جہاز اُڑتا رہے

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

چند برسوں کی بات ہے مگر لگتا ہے پرسوں کی بات ہے کہ کسی بات پراختلاف ہوا ایک قریبی عزیز سے کسی جائداد کے مسئلہ پر

مگر اپنے بزرگوں کے کہنے پر بات اُن کی مانی پڑی سخت کوفت ہوئ مگر کیا کرتے مجبوری والا صبر کیا کاش رضا مندی والا صبر کرتے خیر صبر تو کیا پھر سفر کیا اردو ہی والا دوسرے شہر کی جانب اُسی سلسلہ میں
واپسی جہاز پر تھی اداسی چھای ہوی تھی کہتے ہیں ٹوٹے دل کے ساتھ خُداہوتا ہے اور بہت مہربان ہوتا ہے
بوجھل قدموں سے جہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ ایسا لگا کوی پیچھا کر رہا ہے مڑ کر دیکھا تو ایک دلہن نُما چہرہ بڑی سی چادر لیے شرماتے ہوے ایک محبت بھری نظر ڈالتے ہوے مجھ سے آگے نکلا اور غائب ہو گیا مگر ایک معطر جھونکہ ابھی بھی میرے ساتھ تھا اُسی جھونکہ کے ساتھ سیٹھ پر بیٹھ گیا اور اپنے خیالات سمیت جہاز کے اُڑنے کا انتظار کرنے لگا قریب سے کئ جھونکے گزر رہے تھے کچھ مکمل حجاب اور کچھ نا مکمل اور کچھ پیشہ ور فضائ میزبان حجاب کے ساتھ بےحجابانہ گھومتے ہوے اخلاقی مسکراہٹ کے ساتھ کہ شائد جان بھی قربان کر دیں مگر ذرا آپ نے جہازی تہزیب سے اجتناب برتا تو ایسی ڈانٹ پلائیں کہ آپ کو نانی کی جگہ بچپن کی اُستانی یاد آجاے

اور میری سوچ کی ناہموار پرواز حجاب اور بے حجابی کے درمیان ڈولتے ہوےجہاز کی طرح ڈول رہی تھی اور کچھ بول رہی تھی کہ کپتان کے بولنے کی آواز آئ

تھوڑی ہی دیر میں ہم اُڑنے والے ہیں

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس طرح جہاز کے سفر میں کپتان کی ہدایات پر بن دیکھے عمل کیا جاتا ہے زندگی کا سفر بھی خُدا پر اعتماد کر کے اطمنان کے ساتھ کیا جاے

بہرحال مُجھے اُن چہروں سے کوئ دلچسپی نہ تھی میں تو اُسی جھونکہ کی تلاش میں تھا جو چادر میں لپٹا تھا پتوں سے چُھپا ہوا گلاب

اچانک کوی آیا اور ایک نازک سی آواز سے درخواست کی
مہربانی ہو گی آپ اگر برابر والی خالی سیٹ پر ہو جائں مُجھے ذرا مسئلہ ہے بار بار اُٹھنا ہوتا ہے کنارے پر بیٹھنا ہے

ارے یہ تو وہی تھی انسان نما پری جو جھونکہ کی طرح غائب ہو گئ تھی

جی ضرور ضرور

میں فضائ میزبانوں سے زیادہ مہربان ہو کر فضای مہربان بن چکا تھا بلکہ فضای جن بن کر حاضر رہنا چاہ رہا تھا

جہاز نے اُڑنا شروع کر دیا
ساتھ میرے خیالات نے بھی اُڑنا شروع کر دیا پھر چاروں طرف خوشبو نے اُڑنا شروع کردیا جو غالباً مُسافروں کے لیے طعام کی تیاری تھی
ہم سب اُڑ رہے تھے جہاز کے ساتھ اپنی اپنی سوچ اپنی اپنی انا کے ساتھ
مگر وہ بیٹھی رہی تھوڑی دیر کے لیے کہیں جاتی تھی اور پھر آجاتی تھی اور مجھے تین منٹ کی جدائ برداشت کرنا پڑتی تھی جب دوبارہ بیٹھتی ساتھ والی سیٹھ پر تو زہن کی اسکرین پر فلم چل پڑتی

یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو

اُس کی قربت کا احساس
اور بھاری دوپٹہ کا نازک لمس بڑی شدت سے محسوس ہو رہا تھا
میں بہت جلدی فلمی ہو جاتا ہوں

