اس کے پیچھے وردی ہے

(Sheikh Imtiaz, Rawalpindi)

وطن عزیز کا دفاع مسلح افواج نے ناقابل تسخیر بنادیا ہے ۔جو قربانیاں دفاع وطن میں افواج پاکستان نے پیش کی ہیں اس کی دنیا میں نظیر نہیں ملتی ۔وطن کی فضاوں ،پہاڑوں، میدانون ،صحراوں ،مرغزاروں ،سمندروں ،کی حفاظت میں اپنی جانوں کے نظرانے پیش کے ۔ پاکستاں بننے سے لے کر آج تک کئی جنگییں ہم پر مسلط کی گئیں ، مگر اللّه کے فضل و کرم سے ہمیشہ سرخرو ہوئے ۔ آج ملک میں امن و خوشحالی ہے ۔خوف و حراس کے اندھیرے چھٹ گے اس کے پیچھے بہادر سپوتوں کی قربانی اور مقدس لہو ہے ۔

کراچی سے لیکر خبر تک دہشت گردی کا راج تھا ۔ بم دھماکے ،ٹارگٹ کلنگ اغوا براے تاوان کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔ضرب عضب ،ردالفساد کی بدولت اس ناسور کا قلعہ قمع کیا ۔قبائلی علاقوں کا امن واپس آگیا ۔ محب وطن قبائل بوڑے ،بچے ،جوان ،مرد عورت نے سکوں کا سانس لیا ۔درس گاہیں محفوظ ،بازاروں مارکیٹوں کی رونقیں پھر سے بحال ہوگئں ۔ کراچی کی سڑکوں پر بیگناہوں کا گرتا لہو تھم گیا ۔روشنیاں پھر سے واپس اگیں۔یہ سب صرف افواج پاکستاں کی لازوال قربانیوں نتیجہ ہے۔دفاع کے علاوہ بھی یہ جری جوان، پولیس، عدلیہ اور دیگر اداروں کی مدد کے لے ہما وقت چک و چوبند نظر آتے ہیں ۔ کسی ناگہانی آفت کا وقت ہو ،سیلاب کی تباکاریاں ہوں یا زلز لے کی ہولناکیاں مسلح افواج صفے اول کا کردار ادا کرتی ہے ۔یہ سجیلے جوان بارش ہو یا دھوپ ، گرمی هو یا سردی ،امن هو یا جھنگ قوم کی امیدوں کا مرکز ہوتی ہیں ۔
اے وطن تو نے پکارا تولہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے ،تیرے جانباز چلے آتے ہیں

دہشت گردی کی جنگ میں جو کامیابیاں پاک فوج نے سمیٹیں ان کامیابیوں کے لے امریکا اور اس کے اتحادی ستراں سالوں سے افغانستان کی خاک چھان رہے ہیں ۔
دو نیم یں کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

یہ سر بکف مجاهد سرحدوں پرپہرا دیتے ہیں تو ہم سکوں کی نیند سوتے ہیں ۔یہ اپنا آج ہمارے کل پہ قربان کرتے ہیں تو ہماری جان و مال محفوظ ہے ۔یہ شبانہ روز اپنی جان ہتھیلی پہ لے مادر وطن کا دفاع کرتے ہیں تو دشمن کے ناپاک ارادے خاک میں مل جاتے ہیں ۔
کھیلوں کے میدانوں سے لے کر تعلیمی اداروں تک ۔ گلی کوچوں سے لے کر بازاروں تک ۔ عبادت خانوں سے لے کر ہسپتالوں تک ۔ہر جگہ امن و آشتی ہے ۔اس سب کے پیچھے وردی ہے ۔ مسلح افواج ہے ۔بہادروں کی قربانیان ہیں ۔شہیدوں کا لہو ہے ۔
یہ جو سوہنی در ھتی ہے
اس کے پیچھے وردی ہے
مٹی خاطر خون دیا ہے
امن اور سکوں دیا ہے
پوچھو جا کے ان ماؤں سے
جن کے بیٹے خون نہا ے
دیس پی وار جوانی دی ہے
تم جو آج ب صف اران ہو

تم نے کیا قربانی دی ہے
تم دشمن کے ہاتھ پہ کھیلو
ہم مٹی پر جانیں دینگے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1108 Print Article Print
About the Author: Sheikh Imtiaz
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: