عام سی شکل وصورت والے پاک و ہند کے 5 بڑے اور کامیاب فلمی ہیرو

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
رنگیلا ،سلطان راہی ، نصیر الدین شاہ ،منوج باجپائی اور نواز الدین صدیقی !
جنہوں نے اپنی فنی صلاحیتوں کے ذریعے فلمی ہیرو بن کر کامیابیاں حاصل کیں !

رنگ ونور کی دنیا میں رنگ وروپ کے بغیر کسی فنکار کا مقبول اور کامیاب ہونا آسان کام نہیں کہ شوبز تو نام ہی اس کاروبار کا ہے جس میں داخل ہونے کے لیے خوبصورت چہرے اورپرکشش جسم کا ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے، ٹیلنٹ اور تجربے کا نمبر اس کے بعد ہی آتا ہے۔دنیا بھر کے فنکاروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ کو کامیاب فنکاروں میں اکثریت خوش شکل اور پرکشش لوگوں کی نظر آئے گی ،عام سی شکل وصورت رکھنے والے فنکاروں کو فلمی دنیا میں عام طور پر ایکسٹرا ،معمولی یا ثانوی کرداروں میں ہی کاسٹ کیا جاتا ہے جبکہ ایسے فنکار انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنہیں معمولی شکل وصورت کے باوجود سینما اسکرین پر ہیرو کے کرداروں میں جلوہ گر ہونے کا موقع ملا ہو اورانہو ں نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اپنی پہچان بنا کر شہرت اور کامیابی حاصل کی ہو۔

آج اس خصوصی مضمون میں عام شکل وصورت کے ان 5 بڑے فنکاروں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جنہوں نے محض اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر فلمی دنیا میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ ایسا نام اور مقام حاصل کیا جو بہت کم اداکاروں کو نصیب ہوتا ہے۔معمولی شکل و صورت کے حامل ان فنکاروں نے فلمی دنیا میں ایکسٹرا کرداروں کے ذریعے انٹری دی لیکن بہت جلد ترقی کرتے ہوئے فلمو ں میں اپنی جگہ بناتے ہوئے نہ صرف اہم کرداروں تک جاپہنچے بلکہ بہت سی کامیاب فلموں کا ہیرو بن کر نام ،مقام اور کامیابیاں حاصل کیں۔

یوں تودنیا بھر کی فلمی دنیا میں عام سی شکل وصورت کے کئی ایسے فنکار موجود ہیں جنہوں نے فلمی ہیرو بن کر کامیابیاں حاصل کیں لیکن اس کالم میں پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے عام سی شکل وصورت والے پانچ ایسے فنکاروں کا تذکرہ کیا جارہا ہے جنہوں نے ایکسٹرا فنکار کے طور پر اپنا فنی سفر شروع کیا اور پھر اپنے ٹیلنٹ کے بل بوتے پر ترقی کرتے ہوئے ثانوی کردار وں سے فلمی ہیرو کے کرداروں تک پہنچ کر ایسا نام اور مقام بنایا کہ فن کی دنیا میں عزت ،شہرت اور کامیابی کی ایک مثال بن گئے۔ایسے فنکاروں میں برصغیر کے پانچ فنکاروں رنگیلا،سلطان راہی ، نصیر الدین شاہ،منوج باجپائی اور نوازالدین صدیقی کے نام سرفہرست ہیں۔آئیے ہم حوصلے اور صلاحیت کی وجہ سے اپنا نام اورمقام پیدا کرنے والے ان5 عظیم اور بے مثال فنکاروں کی فنی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ معمولی شکل و صورت رکھنے والے یہ فنکار کن مراحل سے گزر کر شہرت اور کامیابی کی ان بلندیوں پر پہنچے جن تک پہنچنے کی خواہش دنیا کے ہر فنکارکو ہوتی ہے۔

