عدل کا جُھکاؤ

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

عدل کا جُھکاؤ بدلتا رہا ہے اور ابھی اُس کا جُھکاؤ کس طرف ہے یہ صاف نظر آرہا ہے
انصاف ہوتا نظر آۓ یہ اچھی کہاوت ہے اور انصاف ہوتا نظر آۓ نہ آۓ مگر کم از کم انصاف کا جُھکاؤ تو صاف نظر آرہا ہے
چلیں کچھ نظر تو آرہا ہے
بہت سی چیزیں تو یہاں نظر ہی نہیں آتی ہیں کہ اُن کے پیچھے کس کا ہاتھ اور یہ اندرونی ہاتھ ہے یا بیرونی ہاتھ ہے اور اتنے میں کوئ ہاتھ کر جاتا ہے اور جس کے ساتھ ہاتھ ہو جاتا ہے وہ بیچارہ ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے
پھر وہ اقتدار میں آکر ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے آہنی سلاخوں کے پیچھے کر دیا جاتا ہے
اس کا حل بھی شائد یہی نظر آتا ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد انتقام نہ لیا جاۓ اور
لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ

کے تحت عام معافی کا اعلان کر دیا جاۓ

جس کا نمک کھایا ہو اس کا حق نمک ادا کیا جاتا ہے اور اُس کے لیے شیرینی اور شیریں زباں شیریں عدل اور چاہے وہ آین توڑنے والا ملزم ہو اس کو خوش آمدید کہا جاۓ اور پھول نچھاور کیے جائں اور غداری کے مقدمہ کے باوجود رعایت دی جاۓ
اس سے اُن شکوک کے پروان چڑھنے کا موقع ملے گا کہ فیصلوں کا فیصلہ کہیں اور ہورہا ہے
جو بظاہر آئن کی تشریح کرنے والے کر رہے ہوں
اگر ایسا کرنا اخلاقی اور قانونی طور پر درست ہےتو یہ سلوک سب کے ساتھ ہونا چاہیے اور سب کو الیکشن لڑنے کے یکساں مواقع دیے جایں اور کسی ایک کو دیوار سے لگانا درست نہیں کہا جا سکتا

آج یہ تأثر اُبھر رہا ہے کہ

اُسے چُھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

جس نے کام کیے اُسی کے خلاف عدلیہ اور حزب مخالف اور مبینہ اسٹبلشمنٹ کے اقدامات ہو رہے ہیں اور اُنہیں ہی برا بھلا کہا جا رہا ہے اور پوری شدت سے انتظامات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کو منتخب نہ ہونے دیا جاۓ

بہت سے لوگ بڑے بڑے مقدمات سے باعزت بری ہو رہے ہوں اور ایک کو بے عزت کرنے کی ناکام کوشش ہو رہی ہو اور جتنا اس کے خلاف منفی پروپیگینڈا ہو رہا ہے اُتنا ہی عوام کے دلوں میں اس کی عزت بڑھ رہی ہے عوام جانتے ہیں کہ کس کے دور میں امن بگڑا اور کس کے دور میں امن آیا کس کے دور میں کام ہوا اور کس کے دور میں کوئ کام نہ ہوا۔
ایسا نہ ہو کہ لوگ کام نہ کرنے کو ہی عافیت سمجھیں

یہ بات تو مانی پڑے گی کہ تمام تر مخالفت اور دباو کےباوجود کام کرنے والے نے کام جاری رکھا اور بہت سے منصوبے مکمل ہوۓ اور کچھ تکمیل کے قریب ہیں

جب دباؤ حد سے بڑھ جاۓ تو طوفان آتے ہیں اور کسی پر جبر کرنے سے قدرت کا اپنا ردِ عمل سامنے آتا ہے۔

ووٹ جس کو چاہو دو مگر "کام کو عزت دو"

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91522 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2018 Views: 177

Comments

آپ کی رائے