رمضان المبارک میں بھی دہشت گردی کا بازار گرم

(M A Rasheed Junaid, India)

فلسطینی نرس رزان النجار کی زخمی فلسطینیوں کی خدمت کرتے ہوئے شہادت
فلسطین کی ایک بیٹی رزان النجارنے اپنے زخمی فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی مرہم پٹی کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ فلسطین کے علاقے غزہ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر وطن کی حرمت پر قربان ہونے والی جواں سال فلسطینی نرس رزان النجارکو سپرد خاک کردیا گیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق رزان النجارکی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے غزہ بھر سے عوام کا سمندر امڈ آیا۔ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں نے النجار کے جنازے میں شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔شہیدہ رزان کا جنازہ اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف عوامی مظاہرے میں تبدیل ہوگیا۔ اس موقع پر جنازے کے شرکا نے صہیونی ریاست کی دہشت گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور النجار کے قتل ناحق کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔فلسطینی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ شام اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں خان یونس کے مقام پر زخمیوں کو مرہم پٹی کرنے والی ایک نوجوان فلسطینی دو شیزہ کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنا کر گولی ماری جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئی۔22 سالہ رازان نجار کوجمعہ کی شام مشرقی خان یونس میں اس وقت نشانہ بنا کر گولیاں ماری گئیں جب وہ مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی مرہم پٹی میں مصروف تھیں۔رمضان المبارک میں بھی اسرائیل فوج کی دہشت گردی جاری ہے۔ یکم ؍جون جمعہ کے روز مشرقی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ سے 100 سے زاید شہری زخمی ہوئے۔ 40 فلسطینی براہ راست گولیاں لگنے اور باقی آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔30؍ مارچ 2018 سے غزہ میں جاری تحریک حق واپسی کے دوران اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں اب تک 122 فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔اب نہیں معلوم فلسطینی عوام اپنے اس شہیدہ بہن کا بدلہ لینے کس طرح اپنی جانوں کی مزید قربانی دیتے ہیں کیونکہ ان فلسطینیوں کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں اور نہ ہی کوئی انہیں عسکری امداد فراہم کرتا ہے بغیر ہتھیار کے یہ فلسطینی گذشتہ کئی برسوں سے اسرائیلی ظلم و بربریت کا صرف اور صرف پتھربازی سے جواب دے رہے ہیں ان کے اس جواب سے بھی اسرائیلی فوج خوف کھاتی ہے۔

مظلوم فلسطینی قوم کو تحفظ فراہم کرنا عالم اسلام کی اجتماعی ذمہ داری
امریکہ کی فلسطینیوں سے دشمنی کا ایک اور ثبوت سلامتی کونسل میں دیکھنے میں آیا۔ اقوام متحدہ میں کویت کے مستقل مندوب منصورالعتیبی نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی قرارداد سلامتی کونسل میں امریکہ کی طرف سے ویٹو کیے جانے کے بعد وہ قراراداد کو جنرل اسمبلی میں لے جانے پر غور کررہے ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کویتی مندوب نے کہا کہ مظلوم فلسطینی قوم کو تحفظ فراہم کرنا عالم اسلام کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کویت فلسطینیوں کے تحفظ کے مطالبے پرمبنی قرارداد کو ویٹو کئے جانے کے بعد اسے جنرل اسمبلی میں لے جانے پر غور کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں پر تشدد کے کھلم کھلا مظاہر اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے ٹھوس شواہد کے باوجود امریکہ نے مظلوم فلسطینی قوم کا ساتھ دینے کے بجائے یک طرفہ طورپر فلسطینیوں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے اسرائیلی مظالم کا دفاع کیا ہے۔

