ایم ایم اے کی پاکیزہ سیاست اور خفیہ طاقتوں کے مہرے

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, بہاولپور)
بعد ایم ایم اے کا راستہ روکنے کے لئے کچھ ایسے لوگوں کوسامنے لایا گیا جن کے دہشت گردوں کے ساتھ بہت قرینی تعلقات تھے بلکہ ان میں ایسے بہت سے لوگ بھی شامل ہیں جو بذات خود دہشتگردی کی کاروائیوں میں براہ راست شریک ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کو بڑی دینی جماعتوں نے وطن دشمنی بنا پرایم ایم اے جیسے بڑے اتحاد میں قبول نہیں کیا اس لئے کہ وطن دشمن سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو اپنے اتحاد میں شامل کرنا پوری قوم کےساتھ خیانت کے مترادف تھا لیکن ان ٹھکرائے ہوئِے لوگوں کو خفیہ ہاتھوں نے اپنی گود مہیا کر دی جس میں بیٹھ کر یہ شدت پسند خفیہ اشاروں پر ایم ایم اے کے قائدین کے خلاف زہر اگل رہے ہیں خفیہ ہاتھ ہوں یا ان کے مہرے سب بخٔبی جانتے ہیں کہ ایم ایم کے مقابلے میں ان کو ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملنا اس لئے صرف الزامات اور بہتانوں سے کام لے رہے ہیں۔
میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ان شااللہ خفیہ ہاتھوں کے مہرے منہ کی کھائیں گے اور ان کو پاکستانی عوام قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔میری وطن عزیز کے مقتدر اداروں سے استدعا ہے کہ اگر آپ کو وطن عزیز کا استحکام عزیز ہے تو خدارا دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیجئے اور جمہوریت کو پاکستان میں پنپنے کا موقع دیجئے۔

ایم ایم اے کی پاکیزہ سیاست

وطن عزیز میں ان دنوں سیاسی ماحول کافی گرم ہے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں انتخابات ووٹ حاصل کرنے کے لئے کمپین کا آغاز کر چکی ہیں پاکستان کی تمام دینی سیاسی جماعتیں بھی ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے ۲۰۱۸ کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں لیکن ایم ایم اے کے رھنماؤں کا ووٹ مانگنے کا طریقہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے منفرد اور جدا ہے ایم ایم کے پلیٹ فارم سے مخالفین پر جھوٹے الزام نہیں لگائے جاتے بلکہ حقائق کی بنیاد پر لوگوں کو ایم ایم اے کو ووٹ دینے کے لئے قائل کیا جاتا ہے میں عوامی بندہ ہوں عوام سے میرا انہتائی قریبی رابطہ ہے میرا مشاہدہ کہتا ہے کہ اگر غیر جانبدار الیکشنز ہوئے تو ایم ایم اے ایک بڑا سرپرائز دے گی لیکن موجودہ حالات کو دیکھ کر بعض اوقات میں مایوس بھی ہو جاتاہوں اس لئے کہ خفیہ طاقتیں اختیار کے زور پر سیاستدانوں کو دبانے کے لئے کوشاں ہیں ہمارا سب بڑی سیاسی پارٹیوں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن س کے ساتھ ساتھ یہ اتفاق رائے بھی ہے کہ ملک کی قسمت کے فیصلے عوامی منتخب نمایندوں کو کرنے چاہیئں لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکا آج بھی خفیہ ہاتھ ایک خاص جماعت کو اقتدار میں لانے کے لئے کوشاں ہیں جماعت اسلامی نے ہمیشہ بڑے سیاستدانوں کی کرپشن کے خلاف آوازاٹھائی ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ جواب میں ہمارے قائدین کی کردار کشی کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کمپین شروع کی گئی غیر معمولی سیاسی شعور کے مالک مولانا فضل الرحمن کی جس طرح کردار کشی کی گئی اور کی جا رہی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

ایک مخصوص سیاسی جماعت کو اقتدار تک پہنچانے کے لئے ریاست کے بعض مقتدر ادارے بنیادی اصولوں پر بھی سودا بازی کرتے نظر آ رہے ہیں ایک طرف بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاستدانوں کو جھوٹے الزام لگا کر الیکشن لڑنے سے روکا جا رہا ہے تو دوسری طرف ایم ایم اے کا راستہ روکنے کے لئے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو پاکستانی عوام کے کھلے دشمن ہیں ایم ایم اے کے انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان سے پہلے یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ یہ اتحاد پروان نہ چڑھے لیکن تمام دینی جماعتوں کی سیاسی بصیرت نے یہ کوشش اور منصوبہ بندی ناکام بنا دی اس کے بعد ایم ایم اے کا راستہ روکنے کے لئے کچھ ایسے لوگوں کوسامنے لایا گیا جن کے دہشت گردوں کے ساتھ بہت قرینی تعلقات تھے بلکہ ان میں ایسے بہت سے لوگ بھی شامل ہیں جو بذات خود دہشتگردی کی کاروائیوں میں براہ راست شریک ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کو بڑی دینی جماعتوں نے وطن دشمنی بنا پرایم ایم اے جیسے بڑے اتحاد میں قبول نہیں کیا اس لئے کہ وطن دشمن سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو اپنے اتحاد میں شامل کرنا پوری قوم کےساتھ خیانت کے مترادف تھا لیکن ان ٹھکرائے ہوئِے لوگوں کو خفیہ ہاتھوں نے اپنی گود مہیا کر دی جس میں بیٹھ کر یہ شدت پسند خفیہ اشاروں پر ایم ایم اے کے قائدین کے خلاف زہر اگل رہے ہیں خفیہ ہاتھ ہوں یا ان کے مہرے سب بخٔبی جانتے ہیں کہ ایم ایم کے مقابلے میں ان کو ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملنا اس لئے صرف الزامات اور بہتانوں سے کام لے رہے ہیں۔

میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ان شااللہ خفیہ ہاتھوں کے مہرے منہ کی کھائیں گے اور ان کو پاکستانی عوام قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔میری وطن عزیز کے مقتدر اداروں سے استدعا ہے کہ اگر آپ کو وطن عزیز کا استحکام عزیز ہے تو خدارا دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیجئے اور جمہوریت کو پاکستان میں پنپنے کا موقع دیجئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 26 Articles with 11042 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jun, 2018 Views: 178

Comments

آپ کی رائے