ملک میں تبدیلی کیسے لائی جا سکتی ہے؟

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: نور بخاری، فیصل آباد
فرمان قائد ہے کہ: ’’میرے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو دیانت داری ، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنی چاہیے‘‘۔ ملک میں تبدیلی لانے کے لیے ہمیں خود کو تبدیل کرنا ہو گا خود اپنی اصلاح کرنی ہوگی کیونکہ اس معاشرے کا ہم خود بنیادی حصہ ہیں۔ پہلے ہمیں خود کا جائزہ لے کر اپنی خامیاں سدھارنا ہیں۔خود کو اہل کرنا ہے۔ اپنے اندر مثبت سوچ لانی ہے۔ ایسی مثبت سوچ جس کے ذریعے ہم اپنے کی منفی اور تخریب کارانہ سوچوں کو شکست دے کر اپنی سوچوں اور ارادوں کو یکجا کرکے دوسروں کے لیے خود کو مددگار ثابت کرسکیں اور خود کو قرآن کے پلیٹ فارم پہ لاسکیں۔ خود میں بدلاؤ لاکر ہی ہم دوسروں میں بدلاؤ لانے کے قابل بن سکتے ہیں۔ تبھی ملک میں تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے قوم متحد ہو۔ پہلے فردا فردا اپنی اصلاح کی جائے۔ اس سے معاشرے کی اصلاح ہو گی۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اسی طرح سے تو ملک بدلا جا سکتا کہ پہلے خود کو بدلا جائے۔ خود کو نکھارا جائے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور اسلام کیا ہے؟ اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے ،وہیں اجتماعی زندگی کے زریں اصول بھی وضع کرتا ہے ،جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے۔ اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکل یہ پاک ہے۔ اسلامی جمہوری نظامِ حیات میں جہاں عبادات کی اہمیت ہے، وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے۔

یہ ملک کہنے کو تو اسلام کے نام پر لیا گیا ہے پر المیہ یہ ہے کہ اسلام کے مطابق یہاں کچھ نہیں ہوتا۔ تبھی اس وقت ملک سنگین حالات سے دوچار ہے۔ ملک کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسرے مذاہب کی رسموں روایات کو اپنانا باعث فخر سمجھا جانے لگا ہے۔ جب کہ اسلام پر چلنے والوں کو تنگ ذہن ، تنگ نظر یا دقیانوس سمجھا جاتا ہے۔ اس سے بڑی فکر کی بات اور کیا ہو سکتی کہ اسلام کے نام پر بننے والے ایک ملک میں پروپیگنڈہ کے تحت اسلام سے ہی دور کرنے کی کوشش کی جارہی اور کسی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہے۔ علوم جدیدہ کی تقلید میں مست یونیورسٹیوں کی بھر مار، جدیدعلوم کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور حکومت کے عدم تحفظ کے شکار اسلامی ادارے تقریبا ناپید ہوتے جارہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔ ہمارے ملک میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کواسی اسلامی تاریخ پر اعتماد کرنا پڑتا ہے جو مسلمانوں کے رقیبوں یا مخالفوں کی مرتب کی ہوئی مسخ شدہ انگریزی تصانیف میں موجود ہے۔لہذا اسلامی معلومات کی کمی اور دوسری قوموں کے من گھرٹ افسانے اور کہانیاں مسلمانوں کے ذہنوں کو تباہ کر رہیں ہیں۔ہمارا زوال یہی ہے کہ ہم ویسے ہی ہوتے جارہے ہیں جو یورپ والے چاہتے ہیں۔

اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جایا سکتا کہ کس طرح سے صوبائی و لسانی تعصب بڑھ گیا ہے۔ کرپشن زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ جھوٹ مکر و فریب بڑھ گیا ہے۔ پردہ ختم ہوتا جا رہا فحاشی و عریانی بڑھ گئی ہے۔ ادب و احترام ختم ہوتا جا رہا تجارت پیشہ افراد اسلامی تعلیمات سے حد درجہ دوری پر نظر آتے ہیں۔ لوٹ مار کا چور بازار سرگرم عمل ہے۔ عجیب نفسا نفسی کا عالم ہے۔