غزہ کیلئے امدادی قافلے کی برطانیہ اور اسپین سے آمد
اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں پر دہشت گردی اور فلسطینیوں کی مجبوری و لاچاری اور ان پر ڈھائے جانے والی اسرائیلی بربریت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح سے امداد فراہم کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں ۔ اسی سلسلہ میں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پراسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ پابندیوں کو توڑنے کیلئے عالمی بحری قافلہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ امدادی قافلے کا اگلا پڑاؤ برطانوی ساحلی شہر برائی ٹون ہوگا جہاں اس کے استقبال کیلئے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق انسداد معاشی ناکہ بندی کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ غزہ کیلئے امدادی بحری قافلہ برطانیہ کی بندرگاہوں سے گذرے گا۔سفیہ حریت جس میں متعدد چھوٹی بڑی کشتیاں شامل ہیں جلد برطانیہ کے بعد غزہ کی جانب عازم سفر ہوگا۔ اس قافلے میں یورپ اور مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں امدادی کارکن سوار ہیں۔ جمعہ8؍جون کو وہ شمالی اسپانیہ کے ساحل کی طرف روانہ ہوگا۔ برطانیہ اور اسپین سے بھی اس قافلے میں امدادی کشتیاں شامل ہوں گی۔ادھر برطانیہ کے ساحلی شہر برائیٹون میں عالمی امدادی قافلے کی آمد اور اس کے استقبال کی تیاریاں مکمل کرلی لی گئی ہیں۔ سیکڑوں امدادی کارکن برائیٹون اور دوسرے شہروں میں محصورین غزہ کے لیے امداد جمع کرنے میں مصروف ہیں اور انہوں نے بڑی مقدار میں خشک خوراک ، طبی سامان اور ادویات جمع کی ہے۔ یہ تمام اشیاء اور ادویات ان مظلوم فلسطینیوں کو ملنا چاہیے اگر انہیں بھی اسرائیلی حکومت اور فوج لیجانے سے روکنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی ہونی چاہئے۔ اب دیکھنا ہیکہ یہ تمام اشیاء غزہ کے ان مظلوم افراد تک پہنچ پاتی ہیں یا نہیں۰۰۰

عراق میں داعش کی ظلم و بربریت رمضان میں بھی جاری
نام نہاد جہادی تنظیم داعش آخر کس طرح اپنے آپ کو مسلم تنظیم ہونے کا ثبوت دے سکتی ہے کیونکہ اس نے جس طرح مسلمانوں کا قتل کیا ہے اور کررہی ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تنظیم کسی صورت مسلمانوں کی جہادی تنظیم نہیں ہوسکتی ۔ اس سلسلہ میں کئی ممالک میں داعش کے خلاف فتاوی بھی جاری کئے گئے اور احتجاج بھی ہوا کہ یہ تنظیم کسی صورت مسلمانوں کی تنظیم نہیں ہوسکتی ۔ داعش نے ماہِ مبارک کے تقدس کو بھی برقرار نہیں رکھا ۔ اس نے رمضان المبارک کے اس فضلیت والے مہینے میں بھی عراق میں اپنی دہشت گردی کو جاری رکھتے ہوئے گذشتہ دنوں ایک ہی خاندان کے کم سے کم 12 افراد کو موت کو قتل کردیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق صلاح الدین گورنری کے ڈپٹی گورنر عمار حکمت نے بتایا کہ یہ واقعہ شمالی بغداد میں الفرحاتیہ کے مقام پر پیش آیا۔ فی الحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ داعشی دہشت گردوں نے پورے خاندان کو اجتماعی طورپر قتل کیوں کیا ہے۔عراقی انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وہ ابھی یہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ آیا مقتول خاندان کسی پولیس افسر کا ہے تاہم صلاح الدین اور دیگر صحرائی علاقوں میں داعش کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات آتی رہی ہیں جو اس علاقے میں چھپ کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ عراقی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’داعش‘ کے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کلین سویپ مکمل کرکے ملک سے داعش کا خاتمہ کردیا ہے تاہم داعشی جنگجو اب بھی وقفے وقفے سے حملے کرتے رہتے ہیں۔اس بات سے واضح ہوجاتا ہے کہ داعش کے دہشت گرد آج بھی عراق میں موجود ہیں اور وہ جب چاہے اپنی دہشت گردی کا مظاہرہ کرکے عام اور بے قصور مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ اگر داعش اور طالبان کے اراکین واقعی اسلام سے تعلق رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس ماہِ مبارک کے تقدس کو برقرار رکھے ۔ عراق ، افغانستان میں داعش اور طالبان کی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری ہیں۔

