ریت کے ستون

(Aina Syeda, Karachi)
جمہوریت عوام کی آواز ہے اور اسکی بنیاد اداروں پر قایم ہے
یہ ادارے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں تو جمہوریت بھی مضبوط ہوتی ہے اور عوام بھی فلاح پاتی ہے اور یوں ملک بھی مضبوط ہوتا ہے
مگر یہی ادارے جو جمہوریت کے ستون مانے جاتے ہیں اگر ظلم ، جبر ،کرپشن اور عوام دشمنی کو اپنا مقصد بنالیں تو ریاست کمزور اور عوام متنفر ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ نتیجہ ؟ ملکی انتشار ، غیر محفوظ و مایوس عوام اور ایک ناکام ریاست بھی

جب کسی ملک کے ادارے اپنے فرایض منصبی کی ادائیگی کو گڈ مڈ کر دیں تو عام افراد بھی اپنی حدود کو نہیں پہچانتے کبھی نااہلیت تو کبھی کرپشن فرایض کی ادائیگی میں رکاوٹ بنتی رہتی ہے اور یہ نااہلی اور کرپشن جسکو اکثر پاکستان کی "پارلیمنٹ " سے جوڑا جاتا ہے وہ ہر ادارے کا طرہ امتیاز رہی ہے اس لیے یہ غلط فہمی دورکرلینی چاہیےکہ صرف عوام کے منتخب نمایندے ہی " نااہل " یا "کرپٹ " ہیں
وہ ستون جن پرایک جمہوری مملکت کی چھتیں ڈالی جاتی ہیں ہمارے ہاں وہ سب کے سب انیس بیس کے فرق پر نااہل اور کرپٹ ہیں مگرایک ڈھیٹائی کی انتہا یہ ہے کہ بہت آسانی سے انتظامیہ ، عدلیہ اور میڈیا اپنی اپنی انگلیاں مقننہ کی طرف اٹھا کر خود بدترین نااہلیت اورکرپشن سے بری الذمہ قرار ہونے کی "کامیاب "کوشش کرتے رہتے ہیں یہ درست ہے کہ ستر سال بعد بھی ہم سو فیصد خوا ندگی حاصل نہیں کر سکے مگریہ امر بہت افسوسناک ہے کہ جوافراد خواندہ بھی ہیں اور اعلی تعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیں وہ شعور میں ان سے بہت زیا دہ پیدل ہیں جنہوں نے شاید زندگی میں کبھی کتاب کا منہ بھی نہیں دیکھا ہو ایسے "تعلیم یافتہ " اکثر آپکو مختلف اداروں کی "پاکیزگی " پر خطبات دیتے ملیں گےمگر گھما پھرا کر پارلیمنٹ کے ارکان کو سب گندگیوں کا منبع قراردیں گے
بھلا کوئی ایسے پڑھے لکھوں سے پوچھے کہ جس دودھ کی دیگچی میں چھپکلی گرجاۓ اسکےایک کپ دودھ کو زہریلا کہنا اور باقی کو " آ ب زم زم " سے ملانا کہاں کی عقلمندی ہے ؟
ریاست کے حال احوال جاننے کا جو قا بل عمل طریقہ ترقی پزیر ممالک میں رائج ہے وہ اخبارات اورالیکٹرانک میڈیا ہے
پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ انکو ٹی وی سے نیوز دیکھنا اخبارات کے مطآ لعہ سے بہت زیادہ آسان لگتا ہے. پاکستان میں اخبارات خرید کر پڑھنے کا رواج کبھی بھی عام نہیں رہا نیوز میڈیا کےاسکرینوں پرآنے سے پہلے ایک بندہ اخبار پڑھتا تھا اور دس اسکے ارد گرد جمع ہوکر خبریں سنتے. لوگوں کی طبیعتوں میں آجکل جیسی "چغل خوری " یا شرارت نہیں تھی اسکے باوجود کبھی اخبار سنانے والا تو کبھی سننے والے اپنی مرضی کا تڑکہ ضرور لگا دیتے
مگر آج یہ کام ٣٤ چینلز بآسانی کر رہے ہیں وہ ہمیں اس بات کا موقع نہیں دیتے کہ ہم ٹیبلویڈ پڑھیں بلکہ خبریں اور جھوٹ ،افواہیں اور حقیقتیں سب کچھ گڈ مڈ کر کے پیش کر دیا جاتا ہے
خبر کی حقیقت کہیں بہت پہلے ختم کر دی جاتی ہے پہلے اسکو بلیٹین میں ہی اپنے تبصروں اور اخبار کی پالیسی کے بگھار لگا کر سامنے لایا جاتا ہے پھر اپنی مرضی سے اس خبر کے کسی خاص حصے کو مزید رنگ برنگا کرنے کے لیےتین بولنے کے ماہر اور ایک عدد "سینئیر تجزیہ کار " بیٹھا لیے جاتے ہیں موڈریٹر بھی نام کا ہی ہوتا ہے کیوں کہ اکثر بحث کو گرم ہوتا دیکھ کر پانی ڈالنے کی بجاۓ تیل کا "چھڑکاؤ" کرتا رہتا ہےتاکہ ریٹنگ کی آگ بھڑکے
دنیا خبریں دیتی ہے ہم بیچتے ہیں اسکے باوجود اینکرز،صحافیوں ،تجزیہ کاروں اور دانشوروں کا خیال ہے کہ اس قسم کا جھوٹ اور جگتوں پرپلنے والا لالچی میڈیا معاشرے کو درست سمت اور ملک کو بحرانوں سے بچانے میں کار آمد ثابت ہوگا

