ابھی دیر نہیں ہوئی

(Asma Tariq, Gujrat)

جس راہ کو آپ چھوڑ چکے ہوں اور آگے نکل چکے ہوں مگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ جس راہ کو آپ نے چھوڑا تھا وہ آپ کی تھی اور آپ اب دوبارہ واپس مر جانا چاہتے ہوں مگر ایسا ممکن نہیں آپ دوبارہ اس وقت میں چلے جائیں اور وہاں جا کر وہ سب بدل دیں ،ابھی انسان نے اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ وہ زمانے کی گھڑیوں کو بدل دے اس لیے اس منزل کا مڑ نا آسان نہیں کیونکہ اب آپ بہت آگے آ چکے ہو وقت کی گھڑیوں کے مطابق ہی نہیں بلکے ہر لخآط سے کہ اس گزرے ہوئے زمانے کو آپ بدل نہیں سکتے۔ اب ممکن ہے کہ آپ جس راہ پر ہو اسی پر رہ کر اگلی سمت درست کر لیں اسی راہ میں تبدیلی کر کے آپ اپنے لیے نئی درست سمت متعین کر سکتےہو۔ مگر واپس جا کر ماضی کی سمت تبدیل نہیں کر سکتے اس لئے " ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے اپنے حال کو خراب نہ کریں " اور آپ صرف اس وجہ سے خود کو درستگی سے روک نہیں سکتے کہ آپ کو ماضی میں کچھ درست کرنے کا موقع نہیں ملا ، آپ چونکہ یہ جو غلط راہ ہے، جیسے کہ میں نے چن لی ہے اور اب یہی مقدر ہے میرا کیونکہ میں ماضی میں جا کر ان سب کو بدل نہیں سکتا اور اب چونکہ مجھے احساس بھی ہو گیا ہے مگر پھر بھی میں بدل نہیں سکتا اس لیے اسی راہ پر چلنا میری مجبوری ہے ۔ "ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم ماضی کی ناگواریوں کو اپنا مستقبل نہیں سمجھ سکتے خاص جب ہمیں ان ناگواریوں کا احساس بھی ہو جائے اور ہم صرف اپنی سستی کی وجہ سے ان سے پیچھا چھڑا نہیں سکتے ۔ہماری موجودہ حالت ہمارے مستقبل کا تعین کرتی ہے اگر ہم ماضی کی ناگواریوں سے سبق لے کر حال میں درست سمت کا تعین کر لیں تو ہمارا مستقبل سنور سکتا ہے اور ماضی کا نقصان بھی کافی حد تک پورا ہو جائے گا ۔

اللہ تعالٰی نے معافی کے دروازے ہمیشہ سب کےلیے کھلے رکھے ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو کسی بھی خطے رنگ نسل کا ہو اگر وہ سچے دل سے اللہ کی طرف لوٹتا ہے اور ماضی کی غلطیوں سے کنارہ کشی اختیار کر تا ہے تو اللہ اس کا بہت شاندار استقبال کرتا ہے اور اپنے دامن میں پناہ دیتا ہے ۔

اس معاشرے میں جہاں انسانوں نے اس قدر مشکل اصول بنا رکھے جو کسی کو جان بوجھ کر درست راستے کی طرف آنے نہیں دیتے اور اسے اس کی غلطیوں کے لیے سزا خود ہی سنا دیتے ہیں۔یہاں چور طاقت کے بل پر لوٹ مار کرتا رہے تو کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ اسےکچھ کہ سکے ،سب اسے چور تو کہیں گے اور اسے برا بھی جانے گے مگر اس کے سامنے اس کے گن گائیں گے کسی کی ہمت نہیں ہوتی اسے کچھ کہ سکے مگر اب جب اسے اگر کہیں سے توفیق مل گئی ہے اور وہ اس غلط راہ کو چھوڑنا چاہتا ہے تو یہ معاشرہ اسے صحیح راہ چننے نہیں دیتا اور اس کے لیے اس کے ماضی کو ناسور بنا دیتے ہیں اور اسے اس سے نکل کر آگےبڑھنے ہی نہیں دیتے ۔اسے ہر بل ماضی کے تانے دیں گے اسے بتائیں گے کہ نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی ۔۔مگر کوئی اس کی مدد نہیں کرے گا نہ راہنمائی پیش کرے گا اس کی کردار کشی ہو گی اسے بتایا جائے گا وہ کتنا غلط ہے جب وہ غلط تھا تو کوئی اسے کچھ نہیں کہتا تھا اور اب جب وہ اس راہ کو چھوڑ کر صحیح راہ پر آنا چاہتا ہے تو لوگ اسے بتاتے ہیں کہ وہ تو چور ہے وہ کیسے اچھا انسان ہو سکتا ہے .اب وہ کیسے اس راہ کو چھوڑکر آگے بڑھ سکتا ہے ۔

یہ صحیح ہے کہ درست راہ ہی انسان کو منزل مقصود تک لے کر جاتی ہے مگر ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے وہ غلطیاں بھی کرتا ہے بڑے بڑے سنگین جرم بھی کرتا ہے اور ان کے لیے سزا بھی مقرر ہے اور سزا دینی بھی چاہیے ، برائیوں پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے مگر ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک انسان کی ساری زندگی اسی گناہ کے گرداب میں گزر جائے اور اسے اس سے نکلنے کا موقع نہ ملے ۔سزا کے کے ساتھ ساتھ ہمیں عفودرگز کو بھی زندگیوں میں شامل کرنا ہو گا اور اس کی راہنمائی کا انتظام بھی کرنا ہے جو لوگوں کو واپس اچھائی کی طرف آنے میں مدد دے اور ان کی زندگیوں کو تباہ ہونے سے بچانا ہے ۔

کہیں نوعمر نوجوان مشکلات اور تلخ حالات کی وجہ سے غلط راہ اختیار کر لیتے ہیں، کوئی نشے کی عادت کو اپنا لیتا ہے تو کوئی بھوک سے تنگ آ کر چور بن جاتا، تو کوئی بدلے کی خاطر قاتل بن جاتا ہے ۔ان میں سے بہت سے تو اس راہ کو چننا ہی نہیں چاہتے تھے بس حالات کی نظر ہو جاتے ہیں اور کہیں اب بھی واپس درست راہ کو اپنانا چاہتے ہیں مگر معاشرتی رویے اور حالات اور ان کو ایسے کرنے سے روکتے ہیں ۔اگر غلط راہ پر ہوں تو لوگ ان سے ڈرتے ہیں اور اگر وہ اسے چھوڑ کر صحیح راہ کو اپنائے تو لوگ انہیں جینے نہیں دیتے ۔
ارباب اختیار کو اس سمت توجہ دینی چاہیے ان نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو معاشرتی مسائل سے تنگ آکر غلط ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں اور پھرساری عمر ان کی اسی کی نظر ہو جاتی ہے ۔ اور کوئی ان کی واپسی کے لئے کچھ نہیں کرتا ہے ۔

لوگوں کی آگاہی کے لیے اقدامات کیے جائیں اور با اختیار لوگوں کو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی در کھولنے چاہیے اللہ نے ان کو اس کا اختیار دیا ہے ۔اور جو لوگ غلط راہ کو چھوڑ کر صحیح راہ پر چلنا چاہتے ہیں ان کو خوشدلی سے نئی راہ پر خوش آمدید کہنا چاہیے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asma Tariq

Read More Articles by Asma Tariq: 85 Articles with 33973 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jun, 2018 Views: 380

Comments

آپ کی رائے