیس ہزاربھی کماتاہو توپھربھی انہیں کم نظرآتا ہے اوراما م صاحب سے دعاکرائیں گے کہ بچے کی کوئی اچھی جاب لگ جائے ۔حیرت وافسوس کامقام ہے لوگوں کاخیال ہے کہ امام صاحب اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ ٹیوشن پڑھائیں نہ کچھ اورکام کریں صرف ان کے سامنے ہاتھ باندھ کرکھڑے رہیں۔کیاوہ انسان نہیں ہیں۔کیاوہ اپنے بیوی بچوں کوخوشیاں دینے کے مستحق نہیں ہیں۔آج لوگوں کوامام نہیں ایک نوکراورغلام کی تلاش ہے مہربانی فرماکرتشریف لے جائیں اوردوبارہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔

نعمان مصطفائی نے تواس میسج میں امام مسجدکی تنخواہ سات آٹھ ہزارروپے لکھی ہے۔ حالانکہ حقائق تویہ ہیں کہ لیہ شہرکی گنجان آبادی میں واقع ایک مسجدمیں ہم نے نمازیوں سے پوچھا کہ اپنے مسجدامام کوآپ کیاوظیفہ دیتے ہیں توانہوں نے بڑے فخریہ اندازمیں کہا کہ تین ہزارروپے۔نعمان مصطفائی نے اس میسج میں جو مسائل بیان کیے ہیں وہ کسی ایک مسجدکے نہیں اکثرمساجدکے ہیں۔بہت ہی کم ایسی مساجدہیں جہاں مسجدامام کودس ہزارسے زیادہ مایانہ وظیفہ دیاجاتا ہے۔لیہ شہرمیں ایک امام مسجدایسابھی ہے جومسجدکی بجلی کابل بھی خوداداکرتاہے ۔ اب قارئین خودسوچیں جس مسجدکے نمازی مسجدکی بجلی کابل بھی ادانہیں کرتے وہ مام مسجدکوکیاوظیفہ دیتے ہوں گے۔ اگرکوئی مسجدامام وظیفہ کم ہونے کی شکایت کرے توکہتے ہیں کہ اگرتمہاراگزارانہیں ہوتاتوچھوڑکرچلے جاؤ۔اس کے علاوہ بھی مساجدامام کے بہت سے مسائل ہیں جواس تحریرمیں نہیں لکھے جاسکتے۔

نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے تحت مساجدریفارمزپروگرام پرعملدرآمدکرنے سے مساجداورمساجدامام سے متعلق مسائل کوحل کرنے میں بھی مددملے گی ۔ آیئے مساجدریفارمزپروگرام کامختصرجائزہ لیتے ہیں جس کے تحت مساجدامام کواپنے آنے والے فنڈزکی تفصیلات رکھناہوں گی اورماہانہ رپورٹ ڈپٹی کمشنرآفس میں جمع کراناہوگی۔ مساجدکے لیے فنڈزاکٹھے کرنامسجدامام نہیں خزانچی یامہتمم مسجدکاکام ہے۔ ہرمسجدکے لیے ایک مہتمم اورایک خزانچی مقررکیاجائے اوروہی اس فنڈزکی تفصیلات بھی رکھے اوراس کی رپورٹ ڈپٹی کمشنرآفس میں جمع بھی کرائے۔مسجدامام توبعض اوقات مقامی نہیں ہوتے جب کہ مہتمم مسجداورخزانچی مقامی ہی ہوتے ہیں ۔یہ نہیں بتایا گیا کہ رپورٹ مسجدامام یاخزانچی ڈپٹی کمشنرکے پاس خودجمع کرائیںیابذریعہ ڈاک بھی بھیج سکتے ہیں۔ حکومت کاکوئی نمائندہ یااہل کار خود آکریہ تفصیلات لے جائے۔مساجدریفارمزپروگرام کے تحت مسجدمیں ہونے والے تعمیراتی کام ،مرمت اورمسجدکی توسیع کے لیے اجازت بھی لینی ہوگی اوراس سے متعلق تمام امورکے ٹھوس دلائل بھی دیناہوں گے جس کی بنیادپرمسجدمیں مرمت کاکام اورتوسیع کی جارہی ہے۔اوراس کے لیے ملنے والافنڈکے متعلق بھی ضلعی انتظامیہ کوآگاہ کرناہوگا کہ مسجدکی توسیع یامرمت کے لیے فنڈکس نے دیاہے۔یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ذمہ داری بھی مسجدکی امام کی ہی ہوگی یامسجدکی لوکل کمیٹی کی۔ یہ ذمہ داری بھی مہتمم مسجدیاخزانچی کی ہی ہونی چاہیے۔مسجدکی توسیع کی اجازت لیناتوضروری ہوناچاہیے مسجدکی حدودکے اندرتعمیراتی کام یامرمت کی اجازت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ فرض کریں مسجدکی پانی والی موٹریاگرمیوں میں پنکھاخراب ہوجائے تومسجدوالے پہلے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیں گے، مرمت کیوں ضروری ہے اس کے ٹھوس دلائل دیں گے، فنڈکون دے رہا ہے اس کی تفصیل بتائیں گے۔ پھرنہ جانے دفتری پراسس میں کتناوقت لگ جائے ،اجازت نامہ کی فائل نہ جانے کتنے کلرکوں سے ہوتی ہوئی منزل مقصودتک پہنچے ۔ مرمت کی منظوری لیتے ہوئے جووقت صرف ہوگا اس میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں تواس دوران نمازی کہاں جائیں گے۔ کیایہ نمازیوں کوبلاوجہ پریشان کرنانہیں ہے۔اس کی تفصیل بھی جاری کردی جانی چاہیے کہ کن امورکی اجازت ضروری ہے اورکون سے امورکی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔فنڈکی تفصیلات دینے سے بھی مسائل پیداہوسکتے ہیں کہ فنڈکس نے دیا ۔ اب جس کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کوبتایا جائے گا کہ مسجدکی مرمت کے لیے فنڈ کس نے دیا ہے تواس کے خلاف بھی تحقیقات شروع ہوجائیں گی کہ فنڈدینے والے سرگرمیاں کیاہیں وہ کسی ایسی ویسی تنظیم کارکن یامعاون تونہیں۔ اس نے یہ جوفنڈدیا ہے اس کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔مسجدکی مرمت کے لیے فنڈدینے کی آڑمیں اس کے کوئی اورمقاصدتونہیں۔اس طرح کی تحقیقات سے بچنے کے لیے ہوسکتاہے کہ لوگ فنڈدیناہی چھوڑدیں کہ کہیں وہ تحقیقات کی زدمیں نہ آجائیں بعض لوگ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث بھی نہیں ہوتے اورتحقیقات سے بھی گھبراتے ہیں۔ مسجدکے لیے کسی بھی کالعدم تنظیم یااس کے کسی رکن سے فنڈزلینے پرپابندی ہونی چاہیے اس کے علاوہ محلہ ، بستی یاشہرمیں سے کوئی شخص فندزدے تواس کی تفصیل بتاناضروری نہیں ہوناچاہیے البتہ شہرسے باہرکاکوئی شخص یہ فنڈزدے تواس کی تفصیل بتاناضروری ہوناچاہیے۔ اگرکسی مسجدمیں مرمت کاکام کراناہواورفنڈزکاانتظام نہ ہوسکا ہوتوکیااس صورت میں ضلعی انتظامیہ مطلوبہ فنڈزفراہم کرے گی یامسجدکی مرمت کاکام کراکے دے گی اس بارے خاموشی ہے۔ ریفارمزپرگرام میں مساجدامام کے لیے خوش خبری بھی ہے کہ انہیں ماہانہ وظیفہ بھی دیاجائے گا ۔ مساجدامام کوخصوصی کارڈ بھی جاری کیے جائیں جس کے تحت انہیں ریلوے، پی آئی اے، ٹرانسپورٹ کرایوں، عمرہ کی سعادت حاصل کرنے اوریوٹیلٹی سٹورزپرخصوصی رعایت حاصل ہونی چاہیے۔مساجدکی بجلی اورگیس کے بلوں میں بھی خصوصی ڈسکاؤنٹ دیاجائے۔ مساجدکی بجلی اورگیس کے ریٹ کم سے کم اور پانچ سوماہانہ یونٹ تک یکساں مقررکیے جائیں۔ مساجدریفارمزپروگرام کے تحت مساجدمیں ہونے والے مسائل سے متعلق شہری شکایات لے کرڈپٹی کمشنرکے پاس جاسکتے ہیں جوان کوسننے کے بعدان شکایات پرایکشن بھی لیں گے۔ جس طرح کااس حوالے سے یہاں مزاج ہے اس سے تولگتا ہے کہ شہریوں کوزیادہ تر شکایات مسجدامام سے ہی ہوں گی کیوں کہ مسجدامام کسی نمازی کی کوئی بات نہ مانے تووہ اس کے خلاف محاذ کھڑاکردیتا ہے۔لوگ توچاہتے ہیں کہ مسجدامام مسجدکے اخراجات بھی خوداداکرے، نمازیوں اورمحلہ داروں سے ایک روپیہ کاتقاضابھی نہ کرے اورنمازبھی اس وقت پڑھائے جب ہم چاہیں۔ایسی مساجدبھی ہیں جہاں مسجدامام کوماہانہ وظیفہ بھی معقول دیاجاتاہے، اس کی ضروریات کابھی خیال رکھاجاتاہے اوراس کوپروٹوکول بھی دیاجاتاہے۔مجموعی طورپریہ بہت اچھاپروگرام ہے ۔ اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کی طرف سے جمعہ کے خطبہ کے لیے ایک نہیں چار، چارموضوعات دیے جائیں ان میں سے جس موضوع پر خطیب چاہے اس پرخطبہ دے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 339 Articles with 156950 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2018 Views: 324

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