رنگیلا
پرائیڈ آف پرفارمنس اور نگار ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلموں کے مشہور کامیڈی اداکار رنگیلایکم جنوری 1937 کو افغانستان کے شہر ننگر ہارمیں پیدا ہوئے اور 24 مئی 2005 کوان کا انتقال ہوگیا ، وہ اپنی یادگار فلموں اور عمدہ فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے آج بھی فلم بینوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور جب تک لولی ووڈ کا وجود باقی ہے ان کانام زندہ رہے گا۔اداکار رنگیلا (مرحوم) کا اصلی نام سعید خان تھا، قیام پاکستان کے بعد ان کے آباؤاجداد افغانستان سے ہجرت کرکے پاکستان میں آکرپشاور میں آباد ہوگئے تھے ،ان کا تعلق پختون فیملی سے تھاانہوں نے اپنے ابتدائی زمانے میں مکینک کا کام بھی کیا جبکہ ان کو پہلوانی کا بھی کافی شوق تھالیکن سعید خان المعروف رنگیلا کو سب سے زیادہ شوق فلمیں دیکھنے کا تھااور وہ مشہور بھارتی اداکار دلیپ کمار کی فلمیں شوق سے دیکھا کرتے تھے جس کی وجہ سے اس کے دل میں اداکار اور ہیرو بننے کا شوق پیدا ہوا اور اس شوق کی تکمیل کے لیئے وہ عالم جوانی میں لاہور چلے گئے اور فلم اسٹوڈیوز کے چکر لگانے لگے کہ کسی طرح انہیں کسی فلم میں اداکاری کا چانس مل جائے لیکن ابتدا ء میں انہیں فلموں میں تو کام نہ مل سکا البتہ فلموں کے پوسٹر اور سینماؤں پر لگنے والے بل بورڈ بنانے کا کام مل گیا حالانکہ رنگیلا تعلیم یافتہ نہ تھے لیکن انہیں فلم بینی کے ساتھ ساتھ مصوری کا بھی شوق تھا اور وہ بہت اچھی پینٹنگ بنا لیا کرتے تھے اور یہی شوق ان کے ذریعہ معاش کا ابتدائی ذریعہ بنا۔اس کام سے رنگیلانے فلمی دنیا میں اپنی جگہ بنائی اور لاہور کے نامور فلم اسٹوڈیوز میں ان کا آنا جانا شروع ہوگیا جہاں ان کی ملاقات نامور فلمسازوں ،ہدایتکاروں اور اداکاروں سے ہونے لگی اور یہی تعلق بالآخر انہیں فلمی دنیا میں ایک اداکار کے طور پر متعارف کروانے کا سبب بنا انہوں نے ایکسٹرا سے لے کرکامیڈین اور ہیرو تک ہرقسم کے کرداروں میں کام کیا اورپسند کیے گئے اور غیرتعلیم یافتہ ہونے کے باوجود رنگیلا نے نہ صرف ایک اداکار کے طور پر اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا شاندار اظہار کیابلکہ فلمساز،ہدایتکار،مصنف،نغمہ نگار ،گلوکاراور موسیقار کے طور پر بھی قابل رشک کارکردگی کا مظاہر ہ کرکے خود کو منوایا۔رنگیلا کو اگر ہم ہر فن مولا فنکار کہیں تو بے جا نہ ہوگا ،فلمی دنیا میں3 سے زائد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے والے فنکاروں میں رنگیلا کا نام سرفہرست ہے ۔ عام سی شکل وصورت والے دبلے پتلے اداکار رنگیلا (مرحوم) نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز ہدایتکار ایم جے رانا کی فلم ’’جٹی ‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرکے کیاتھالیکن ریلیز ہونے کے لحاظ سے ان کی پہلی فلم1957 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’داتا‘‘ ہے جس میں رنگیلا نے ایک مختصر کردار ادا کیا تھااس فلم کے فلمساز اور ہدایتکارسید عطااﷲ ہاشمی نے یہ فلم اردو زبان میں بنائی تھی اس لیئے ہم کہ سکتے ہیں کہ رنگیلا کو فلموں میں متعارف کرانے کا سہراہدیتکار سید عطااﷲ ہاشمی کے سر ہے کہ ان کے توسط سے فلمی دنیا کو رنگیلا جیسا باصلاحیت فنکار نصیب ہوا۔ اس کے علاوہ رنگیلا ایک اور فلم’’نوراں‘‘میں بھی ایک چھوٹے سے کردار میں نظر آئے یہ ایک نغماتی فلم تھی 1963 تک ریلیز ہونے والی بیشتر فلموں میں رنگیلاچھوٹے موٹے کرداروں میں نظر آتا رہاجن میں فلم ’’چوڑیاں‘‘ اورفلم’’موج میلہ ‘‘ شامل ہیں لیکن 1964 رنگیلا کے لیئے بہت اہم سال ثابت ہوا کہ اس سال فلم’’گہرا داغ‘‘ میں پہلی بار رنگیلا کواہم کردار میں کاسٹ کیا گیاجبکہ 1965 میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی پنجابی پلاٹینم فلم’’جی دار‘‘میں رنگیلاکو پہلی بار بھرپورکامیابی اور شہرت حاصل ہوئی۔ہرفن مولا فنکاراداکار رنگیلانے اپنے انتقال تک 655 سے زائد فلموں میں کام کیا،یوں تو انہوں نے فلموں میں ہر طرح کے کردار کامیابی کے ساتھ ادا کیئے لیکن ان کو ایک کامیڈی اداکار اور ہیرو کے طور پر زیادہ شہرت حاصل ہوئی بطور کامیڈین انہوں نے مزاحیہ اداکاری کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔پاکستان میں جسمانی حرکات کے ذریعے لوگوں کو ہنسانے والے اداکاروں میں سب سے بڑا نام رنگیلا کا تھا۔قدرت نے ان کو ایسے چہرے،جسمانی خدوخال اور سراپے سے نواز تھا کہ وہ جیسے ہی سینما اسکرین پر نمودار ہوتے تھے تو ان کا چہرہ دیکھتے ہی لوگ ہنسنا شروع کردیتے تھے اور پھر جب رنگیلا اپنی جسمانی حرکات کے ساتھ شگفتہ جملوں کی منفرد ادائیگی کیا کرتے توسینما ہال تالیوں سے گونج اٹھتے تھے۔ایکشن کامیڈی کرنے والے اداکاروں میں ایسی مثالی شہرت اور کامیابی بہت کم لوگوں کو ملی جیسی رنگیلا کو نصیب ہوئی۔1969 میں رنگیلا نے اپنے ذاتی فلمساز ادارے کے تحت پہلی فلم’’دیا اور طوفان‘‘بنائی وہ اس فلم کے فلمساز،ہدایتکار،موسیقاراورکہانی نویس بھی تھے جبکہ اس فلم میں رنگیلانے جاندار اداکاری اورعمدہ گلوکاری بھی کی اور اپنی خدادادصلاحیتوں کالوہا منوایا، جس کی وجہ سے ان کی یہ فلم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی جس کے بعد رنگیلا نے فلم’’رنگیلا‘‘ اور پھرفلم ’’دو رنگیلے ‘‘ بناکر نمائش کے لیئے پیش کیں اور یہ فلمیں بھی سپر ہٹ ہوگئیں اور یوں رنگیلا کو پاکستانی فلموں کا کامیاب اداکار تسلیم کرلیا گیا۔رنگیلا کو پاکستانی فلموں میں شاندار پرفارمنس کی وجہ سے متعدد اداروں کی جانب سے ایوارڈ ز دیئے گئے جن میں پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ایوارڈ’’پرائیڈ آف پرفارمنس ‘‘بھی شامل ہے جو رنگیلا کو ان کی فنی خدمات کے ااعتراف میں2004 میں دیا گیااس کے علاوہ ان کو 8 عدد نگار ایوارڈ بھی دیئے گئے جن کی تفصیل کچھہ یوں ہے کہ رنگیلا کو پہلا نگار ایوارڈ فلم’’رنگیلا‘‘ میں بہترین کہانی نویس کادیا گیا ،دوسرا نگار ایوارڈرنگیلا کو ان کی ذاتی فلم’’دل اور دنیا‘‘ میں بہترین اداکار کا دیا گیا،تیسرا خصوصی نگار ایوارڈ ان کو فلم’’میری زندگی ہے نغمہ‘‘ میں دیا گیا،چوتھا خصوصی نگار ایوار ڈ رنگیلا کو فلم ’’نوکر تے مالک‘‘ میں دیا گیا،پانچواں نگار ایوارڈ ان کو فلم’’سونا چاندی ‘‘ میں بہترین ہدایتکاراوربہترین کہانی نویس کے طور پر دیا گیا،چھٹا نگار ایوارڈرنگیلا کو پلاٹینم جوبلی فلم’’مس کولمبو‘‘ میں بہترین مزاحیہ اداکار کا دیا گیا،ساتواں نگار ایوارڈ ان کو فلم’’باغی تے قیدی‘‘ میں بہترین مزاحیہ اداکار کا ملاجبکہ آٹھواں نگار ایوارڈ رنگیلا کو ڈبل ورڑن فلم’’تین یکے تین چھکے‘‘ میں بہترین مزاحیہ اداکار کا دیا گیا۔

