سوات کی سیاسی ڈائری

(Fazal Khaliq Khan, Sawat)

ملک بھر کی طرح سوات میں بھی الیکشن 2018 کے لئے سیاسی میدان گرم ہوگیا ہے ، 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں اپنے مرضی کے امیدوار چننے کیلئے عوام بھی پوری طرح پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔ نئی مردم شماری کے مطابق سوات کے 3 قومی اور 8 صوبائی حلقوں پر مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار نامز د کرکے ان کو ٹکٹ جاری کردئے ہیں جنہوں الیکشن میں کامیابی حاص کرنے کیلئے پوری طرح سے تیاریاں شروع کردیں ہیں،عوام اور سیاسی کارکن بھی الیکشن 2018 کے حوالے سے کافی پرجوش نظرآرہے ہیں سب اپنے اپنے من پسند انتخابی امیدواروں کے لئے پر امید دکھائی دے رہے ہیں لیکن قبل ازوقت کچھ بھی کہنا درست نہیں ہوگا کیونکہ شہری قومی حلقے این اے تھری اور پی کے5 پر مسلم لیگ ن ،جے یوآئی اور اے این پی اتحاد کی وجہ سے کوئی بھی بڑا اپ سیٹ ہوسکتا ہے، الیکشن کمشنر ملاکنڈ جاوید اقبال خٹک کے مطابق اس وقت الیکشن کمیشن نے پورے ملاکنڈ ڈویژن میں 3798207 ووٹروں جن میں مر د ووٹروں کی تعداد 2185596 اور 1612611 خواتین ووٹر شامل ہیں کے لئے ڈویژن بھر میں 2976 پولنگ اسٹیشن قائم کردئے ہیں اس وقت ملاکنڈ ڈویژن میں 10قومی اور 24 صوبائی حلقوں پر الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 10نشستوں پر 92 امیدواروں کو فائنل کردیا ہے جبکہ 24 صوبائی حلقوں پر255 سیاسی اورآزاد نمائندوں کی لسٹ کو فائنل کردیا گیا ہے ۔ الیکشن کمشنر جاوید اقبال خٹک کے مطابق سوات میں مقرر ہ پولنگ اسٹیشنز پر کل 27570 مرد وخواتین اہلکاروں کو تعینات کرکے ان کی ٹریننگ بھی مکمل کرلی گئی ہے جبکہ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مقرر کردہ انتظامات کو بھی آخری شکل دے دی گئی ہے ۔ سوات کے کل ووٹروں کی تعداد 1193111 ہے جن میں سے مرد ووٹروں کی تعداد 681835 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 511276 ہے ۔

سوات کے حلقہ این اے 2 پر جو بالائی سوات کے کئی علاقوں کا مجموعہ ہے پر اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر حیدر علی امیدوار ہے جو سابق صوبائی کابینہ میں بھی اہم عہدوں پر تعینات رہے موصوف2008 کے الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار تھے لیکن سیاسی اختلاف کی بناء پر ان سے علیحدگی اختیار کرکے بعد ازاں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور کامیابی حاصل کرلی کیونکہ اس حلقے میں ان کا اپنا بہت بڑا ووٹ بینک ہے جس کی بناء پر کامیابی ان کے لئے ہمیشہ بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے لیکن اس مرتبہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام کھڑے ہیں اور وہ اس حلقے سے اپنا انتخابی سیٹ جیتنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں جس کی بناء پر واضح طورپر کہا جاسکتا ہے کہ اس دفعہ کی الیکشن میں مقابلہ ان دونوں کے درمیان ہی ہوگیا ان کا مقابلہ اس حلقے سے ایم ایم اے کے امیدوار جماعت اسلامی رہنما سابق ڈی ایس پی نوید کررہے ہیں جبکہ ان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر امجد علی ، عوامی نیشنل پارٹی کے راجہ ممتاز چموٹ سمیت کئی آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں لیکن اس حلقے پر ان کی پوزیشن اتنی مستحکم نہیں جس کی بناء پر یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ یہ دیگر امیدوارالیکشن 2018 میں اس حلقے سے کامیابی حاصل کرلیں گے۔

