فرنٹ مینوں کے اصل کرداروں کے بے نقاب ھونیکا وقت آگیا

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

1993 کی ٹیکس ڈائریکٹری 23 کھرب پتی کی لسٹ میں خواجہ محمد حکیم کے اثاثوں کی مالیت 284313715000000 تھی یعنی 284 ٹریلین 313 بلین 715 ملین تھی
جبکہ لسٹ میں دوسرے نمبر پر
خواجہ محمد جاوید کے اثاثوں کی مالیت
258ٹریلین 569بلین 834 ملین تھی
ٹیکس ڈائریکٹری میں خواجہ محمد حکیم کا نام سر فہرست یعنی پہلے نمبر پہ تھا جس نے 543519000000
روپے ٹیکس بھی دیا ہوا تھا
اس گمنام کھرب پتی کا نام تمام کاروباری حضرات کی لسٹ چھاننے کے باوجود کہیں نہیں ملا 1993 میں وہ سرکاری دستاویزات میں کھرب پتی کی لسٹ میں پہلے نمبر پہ تھے اور سب سے ذیادہ دولت ہونے کے باوجود وہ کسی صعنتی گروپ یا کمپنی کے مالک نہیں تھے
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی سیاستدان یا بڑے کاروباری شخص کا فرنٹ مین تھا
1993 کی طرح کا ایک اور کیس اب سامنے آیا ہے جب طارق سلطان کو ایف آئی اے کے تفتیش کاروں نے پکڑا
کہ وہ ایک کمپنی کا مالک ہے تو وہ شخص تھر تھر کانپتے ہوئے بولا کہ وہ تو
کراچی کے ایک تاجر کے پاس ماہانہ 25؍ ہزار روپے کی معمولی ملازمت کرتا ہے
ایف آئی اے کے تفتیش کاروں نے اسے کہا تمھاری تو اے ون کمپنی بھی ہے
اور اس کمپنی ’’اے ون انٹرنیشنل‘‘ کے تین بینکوں میں پانچ بینک اکائونٹس ہیں اور یہ 8؍ ارب روپے کی مشکوک لین دین کیلئے استعمال کیے گئے ہیں ۔
طارق سلطان تھر تھر کانپتے ہوے بولا جناب میں نے اپنی پوری زندگی میں ایک عربی تک نہیں دیکھا ، 8؍ ارب روپے تو دور کی بات ہے۔
ایف آئی اے حکام 35؍ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہے ہیں
جس میں آصف علی زرداری اس کا دوست بحریہ ٹاؤن کا مالک ریاض ملک، سمٹ بنک کا چئیرمین، انور مجید، فریال تالپور اور بلاول ہاؤس کا پروٹوکول آفیسر اور سٹاف
اور 58؍ ایکڑ زمین کا خریدار میسرز العصر کنسٹرکشن اینڈ بلڈرز کے امان اللہ میمن ملوث ہے
اس گروپ نے
کراچی کے تین مختلف بینکوں مین موجود 29؍ اکائونٹس کو اس لین دین کیلئے استعمال کیا ۔ اس لین دین کا منی ٹریل موجود ہے،
لین دین کیلئے ایک مشکوک اکائونٹ سے دوسرے اکائونٹ میں بھاری رقوم منتقل کی گئیں اور اسے چھپانے کی کوشش کی گئی،
ایف آئی اے نے زرداری گروپ کے مگرمچھوں کے گروپ کا سُراغ لگا لیا ہے جو رقم ادا یا وصول کر رہے تھے۔
ان اکاؤنٹس میں ملک ریاض کے داماد زین ملک اور شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی نے بھی رقوم جمع کروائی رقم کی ادائیگی تو اصل اکائونٹ سے کی جا رہی تھی لیکن اسے مختلف جعلی اکائونٹس سے گھما پھرا کر مطلوبہ افراد تک پہنچایا جا رہا تھا اس میں بہت سے اکاؤنٹ آصف علی زرداری کے فرنٹ مین انور مجید کے اومنی گروپ کے ملازمین چلا رہے تھے
صرف طارق سلطان نامی شخص کے نام پر بنائے گئے اکائونٹ کے ذریعے 3.04؍ ارب روپے سمٹ بینک کے چیئرمین کو منتقل کیے گئے،
293.78؍ ملین روپے کاروباری شخص (طارق سلطان اس کا ملازم ہے) کو منتقل کیے گئے،
10.50؍ ملین روپے آصف علی زرداری کو جبکہ 2.20؍ ارب روپے 6؍ دیگر مشکوک اکائونٹس میں منتقل کیے گئے۔ مذکورہ بینک اکائونٹس میں سے 490.26؍ ملین روپے نقد نکلوائے گئے۔
ایک ٹریول ایجنٹ کو 25؍ ملین روپے کی ادائیگی بھی کی گئی ہے۔
طارق سلطان کی طرح ارم عقیل نامی خاتون کے نام سے بھی ایک اکائونٹ بنایا گیا۔
یہ خاتون ابراہیم لنکرز نامی کمپنی کی مالک ہیں۔ ارم عقیل نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ ان کی کوئی کمپنی ہے اور اس کے اکائونٹس سے ایک ارب روپے سے ز ائد کا لین دین کیا گیا ہے۔
