للہ مجھے ملک کی ترقی کے لئے کام کرنے دو

(Mona Shehzad., Calgary)

میری نظر سے سوشل میڈیا پر شئیر شدہ ایک تصویر گزری ۔ان میں سے ایک خوداعتماد پاکستانی خاتون پائلٹ اور دوسری فرسٹ آفیسر تھیں۔یہ دونوں خواتین پی آئی اے کا ایک طیارہ اسلام آباد سے گلگت لے کر گئی تھیں ۔بڑی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچی کہ وطن عزیز میں اب خواتین ہر شعبے میں سر اول آرہی ہیں۔غیر ارادی طور پر میں نے کمنٹز پڑھنے شروع کردئے ۔جہاں کچھ لوگوں نے انھیں سراہا تھا وہاں تنقید اور تضیحک اڑانے والوں کی اکثریت تھی ۔بیشتر مرد حضرات نے یہ اعتراض کیا تھا کہ گاڑی تو عورتیں چلا نہیں سکتیں،جہاز کیا اڑائیں گیں ۔ ارے یہ کیا گاڑی چلانا کوئی بڑا معرکہ مارنا نہیں ہے۔ ادھر کینیڈا میں یہاں ہر عورت گاڑی چلانا جانتی ہے ان عورتوں میں پاکستانی عورتیں بھی شامل ہیں۔یہاں پر ڈرائیونگ کرنا اتنا ہی ضروری ہے جیسے سانس لینا۔ موسم سرما کے برف کے طوفانوں میں جب سڑکیں بلیک آئس Black ice سے شیشہ بن جاتی ہیں ان پر ہم سب عورتیں گاڑیاں چلا کر ہی اپنی اپنی ملازمتوں پر پہنچتی ہیں۔۔ارے صاحب یہاں تو بس،ٹرین ،ٹرک ،ہیلی کاپٹر،ہوائی جہاز،کرین سب عورتیں چلا رہی ہیں۔پچھلے سال ناسا نے نئے خلائی بازوں کا انتخاب کیا اور کینیڈا سے چنے گئے منتخب کردہ دو خلابازوں میں سے ایک لڑکی تھی اور اس کا تعلق البرٹا کینیڈا سے تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ملک عزیز میں تو ڈرائیونگ ہی عورت کے لئے مشکل ہے ابھی تک۔ حضرات جب آپ لوگ عورت ڈرائیور دیکھ کر اس کو ٹریفک کے بیچ میں ہراس کرینگے تو کون ہے جو ڈرائیونگ کی جرات کریگا؟

کچھ حضرات نے اس پوسٹ کے نیچے مسافروں کو زندہ بچ جانے کی مبارکباد دیں ۔کچھ کا خیال تھا کہ یہ عقدہ کہ عورتیں جہاز چلا رہی تھیں مسافروں کو گلگت جاکر بتا چلا ہوگا ۔عجیب مسخرے پن کا بازار گرم تھا ۔

افسوس ہوا یہ دیکھ کر کہ اب تک سوچ کا پرندہ مقید ہے۔ عورتوں کو اللہ نے بہترین دماغ دیا ہے اور ان کے کام کرنے پر کوئی مذہبی ممانعت نہیں ہے۔پاکستان کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب اس کی آدھی آبادی کا گھر بیٹھ کر کھانا ہے ۔کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اس ملک کی عورتوں کی تعلیم وتربیت میں مضمر ہے۔ جاب کرنے والی عورتیں زیادہ ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند اور ایک بہتر ماں ثابت ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی نے عورت کو Multi task کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ خدارا ان خواتین کا ٹیلنٹ کپڑوں کی ڈیزائننگ، زیورات کے انتخاب،سوپ ڈراموں کے انتظار اور خاندانی رنجشوں کی نظر مت کیجیے ۔ یہ عورتیں ملک کی آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ ہیں ان کے لئے باہر کا ماحول صاف اور محفوظ بنائیں ۔ ایک بہادر اور باوقار مرد ہی عورتوں کی عزت کرسکتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178857 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
21 Jun, 2018 Views: 329

Comments

آپ کی رائے