آنے میں بہت دیر کردی

(Sohail Aazmi, Dera Ismail Khan)
امت محمدیہ اجتماعی امت ہے ۔امتوں کی سردار ہے ۔دعوت الی اﷲ کا کام اجتماعی طور پر اس کے سپرد کیاگیا ہے ۔اﷲ کے فضل سے دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں یہ کام نہ ہورہاہو ۔اس سے بڑی موجودہ دور میں نہ تو کوئی تحریک ہے اور نہ ہی کام اس کام کے کرنے والوں کے اخلاص،محنت ،لگن اور قربانیوں کے باعث احیاء اسلام کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ذیل میں دنیا بھر میں کام کرنے والی جماعتوں کی چند کارگزاریاں دے رہا ہوں تاکہ ہمیں بھی اپنی اس اہم اور بڑی ذمہ داری کا احساس ہو کیونکہ آج تو مسلموں میں سے اکثر یہ گلہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمارے پاس تبلیغ کے لئے آنے میں بہت دیر کردی ۔متحدہ عرب امارات سے ایک جماعت چالیس دن کیلئے روس میں تبلیغ کی غرض سے گئی۔تو جس مسجد میں انکی تشکیل ہوئی بدقسمتی سے اسکا قفل بھی زنگ آلود ہوچکا تھا ۔ جماعت کے ساتھیوں نے مسجد کھولی تو ساری مسجد مٹی کا ڈھیر بنی ہوئی تھی ۔پوری مسجد میں گرد جمع تھی انہوں نے پوری مسجد کی صفائی کی نماز کا وقت ہوا آزان کی آواز سن کر ایک بڑھیاتیز قدموں سے چلتی ہوئی مسجد کی دہلیز پر آکھڑی ہوئی ۔اور حیرت سے جماعت کے ساتھیوں کو تکنے لگی ۔غور سے اردگرد کا معائنہ کرتی رہی۔ ساتھیوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں یہی پڑوس میں رپتی ہوں ستر سال ہوگئے ہیں میں نے کبھی اس مسجد میں کسی کو آتے نہیں دیکھا ۔جیسا آپ کو کرتے دیکھا یہ سب میرے باپ دادا کرتے تھے لیکن انکے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا سب بدلتا گیا ۔ جب تبلیغیوں نے یہ دل سوز باتیں سنیں تو رونے لگ گئے کہ ھم نے آنے میں بہت دیر کردی ۔اگلے دن یہ لوگ محلے میں گھر گھر دکان دکان پر جا کرکے لوگوں کو جو ناسمجھی کی وجہ سے مرتد ہوچکے تھے انکو اسلام کی دعوت دی پھر سے مسلمان کیا اور مسجد میں لائے ۔چند ہی ہفتوں میں پورے محلے میں دین کی لہر آ گئی ۔ جیسا کہ اسلام انکے کیلئے اک نیا مذہب ہو ۔کچھ دنوں بعد محلے والوں نے 5000 گز کی قالین پر تمام لوگوں کو جمع کیا اور جماعت والوں سے دین کے معاملات سیکھے اور مزید محنت کیلئے لوگوں کو تاکید کی ۔پھر جب ان کے چالیس دن پورے ہوگئے تو انکی رخصتی کے دن اس محلے میں گھمسان کا عالم تھا جیسے کہ انکا کوئی خاص عزیز فوت ہوگیا ہو ۔ یہ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟؟ کیا آپ لوگوں کو دکانیں چاہئیں؟ ؟کیا آپ لوگوں کو مکان چاہئے یا عورتیں؟ ؟؟ دکان مکان کا بندوبست ھمارے ذمے ہے ھم اپنی بیٹیوں کے نکاح آپ سے کرنے کیلئے تیار ہیں بس آپ لوگ ھمارے ساتھ رہ کر ھماری اسلام سے متعلق مزید رہنمائی فرمائیں ۔تو جماعت والوں نے انکو اپنی ترتیب سے متعلق بتایا لیکن وہ مانے ۔ وہ لوگ بضد تھے کہ آپ لوگ واپس نہ جائیں کہیں پھر سے ھماری نسلیں تباہ نہ ہوجائیں تبلیغیوں نے اپنی مجبوریاں اور تقاضے بتائے تو بلاخر اس بات پر وہ آمادہ ہوگئے کہ ھم لوگ جاتے ہی اک دوسری جماعت بھیجنے کے لئے اپنے مرکز میں درخواست کریں گے ۔اس طرح سے یہ جماعت اﷲ کی راہ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئی۔امریکہ میں قریبا 52 صوبے ہیں وہاں کے لوگ جب رائیونڈ میں اجتماع پر آئے تو درخواست کی کہ ھمیں ہر صوبے کیلئے الگ سے ایک جماعت چاہئے جو دردر پہنچ کر اسلام کی حقانیت سے لوگوں کو مستفید کریں۔امریکہ میں اک جماعت گئی اس جماعت کے دولوگ ایک بندے کے پاس دین کی غرض سے پہنچے تو اس نے اک بندے کا گریبان پکڑ کر کہا میرے ابو امی بغیر کلمہ پڑھے اس دنیا سے چلے گئے ہیں اس سب کے ذمہ دار تم لوگ ہو ۔ تم لوگوں نے دین پہنچانے میں بہت دیر کر دی قیامت کے دن میں تم لوگوں سے اس بات کا حساب لونگا ۔ جب اس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس سے اس ملال کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کچھ ہی ماہ پہلے وہاں کی اک دوسری جماعت آئی تھی جنکی بدولت یہ بندہ اسلام سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوا ہے اور اسکو دکھ ہے کہ اسکے والدین بہت بڑی نعمت سے شرمندہ ہوکر ھمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں جلیں گے۔