جھگی تعلیمی پروجیکٹ ۔۔۔ ایک قابل تقلید کاوش

(Shakeel Akhtar Rana, Karachi)
اس کے علاوہ ٹرسٹ جون کے مہینے میں
،’’Nomadic Residential Academy‘
کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے، جہاں ابتدائی طور 25خانہ بدوش طلبہ کو قیام وطعام کے ساتھ تعلیم کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی اور ابتدائی تعلیم کے بعدٹرسٹ اپنے خرچے پر ان طلبہ کو مختلف سکولوں میں بھیجے گا اور ان طلبا میں سے زندگی کے مختلف شعبعوں کے لیے قابل افراد تیار کیے جائیں گے، اس ابتدائی تجربے کے بعد ہر سال کثیر تعداد میں طلبہ کو اس پروگرام کے تحت تعلیم و تربیت دی جائے گی،

یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہےکہ دنیا میں موجود انسانوں کی اکثریت بس سانس چلنے کو زندگی سمجھتی ہے،زندگی کی حقیقت کیا ہے،اس دنیا میں انسان کی آمد کا مقصد کیا ہے،اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں،جس شخص کو بھی دو وقت کی روٹی میسر ہو وە خود کو کامیاب انسان سمجھتا ہے اور اگر کسی کو گاڑی اور بنگلے کی سہولت میسر ہو تو وە خود کو کامیابی کی ہرتعریف کا مصداق قرار دیتا ہے،غرض یہ کہ مادیت پرستی انسان کے رگ و پے میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ انسانی زندگی "حصول مال" کے محور کے گردش میں ہے اور مال کے حصول کو کامیابی کی آخری منزل سمجھ ہر کوئی مادیت کے گهوڑے پر سوار مال کے پیچھے سرپٹ دوڑ رہا ہے،عام انسان تو ایک طرف آج کل کے مسلمانوں کی اکثریت بھی اس دوڑ میں شریک ہوکر اپنا مقصد تخلیق بھلا بیٹھی ہے،مگردینا کے نام پر آباد انسانوں کے اس جنگل میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو مادیت پرستی سے کوسوں دور ایک وژن اور نظریے کے تحت زندگی گزارتے ہیں،انہیں اس حقیقت کا خوب ادراک ہے کہ مال کا حصول اس دنیا میں ایک وقتی ضرورت سے بڑھ کر کچھ نہیں،وە یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دنیا میں انسان کی آمد کا مقصد خدا کی بندگی اور مخلوق خدا کی دستگیری کے سوا کچھ نہیں،ایسے لوگ یقینا انسانیت کی معراج پر فائز ہیں اور کامیاب لوگ کہلانے کے مستحق یہی لوگ ہیں،اس طویل تمہید کے بعد آمدم برسر مطلب کہ چند روز پیشتر یہاں لاہور میں غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک ڈونر کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا،جس کے مہمان خصوصی معروف دانشور و تجزیہ نگار اوریا مقبول جان تھے،اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے میرا خیال تھا کہ یہ کوئی روایتی قسم کا ٹرسٹ ہوگا اور چند رٹے رٹے جملے دہرا کر چندے کی اپیل کی جائے گی اور کہانی ختم،مگر جب کانفر شروع ہوئی تو میں از اول تا آخر ایک خوشگوار حیرت مبتلا رہا،مکمل تفصیل بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں،صرف اس ٹرسٹ کے کام اور کارکردگی کا آنکھوں دیکھا حال آپ کے سامنے رکھ کر اجازت چاہوں گا۔

غیث ویلفیر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چئیرمین مولانا مبشر حسین نے غیث ویلفیر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کا تعارف کروانے کے بعد ٹرسٹ کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غیث ویلفئر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی بنیاد سن 2011 میں رکھی گئی تھی، ابتدائی طور پر اندرون سندھ کے بعض پسماندہ علاقوں میں مکتب اور سکول قائم کر کے ٹرسٹ نے اپنے کام کا آغاز کیا،سن2014 ء میں ٹرسٹ نے خانہ بدوشوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا اور خانہ بدوش بستیوں میں جھگی تعلیمی پروجیکٹ کے تحت جھگی سکولوں کا قیام عمل میں لایا، جس کے نتیجے میں انسانیت کے اس محروم ترین طبقے کے اندر اجتماعی شعور بیدار ہوا، الحمدللہ گزشتہ چار سالوں میں ملک بھر کے 22شہروں میں 30جھگی سکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جن کے ذریعے ٹرسٹ ساڑھے پانچ ہزار خانہ بدوش بچوں اور خواتین و حضرات کو تعلیم وتربیت کے زیور سے آراستہ کرچکا ہے۔ 22 شہروں میں موجود سکولوں کی مقبولیت اور ان میں خانہ بدوش برادری کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو سامنے رکھ کر ٹرسٹ نے موجودہ جھگی سکولوں کو ماڈل سکولز کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ رواں سال کے اختتام تک100ماڈل سکولز بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس کے علاوہ ٹرسٹ جون کے مہینے میں
،’’Nomadic Residential Academy‘
کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے، جہاں ابتدائی طور 25خانہ بدوش طلبہ کو قیام وطعام کے ساتھ تعلیم کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی اور ابتدائی تعلیم کے بعدٹرسٹ اپنے خرچے پر ان طلبہ کو مختلف سکولوں میں بھیجے گا اور ان طلبا میں سے زندگی کے مختلف شعبعوں کے لیے قابل افراد تیار کیے جائیں گے، اس ابتدائی تجربے کے بعد ہر سال کثیر تعداد میں طلبہ کو اس پروگرام کے تحت تعلیم و تربیت دی جائے گی، مولانا مبشر حسین نے مزید کہا کہ ہماری عدم توجہی کی وجہ سے عیسائی میشینریاں سادہ لوح خانہ بدوشوں کوسبز باغ دکھا کر عیسائی بنانے میں مصروف ہے،لاہور کے اندر ایک پوری خانہ بدوش بستی عیسائیت اختیار کرچکی تھی، الحمد للہ ہماری کوششوں سے وہ پوری بستی دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوچکی ہے، اس کےعلاوہ خانہ بدوش برادری اور ہمارے معاشرے کے درمیان طبقاتی تقسیم کی وجہ سے جو وسیع خلیج حائل ہے اس کی وجہ سے وہ لوگ دینی ودنیاوی طور پر انتہائی پسماندہ زندگی گزار رہے ہیں، ایک خانہ بدوش بستی کے اندر چند سال پہلے جب ہم نے رمضان المبارک کے مہینے میں تراویح کا آغاز کیا تو تراویح کے بعد ایک بزرگ نے روتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی اسی سالہ زندگی میں آج پہلی بار سجدہ کیا ہے، دوسری جانب مسلمان ہونے کے باوجود وہ اپنے اکثر بچوں کے نام ہندوناموں پر رکھتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان جو وسیع خلیج حائل ہے اس کو پاٹ کر خانہ بدوش برادری کے ہر فرد کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل کی کہ ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ڈیڑھ کروڑ خانہ بدوشوں کی ہر جھگی میں علم کی شمع روشن کرکے وہاں کے مکینوں کو علم وہنر کے زیور سے آراستہ کرنے میں ہمارا ساتھ دیجیے، بائیس کروڑ پاکستانیوں میں سے اگر پانچ فیصد لوگ بھی ایک ایک بچے کی تعلیم وتربیت کا بیڑا اٹھائیں تو پھر ان جھگیوں میں پڑے ہوئے بے بس اور نادار لوگوں میں سے کئی افراد ڈاکٹر، انجینئر اور عالم دین بن کر ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں-

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق خطیب اعلی ڈٰیفنس لاہور ڈاکٹر سرفراز اعوان نے کہا کہ غیث ویلفیر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ نے معاشرے کے ایک ایسے طبقے پر توجہ دی ہے کہ جو طبقہ اکثرفلاحی کام کرنے والوں کی نظروں سے اوجھل تھا اور غیث ویلفیئر ٹرسٹ نے ہم سب کی جانب سے قرض ادا کردیا ہے،

کانفرنس کے آخر میں مہمان خصوصی اوریا مقبول جان نے کہا کہ دنیا کی بھلائی آخرت کے تصور کے بغیر ممکن نہیں، اگر کوئی امیر شخص اپنے غریب اور بھوکے پڑوسی کی خبرگیری نہ کرے تو اس نام نہا د مہذب دنیا کا کوئی قانون اس امیر شخص کی گرفتاری کا حکم نہیں دیتا مگر اسلامی نظام کی یہ خاصیت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بھوکے پڑوسی کی ضروریات کو فراموش کردے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائے گا، انہوں نے کہا کہ خدمت خلق کے بغیر انسانیت کا تصور ممکن نہیں،اس لئے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے عمل اور کردار کے ذریعے ایسے اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو دنیا میں انسانیت کی فلاح بہبود کے لئے کام کرتے ہیں، آخر میں ڈاکٹر سرفرازاعوان کی دعا کے ساتھ کانفرنس اختتام پزیر ہوئی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shakeel Akhtar Rana

Read More Articles by Shakeel Akhtar Rana: 36 Articles with 34951 views »
Shakeel Rana is a regular columnis at Daily Islam pakistan, he writs almost about social and religious affairs, and sometimes about other topics as we.. View More
29 Jun, 2018 Views: 412

Comments

آپ کی رائے