ہوا میں اُڑتا جاے میرا لال دوپٹہ ململ کا

جو نہ اُڑنے کے باوجود اُڑ رہا تھا

کھانے کے بعد کی غنودگی اور روشنیوں کے بجھنے پر ماحول کے اثرات نے کام دکھانا شروع کیا اور نیند طاری ہونے لگی پرواز بھی ہموار تھی اور روح کی پرواز بھی ہموار مگر زیادہ اونچی تھی ۔ کہتے ہیں کہ سونے پر انسان کی روح عارضی طور پر جسم سے نکلتی ہے پھر جاگنے پر واپس آتی ہے

نیند بھی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اُس وقت قیمتی سے قیمتی چیز بھی اچھی نہیں لگتی اور سارے غم نیند سے پہلے ہیں پھر کوئ غم نہیں

زمانے بھر کے غم یا اک تیرا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہونگے

محبت کرنے والے کم نہ ہونگے
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہونگے

میں واپس آگیا اس کی محفل میں اور سلسلہ وہیں سے شروع ہو گیا جہاں سے ٹوٹا تھا

میں خواب آور گولیوں والی نیند سے اُٹھ چکا تھا جس میں آدمی سوتے ہوے جاگ رہا ہوتا ہے اور جاگتے میں سو رہا ہوتا ہے لاکھ گولیاں کھاو مگر بات وہی اٹل ہے کہ
دلوں کو اطمنان خُدا کے ہی ذکر سے ہوتا ہے

اور گولیوں سے ضمیر کو سلایا نہیں جا سکتا شکر ہے ضمیر کے ساتھ میں بھی جاگ اُٹھا
برابر والی سیٹ سےمہندی اور گُلاب کی ملی جُلی مہک آ رہی تھی جو لباس سے چھن چھن کر آتی ہے اور جب وہ اپنا ہاتھ میری سییٹ کے اوپر لگے سوئچ پر لے جاتی تاکہ اے سی کے ٹھنڈے جھونکے کو ذرا اپنی طرف کرسکے تو ہاتھوں کی جنبش سے چوڑیوں کی کھنک دل میں پہلے سے موجود موسیقی کی جھنکار کو چھیڑ دیتی
وہ پھر سے اپنے آپ کو دوپٹے میں چُھپا لیتی ۔اصل میں عورت کی ساری خوبصورتی کا راز ہی چھُپا ہوا ہونے میں ہے کہ ذرا سی جھلک کا تجسُس باقی رہے
میرا دل چاہ رہا تھا کہ بس اسی طرح جہاز اُڑتا رہے اُڑتا رہے اور اُس کی رفتار روشنی کی رفتار کی طرح وقت کو روک دے
مگر کپتان کو بھی جلدی تھی اعلان ہو گیا تھوڑی دیر میں اُترنے والے ہیں اس کے ساتھ ہی میرا منہ اُترنے لگا اُس کا نقاب اُترنے لگا کیونکہ جہاز ٹیڑھا ہو رہا تھا اور وہ بھی میری طرف ڈھلک رہی تھی اور میں تو پورا کا پورا اسی کی طرف ڑھلک چُکا تھا قلبی طور پر

ہم نے مسکرا کر الوداع کہا اور دل نے کچھ اور کہا کہ

کبھی الوداع نہ کہنا

واپسی پر میں اپنی ساری پریشانی بھول چُکا تھا بس یہ سوچ رہا تھا کہ کاش یہ اپنی ایک سینڈل چھوڑ جاے مگر ایسا نہ ہوا

ایسے تو کئ سنڈریلا آیں جو اپنی دونوں پیر کی سینڈل چھوڑنے کو تیار تھیں مگر مجھے تو اُسی سنڈریلا کی تلاش تھی جو جو غریب تھی کام کرنے پر مجبور خواہشات کا گلا گھونٹنے پر خوشی خوشی آمادہ مسکراہٹ کے ساتھ جس کو ان دیکھی طاقت پری کی شکل میں تسلی دینے آے ۔ یقین کریں اُس دن میں سنڈریلا تھا اور وہ پری تسلی دینے آئ تھی اور میری زہنی پریشانی خوشی میں بدل گئ تھی اور خُدا کی مدد آہی جاتی ہے

امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوٌ

بھلا کون سُنتا ہے بے قرار کی التجا کو جب وہ پُکارتا ہے اور دور کر دیتا ہے سختی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91993 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jun, 2018 Views: 285

Comments

آپ کی رائے