باوضو رہنے کی عادت

(محمد یوسف راهی, Karachi)

پاکی اور طہارت انسانی جسم کے لئے کتنی ضروری ہیں اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا یہ پاکی ہی ہے جس سے ہمیں اللہ کاقرب حاصل ہوتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ کسی عبادت کو شروع کرنے سے پہلے وضو کا حکم دیا گیا ہے اور ساتھ میں جسم کی پاکی اور طہارت کا بھی حکم دیا گیہے چا ہے وہ نماز ہو یا قرآن مجید کی تلاوت اس لئیے ہمیں اپنے کپڑوں اور جسم کی پاکی کا خاص خیال رکھنا چا ہئے اور اس کا سب سے اچھا اور آسان طریقہ اپنے آپ کو باوضو رکھنا ہے .

سب سے پہلے میں آپ کو یہ بتاؤں کہ اسلام وضو کے بارے میں کیا کہتا ہے انسان کو ہمیشہ باوضو رہنا چا ہئے تاکہ وہ دنیا اور اخرت دونوں کے فوائد حاصل کرسکے باوضو رہنا مستحب اور اسلام کی سنت ہے (فتاوی رضویہ) حدیث پاک میں بھی کئی جگھ باوضو رہنے کی ترغیب دی گئی ہے .

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ باوضو رہنے کی اگر طاقت اور ہمت رکھو تو بڑا فائدہ ہوگا کیوں کہ جب ملک الموت انسان کی روح قبض کرنے آتے ہیں اور وہ انسان اگر وضو کی حالت میں ہو تو اللہ رب العزت اس کا نام شہیدوں میں لکھ دیتا ہے اور وہ شہید کہلاتا ہے امام ہلسنت مجدد دین وملت حضرت علامہ مولانا شہ احمد رضا خان فاضل بریلوی( رحمت اللہ تعالی علیہم اجمعین )فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر وقت باوضو رہتا ہے اللہ رب العزت اسے سات فضیلتیں عطا فرماتا ہے (1) فرشتے اس کی صحبت میں رہتے ہیں (2) قلم نیکیاں لکھتا رہے (3) اس کے اعضأ ءبھی تسبیح کرتے رہیں (4) اس سے تکبیر اولی کبھی فوت نہ ہو (5) جب وہ سونے لگے تو اللہ رب العزت اس پر کچھ فرشتے مقرر کردے جو اسے جن و انس کے شر سے محفوظ رکھے (6) سکرات موت اس پر آسان ہو (7) جب تک باوضو ہو امان الہی میں رہے ( فتاوی رضویہ) .

باوضو رہنے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ رب العزت باوضو رہنے والے انسان کے اندر اتنا اعتماد پیدا کردیتا ہے کہ اگر کوئی شخص احساس کمتری کا شکار ہے اور وہ باوضو رہنے کی عادت اپنالے تو اس کے اندر احساس کمتری ختم ہوجاتی ہے اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی سورہ مائدہ میں ارشاد فرمایا ( ترجمہ ) کہ جب تم نماز لئے کھڑے ہو تو پہلے اپنے چہرے کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھولو اور سر کا مسحہ کرو اس آیات مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کے لئے وضو کتنا ضروری ہے حدیث مبارک میں آیا ہے کہ نماز جنت کی کنجی ہے اور وضو نماز کی کنجی ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ وضو کی وجہ سے بروز محشر انسانوں کے اعضأء چمکتے ہوں گے اور اس وجہ سے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے امتیوں کو پہچان لیں گے ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جو شخص وضو شروع کرتے وقت بسم اللہ العظیم والحمد للہ علی دین الاسلام پڑھ لے اور وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھے تو اس کے پچہلے تمام گنہ معاف کردئے جاتے ہیں .

حضرت خواجہ فضل علی قریشی رحمت اللہ تعلی علیہ ہمیشہ اپنے مریدین سے فرماتے تھے کہ باوضو رہنے کی مشق کرتے رہو یہاں تک کہ تم عادی ہوجاؤ ایک دفعہ آپ ایک جگھ پہنچے تو کھانے کے لئے دسترخوان بچھایا جا چکا تھا اور لوگ دسترخوان پر بیٹھے آپ کا انتظار کررہے تھے تو آپ نے سب سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ ایک میری بات دل کے کانوں سے سن لو یہ جو کھانا تمہارے سامنے پڑا ہوا ہےاور ساتھ میں جو روٹی موجود ہے اس کی فصل جب کاشت کی گئی تو کاشت کرنے والوں کا وضو تھا پہر جب اس پر پانی لگایا گیا تو پانی لگانے والوں کا بھی وضو تھا پہر جب یہ فصل کاٹی گئی تو کاٹنے والوں کا بھی وضو تھا پہر گندم کو بھوسے سے جدا کیا گیا تو ان لوگوں کا بھی وضو تھا پہر گندم کو چکی میں پیس کر آٹا بنایا گیا تو پیسنے والوں کا بھی وضو تھا پہر اس آٹے کو گوندھا گیا تو گوندھنے والے کا بھی وضو تھا پہر اس سے روٹیاں بنائی گئیں تو روٹیاں بنانے والوں کا بھی وضو تھا یہاں تک کہ جن ہاتھوں سے یہ روٹیاں دسترخوان پر رکھی گئیں وہ لوگ بھی وضو میں تھے تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ کاش آپ لوگ بھی وضو میں کھانا تناول فرمالیتے .