عدلیہ کی طرف چلیں تو اس ادارے کو بھی اسکے اپنے ہی "مجاہدین " لے ڈوبے جنکو عوام و خواص سے پردہ کرنا چاہیے تھا وہ اپنے " ٹکرز "اورپرایم ٹائم شوزمیں فوٹیجز دیکھ دیکھ کر جیتے ہیں
سا ئل کی قانونی درخواست سے زیادہ انکو میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلتے ہلے گلے اور ٹرینڈز کی پرواہ ہوتی ہے یعنی جسکی آواز چیخ و پکار میں دب جاۓ اسکو انصاف صرف خدا کے پاس سے ہی ملے گا
سیاسی مقدمے نپٹانا ،ہائی پروفایل مقدموں میں ڈائیلاگ بازی کرنا ، فیصلوں میں غزل سرائی کرنا "توہین جج " کو توہین عدالت بنا دینا اور پھراسکو ایک ھتیار کے طورپراستعمال کرنا وہ بھی اس طرح کہ ایک جیسے توہین کے مقدموں میں کسی کے دل پر گولی چلا دی تو کسی کے صرف گھٹنے کو چھو کریہ گولی گزر گئی ..... اورتو اوربعض کو صرف ہوائی فائرنگ سے ہی ڈرا کرجج صاحب پھولے نہیں سماتے ........ اب بھی کسی کو یہ شک ہے کہ عدلیہ پارلیمنٹ کے مقابلے میں زیادہ فعال ہے، اہل ہے، کرپشن سے پاک ہے تو اسکواپنی "بلوغت " کا انتظار کرنا چاہیے امید ہے تب تک بات سمجھ میں آجاۓ گی
انتظامیہ کا کیا قصہ چھیڑ یں کہ یہ تو کھلے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ہر محکمہ خاص طور پر ایسے محکمے جنہیں قانون کو قایم کرنا ہے، جرایم کا قلع قمع کرنا ہے، اپنی نااہلیت اور کرپشن میں سب سے آگے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انکی جڑوں میں ایسےجرایم پیشہ یا لالچی لوگ بیٹھ چکے ہیں جو ایسے فرض شناس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں جن کے کردار صاف ہوں اور وہ اپنے فرایض منصبی بہترطور پر ادا کر رہے ہوں
محکموں میں چھپے بیٹھے یہ " قاتل " بڑی سازشوں کا حصہ ہوتے ہیں اسی لیے نہ جرایم کا تدارک ہو پارہا ہے نہ مجرموں کی پکڑ یقینی ہے بلکہ ایک مدت سے ہم ایسے "گھس بیٹھیوں " کو سیاسی مخالفین کو دھمکانے سے لیکر بیگناہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرتے دیکھ رہےہیں
افراد کوغایب کیا جاتا ہے، انکوریاست کے ٹارچرسیلوں میں اذیتیں دی جاتی ہیں ، کبھی مارڈالا جاتا ہے اور اگر کبھی رہا کر دیا جاۓ تو وہ زبان کھولنےکےقا بل نہیں ہوتے اب یہ کرپشن نہیں تو کیا ہے ؟ اس سے بڑی نا اہلیت کیا ہوسکتی ہے کہ کوئی ملزم ہو تو اسکو عدالت میں پیش نہ کیا جاۓ اورخود عدالت لگا کرسزا دے دی جاۓ.
ماوراۓ عدالت قتل جب کسی ملک میں عام ہوجائیں توایسی ریاست " ناکام ریاست " کہلاتی ہے
سوحالات یہی بتا رہے ہیں کہ

سارے ستون ریت کی بنیاد پر اٹھائے
ہم نے کس احتیاط سے تعمیر گھر کیا

اگراس مملکت کو سنبھالنا ہے تو بہترہے بنیادوں میں لگی دیمک کا علاج کریں اوراگر “سانجھے کی ہنڈیا “ نہیں سنبھالی جارہی تو بھی احسن فیصلے کیے جائیں اور بے بسوں کے حقوق اور بیگناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی بجاۓ مکمل صوبائی خودمختاری یا آزاد ریاستوں کی طرف سفر شروع کیا جاۓ شاید اس طرح ہم بہتر شہری بن سکیں اور ادارے اپنے فرایض اور جوابداری کو اولین اہمیت دیں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: aina syeda

Read More Articles by aina syeda: 37 Articles with 38628 views »
I am a teacher by profession, a writer by passion, a poet by heart and a volunteer by choice... View More
22 Jun, 2018 Views: 414

Comments

آپ کی رائے