یہ انکوائری اس وقت شروع ہوئی جب اسٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے 10؍ مختلف بینک اکائونٹس کے حوالے سے رواں سال جنوری میں ایک مشکوک لین دین کی رپورٹ جاری کی۔
ان میں سے چار بینک اکائونٹ سمٹ بینک میں تھے جو نومبر 2015ء میں ایف آئی اے کی اسکروٹنی کے دائرے میں آئے تھے لیکن پھر یہ تحقیقات ایک مہینے کے اندر ہی بند کر دی گئی۔ اسباب کا علم نہیں۔
ان چار میں سے ایک اکائونٹ طارق سلطان کی مبینہ کمپنی اے ون انٹرنیشنل،
ایک عدنان جاوید نامی شخص کی کمپنی لکی انٹرنیشنل، اقبال آرائیں نامی ایک شخص کی اقبال میٹل نامی کمپنی اور ایک اور شخص محمد عمیر کی مبینہ کمپنی عمیر ایسوسی ایٹس کے نام پر کھولے گئے۔
دیے گئے تمام پتوں پر سوائے طارق سلطان کے کسی اور کا سراغ نہیں ملا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جن 6؍ دیگر بینک اکائونٹس کا ذکر کیا گیا ہے
ان میں رویال انٹرپرائزز، الفا زُولو (پرائیوٹ) لمیٹڈ، لاجسٹک ٹریڈنگ، ابراہیم لنکرز، ایگرو فارمز ٹھٹّہ اور پارتھینون (پرائیوٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔
جیسے ہی تحقیقات کا آغاز ہوا، ایف آئی اے نے 19؍ دیگر بینک اکائونٹس کا پتہ لگایا جو ان 10؍ مشکوک بینک اکائونٹس کے ساتھ جڑے تھے۔ یہ تمام 29؍ بینک اکائونٹس سات افراد کے مبینہ کاروبار کے نام پر استعمال ہو رہے ہیں۔ سمٹ بینک میں 16؍، سندھ بینک میں 8؍ جبکہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ میں 5؍ بینک اکائونٹس کی اسکروٹنی جاری ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے گھاٹے میں جانے والے سمٹ بینک کو سندھ بینک میں ضم کرنے کی کوشش کو اس وقت ناکام بنایا تھا جب سمٹ بینک کے ایک شیئر ہولڈر نے عدالت سے رجوع کیا۔
بینکاروں اور چینی کے بروکرز کے بیانات کے مطابق اس تفتیش میں مرکزی حیثیت کے حامل ایک کاروباری شخص کے دو سینئر ایگزیکٹوز عارف خان اور اسلم مسعود یہ اکائونٹس چلا رہے تھے اور انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ ان اکائونٹس میں کریڈٹ ادائیگی کریں۔
ایف آئی اے کی انکوائری میں اسلم مسعود کو سمٹ بینک کے سابق صدر حسین لوائی کا قریبی دوست بتایا گیا ہے۔ حسین لوائی کو حال ہی میں بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا جبکہ مذکورہ کاروباری شخص پہلے ہی ملک سے روانہ ہو چکا ہے۔
ان اکائونٹس میں رقم کریڈٹ کرنے والے شخص میسرز العصر کنسٹرکشن اینڈ بلڈرز کے امان اللہ میمن سے ایف آئی اے نے انٹرویو کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بن قاسم ٹائون میں میسرز الاقصیٰ بلڈرز اینڈ ڈویلپرز، جس کے مالک شیخ عدیل اختر ہیں (سیاسی جماعت کے ملیر چیپٹر کے نائب صدر)، سے ان کی کمپنی کے ڈائریکٹر احسان اللہ کے ذریعے 2؍ جون 2014ء کو کیے گئے معاہدہ فروختگی کے تحت 58؍ ایکڑ زمین خریدی۔ انہوں نے عمیر ایسوسی ایٹس کے اکائونٹ میں رقم منتقل کی۔ اب اس زمین پر اسٹیل ملز نے دعویٰ کیا ہے اور سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر ہے
بلاشبہ اب اتنی تحقیقات کے بعد بھی زرداری پہ ہاتھ نا ڈالا گیا تو یہ پاکستان کے لیے بہت نقصان دہ ہو گا
اس تحقیقات میں جو لوگ فرنٹ مین ہیں وہ بظاہر یہی شو کرتے ہیں کہ سب کچھ انھی کا ہے جیسے لاہور میں گلشن کارپٹ ایک مشہور کارپٹ درآمد کرنے والا ادارہ ہے جس کے بظاہر مالک شیخ حمید نامی شخص ہیں اصل میں یہ کاروبار شریف فیملی کی خواتین کا ہے
اب وقت آ گیا ہے کہ فرنٹ مینوں کے پیچھے چھپے بہروپیے بے نقاب ہوں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 333 Articles with 181736 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
10 Jul, 2018 Views: 243

Comments

آپ کی رائے