ترکی کے ساتھ یوروپی ممالک کا برتاؤ اور رجب طیب اردغان
ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے دورِ حکمرانی میں ترکی نے جس تیزی کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے دنیامیں اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے یہ دشمنان ِاسلام کے لئے کھٹکتی ہے ۔ یوروپی یونین بھی ترکی کے ساتھ دہرہ معیار اختیار کئے ہوئے اس سلسلہ میں ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اپنے بیان میں کہا ہیکہ یورپی ممالک جمہوریت کے معاملے میں ترکی کے ساتھ دہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔صدر ِ ترکی نے دو نجی ٹیلی ویژن چینلز پر مشترکہ طور پر نشر کردہ ایک پروگرام میں بتایا کہ ہم اس وقت یورپی یونین کے سامنے اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو مطلوبہ شکل میں سر انجام دے رہے ہیں، تاہم یورپی یونین اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہی۔ہم نیک نیتی کے ساتھ اس عمل کو جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر یورپی یونین کی ترکی سے متعلق نیت صاف ہے تو پھر انہیں اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا،بصورت دیگرہمیں کوئی دوسرا حل چارہ نکالنا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ ہم ڈرون طیاروں کی پیداوار کے اعتبار سے دنیا کے6 ملکوں میں شامل ہیں، جبکہ ترکی اب قومی سطح پرا سمارٹ بم تیار کرنے کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ترک فوج اور سیکیوریٹی فورسس ملک کی سلامتی اور حفاظت کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہے ۔فوجی اعتبار سے ترکی ایک مضبوط اور مستحکم مسلم ملک ہے اور سیاحت کے میدان بھی ترکی نے کافی ترقی کی جس کی وجہ ترقی کی معیشت پر مثبت اثر پڑا ہے۔

افغانستان میں خواتین کی خودکشی کے واقعات
افغانستان میں خودکش حملے، بم دھماکے، فائرنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان میں گذشتہ کئی برسوں سے حالات انتہائی خراب ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ اب افغانستان کے شہری خصوصاً خواتین مایوس ہوچکے ہیں۔ لیکن اسلام نے جس طرح کی تعلیم دی ہے اور خودکشی کو حرام قرار دیا ہے اس کے بعد مسلمانوں کو طالبان، داعش، حکمراں فوج یا دشمنانِ اسلام کی ظالمانہ کارروائیوں کو برداشت کرنے اور اس پر صبر کرنے کی ضرورت ہے برخلاف اسکے اگر مسلمان خواتین میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جائے تو یہ اسلام کے خلاف ہے۔ ایک مسلمان مرد و خاتون ہونے کے ناطے کسی بھی صورت میں خودکشی کرنا حرام ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق افغانستان میں خواتین کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ گزشتہ سال ہِرات میں صرف اٹھارہ سو افراد نے خود کشی کی کوشش کی جن میں 1400 خواتین شامل تھیں۔مغربی صوبے ہرات میں خواتین کی خود کشی کا رجحان باقی افغان آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی اور ان خواتین کی تعداد سے بھی بہت زیادہ بتائی جارہی ہے جو جنگ کا نشانہ بنیں۔افغان انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ افغانستان میں زیادہ تر لوگ خودکشی کے معاملات کی حکام کو اطلاع نہیں کرتے۔ افغان صدر اشرف غنی لون اور دیگر افغانی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ان مظلوم مسلم خواتین کے حالات جانے اور اس کے سدّباب کے لئے مؤثر انتظامات کرنے کی سعی کریں ۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M A Rasheed Junaid

Read More Articles by M A Rasheed Junaid: 255 Articles with 95396 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2018 Views: 200

Comments

آپ کی رائے