سوات کا دوسرا اور سب سے اہم قومی حلقہ این اے تھری ہے جو شہری حلقہ ہے لیکن اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس دفعہ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کی امیدوار پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف د یگر سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کررہے ہیں ، مسلم لیگ ن کی مقامی قائدین صوبائی صدر انجینئر امیر مقام جو خود بھی صوبے کے وزارت اعلیٰ کے متمنی ہیں اور کئی حلقوں سے اس امید کے ساتھ الیکشن لڑرہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں سے کامیابی مل جائے سمیت مرکزی قائدین بھی یہ سیٹ ہر حال میں جیتنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں ، این اے تھری پر شہباز شریف کے مقابلے میں مضبوط امیدوار متحدہ مجلس عمل کے مولانا حجت اﷲ کو تصور کیا جارہا تھا لیکن مرکز میں مسلم لیگ ن کے اتحادی مولانا فضل الرحمان نے وفاداری کا لاج رکھتے ہوئے اپنے نہایت ہی اہم امیدوار مولانا حجت اﷲ کو عین اس وقت مقابلے سے دست بردا ر کرنے کو کہا جب وہ الیکشن لڑنے کیلئے کاغذات جمع کرنے سے لے کر الیکشن مہم تک شروع کرنے کے مراحل سے گزرے ،صورت حال اس وقت دل چسپ ہوگئی جب مولانا حجت اﷲ نے مرکزی امیر کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اس صورت حال میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایم ایم اے کی مضبوط پوزیشن کو فضل الرحمان کے اس فیصلے سے شدید دھچکا پہنچا اس فیصلے کا خاطر فائدہ مسلم لیگ کو اس لئے نہیں پہنچ سکتا کہ مولانا حجت اﷲ اپنا مخصو ص ووٹ بینک رکھتے ہیں جبکہ علماء سے علاقے کی لوگوں کی محبت کی وجہ سے بھی لوگوں کی ہمدردیاں مولانا حجت اﷲ کو جاتی ہیں یہاں یہ امر بھی باعث دل چسپی ہے کہ جماعت اسلامی جنہوں نے ایم ایم اے سے اتحاد کی بناء پر اپنے امیدوار کی اس حلقے پر قربان کیا تھا انہوں نے بھی کھلم کھلا مولانا حجت اﷲ کی حمایت کرتے ہوئے ان کے ساتھ مشترکہ الیکشن مہم کاآغاز کردیا ہے جس میں علاقے کی لوگ بھر پور اور جوق درجوق شرکت کرکے اپنی محبت دکھار ہے ہیں تاہم نئی صورت حال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار شہر یار امیر زیب کی پوزیشن خاصی مستحکم ہوگئی ہے ۔ ان کے علاوہ اس حلقے سے تحریک انصاف کے سلیم الرحمان ،اے این پی کے عبدالکریم اور کئی آزاد امیدوار بھی مقابلے میں ہیں لیکن ان کے بارے میں واضح طورپر کہا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ ان کی کامیابی کی امید کی جاسکے۔

اس کے بعد دوسرا اہم حلقہ این اے 4 ہے جس میں تحصیل کبل اور مٹہ کے علاقے شامل ہیں یہاں سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بریگیڈئر(ر) محمد سلیم ،ایم ایم اے کے قاری محمود ،تحریک انصاف کے مرا د سعید جو الیکشن 2013 میں اس حلقے سے 80ہزار سے زائد ووٹ لے کر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے لیکن اس دفعہ خراب کارکردگی اور پورے دور اقتدار میں علاقے کی لوگوں کی خدمت تو ایک طرف حلقے کا معمولی سادورہ کرنے سے بھی معذوری کی بناء پر اس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برا بر ہیں ۔ان کے علاوہ تحریک لبیک کے رضا خان قادری،پاکستان پیپلز پارٹی کے قمرزمان اور قومی وطن پارٹی کے امیدوار تل حیات خان بھی کامیابی کے لئے قسمت آزمائی کررہے ہیں لیکن عوامی سروے کے نتیجے میں یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ اصل مقابلہ اے این پی کے بریگیڈئر (ر) محمد سلیم،ایم ایم اے کے قاری محمود کے درمیان ہوگا تاہم اس دوڑ میں مخصو ص حالات کی تناظر میں تحریک انصاف کے امیدوار کو بھی کسی حد تک نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

قومی حلقوں کا جائزہ لینے سے صورت حال کا نتیجہ یوں نکالا جاسکتا ہے کہ اس دفعہ سوات کے تینوں حلقوں سے امیدواروں کی کامیابی کی شرح ملی جلی رہے گی اور کسی ایک پارٹی کو ان حلقوں سے پوری کی پوری کامیابی ملنا ممکن دکھائی نہیں دیتا جس کی بناء پر حکومت سازی میں وہ ایک دوسرے کے محتاج رہیں گے ۔