اداکاررنگیلا کو یہ انوکھا اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلے پاکستانی فنکار ہیں جن کے اپنے نام پر فلم’’رنگیلا‘‘ ،فلم ’’دورنگیلے ‘‘ اور فلم ’’ رنگیلا اور منورظریف ‘‘ بنیں اور بہت کامیاب رہیں۔ان کی کامیڈی فلموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اگر ہم ان کی خاص خاص فلموں کا تذکرہ کریں تو ان کی شاہکار فلموں میں فلم’’انسان اور گدھا‘‘ ،فلم’’پردہ نہ اٹھاؤ‘‘، فلم ’’میری زندگی ہے نغمہ ‘‘فلم’’رنگیلا‘‘ فلم’’دیا اور طوفان‘‘،فلم’’بھریا میلہ ‘‘،فلم ’’دورنگیلے‘‘،فلم ’’پگڑی سنبھال جٹا‘‘،فلم ’’دوسری شادی ‘‘،فلم ’’باؤجی ‘‘،فلم ’’بدلہ ‘‘ ،فلم ’’بابل دا وہیڑہ ‘‘،فلم’’عورت راج‘‘ اور فلم’’رنگیلا اور منورظریف‘‘ ،وہ فلمیں ہیں جنہیں رنگیلا کی عمدہ اداکاری کی وجہ سے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ان کی دیگر کامیاب فلنوں میں فلم’’منجھی کتھے ڈاھواں‘‘َ, ہتھ جوڑی ،جگری یار،سنگدل،ثریا،گہرا داغ ،پگڑی سنبھال جٹا،دوستی اور چند دیگر فلمیں قابل ذکر ہیں۔ رنگیلا وہ پہلے پاکستانی فنکار تھے جنہوں نے کسی فلم میں پہلی بار 4 کردار اداکیئے ،رنگیلا نے اس فلم میں دادا،بیٹا،پوتا اور پڑپوتا کا کردار ادا کرکے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔رنگیلا نے ایک گلوکار کے طور پر بھی نمایاں شہرت اور کامیابی حاصل کی اور بہت سی یاد گار نغمہ بارفلموں میں نہایت عمدہ گلوکاری کرکے ثابت کیا کہ ایک عام سی شکل وصورت کا کم تعلیم یافتہ شخص بھی بغیر کسی سفارش کے محض اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پردنیائے فن کا ایک نامور ستارہ بن کر لاکھوں دلوں پر راج کرسکتا ہے۔ر نگیلا نے گلوکاری کی ابتداء1966 میں ہدایتکار ایم اکرم کی فلم’’بانکی‘‘میں گلوکارہ آئرن پروین اور منورظریف کے ہمراہ ایک پنجابی گانے سے کیا اس کے بعدرنگیلا نے ہدایتکار ایم اکرم کی ایک اور فلم’’چن چودھویں دا‘‘ میں منورظریف کے ہمراہ ایک پیروڈی گانا’’جگر زخمی ہے سر چکرا رہا ہے‘‘ گایاجبکہ ایک گانا انہوں نے فلم’’میں زندہ ہوں ‘‘ کے لیئے بھی گایا۔لیکن ایک گلوکار کے طور پر رنگیلا کی شہرت اور کامیابی کا آغاز ان کی ذاتی فلم’’دیا اور طوفان ‘‘ سے ہوا جس میں رنگیلا کے گائے ہوئے گیت’’گا میرے منوا گاتا جارے ‘‘اور ’’ بتا اے دنیا والے یہ کیسی تیری بستی ہے ‘‘کو بے حد پسند کیا گیا اور یوں انہوں نے ایک گلوکار کے طور پر شاندار کیرئیر کا آغازکیا جو ایک طویل عرصہ تک جاری رہا۔ رنگیلا کے گائے ہوئے یوں تو تقریباً تمام ہی گانے مقبول ہوئے لیکن غمزدہ گانوں نے زیادہ شہرت حاصل کی جس کی وجہ یہ تھی کہ رنگیلا کی آواز میں ایک خاص قسم کادرد اور سوز تھا جس کی وجہ سے غمگین گانوں میں جان پڑجایا کرتی تھی۔رنگیلا کے گائے ہوئے یوں تو سارے ہی گانے مشہور ہوئے لیکن ’’ گامیرے منوا گاتا جارے جاناہے ہمکا دور‘‘،’’یہاں قدر کیا دل کی ہوگی یہ دنیا ہے شیشہ گروں کی‘‘ ، ’’ہم نے جو دیکھے خواب سہانے ‘‘ ،’’تیرا کسی پہ آئے دل تیرا کوئی دکھائے دل ‘‘اور’’میرا محبوب میرے پیار کا قاتل نکلا‘‘،جیسے سدا بہار گانوں کا شمار رنگیلا کے گائے ہوئے ناقابل فراموش گیتوں میں کیا جاتا ہے۔

عام سی شکل و صورت والے اداکار رنگیلا محض اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے ایک عام کامیڈی اداکار سے ہیرو کے کرداروں تک پہنچے۔ان جیسا کوئی دوسرا کامیڈین نہ ان کے دور میں تھا اور نہ ہی آج تک لولی ووڈ ان کا کوئی نعم البدل پیدا کرسکی ہے،اپنے اسٹائل کو وہ واحد فنکار تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے طویل عرصہ بعد بھی فلم بین ان کی کمی محسوس کرتے ہیں۔ رنگیلاکی طرح فلم کے بہت سے شعبوں میں ایک ساتھ کام کرنے کا ریکارڈ کوئی دوسرا پاکستانی فنکار آج تک نہیں توڑ سکا۔رنگیلا نے لاہور سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا اور اسی شہر میں مئی 2005 میں ان کا انتقال ہوگیا۔

سلطان راہی
عام سی شکل وصورت والے اداکار سلطان راہی کا شمار بھی ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے محض اپنی خداداد فنی صلاحیتوں کی وجہ فلمی دنیا میں عزت ،شہرت اور مقام حاصل کیااور ایکسٹرا کرداروں سے ابتدا کرنے والا سلطان راہی دیکھتے ہی دیکھتے ایسا کامیاب فلمی ہیرو بنا کہ وہ دور بھی آیا کہ انہیں ہر دوسری فلم میں بطور ہیرو کاسٹ کیا جانے لگا،خاص طور پر پنجابی زبان کی ہرفلم میں سلطان راہی کا موجود ہونا لازمی سمجھا جانے لگا۔سلطان راہی کا پورا نام محمد سلطان خان تھا لیکن انہیں فلمی دنیا میں شہرت سلطان راہی کے نام سے حاصل ہوئی ۔یوں تو سلطان راہی نے فلمی دنیا میں اپنے کیرئیر کا آغاز ایک ایکسٹرااداکار کے طور پر کیا لیکن کچھ ہی عرصہ میں انہیں ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے فلموں میں اہم کرداروں میں کاسٹ کیا جانے لگا اورپھر وہ دور بھی آیا کہ سلطان راہی فن کا سلطان بن کر آسمان فلم پر ایسا چھایا کہ بڑے بڑے فنکاروں کی چھٹی کروادی خاص طور پر پنجابی فلموں میں بطور ہیرو سلطان راہی کے اداکاری کے اسٹائل کو اتنا زیادہ پسند کیا گیا کہ وہ سب سے زیادہ پاکستانی فلموں میں کام کرنے والے فنکار بن گئے جس کی وجہ سے ان کا نام مشہور زمانہ ریکارڈ بک ’’ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز ‘‘ میں شامل کرلیا گیا اور وہ گ سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے کے حوالے سے گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ بنانے والے پہلے پاکستانی فنکار قرار پائے ۔ان کی شہرت یافتہ اور کامیاب فلموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن ان میں سے کچھ فلمیں ایسی ہیں جنہوں نے سلطان راہی کی ناقابل فراموش اداکاری کی وجہ سے فقیدالمثال کامیابیاں حاصل کیں جن میں فلم بشیرا،مولاجٹ،شیر خان ،چن وریام،وحشی گجر،بہرام ڈاکو،سالا صاحب ،کالے چور،اور گاڈفادر جیسی فلموں نے مقبولیت اور بزنس کے نئے ریکارڈ قائم کرکے سلطان راہی کو پنجابی فلموں کی ضرورت بنا دیا۔