ملاوٹ کا عنصر ہمارے معاشرے میں دن بدن پھیلتا جا رہا ہے۔ اس کے تدارک کرنے والے ادارے ڈی ایچ او، ڈی ایف او، ڈرگ کنٹرول اتھارٹی، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں کو مکمل ناکامی کا سامنا ہے۔جس میں ملک میں ادویات میں ملاوٹ ہو ،دو نمبر ادویات کی خرید وفروخت کھلم کھلا جاری ہو وہاں شرح اموات اور بیماریوں میں اضافہ واضح امر ہے چند دنوں میں کروڑ پتی بننے کی دوڑ نے ہمیں اندھا کردیا ہے۔ہم خدا اور رسول صلی علیہ وسلم کے احکامات کو بھلا کر مکروہ دھندے میں ملوث ہیں کیونکہ یہاں کو ئی سخت قانون یا سزا نہیں ہے۔اس لئے رہائی یاجرمانے کے بعددوبارہ زور شور سے ملاوٹ کا کام شروع کردیاجاتا ہے۔دودھ ،گھی ،تیل، مشروبات، جوس، ادویات، مرچ حتی کہ ہم نمک جیسی سستی شئے میں بھی ملاوٹ سے باز نہیں آتے۔’’جو کسی جان کو ناحق قتل کرے یا زمین میں فساد پھیلائے یہ گویا ایسا ہی ہے جیسے پوری انسانیت کا قتل کر دیا جائے اور جس نے کسی ایک کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا‘‘(القرآن)

ایک اور اہم ترین مسلہ فرقہ پرستی ہے۔جہلا نے دین کے مسائل میں بڑی زباں طرازی کی ہے، دنیوی تعلیم یافتہ بعض حلقوں نے مستشرقین و فرقہ پرستوں کی جدید بولی کو بنا سوچے سمجھے قبول کر کے فتنے کو راہ دی۔فرقہ پرستی ایک بہت بڑا خطرہ ہے جس پر قابو پانا ملکی مفاد میں ہے۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں زاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

جیسے کہ ملکی سالمیت کے لیے صوبائی و لسانی تعصب ایک خطرہ ہے اسی طرح فرقہ پرستی بھی نقصان دہ ہے۔ فرقہ پرستی قوم کو گروہوں میں بانٹ دیتی۔ اتحاد ختم کر دیتی۔ اس سے ملک میں تبدیلی لانا ازحد مشکل ہوا جا رہا۔ اسلام قتل و غارت اور فسادات کو پسند نہیں کرتا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’اﷲ تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتے‘‘۔ اس سب صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں تبدیلی لانا ازحد ضروری ہو گیا ہے۔ اس کے لیے اسلام کا نفاذ کرنا پڑے گا اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ اگر اسلام سے آگاہی عوام کو ملے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’اﷲ نے وعدہ دیا ہے ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ضرور ان کو زمین میں خلافت دے گا، جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور ان کے لیے جما دے گا ان کا وہ دین جو ان کے لیے پسند فرمایا اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا (اگر وہ) میری عبادت کریں گے میرا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں‘‘۔مسلمانوں کو یہ4کام کرنے ہوں گے ، ایمان کی دعوت دینا۔ نیک اعمال کرنا اور اس پر استقامت۔ اﷲ کی عبادت کرنا، توحید پر قائم رہنا اور شرک سے ہر درجہ بچنا اگر ہم یہ کام کریں گے تو یقینا ان کے بدلے میں اﷲ ہمیں انعامات سے نوازے گا۔

بحیثیت قوم ہر فرد کی ذمے داری ہے کہ تبدیلی کے لیے اپنے حصے کا کام سرانجام دے۔ میڈیا بہت زیادہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور ویسے بھی میڈیا کی بہت ذمہ داری بھی ہے۔ پر افسوس! کام اس لیے اچھا نہیں ہو رہا کہ غلط لوگوں کے کنٹرول میں ہے میڈیا۔ جو کہ قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ بہت کم اچھے لوگ ہیں جو میڈیا کا استعمال اصلاح کے لیے کر رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اﷲ تعالیٰ کی ذات پر مکمل یقین، مثبت سوچ اور پختہ ارادے رکھنا چاہیے۔ اتحاد کی فضا میں سب کو قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔ جس سے ہم معاشرے کی اندرونی اور بیرونی برائیوں اور سازشوں پہ قابض ہوسکتے ہیں۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 516644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jun, 2018 Views: 177

Comments

آپ کی رائے