فلپائن میں 400 سال پہلے 100 فیصد مسلمان تھے لیکن اسلام سے ناھم آہنگی کی بدولت یہ لوگ اسلام سے دور ہوتے گئے اور کچھ لوگ تو برائے نام مسلمان رہ گئے باقی سب مرتد ہوگئے ۔ کسی کا بھائی عیسائی تو کسی کا باپ ۔جب پہلی بار 19766 میں رائیونڈ سے وہاں جماعت گئی تو سات آدمی اس کام میں لگ گئے پھر 1993 تک ایک لاکھ فلپائینی تبلیغ کی محنت پر گامزن ہوچکے تھے . ۔بنگلہ دیش میں تبلیغی اجتماع کے موقع پر ایک فرانسیسی آچانک ممبر پر آکر کہنے لگا کہ اے لوگو ھم نے تم لوگوں تک چھوٹی سے چھوٹی اپنی ایجادات بھیجی تاکہ سارے لوگ ھماری ایجادات سے مستفید ہوں لیکن تم نے لوگوں نے مفت کا کلمہ تک ھمارے اجداد سے روکے رکھا اسکا حساب اﷲ تم سے لے گا ۔چند سال پہلے تنزانیہ میں ایک جماعت گئی ۔ کچھ ماہ بعد انکا ایک خط رائیونڈ میں موصول ہوا کہ یہاں کے لوگوں میں دین کی اتنی طلب اور پیاس ہے کہ ایک دن میں 3ہزار لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول کر لی ۔اور جب وہ جماعت سال پورا کرکے واپس آئی تو کارگزاری میں بتایا کہ ایک سال میں 20 ہزار لوگ مسلمان ہوئے ہیں ۔انگلینڈ میں 1952 میں جب پہلی جماعت گئی تو وہاں صرف دو مسجدیں تھیں اور اب تبلیغ کی محنت اور اﷲ کے کرم سے 1500 مساجد ہیں۔ جن میں سے 100 سابقہ گرجا گھر ہیں ۔ انگلیڈ والوں کا کہنا ہے کہ وہاں اب گرجا گھر بہت کم رہ گئے ہیں جب بھی کوئی گرجا گھر فروخت ہونے لگتا ہے تو مسلمان خریداری میں پہل کرتے ہیں ایک گرجا گھر کی خریداری پر ایک ہندو نے مندر بنانے کیلئے قیمت میں چھڑائی کردی تو مسلمانوں کی عورتوں نے اپنے زیور بیچ کر اسکی رقم ادا کی اور گرجا گھر کی جگہ مسجد تعمیر کرائی ۔یاد رہے گرجا گھروں کی جگہ مسجدوں کی تعمیر کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے حکومت نے پابندی بھی لگائی تھی ۔ اب وہاں گرجا گھر صرف اتوار والے دن کھولے جاتے باقی پورا ہفتہ بند رہتے ہیں ۔یوگوسلاویہ میں جب پہلی جماعت گئی تو دور دور تک مسجدوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے انکو ہوٹل میں رہنا پڑا اور اب الحمدﷲ دعوت و تبلیغ کی محنت سے وہاں آج 3500مساجد آباد ہیں ۔ہالینڈ کا موجودہ تبلیغی مرکز پہلے پادریوں کا دینی مدرسہ تھا جہاں پر پادریوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی ۔لندن میں جو تبلیغی مرکز ہے وہ پہلے عیسائیوں کا گرجا گھر تھا ۔ کینیڈا میں پادریوں کا ایک بہت بڑا مدرسہ تھا لیکن آج وہاں پر قرآن و حدیث کا درس دیا جاتا ہے ۔فلپائن سے ایک جماعت کو کیوبا بھیجا گیا جس کی برکت سے وہاں کے 3000 مرتدوں نے کلمہ پڑھا اور 30 باقی لوگ بھی اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔جب یہ جماعت واپس آنے لگی تو کیوبا والے زارو قطار رونے لگے اور درخواست کی کہ ھمارے بھائیوں سے کہنا ھمیں بھول نہ جائیں ھمارے یہاں راہنمائی کیلئے اسلام کے فروغ کیلئے اور ھماری نسلوں کے ایمان کے تحفظ کیلئے آتے رہنا ۔ فلپائن میں عورتوں کی ایک جماعت گئی تو انکا بیان سن کر60 فلپائینی عوروتیں نے وہیں بیٹھ کر اپنے لئے برقعے منگوائے اور واپسی پر برقعوں میں ملبوس ہوکر واپس گھر ہوئی ۔ انہوں نے اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کیلئے رائیونڈ بھیجا جب پتہ چلا کہ دینی تعلیم کیلئے پوری دنیا سے لوگ رائیونڈ کی طرف آرہے ہیں اور تعداد میں کثرت کی وجہ سے کچھ بچوں کو واپس کیا جارہا ہے تو فلپائنی عورتوں کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ خدارا ھم نے اپنے زیور بیچ کر بچوں کو دین کہ تعلیم کیلئے روانہ کیا ہے خدا کیلئے انکو واپس نہ کرنا ورنہ یہ کبھی بھی دین کو سمجھ نہ سکیں گے ۔میری دعا ہے کہ اﷲ تعالی ہمیں بھی اس اہم فریضہ کو سنت نبوی ؐکے مطابق احسن طریقے سے پورا کرنے کی توفیق دے آمین ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 73831 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jun, 2018 Views: 401

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