سلطان راہی انڈیا کے صوبے ’اتر پردیش‘ کے شہر ’سہارن پور‘ میں پیدا ہوئے لیکن 1947 کے بعد ہجرت کرکے وہ پاکستان کے شہر ’گجرانوالہ‘ میں آکر آباد ہوگئے۔سلطان راہی کو شروع سے ہی اداکار بننے کا شوق تھا جس کی تکمیل کے لیے انہوں نے سب سے پہلے اسٹیج ڈراموں کا رخ کیااور کئی سال کی کوشش کے بعد آخر کار انہیں1955 میں اسٹیج ڈرامے’’نادر شاہ درانی‘‘ میں کام کرنے کا چانس ملا۔سلطان راہی نے پاکستانی فلموں میں اپنے کیریر کی ابتدا ء1959 میں فلم’’ باغی ‘‘ میں مہمان اداکار کے طور پر شامل ہوکر کی جس کے بعد انہیں بہت سی پاکستانی فلموں میں ایکسٹرا اور سپورٹنگ کرداروں میں کاسٹ کیا جانے لگا اور پھر وہ وقت آگیا جس کا شاید سلطان راہی کو شدت سے انتظار تھا۔11 فروری 1979 کوسلطان راہی کی شہرہ آفاق فلم’’مولاجٹ‘‘ریلیز ہوئی جس میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی اداکاری کو فلم بینوں نے اتنا زیادہ پسند کیا اور اس فلم کو اتنا زیادہ دیکھا گیا کہ مقبولیت اوربزنس کے حوالے فلم ’مولاجٹ‘ کا شمار آج بھی پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں کیا جاتا ہے۔

سلطان راہی نے 1959 میں ریلیز ہونے والی اپنی پہلی فلم ’’ باغی ‘‘ سے لے کر 9 جنوری 1996 تک536 سے زائد پاکستانی فلموں میں مرکزی کردار اداکیئے جو اپنی جگہ ایک انوکھا اور منفرد ریکارڈہے ۔ یہی وجہ تھی کہ سلطان ر اہی کا شمار اپنے دور کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں ہوتا تھا۔ان کی فلموں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اگر ان کی تمام فلموں کی صرف کاسٹ اور کریڈٹ کا تذکرہ کیا جائے تو ایک کتاب وجود میں آسکتی ہے۔

9 جنوری 1996 کو جبکہ سلطان راہی اپنے ایک دوست احسن کے ساتھ اپنی کار خود ڈرائیو کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور جانے والے مرکزی ہائی وے گرانٹ ٹرنک روڈپر رواں دواں تھے کہ گجرانوالہ کے قریب سمن آباد چونگی کے قریب رات کے وقت اچانک ان کی کار کا ٹائر پنکچر ہوگیاجسے تبدیل کرنے کے لیے سلطان راہی نے کار روڈ کی سائیڈ پر پارک کی تو اندھیرے اور سناٹے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ڈاکو ان تک آ پہنچے اور انہوں نے سلطان راہی سے رقم اور موبائل وغیرہ لوٹنے کی کوشش کی تو سلطان راہی نے مزاحمت شروع کردی جس پر ملزمان ان پر فائرنگ کرکے فرار ہوگئے ،فائرنگ سے سلطان راہی بری طرح گھائل ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ ان کے ساتھ کار میں موجود ان کا دوست بھی زخمی ہوگیا۔سلطان راہی کے قتل کیے جانے پر فلمی دنیا میں سوگ چھا گیا کہ ان جیسے مقبول اور کامیاب فنکار کا یوں اچانک قتل کردیا جانا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا کیونکہ جب انہیں قتل کیا گیا اس وقت بھی ان کی بہت ساری فلمیں زیرتکمیل تھیں جن پر فلمسازوں کا کروڑوں روپیہ لگا ہوا تھا یہی وجہ ہے کہ سلطان راہی کے انتقال سے جہاں فن کی دنیا ایک بہترین فنکار سے محروم ہوگئی وہیں پاکستانی فلموں پر سرمایہ کاری کرنے والوں کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ان کی متعدد زیر تکمیل فلمیں آج بھی ڈبوں میں بندپڑی ہیں جبکہ ان کی چند ایک زیر تکمیل فلمیں جن کا زیادہ کام مکمل ہوچکا تھا انہیں جیسے تیسے مکمل کرکے ریلیز کیا گیالیکن سلطان راہی کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا وہ کئی سالوں تک کوئی دوسرا فنکار پر نہ کرسکا لیکن پھرپنجابی فلموں کے چند ہدایتکاروں اور فلمسازوں نے ایک رسک لینے کا فیصلہ کیااور اردو فلموں کے مقبول اور ورسٹائل ہیرو اداکار شان کو پنجابی فلموں میں سلطان راہی کے متبادل کے طور پر بالکل ان ہی کے انداز میں پیش کرکے چند پنجابی فلمیں بنا کر ریلیز کیں ، ان فلموں میں اداکار شان نے سلطان راہی کی شخصیت اور ان کی اداکاری کے اسٹائل کو اتنے حقیقی انداز میں پرفارم کیا کہ فلم بینوں نے شان کو سلطان راہی کے روپ میں قبول کرلیا اور یہیں سے اداکار شان کو پنجابی فلموں میں سلطان راہی اسٹائل کے کرداروں میں کاسٹ کرنے کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہواجو آج تک کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

سلطان راہی نے پاکستانی فلموں میں چک نورس، سلویسٹر اسٹالون بروس لی اور جیمس بونڈ 007 کی طرح ایکشن ہیرو کے کردار ادا کرکے مقبولیت اور کامیابی حاصل کی یہی وجہ ہے کہ ہالی ووڈ کی ایکشن انگریزی فلمیں دیکھنے والے فلم بین بھی سلطان راہی کی فلمیں شوق سے دیکھا کرتے تھے ۔ایک غیرت مند اور بہادر بھائی ،محبوب ،شوہر ،باپ اور بیٹے کے کرداروں میں سلطان راہی کی اداکاری اتنی شاندار اورجاندار ہوا کرتی تھی کہ اس پر حقیقت کا گمان ہوتا تھا ۔ایکشن اور گھریلواردو اور پنجابی فلموں میں کام کرنے کے ساتھ سلطان راہی نے چند فلموں میں مزاحیہ کردار بھی ادا کیے اور داد حاصل لی جن میں فلم ’’عورت راج ‘‘ بھی شامل تھی جس میں سلطان راہی کے ساتھ وحیدمراد اور کمال ایرانی وغیرہ نے بھی زنانہ کرداروں میں اپنی فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔سلطان راہی کوئی خوبصورت اداکار نہیں تھے لیکن ان کے خوبصورت دل اور ان کی اداکاری کی خوبصورتی نے ان کو پاکستان کی پنجابی فلموں کا کامیاب ترین ہیرو بناڈالا۔