اس کے بعد صوبائی حلقوں کے حوالے سے جو رائے بنتی ہے وہ یوں ہے کہ سوات کے آٹھ قومی نشستوں پر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار نامز د کردئے ہیں جنہوں نے تمام تر تیاریاں مکمل کرکے اپنی طرف سے عوامی رابطے تیز کردئے ہیں بڑی سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی،تحریک انصاف اور اے این پی اکیلئے محو پرواز ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے ساتھ جے یوآئی سب سے اہم شہری حلقے این اے تھری پران کی اتحادی ہے جبکہ جے یوآئی سوات میں این اے تھری کے علاوہ جماعت اسلامی کے ساتھ متحدہ مجلس عمل کی صورت اتحادی بنے ہوئے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نظرنہیں آرہا ہے، ۔سوات کے تمام صوبائی حلقے پی کے 2، ,3 9,8,7,6,5,4 کے نام سے جانے جاتے ہیں حلقہ پی کے 2 سے امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے میاں شرافت علی جبکہ ان کے مد مقابل پختونخوا میپ کے مختیارخان یوسفزئی اور متحدہ مجلس عمل کے بخت امین کریمی میدان میں ہیں،پی کے 3 سے مسلم لیگ ن کے سردار خان ،پی پی پی کے محمد شاہی خان،تحریک انصاف کے ڈاکٹر حیدر علی خان ،متحدہ مجلس عمل کے علی شاہ خان ایڈووکیٹ اور اے این پی کے فضل وہاب عرف قجیر خان ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں،پی کے 4 پر پی پی پی کے عرفان چٹان، متحدہ مجلس عمل کے ثناء اﷲ خان اور تحریک انصاف کے عزیز اﷲ خان ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں ، پی کے 5 جو صوبائی حلقوں میں سب سے اہم شہری علاقہ جانا جاتا ہے اس پر سال 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے فضل حکیم ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جوبعد میں ڈیڈک کمیٹی کے چیئر مین بھی بنے ، اس سے پہلے اس حلقے پر جماعت اسلامی کے محمد امین ایم پی اے رہ چکے ہیں جنہوں نے اپنی اعلیٰ خدمات کی بدولت عوام سے خادم سوات کا لقب بھی حاصل کیا تھا اس کے مقابلے میں ایم پی اے فضل حکیم بھی اپنے آپ کو خادم سوات کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے لیکن ان کو وہ پذیرائی نصیب نہ ہوسکی جو محمد امین کو حاصل رہی یہی وجہ ہے کہ اس حلقے پر جہاں تمام سیاسی جماعتوں کے امیدوار کھڑے ہیں لیکن اصل مقابلہ اب بھی متحدہ مجلس عمل کے امیدوار محمد امین اور فضل حکیم کے درمیان ہوگا اور یقین کیا جاسکتا ہے کہ اس سیٹ پر محمد امین ہی کامیابی حاصل کریں گے ان کے علاوہ اس سیٹ پر پی پی پی کے امیر زیب شہریار ،اے این پی کے واجد علی خان جے یو آئی نظریاتی کے مولانا عبید اﷲ اور قومی وطن پارٹی سے منحرف مقبول امیدوار شوکت علی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑرہے، اسی طرح پی کے 6 سے ایم ایم کے شاہی نواب باچا اور ڈاکٹر امجد ،مسلم لیگ ن کے حبیب علی شاہ، پی کے7 سے بھی تحریک انصاف کے ڈاکٹر امجدعلی کے درمیان مقابلہ ہوگا ،حلقہ پی کے 7 پر متحدہ مجلس عمل کا امیدوار سابق وزیر سائنس وٹیکنالوجی حسین احمد کانجو ہیں ان کے مد مقابل ہوں گے اے این پی کے وقار احمد خان ،پختونخوا میپ کے ملک ریاض اور مسلم لیگ ن کے عبدالغفور لیکن ان کی پوزیشن کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اس حلقے میں حسین احمد کانجو اپنی سابقہ کارکردگی کی بناء پر کافی مقبول دکھائی دے رہیں ۔،حلقہ پی کے 8 سے ایم ایم کے امیدوار سابق ایم این این اور جماعت اسلامی رہنما دیگر سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کررہے ہیں ان کا مقابلہ تحریک انصاف کے محب اﷲ خان اور مسلم لیگ کے عظمت علی خان کے ساتھ ہوگا اس حلقے میں یوں تو محب اﷲ خان کافی مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں لیکن آزاد زرائع کے مطابق اصل مقابلہ تحریک انصاف کے محب اﷲ خان اور مولانا فضل سبحان ہی کے درمیان ہوگا کیونکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے عظمت علی خان کی عوامی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ پی کے 9 سے تحریک انصاف کے محمود خان میدان میں کھڑے ہیں جو حالیہ پختونخوا حکومت میں وزیر آب پاشی اوروزیر کھیل کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں اور عوام میں ہمیشہ موجود رہنے کی وجہ سے حلقے میں ان کی اچھی خاصی مقبولیت ہے جس کی بناء پر واضح کہا جاسکتا ہے کہ اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں تاہم ان کے مقابلے میں پی کے 9پر متحدہ مجلس عمل کا امیدوار ڈاکٹر امجد بھی ہے لیکن وہ اور دیگر سیاسی امیدواروں کی عوامی مقبولیت محمو د خان کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ محمود خان کی مثالی کارکردگی کی وجہ سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ الیکشن 2018 میں کامیابی کا ہما ان کے سر پر بیٹھ سکتا ہے لیکن یہاں اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ سوات کے لوگوں کی مزاج کے مطابق یہاں ایک دفعہ کامیابی حاصل کرنے والے کو دوسری بار کامیابی بڑی مشکل سے ملتی ہے لہذا کوئی تمام حلقوں پر کوئی بھی بڑا اپ سیٹ ہوسکتا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fazal khaliq khan

Read More Articles by Fazal khaliq khan: 21 Articles with 9339 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 369

Comments

آپ کی رائے