عید الفطر شکرانے کا دن

(محمد یوسف راهی, Karachi)

محترم پڑھنے والوں کو میرا آداب,
آج رمضان المبارک کے اٹھائیس روزے پورے ہوئے اور یہ مبارک مہینہ اپنے انتیسویں روزے میں داخل ہوگیا لیکن جب آپ یہ میری تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو اس وقت عید کا تہوار شروع ہوچکا ہوگا عید الفطر جس میں عید کا مطلب خوشی اور بار بار آنے کے ہیں جب کہ فطر کا مطلب روزے سے ہے یعنی روزداروں کے لئیے خوشی کا دن شکرانے کا دن وہ خوش نصیب لوگ جنہوں نے اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئیے اس کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس مہ مبارک میں پورے روزے رکھے تراویح پڑھیں اور نمازوں کا ہتمام کیا ان کے لئے انعام کے طور پر یہ دن اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا تا کہ وہ اپنے رب کا شکر ادا کریں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں روزہ رکھنے والوں کی تعداد روزے نہ رکھنے والوں سے کم ہے اور اسی طرح عید کی تیاری میں بھی ہمیں ان لوگوں کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے جو روزہ نہیں رکھتے یہ ہمارے لئیے مسلمان ہونے کے ناطے ایک المیہ ہے اور یہ سب کچھ دین سے دوری کا نتیجہ ہے .

عید الفطر کا دن صرف اپنے گھروالوں اور عزیز واقارب کے ساتھ خوشیوں کو منانے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ لوگ جو اس خوشی کے دن کو منانے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے غریبوں, مسکینوں اور یتیموں کا اس طرح خیال رکھیں کہ وہ بھی اس دن کو ہماری ہی طرح مناسکیں یہ ہی ہے عید کے دن کا اصل مقصد اور ویسے بھی یہ دن یعنی عید کا دن مسلمانوں میں اخوت محبت اور بھائی چارگی کا پیغام دیتا ہے دنیا کے تمام مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کے تحت آنے والے تہواروں کو خوشی کے ساتھ مناتے ہیں اپنے اپنے عقیدے کے تحت اچھے لباس پہننا اچھے عمدہ اور لذیذ کھانوں کا ہتمام کرنا ان کے اس خوشی کے تہوار کا ایک خاص حصہ ہوتا ہے بالکل اسی طرح مسلمان بھی اپنے خوشی کے تہوار میں اچھے لباس پہن کر اچھے اچھے کھانوں کا ہتمام کرکے دو گھڑی اپنے عزیزواقارب کے ساتھ وقت گزار کر مناتے ہیں عیدالفطر منانا ہر مسلمان کا حق ہے کیوں کہ جب اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئیے بندہ رمضان المبارک میں بھوکا پیاسا رہتا ہے وقت سے پہلے کوئی چیز نہ کھا سکتا ہے نہ پی سکتا ہے دن بھر روزے کی حا لت میں اپنے بچوں کے لئیے روزی روٹی کمانے کا ہتمام بھی کرتا ہے تراویح میں بھی شامل رہتا ہے تو وہ رب اپنے بندے کو اس کی اس محنت کا صلہ اور انعام کی صورت میں عید کے دن کی خوشیاں عطا کرتا ہے.

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے کھجور سے اپنا منہ میٹھا کرتے یہ کھجوریں آپ سرکار مدینہ علیہ وآلیہ وسلم ہمیشہ طاق اعداد میں تناول فرماتے یعنی تین پانچ یا پہر سات اور پہر عید کی نماز کے لئیے روانہ ہوجاتے اور عید کی نماز کے لئیے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے وآپس آتے انسان کی زندگی میں خوشیوں کے کئی دن اور کئی لمحات آتے جاتے ہیں لیکن عید کے دن کی اپنی ایک خاص خوشی ہوتی ہے اس خوشی کا زندگی میں آنے والی دوسری خوشیوں سے ہم موازنہ کر ہی نہیں سکتے اور ویسے بھی جس دن کے لئیے اللہ رب العزت اور اس کے حبیب سرکار مدینہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ یہ دن تمہاری محنت کا پہل ہے تو اسے خوشی کے ساتھ مناؤ ایک دن سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کچھ بچیاں جنگ کے واقعات پر کچھ اشعار گنگنا رہی تھی آپ دوسری طرف منہ کرکے لیٹے ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں ڈانٹا کہ یہ سرکار کا گھر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو روکا اور فرمایا آج عید کا دن ہے ہر کوئی اس دن اپنی خوشی کا اظہار اپنے طریقے سے کرتا ہے آپ نے فرمایا عید کا دن خوشی کا دن ہے اسے خوشی سے منانا سب کا حق ہے اور شریعت کا احترام کرتے ہوئے کسی بھی طرح سے خوشی کا اظہار کیا جاسکتا ہے .

جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ عید ضرور منائیں لیکن ساتھ غریبوں مسکینوں اور یتیموں کا بھی خیال رکھتےہو ئے ایسا نہ ہوکہ ہم اپنے گھر میں خوشیاں منارہے ہوں اور کچھ لوگ اس خوشی کی تلاش میں ہماری طرف امید سے دیکھ رہے ہوں کیوں کہ خوشیوں پر حق ان کا بھی ہے اور عید ان کے لئیے بھی اتنی ہی ہمیت کی حامل ہے جتنی ہمارے لئیے عید کےدن غسل کرکے اچھا لباس پہن کر خوشبو لگاکر لوگوں سے محبت کے ساتھ ملنا سنت ہے اور اس دن کی خوشی کے موقع پر اچھے اچھے کھانے کا ہتمام کرنا اور عزیزواقارب کے ساتھ ملکر اس دن کو منانا اللہ رب العزت کو بھی بہت پسند ہے .

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ایسی ہزاروں عیدیں بطفیل مہ رمضان المبارک مسلمانوں کو نصیب ہوں اور اسی طرح سب کا خیال رکھتے ہوئے ہم لوگ اس دن کو خوشیوں کے ساتھ مناتے رہیں .

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد یوسف راهی

Read More Articles by محمد یوسف راهی: 23 Articles with 11741 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jun, 2018 Views: 446

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