نصیرالدین شاہ
نصیرالدین شاہ کا شمار بھارتی فلم انڈسٹری کے ان فنکاروں میں ہوتا ہے جو عام سی شکل وصورت کے باوجود محض اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پرشہرت اور کامیابی کے اس مقام تک پہنچے جہاں تک پہنچنے کا خواب ہر نیا فنکار دیکھتا ہے۔بھارت کی آرٹ اور کمرشل فلموں میں یکساں مقبول اور کامیاب فنکارنصیر الدین شاہ16 ،اگست1949 کو بھارتی صوبے اتر پردیش کے علاقے’ بارہ بنکی ‘میں ایک کھاتے پیتے اور پر اثر مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ۔نصیرالدین شاہ نے ابتدائی تعلیم اجمیر کے St. Anselm's ،اسکول اورنینی تال کے St Joseph's کالج سے حاصل کی جبکہ گریجویشن 1971 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیاجس کے بعد انہوں نے دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ سے ایکٹنگ کی تربیت حاصل کی۔نصیرالدین شاہ کے خاندان کے چند افراد کا تعلق فن کی دنیا سے بھی رہا جن میں ان کے بڑے بھائی کے بیٹے محمدعلی شاہ اور ان کے ایک قریبی رشتہ دار سالم شاہ شامل ہیں جنہوں نے ٹی وی اور فلم پر کام کیا شاید یہی وجہ تھی کہ ان کو بچپن سے ہی اداکار بننے کا شوق تھا،جس کی تکمیل کے لیے انہوں نے اداکاری کی تربیت حاصل کی اور پھر اداکار کے طور پر اپنی پہچان بنانے کے لیے فلم انڈسٹری کا رخ کیاجہاں قسمت نے ان کا بھرپور ساتھ دیااور ان کو چند اچھی آرٹ فلموں میں کاسٹ کرلیا گیا جن میں فلم نشانت،آکروش، اسپرش،مرچ مصالحہ ،البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے ،طریقہ،بھاونی بھوائی،جنون ،منڈی ،موہن جوشی حاضر ہو،اردھ ستیا،کتھا،اور جانے بھی دو یارو جیسی زبردست موضوعاتی فلمیں شامل ہیں جن میں نصیر الدین شاہ کی جاندار اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

آرٹ فلموں میں عمدہ کردار نگاری کرنے پر نصیرالدین شاہ بہت جلد کمرشل بھارتی فلمیں بنانے والے فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی نظر میں آگئے اور آخر کار انہیں ایک کمرشل بھارتی فلم’ہم پانچ‘ میں کاسٹ کرلیا گیا جس کی ریلیز کے بعد 1982 میں انہیں ہدایتکار اسماعیل شروف کی فلم’دل آخر دل ہے‘ میں اپنے دور کی مشہور اور کامیاب اداکارہ راکھی کے مدمقابل اہم کردار میں کام کرنے کاموقع ملالیکن ان کواصل شہرت 1983 میں بھارتی فلم’معصوم‘‘ کی ریلیز کے بعد حاصل ہوئی جبکہ 1986 میں نصیرالدین شاہ کو ملٹی اسٹار فلم ’کرما‘‘ میں بھارتی سپر اسٹار دلیپ کمار کے ساتھ ایک اہم کردار میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا جس کے بعد انہیں آرٹ فلموں کے ساتھ بہت سی کمرشل فلموں میں مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا گیا جن میں فلم’اجازت، ’جلوہ‘’ہیرو ہیرا لال‘، مالامال ‘،’گیم‘ اور انگریزی زبان میں بنائی گئی بھارتی فلم ’ پرفیکٹ مرڈر‘‘ وہ قابل ذکر فلمیں ہیں جن کی کامیابی کے بعد نصیرالدین شاہ کا نام کمرشل فلموں کی ضرورت بن گیااور ان کے پاس فلموں کی لائن لگ گئی جن میں زیادہ تر تعداد ان فلموں کی تھی جن کی کاسٹ میں بھارتی فلموں کے کئی مشہور اورکامیاب ہیروز کو ایک ساتھ کاسٹ کیا گیا تھا یہی وجہ تھی کہ ان میں سے اکثر فلموں نے فقیدالمثال کامیابیاں حاصل کیں ۔جن میں سرفہرست ملٹی اسٹار کاسٹ پر مشتمل فلم’غلامی ‘، ’تری دیو‘ اور وشواتما جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔1988 میں نصیرالدین شاہ نے مرزا غالب پر بنائی گئی مقبول اور کامیاب بھارتی ٹی وی سیریل میں ’’مرزا غالب ‘‘ کا کردار اس فنکارانہ مہارت اور خوش اسلوبی سے ادا کیا کہ ان کا یہ کردار ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا ۔1990 میں نصیرالدین شاہ نے ٹی وی پروگرام’’سائنس میگزین ‘‘ کی میزبانی کرکے ایک ہوسٹ کے طور پر بھی اپنی کارکردگی کا عمدہ مظاہرہ پیش کیا جبکہ 1994 میں نصیرالدین شاہ کو فلم ’مہرہ ‘‘ میں بطور ویلن کاسٹ کیا گیا اور اس کردار میں بھی انہوں نے ایسی شاندار اداکاری کی کہ لوگ آج بھی اس فلم کو شوق سے دیکھتے ہیں واضح رہے کہ فلم ’’مہرہ ‘‘ ان کی 100 ویں فلم تھی جس کی ریلیز سے ان کی فلموں کی سینچری مکمل ہوئی۔1998 میں نصیرالدین شاہ نے مہاتمہ گاندھی کے کردار پر بننے والے ایک خصوصی ٹی وی پروگرام میں ’مہاتمہ گاندھی ’ کا مرکزی کردار اداکیا اور کردار میں جاندار اداکاری کی وجہ سے انہیں2000 میں مہاتمہ گاندھی پر بننے والی فلم’’ ہے رام‘‘ میں بھی مہاتمہ گاندھی کے کردار کے لیے کاسٹ کیا گیا جس میں ان کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔نصیرالدین شاہ نے بعض بین الاقوامی پروجیکٹس پر بھی کام کیا جن میں2001 میں ریلیز ہونے والی فلم’’مون سون ویڈنگ ‘‘ اور2003 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’جنٹلمین‘‘ شامل ہیں ۔ جنٹلمین وہ فلم تھی جس میں نصیرالدین شاہ کو ہالی ووڈ کے نامور سپر اسٹار سین کونری (جیمز بانڈ007 )کے ہمراہ کام کرنے کا موقع ملا۔جبکہ ان کی ایک اور فلم ’مقبول‘ بھی 2003 میں ریلیز ہوکر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔اس کے بعد ان کی عمدہ کردارنگاری سے سجی ہوئی کئی یادگار فلمیں ریلیز ہوئیں اور کامیاب رہیں ۔
2011 میں ان کی سپر ہٹ فلم ’’ڈرٹی پکچرز‘‘ریلیز ہوئی جس میں ان کے مدمقابل ہیروئن کاکردار مشہور اداکارہ ودیا بالن نے ادا کیا تھا ۔2012 میں نصیرالدین شاہ نے اپنی بیوی رتنا پھاٹک کے ہمراہ مشہور بھارتی فلم ’’ گینگ آف واسے پور‘‘ میں عمدہ اداکاری کرتے ہوئے نظر آئے ۔اس کے بعد انہوں نے2016 میں فلم’’The Blueberry Hunt‘‘ میں کام کیا اور پسند کیے گئے۔فلموں میں کام کرنے کے علاوہ نصیرالدین شاہ نے بہت سے اسٹیج ڈرامے بھی ڈائریکٹ کیے اورفنکاروں کی ٹیم کے ہمراہ بھارتی شہروں ممبئی اور دہلی کے علاوہ پاکستانی شہر لاہور میں جاکر بھی انہوں نے کئی اسٹیج ڈرامے کامیابی کے ساتھ پیش کیے جنہیں شائقین نے بہت زیادہ پسند کیا اور یوں اس فیلڈ میں بھی وہ خاصے کامیاب رہے ۔

بھارتی اور ہالی ووڈ کے مقبول اور کامیاب فلم اسٹارز کے ساتھ کام کرنے کے بعد نصیرالدین شاہ نے پاکستانی فنکاروں کے ہمراہ کام کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں وہ پہلی بار ہدایتکار شعیب منصور کی فلم’’ خدا کے لیے‘‘ میں ایک مختصر مگر اہم کردار میں جلوہ گر ہوئے اور حسب معمول جاندار کردار نگاری کا مظاہر ہ کرکے پاکستانی فلم بینوں کو بھی متاثر کرنے میں کامیاب رہے ،اس فلم کی دنیا بھر میں شاندار کامیابی کے بعد ان کو دوسری پاکستانی فلم ’’زندہ بھاگ ‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ہر لحاظ سے ایک معیاری فلم قرار پائی اور اس نے شاندار بزنس کیا جس کی وجہ سے اس فلم کو 86 ویں اکیڈمی ایوارڈ میں پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پر بہترین غیرملکی فلم کے طور پرنامزدگی کے لیے بھیجا گیا۔غرض یہ کہ نصیرالدین شاہ نے 1972 سے اپنا فنکارانہ کیرئر شروع کرنے کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور خوش قسمتی سے انہوں نے ٹی وی ،اسٹیج اور فلم جس شعبے میں بھی قدم رکھا کامیابی نے ان کے قدم چومے اور آج بھی نصیرالدین شاہ کی مقبولیت اور مارکیٹ ویلیو میں کمی نہیں آئی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ مقام اور کامیابی کسی سفارش یا اپنی شکل وصورت کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر حاصل کی ۔

منوج باجپائی
عام سی شکل وصورت والے ایک اوربھارتی فنکار منوج باجپائی نے بھی انڈین سینما میں اپنی جاندار اور ورسٹائل کردار نگاری کی وجہ سے بے پناہ شہرت حاصل کرتے ہوئے کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر ثابت کیا کہ فنکار بننے کے لیے اچھے چہرے سے زیادہ اہمیت اچھے فنکارانہ ٹیلنٹ کی ہوتی ہے۔منوج باچپائی 23 ،اپریل 1969 کوبھارتی صوبے بہار کے شہر’نارکٹیا گنج ‘کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’بیلوا‘ میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے بھارت کی ہندی فلموں کے علاوہ تامل اور تیلگو زبان میں بننے والی علاقائی فلموں میں بھی کام کیا اور پسند کیے گئے۔انہوں نے بھارتی فلموں میں عمدہ اداکاری کرنے پر 2 نیشنل فلم ایوارڈ اور4 فلم فئیر ایوارڈ حاصل کیے۔منوج باچپائی کو بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا جس کی وجہ سے وہ صرف 17 سال کی عمر میں اپنا گاؤں چھوڑ کربھارت کے بڑے شہر ’دہلی ‘‘ میں جاکر آباد ہوگئے اور نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلے کے لیے اپلائی کردیا جہاں سے 4 مرتبہ ریجیکٹ کیے جانے کے بعد ان کو پانچویں کوشش میں کامیابی حاصل ہوئی ۔جس کے دوران وہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ تھیڑ میں بھی کام کرتے رہے اور فلموں میں کام کرنے کے لیے کوشش کرتے رہے بالآخر 1994 میں انہیں پہلی بار ایک بھارتی فلم’’Drohkaal‘‘ میں صرف ایک منٹ کا کردار ادا کرنے کا چانس ملا جس کے بعد 1994 میں ہی انہیں شیکھر کپور کی مشہور اور کامیاب بھارتی فلم’’ بینڈٹ کوئن ‘‘ میں بھی ایک مختصر کردا ر میں کاسٹ کیا گیااور پھر کچھ عرصہ اسی طرح مختصر کرداروں میں کام کرتے کرتے آخر کار منوج باجپائی کی قسمت جاگ اٹھی اور1998 میں انہیں بھارتی فلموں کے کامیاب ہدایتکار رام گوپال ورما نے اپنی کرائم ایکشن ڈرامہ فلم’’ستیا‘‘میں ایک گینگسٹر’’بھکو مہاترے ‘‘ کے اہم کردار میں کام کرنے کا موقع دیا اور یہ ہی ان کی فنکارانہ زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، اس فلم میں ایک گینگسٹر کے کردار میں منوج باجپائی نے ایسی جم کر اداکاری کی کہ فلم بینوں،فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی نظروں میں آگئے اور یہ کردار ان کے لیے اتنا اہم ثابت ہوا کہ فلم ’’ ستیا‘‘ میں انہیں نہ صرف بیسٹ سپورٹنگ ایکٹر کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا بلکہ انہوں نے اس فلم میں بہترین اداکار کا فلم فئیر کریٹکس ایوارڈ بھی حاصل کیا۔اس فلم کی کامیابی نے منوج باچپائی کو ہندی سینما کا ایک مقبول اداکار بنادیا اور انہیں یکے بعد دیگرے بہت سی فلموں میں اہم کرداروں میں کاسٹ کیا جانے لگا۔1999 میں انہیں فلم ’’ کون‘‘ اور فلم’’شول‘‘ میں ایک بار پھر اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملا۔2001 میں منوج باجپائی نے فلم ’’زبیدہ ‘‘ میں دو بیویوں کے شوہر’’پرنس ‘‘ کا کردار ادا کیااور کامیاب رہے۔اس کے بعد وہ فلم ’’عکس‘‘ میں ایک سیریل کلر قاتل کے روپ میں جلوہ گر ہوئے اوراپنی جاندار اداکاری سے چارچاند لگادیے جبکہ 2002 میں منوج باجپائی نے فلم’’روڈ‘‘میں ایک نفسیاتی قاتل کا کردار نہایت خوبصورتی سے ادا کرکے فلم بینوں اور ناقدین کے دل جیت لیے جبکہ 2003 میں انہیں فلم’’پنجر‘‘میں عمدہ اداکاری پر اسپیشل جیوری نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔2010 میں منوج باچپائی نے سیاسی موضوع پر بنائی گئی فلم ’’ راج نیتی ‘ ‘ میں ایک مفاد پرست سیاست دان کا کردارنہایت حقیقی انداز میں ادا کیا اور کامیاب رہے۔2012 میں منوج باجپائی فلم’’ گینگ آف واسع پور ‘‘ میں سردار خان کے پاور فل کردار میں جلوہ گر ہوئے اور پسند کیے گئے۔2012 میں فلم ’’ چکراویو‘‘ میں بھی انہیں اہم کردار میں کاسٹ کیا گیا جس میں ان کی اداکاری کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔2013 میں ان کی کامیاب اور مقبول ترین فلم’’اسپیشل 26 ‘‘ ریلیز ہوئی جس میں وہ ایک سی بی آئی آفیسر کے کردار میں نظر آئے ،فلم میں ان کے ساتھ اکشے کمار بھی موجود تھے لیکن منوج باجپائی جس منظر میں بھی آئے اپنی انفرادیت کا احساس دلاگئے۔2016 میں انہیں ہنسل مہتاکے بائیوگرافیکل ڈرامے ’’علی گڑھ‘‘ میں پروفیسر رام چندرا سراس کے کردار میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا جس میں انہوں نے بہت ہی اعلیٰ اداکاری کا مظاہرہ کیاجس پر انہیں تیسرا فلم فئیر کریٹکس ایوارڈ ملا اور بہترین اداکار کے ایشیاء پیسفک اسکرین ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔منوج باجپائی نے ایکشن تھرلر اور سسپنس فلموں کے ساتھ کچھ فلموں میں مزاحیہ اداکاری بھی کی جن میں 2000 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم’’دل پے مت لے یار‘‘ قابل ذکر ہے جس میں انہوں نے اداکارہ تبو کے ہمراہ مرکزی کردار ادا کیا اورکامیاب رہے۔2004 میں انہوں نے فلم’’ جاگو‘‘ میں اداکارہ روینہ ٹنڈن کے ہمراہ قانون کے اپنے ہاتھ میں لینے والے ایک پولیس آفیسر کے رول میں شاندار اداکاری کی جس کے بعد انہوں نے گنیش اچاریہ کی ڈرامہ فلم ’’سوامی‘‘ میں اداکارہ جوہی چاولہ کے ہمراہ کام کیا۔2007 میں انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی 1971 کی جنگ کے موضوع پر ببنے والی فلم میں بھارتی فوج کے میجر سورج سنگھ کا کردار نہایت کامیابی کے ساتھ ادا کیااور پسند کیے گئے اس فلم میں ان کے فیس ایکسپریشنز دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے بعدانہوں نے اداکارہ دیا مرزا کے ہمراہ فلم’’دس کہانیاں‘‘ کے ایک حصے میں زبردست کام کرکے داد حاصل کی۔2009 میں منوج باجپائی نے سسپنس تھرلر فلم’’ایسڈ فیکٹری‘‘میں کام کیا۔ایکشن اور سسپنس تھرلر اور موضوعاتی فلموں کے علادہ منوج باجپائی نے مزاحیہ فلموں میں بھی شاندار اداکاری کرکے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔جن میں فلم ’ جگاڑ‘،’ دس تولہ،’ سات اچکے ‘ اور فلم’’ ہنی ہے تو منی ہے ‘ ‘ میں ان کی مزاحیہ اداکاری کو بہت سراہا گیا اور یوں وہ ایک ورسٹائل اداکار کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔منفرد موضوعات پر بنی ہوئی آرٹ اور کمرشل فلموں میں ایکشن،تھرلر،ڈرامہ اور کامیڈی کرداروں میں متواتر کامیابی حاصل کرنے والے منوج باجپائی کو فلموں میں کسی بھی قسم کا کردار دیا جاتا وہ اس مہارت اور خوش اسلوبی سے اداکرتے کے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے کہ شاید یہ کردارتخلیق ہی منوج باجپائی کے لیے کیا گیا تھا۔

