فرائض میں کوتاہی کیوں؟

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ام کلثوم، لاڑکانہ
ثمرہ بھاگتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور زور سے چلائی، آپی دیکھیں میرا وزن بڑہ گیا ہے، وہ پریشانی سے بولتی ہوئی پوری گھوم گئی۔ نمرہ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور بولی، کہاں بڑھا ہے؟ صحیح تو ہو۔آپی آپ ٹھیک سے تو دیکھیں ناں، میں ابھی چیک کروا کر آئی ہوں۔اس نے منہ بسور کہ کہا۔

کہاں گئی تھیں؟ نمرہ نے پوچھا۔ فرح کے گھر، ان کے پاس مشین ہے نہ وہیں پہ دیکھا۔ پتا ہے آپی بڑھتا ہوا وزن صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے مجھے فرح نے اتنی باتیں بتائیں کہ رہی تھی کہ ہائیٹ اور ویٹ میں بیلنس رکھو، اپنے جسم کا ٹھیک سے خیال رکھا کرو۔ آج کے دور میں یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ بندہ ایسے ہی اپنے آپ سے لاپروا رہے اور لڑکیوں کو تو خصوصی خیال رکھنا چاہئے ثمرہ روانی سے بولتی گئی۔

اور کہ رہی تھی کہ اپنے بالوں کو دیکھو کیسے ہورہے ہیں، اور کلر بھی ڈم ہوگیا ہے۔ آپی! دیکھیں نہ میں ایسی ہوگئی ہوں؟ اور اس نے مجھے بالوں کے لیے بہت ساری ٹپس دیں اور چہرے کے لیے بھی ماسک بتائے۔ اب تو بھئی میں اپنی خوب کیئر کروں گی۔ فرح کے تو یہ لمبے اور پیارے بال تھے اور چہرہ بھی چمک رہا تھا اور میں۔۔ وہ بات کرتے کرتے اٹھی اور جا کہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی اور خود کو دیکھنے لگی۔ نمرہ اس دوران کچھ سوچتی رہی پھر اس نے ثمرہ کو کہا۔ ثمرہ! کتنی دیر بیٹھی تم فرح کے گھر؟آپی تقریبا دو گھنٹے، ثمرہ نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

اچھا! دو گھنٹے بس یہ ہی باتیں ہوئیں؟نمرہ نے پوچھا۔ جی آپی پھر فرح نے کچھ ویڈیوز وغیرہ بھی دکھائے ہیلتھ اور بیوٹی ٹپس کے،ثمرہ نے بتایا۔ تم دونوں نے نماز پڑھی؟نمرہ کے اس اچانک سوال پہ ثمرہ گھبرا گئی کیونکہ ثمرہ نماز کے معاملے میں کافی سست تھی لیکن نمرہ گھر میں کوشش کر کہ اس کی نماز قضا ہونے نہیں دیتی تھی۔ آپی وہ! باتوں باتوں میں پتا نہیں چلا کیسے دونوں نمازیں قضا ہوگئی، نمرہ نے شرمندگی سے کہا۔ادھر میرے پاس آکہ بیٹھو، نمرہ نے خود سے تین سال چھوٹی بہن کو پیار سے بلا کہ پاس بٹھایا۔

دیکھو میری پیاری بہنا! اﷲ پاک نے ہمیں اس دنیا میں جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں نہ یہ سب عارضی ہیں۔ یہ آنکھیں، یہ بال، یہ جسم۔ ان پہ ہم جتنی بھی محنت کریں گے نہ یہ ختم ہوجائیں گی، لیکن ایک چیز ہے جو دائمی ہے وہ ہیں ہمارے اعمال نامے میں رقم کیے ہوئے ہمارے اعمال! جس طرح تم نے کہا ویٹ اور ہائیٹ میں بیلنس ضروری ہے اسی طرح دنیاوی اعمال اور اخروی اعمال میں بھی بیلنس بہت ضروری ہے۔ ایک ایسی چیز کے پیچھے پڑ جانا، ہر وقت اس لیے محنت میں لگے رہنا جو ختم ہو جائے گی یہ کہاں کی عقلمندی ہے؟نمرہ نے ثمرہ کو سمجھایا۔

پر آپی دل تو کرتا ہے نہ اچھا لگنے کا تو یہ بھی نہ کریں کیا؟اس نے منہ بنا کہ کہا۔ میں نے ایسے تو نہیں کہا کہ بنو سنورو مت یا ہر وقت سر جھاڑ منہ پھاڑ رہو، بلکہ صفائی تو نصف ایمان ہے اور انسان کے جسم کا بھی انسان پہ پورا پورا حق ہے کہ وہ اس کا خیال کرے لیکن میں حد سے تجاوز کرنے سے منع کر رہی ہوں کہ بس ان چیزوں میں گم ہو کر اپنا مقصد حیات نہ بھول جاؤ اور وہ آیت یاد ہے نہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسانوں اوع جنوں کو اﷲ کی عبادت کے کیے پیدا کیا گیا ہے۔

آج کل لڑکیوں میں یہ چیز بہت زیادہ بڑہ گئی ہے، بالوں کی فکر، چہرے کی فکر، جسم کی فکر۔ گھنٹے گھنٹے بیٹھ کہ یہ ویڈیوز دیکھ رہی ہیں۔ کتنے فرائض و واجبات سے کوتاہی کرتی ہیں۔ میں نے لڑکیوں کو فرض نماز چھوڑنے پہ روتے نہیں دیکھا پر وزن بڑھنے پہ روتی ہیں۔ نماز کے لیے سستی لیکن اپنے جسم کے کیے گھنٹے پارلر میں لگا دیتی ہیں۔ دیکھو! تم نے دو گھنٹے صرف یہ ٹاپک ڈسکس کیا اور دو نمازیں قضا کردیں۔ کیسی محفل ہوگی یہ جس میں اﷲ کا ذکر تک نہ ہو! اپنے وقت کو کارآمد بناؤ۔ ایسا کام نہ کرو کہ یہ وقت حسرت بن جائے تمہارے لیے، نمرہ اتنا بول کہ خاموش ہوگئی۔

آپی آئندہ میں اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں کروں گی اور ہر چیز کو برابر رکھنے کی پوری کوشش کروں گی۔ ان شاء اﷲ، ثمرہ نے مسکرا کہ کہا۔ اﷲ تمہارے لیے آسانی فرمائے،نمرہ نے کہا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497431 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2018 Views: 280

Comments

آپ کی رائے