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ وضو مومن کا ہتھیار ہے اس لئے جو شخص سونے سے قبل وضوکرلے تو یہ وضو اس کی ساری رات حفاظت کرے گا ایک حدیث میں آیا ہے کہ رات کو وضو کرکے سونے والے کو کیا فوائد حاصل ہوں گے کہ باوضو موت پر شہادت کا رتبہ ساری رات عبادت کا اجر سکون سے نیند کا آنا خواب سچے نظر آنا اور سب سے بڑھکر یہ کہ یہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کی تیاری کرتے تو پہلے وضو فرماتے جیسے نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے گویا باوضو رہنے کی مشق کرتے رہیں یہاں تک کہ عادی ہوجائیں کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف عبادات سے وضو کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ہروقت وضو میں رہنے کا حکم فرمایا.

اب باوضو رہنے کے طبی فوائد کا ذکر کرتے چلیں آج سے 1400 سال قبل وضو کے جو فوائد ہمیں سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے آج سائنسدان طویل تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وضو کے ارکان سے انسانی صحت پر کتنے خوش کن اثرات مرتب ہوتے ہیں جب ہم کلی کرتے ہیں تو ہمارے منہ میں موجود سارے وہ جراسیم جو دانتوں یا اس کے ارد گرد چھپے ہوتے ہیں وہ ختم ہوجاتے ہیں اورمعدے تک نہیں پہنچ پاتے اس طرح کلی کرنے سے منہ کی کئی بیماریوں سے ہم بچے رہتے ہیں پہر جب ہم ناک میں پانی ڈالتے ہیں تو سائنس کی تحقیق کے مطا بق ناک کےصفائی بھی ہوجاتی ہے اندر موجود کئی جراثیم کا خاتمہ بھی ہوجاتا ہے اور سانس لینے میں بھی کبھی کوئی دشواری نہیں ہوتی اس کے بعد جب ہم چہرہ دھوتے ہیں تو وضو کے پانی سے چہرے پر ایک خوش گوار تبدیلی رونما ہوجاتی ہے وہ کھل اٹھتا ہے اور نورانیت برسنے لگتی ہے اس کے بعدہم دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوتے ہیں سائنس کی تحقیق کے مطابق نمونیا جیسی بیماری انسان کے ہاتھوں سے پروان چڑھتی ہے اور جب ہم وضو میں ہاتھوں کو دھوتے ہیں تودونوں ہاتھوں کی صفائی بھی ہوتی ہے اور نمونیا جیسی بیماری سے بھی بچے رہتے ہیں جبکہ خون کی روانی بھی جاری رہتی ہے جو انسان کو دل کے دورے سے بچاتی ہے وضو کے دوران جب ہم پاؤں دھوتے ہیں تو دن بھر کی پاؤں میں جمی گرد صاف ہوجاتی ہے اور ہم تروتازہ ہوجاتے ہیں یوگا کے ماھرین کہتے ہیں کہ رات کو سونے سے قبل اگر انسان اپنے ہاتھ منہ پیر اور دوسرے اعضأءکو ٹھنڈے پانی سے دھو لے تو ساری دن بہر کی ساری تھکن دور ہوجاتی ہے اور پرسکون نیند آجاتی ہے اسی طرح چینی ماھرین کا ایک علم ریفلیکسو تھراپی بھی ایسا ہی علم ہے جس میں پانی کی پہوار سے انسان کو سکون مہیا کیا جاتا یے اس لئےتحقیق سے یہ ثابت ہوگئی کہ انسان جو پانچ وقت وضو کرتا ہے تو اس کی ریفلیکسو تھراپی ہو جاتی ہے جس سے اس کے اعصاب پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں .

اس لئے ہمیں چا ہئے کہ ہم باوضو رہنے کی عادت کو اپنالیں اور اس کے فیوض و برکات سے مستفید ہوں اور جب ہم باوضو رہنے کے عادی ہوجائیں تو دوسروں کو بھی اس بات کی تلقین کریں تاکہ ہمیں اس کا بھی ثواب ملتا رہے مجھے امید ہے کہ کافی لوگ آج سے ہی وضو میں رہنے کی مشق شروع کردیں گے .(انشأاللہ)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد یوسف راهی

Read More Articles by محمد یوسف راهی: 23 Articles with 11676 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jun, 2018 Views: 1502

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