سی پیک۔حقائق اور غلط فہمیاں

(Shahid Mehmood, bhara kahu, islamabad)
سی پیک کے خلاف جاری پروپیگنڈے کا مدلل جواب

تین سال پہلے پاکستان اور چین کے درمیان ایک اقتصادی منصوبے پر دستخط کیے گئے جس کو سی پیک کا نام دیا گیا سی پیک ’’چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور‘‘ کا مخفف ہے جس کو اردو میں پاک چین اقتصادی راہداری کہا جاتا ہے ۔ شروع کے دنوں میں تو عوام بھی خوش تھی اور چند لوگوں کو چھوڑ کر سیاستدان بھی خوش تھے لیکن یہ خوشی ملک دشمن عنا صر کو ہضم نہیں ہوئی اور پاکستان کے اندر بیٹھے اپنے ایجنٹس کے ذریعے اس اہم منصوبے کو متنازعہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جس کی وجہ سے عام عوام کے ذہن میں خدشات نے سر ابھارنا شروع کر دیا ، اس کی اصل وجہ میڈیا اور سی پیک کے منصوبہ سازوں کے درمیان رابطوں کا فقدان تھا اس سلسلے میں گزشتہ دنوں اسلام آباد کے سریناہوٹل میں سی پی این ای اور پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے زیر اشتراک ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا سیمینار سے چین کے قائمقام سفیر لی جیان ژو ، ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عشرت حسین ،دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل،سی پی این ای کے صدر عارف نظامی،میڈیا کنسلٹنٹ حمیرا شاہد، پی ایف سی کے صدر ملک سلمان نے کالم نگاروں اور نیوز ایڈیٹرز سے خطاب کیا اور حقائق اور غلط فہمیوں پر مدلل انداز میں بریف کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ اخبارات میں نام نہاد دانشور غلط معلومات دے رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے ذہن میں غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے۔

سی پیک کے بنیادی طور پر چار حصے ہیں توانائی کے منصوبے ،انفرسٹرکچر، گوادر پورٹ اور شہر کی تعمیر، انڈسٹریل زون ۔ سب سے پہلے ان غلط فہمیوں کی بات کریں گئے جوعوام کے ذہن میں پائی جاتی ہیں اور پھر حقائق سامنے رکھوں گا تو قارئین کو اندازہ ہو جائے گا کہ سی پیک سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گئے اور مستقبل میں پاکستان کی اقتصادی صورت حال پر اس کا کیا اثر ہو گا۔

سی پیک کے بارے میں پائی جانے والی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ اس منصوبے سے پاکستانی ورکروں کو کوئی فائدہ نہیں اور چین اپنے ملک سے مزدوں کو اس منصوبے پر کام کرنے کے لیے بھرتی کر رہا ہے جبکہ حقیقت اس سے برعکس ہے یہ بات ضرور ہے کہ اس میں چائنا سے تعلق رکھنے والے مزدور اور انجینئیر بھی کام کر رہے ہیں لیکن اس میں پاکستانیوں کی تعداد ان سے کئی گنا زیادہ ہے جیسے ملتان تا سکھر موٹروے پر 24000پاکستانی مزدور کام کر رہے ہیں،حویلیاں تا تھاکوٹ 6400 ، پورٹ قاسم پر 3000 اور قائد اعظم سولر پلانٹ پر 1500 پاکستانی مزدورکام کر رہے ہیں اور باقی منصوبوں پر تعداد اس کے علاوہ ہے جبکہ مستقبل میں شروع کیے جانے والے منصوبوں میں بھی ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔

دوسرا خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہ کوئلے سے بجلی بنانے کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہو گا اور یہ منصوبہ ماحول دوست نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا میں کوئلے سے ایک تہائی بجلی بنائی جا رہی ہے اور یہ مکمل ماحول دوست منصوبہ ہے اور چائنا میں بھی کوئلے سے بجلی بنانے کے ایک ہزار پلانٹ لگائے گئے ہیں جو کہ ماحول دوست بھی ہیں اور ان سے بجلی بھی سستی بنتی ہے جس سے قومی خزانے کو فائدہ ہو گا ۔
ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ چائنا ان منصوبہ جات کے لیے پاکستان کو زیادہ شرح سود پر قرضہ دے رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت اور زر مبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچے گا اور ملکی قرضوں میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا ،حقائق کو پرکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ چائنا نے اس سلسلے میں پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر صرف 5 سے 6 فیصد شرح سود پر قرضے دیے ہیں اور دے گا جو کہ بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے۔
صوبوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے ایک شوشہ یہ بھی چھوڑا گیا ہے کہ سی پیک سے صرف پنجاب کو فائدہ ہوگا اور خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ کو مکمل نظر انداز کیا گیا ہے،جبکہ حقائق کے مطابق پورے پاکستان کو اس کا فائدہ ہو گا کے پی کے میں حویلیاں تا تھا کوٹ موٹروے منصوبہ اور کاغان ویلی میں لگنے والے منصوبے اس کی زندہ مثال ہیں جبکہ ملتان تا سکھر موٹروے بھی سی پیک کے تحت ہی بنائی جا رہی ہے توانائی منصوبے اس کے علاوہ ہیں۔

قارئین ! یہ کچھ حقائق تھے جو میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں اس کے علاوہ توانائی کے کافی منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے جس سے 8000 میگاواٹ کے قریب بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو چکی ہے جب کہ توانائی کے بہت سے منصوبے 2019 کے اوائل میں مکمل ہو جائیں گئے اور پاکستان توانائی کے بحران پر کافی حد تک قابو پا لے گا۔جبکہ سی پیک کے ٹوٹل بجٹ میں سے صرف توانائی کے منصوبوں پر 68 فیصد حصہ رکھا گیا ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بھی توانائی کا ہے جس کی وجہ سے صنعتیں ترقی نہیں کر رہیں۔

دیگر منصوبوں کے تحت سکول، فنی تربیت کے مراکز، اور ہسپتال بھی بنائے جا رہے ہیں جس سے عام عوام کو تعلیمی سہولیات اور صحت کے متعلق سہولیات ملیں گی جبکہ پاکستانی نوجوان فنی تربیت حاصل کر کے خود کفیل ہو جائیں گئے اور پاکستان میں ایک مضبوط اقتصادی،صنعتی اور زرعی انقلاب آئے گا ۔

قارئین!شاید یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے دشمن ممالک کو یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا اور اس کو ناکام بنانے کے چند بکاؤ اینکرز اور سیاستدانوں کے ذریعے عوام کے ذہن میں غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں جبکہ ملک میں آپ جیسے محب وطن پاکستانیوں کی وجہ سے انشاء اللہ یہ انقلاب ضرور آئے گا اور اس مقصد کے لیے سب کو متحد ہونا پڑے گا، اس حوالے سے سی پی این ای اور پی ایف سی کی کاوشیں قابل قدر ہیں جنہوں نے سینیئر کالم نگاروں اور نیوز ایڈیٹرز کے لیے اس تقریب کا اہتمام کیا اور حقائق سے آگاہی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے صدر ملک سلمان جیسے نوجوانوں کا جذبہ قابل قدر ہے جنہوں نے اس حوالے سے میڈیا اور سٹک ہولڈرز کے درمیان خلیج کم کرنے کی کوشش کی جبکہ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ آئندہ بھی ایسی تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا اور جلد ہی سی پیک روٹ کا وزٹ بھی کروایا جائے گا جس سے مزید حقائق سامنے آئیں گئے۔ پاکستان زندہ آباد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Mehmood

Read More Articles by Shahid Mehmood: 23 Articles with 10437 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jun, 2018 Views: 157

Comments

آپ کی رائے