منوج باجپائی کی ورسٹائل اداکاری سے سجی ہوئی شاہکار فلموں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سے اکثر کا ذکر اوپر کی سطور میں کیا جاچکا ہے جبکہ ان کی دیگر مقبول فلموں میں فلم’’لوک کارگل‘،’ویرزارا‘،’اراکشن‘،’ لنکا‘،’گینگ آف واسے پور‘ ’چٹاگانگ‘،’چکرویو‘،’شوٹ آؤٹ ایٹ واڈالا‘،’نام شبانہ‘،’سرکار3 ‘،’رخ‘ شامل ہیں جبکہ 2018 میں منوج باجپائی کی ریلیز ہونے والی فلموں میں نیراج پانڈے کی تھرلر فلم’ عیاری‘ اور فلم ‘باغی 2 ‘شامل ہیں جن میں حسب معمول منوج باجپائی نے بہترین اداکاری کرکے اپنی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کیا۔غرض یہ کہ 1994میں ریلیز ہونے والی پہلی فلم ’Drohkaal‘ سے لے کر تاحال منوج باجپائی نے ہر طرح کے کرداروں میں اپنی انفرادیت اور معیار کو قائم رکھتے ہوئے خود کو ایک نہایت ٹیلنٹڈ اور محنتی فنکار ثابت کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی فلمی دنیا میں اپنے فن کا لوہا منوایا بلکہ پوری دنیا میں موجود اپنے فن کے قدر دانوں سے داد وتحسین حاصل کی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ہیروشپ کے اس مقام تک اپنی شکل وصورت یا کسی سفارش کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اپنی خداداد فنی صلاحیتوں اور انتھک محنت کی وجہ سے پہنچے ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فنکار میں اگر ٹیلنٹ ہو اور اس کے اندر محنت کرنے کا جذبہ بھی موجود ہو تو اسے شہرت اور کامیابی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

نواز الدین صدیقی
عام سی شکل وصورت والے بڑے فنکار نوازالدین صدیقی 19 مئی 1974 کوبھارتی صوبے اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے ایک چھوٹے سے شہر ’بدھانا‘‘ میں ایک زمیندارمسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ہریدوار سے کیمسٹری میں گریجویشن سائنس کی ڈگری لے کر اپنی تعلیم مکمل کی جس کے بعدانہوں نے ایک سال تک Vadodara میں ایک کیمسٹ کے طور پر کام کیا اور پھر وہ نئی ملازمت کے لیے دہلی منتقل ہوگئے۔جہاں ایک روز جب وہ ایک اسٹیج ڈرامہ دیکھ رہے تھے تو ان کے دل میں بھی اداکاری کرنے کا شوق پیدا ہواجس کی تکمیل کے لیے انہوں نے نئی دہلی میں نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ لے لیا اور اداکاری کی تربیت حاصل کرنے کا آغاز کردیاجس کے دوران انہوں نے اپنے دوستوں کے ایک گروپ کے ہمراہ 10 سے زائد ڈراموں میں کام کرکے1996 میں اسی ادارے سے فنکارانہ ٹریننگ کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے بھارتی فلموں میں کام حاصل کرنے کے لیے فلم انڈسٹری کے مرکز ممبئی کا رخ کیاجہاں پہلے انہوں نے ٹی وی ڈرامہ سیریلز میں کام حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور پھر کئی سال کی کوشش کے بعد انہیں بالی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان کی فلم’’سرفروش‘‘میں پہلی بار ایک مختصر کردار میں کام کرنے کا چانس ملا۔اس کے بعد انہوں نے 1999 میں فلم ’’اسکول‘‘ اور 2000 میں فلم’’جنگل ‘‘ میں اداکاری کی، پھر انہوں نے2003 میں ایک مختصر دورانیے کی فلم ’’بائی پاس‘‘ میں انڈین فلموں کے مشہور فنکار عرفان خان کے ساتھ کام کیا جس کے بعد2003 میں ہی نواز الدین صدیقی کو راج کمار ہیرانی کی مقبول اور سپرہٹ فلم ’’ منا بھائی ایم بی بی ایس ‘‘ میں سپر اسٹار سنجے دت کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملالیکن پھر بھی انہیں کسی فلم میں ایسا کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل پایا کہ وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو منوا کر انڈین سینما میں کوئی مقام حاصل کرسکیں اس صوتحال سے دل برداشتہ ہوکر انہوں نے چند سال کے لیے شوبز کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی لیکن ان کے مالی حالات اتنے خراب تھے کہ انہیں مجبوراً نیشنل اسکول آف ڈرامہ کے ممبئی میں مقیم اپنے ایک پرانے ساتھی سے ریکویسٹ کرنی پڑی کے وہ انہیں اپنے فلیٹ میں اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دے جس پر اس دوست نے انہیں اپنے اپارٹمنٹ میں اپنے ساتھ رہنے کی اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ان کے لیے کھانا پکایا کریں گے ،حالات کی مجبور ی اور کرایہ ادا نہ کرنے کی پوزیشن کی وجہ سے نواز الدین صدیقی کو اپنے دوست کا باورچی بن کر اس کے فلیٹ میں رہائش اختیار کرنی پڑی تاکہ وہ بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھ سکیں۔آخر کار2009 میں انہیں فلم Dev D میںcameo role میں ایک گانے ’ایموشنل ہتیا چار‘‘ میں اپنے پارٹنررسیلا کے ساتھ جلوہ گر ہونے کا موقع ملااور اسی سال وہ ایک اور فلم’’نیویارک‘‘ میں نظر آئے۔2010 میں انہیں انوشا رضوی کی فلم’’Peepli Live ‘‘ میں ایک جرنلسٹ کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا جس میں ان کی جاندار اداکاری کو بہت پسند کیا گیا اور یہی وہ فلم تھی جس سے ان کو بھارتی سینما میں ایک ایکٹر کے طور پر شہرت حاصل ہوئی اور ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو پہلی بار تسلیم کیا گیا۔2012 میں نواز الدین صدیقی کو Prashant Bhargava's کی فلم’’پتنگThe Kite ‘‘ میں ایک اہم کردار میں کاسٹ کیا گیا جس میں انہوں نے اپنی بھرپور فنی صلاحیتوں کا اظہار کرکے خود کو منوایا ۔اس فلم کو برلن فلم فیسٹول سمیت دنیا بھر میں منعقد ہونے والے کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھیجا گیا جہاں نہ صرف اس فلم کو پسند کیا گیا بلکہ نواز الدین صدیقی کی اداکاری کو بھی بہت زیادہ سراہا گیا ۔ نواز الدین صدیقی کی فلم پتنگ The Kite کی شہرت اور کامیابی کی وجہ سے اسے امریکہ اور کینڈا میں بھی ریلیز کیا گیا اور اس نے وہاں سے بھی پسندیدگی کی سند حاصل کی جس کی وجہ سے ’’نیویارک ٹائمز ‘‘ میں اس فلم پر تبصرہ شائع کیا گیااورپھر نواز الدین صدیقی پر فلمی دنیا کے دروازے کھلتے چلے گئے ۔2012 میں انہیں فلم’’کہانی ‘‘ میں ایک خفیہ ایجنسی کے ایک جذباتی آفیسر’ خان‘ کا کردار ادا کرنے کو ملا جس میں وہ انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ نظر آئے اور پھر انہیںAnurag Kashyap's کی ایکشن تھرلر فلم ’’Gangs of Wasseypur ‘‘ میں بھی ایک اہم کردار میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا جس کا انہوں نے بھرپور فائد ہ اٹھایا اور ان کا ادا کردہ کردار اس فلم کی ہائی لائٹ بنا اور ان کی شہرت میں مزید اضافہ کرگیا۔اس کے بعد انہوں نےAshim Ahluwalia's کی فلم’’Miss Lovely‘‘میں حقیقت سے قریب ترین کردار نگاری کرکے بھرپور داد حاصل کی۔2012 میں نواز الدین صدیقی نے بھارتی سپر اسٹار عامر خان کی فلم’’ تلاش ‘‘ میں کام کیا اور کامیاب رہے۔ 2013 میں نواز الدین صدیقی کو کامیاب فلم’’Gangs of Wasseypur. ‘‘ کے سیکوئل میں فلم کے مرکزی کردارڈراؤنی آتما کے روپ میں پیش کیا گیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر کامیاب اداکاری کا شاندار مظاہرہ پیش کیاجبکہ 2014 میں انہیں سلمان خان کی بلاک بسٹر فلم’’کک ‘‘ میں شیو گجرا کے اہم کردار میں عمدہ اداکاری کرنے پر بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔2015 میں نواز الدین صدیقی کو ایک بار پھر سلمان خان کے ہمراہ کامیاب فلم’’ بجرنگی بھائی جان‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جس میں ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر چاند نواب کے روپ میں ان کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے بعد ان کی فلم ’منجھی ‘The Mountain Man ریلیز ہوئی اور اس میں بھی ان کی اداکاری کو پسند کیا گیا ،ان فلموں کی کامیابی کے بعد انہیں ایسے فنکار کا درجہ مل گیا جو اپنے کرداروں میں حقیقت سے قریب ترین اداکاری کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔نواز الدین صدیقی کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے فلمسازوں اور ہدایتکاروں نے بھی انہیں موضوعاتی فلموں کے اہم اور مرکزی کرداروں میں کاسٹ کرنا شروع کردیا جن میں فلم ’’بدلہ پور ‘‘ وہ فلم ہے جس میں ان کی اداکاری کو دنیا بھر میں پسند کیا گیاپھر انہیں گجرات کے پس منظر میں بنائی گئی ایک فلم’’حرام خور‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جس میں وہ سو فیصد کامیاب رہے اور اس فلم میں عمدہ اداکاری کرنے پر انہیں نیویارک انڈین فلم فیسٹول میں بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ان فلموں کے علاوہ نواز الدین صدیقی نے جن فلموں میں کام کیا اور شہرت حاصل کی ان میں فلم’بلیک فرائیڈے‘،’ فراق‘،فیملی‘،’آجا نچ لے‘،مدعاThe Issu ‘،’پان سنگھ تومار‘،بمبئی ٹاکیز‘،آتما‘،’مون سون شوٹ آؤٹ‘،’ دی لنچ باکس‘ اور ’ انور کا عجب قصہ ‘ شامل ہیں جن میں نواز الدین صدیقی نے فطری اداکاری کا وہ مظاہر ہ پیش کیا کہ لوگ بے ساختہ انہیں داد دینے پر مجبور ہوگئے۔نواز الدین صدیقی کی زندگی ،ہمت ،کوشش،محنت ، جدوجہد اور صلاحیت کے بل بوتے پر نام اور مقام حاصل کرنے کی بہترین مثال ہے جس کو مشعل راہ بنا کر کوئی بھی نیا فنکار وہ سب کچھ حاصل کرسکتا ہے جو نواز الدین صدیقی کو ملا۔

عام سی شکل وصورت رکھنے والے پاکستانی فنکار رنگیلا ،سلطان راہی اور بھارتی فنکار نصیرالدین شاہ، منوج باجپائی اور نواز الدین صدیقی کی ذاتی اور فلمی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاک وہند فلم انڈسٹری کے یہ پانچوں مقبول اور کامیاب فنکار چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرتے ہوئے محض اپنی خداداد فنی صلاحیتوں، انتھک کوشش اور محنت کے بل بوتے پر شہرت عزت اور کامیابی کے اس مقام تک پہنچے جہاں تک پہنچنے کا سپنا ہر فنکار دیکھتا ہے لیکن ایسی شہرت عزت اور کامیابی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی ۔ان پانچوں باہمت فنکار وں کی نہ تو شکل وصورت بہت اچھی تھی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سفارش تھی جو انہیں فنکار بن کر فلمی ہیرو کے کردار تک پہنچانے میں ان کی مدد کرتی ،ان سب کو جو بھی عزت شہرت اور کامیابی ملی وہ ان کی ذاتی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملی ایسے ہی باہمت اور ہارنہ ماننے والے لوگ وہ کچھ کردکھاتے ہیں جس کے بارے میں کوئی تصور بھی نہ کرسکتا ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71982 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
22 Jun, 2018 Views: 1745

Comments

آپ کی رائے