مختصر سیرت سیدنا عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالی عنہ

(Rabi Ul Alam, )

نام و نسب:
''آپ کا پورا نام ''عمر بن عبدالعزیز بن مروان بن حکم بن ابی عاص بن امیہ بن عبد الشمس ''اور والدۂ ماجدہ کا نام''ام عاصم بنت عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ ہے۔ اورکنیت ''ابوحفص'' ہے۔

ولادت باسعادت:
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت باسعادت سن تریسٹھ (63) ہجری مدینہ شریف میں ہوئی۔

زمانے کا بہترین شخص:
حضرت سیدنا عباس بن راشد علیہ رحمۃاللہ الواجد فرماتے ہیں: ''حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور جب واپس جانے لگے تو میرے آقا نے مجھے حکم فرمایا:''تم بھی ان کے ساتھ جاؤ۔''چنانچہ، میں بھی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جانے کے لئے سوار ہوا۔ جب ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا تو اس میں راستے پر ایک مردہ سانپ پڑا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی سواری سے نیچے اترے اور سانپ کو دفن کرکے پھر سوار ہوگئے اور ہم اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔ اتنے میں ایک غیبی آواز آئی: ''یا خرقاء! یا خرقاء!''ہم آواز تو سن رہے تھے لیکن کوئی نظر نہ آرہا تھا ۔حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:''اے غیبی آواز دینے والے! میں تجھے اللہ عزوجل کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں کہ اگر تم سامنے آ سکتے ہو تو آ کر ہمیں بتاؤکہ یہ خرقاء کیا ہے؟'' اس نے جواب دیا:''خرقاء وہی سانپ ہے جس کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دفن کر دیا ہے۔ میں نے ایک دن سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس سانپ سے یہ فرماتے سنا تھا، ''اے خرقاء! تم چٹیل زمین میں مرو گے اور زمانے کا سب سے بہترمؤمن تمہیں دفن کریگا۔'' آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا: ''اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! یہ تو بتاؤ کہ تم کون ہو؟''اس نے بتایا، ''میں ان سات جنات میں سے ہوں جنہوں نے اس وادی میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی ۔''آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دوبارہ پوچھا: ''کیا واقعی تم نے یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟'' اس نے کہا: ''جی ہاں۔''یہ سننا تھاکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھوں سے سیل اشک رواں ہو گیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ وہاں سے چل دئیے۔''

محاسبۂ نفس:
حضرت سیدنا زید بن اسلم رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک ٹوکری تھی جس میں ایک اونی جبہ اور طوق ہوتا تھا ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے مکان کے درمیان ایک کمرہ مخصوص تھا جہاں آپ رضی اللہ تعالی عنہ نماز ادا کرتے ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ اس کمرے میں کوئی داخل نہ ہوتاتھا۔ جب رات کاآخری وقت ہوتاتو آپ رضی اللہ تعالی عنہ ٹوکری کو کھولتے اور جبہ پہن کر طوق اپنی گردن میں ڈال لیتے اور طلوع فجر تک بارگاہ الہی عزوجل میں مناجات اور گریہ وزاری میں مشغول رہتے۔پھر اس جبہ اور طوق کو ٹوکری میں رکھ دیتے۔ ساری زندگی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہی معمول رہا۔''

دنیا کو تین طلاقیں:
امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے پڑوسی حضرت سیدنا حارث بن زید رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ''خدا کی قسم!جب رات کی تاریکی چھاجاتی اور ستارے روشن ہو جاتے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مریض کی طرح بے چین و مضطرب ہو جاتے اورغم زدہ انسان کی طرح رونے لگتے۔ گویا میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہتے سن رہا ہوں کہ''اے دنیا! تو کیوں میرا پیچھا کرتی ہے یا مجھ میں دلچسپی کیوں لیتی ہے؟ جا، مجھ سے دورہو جا، کسی اور کو دھوکا دے، میں تو تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں، اب دوبارہ تجھ سے رجوع نہیں ہو سکتا۔ تیری عمر کم ،لذات حقیر اورخطرات زیادہ ہیں۔ہائے افسوس! زاد راہ کم،سفر طویل اور راستہ پرخطر ہے۔''

خوفِ خدا:
آپ رضی اللہ تعالی عنہ جب نماز فجر پڑھ لیتے تو قرآن حکیم کو (پڑھنے کے لئے) اپنی گود میں رکھ لیتے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے آنسوؤں سے داڑھی شریف ترہوجاتی پھر جب کسی آیت خوف کی تلاوت فرماتے توباربار اس کو دہراتے رہتے اوربہت زیادہ رونے کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ اس آیت سے آگے نہ بڑھ سکتے اور طلوع آفتاب تک یہی کیفیت رہتی۔سبحان اللہ! ان نورانی چہر وں کو دیکھنے کا کتناشوق ہے؟ ان کی باتیں سن کر کتنی خوشی ہوتی ہے؟ اور ان کی نشانیاں مٹ جانے پر کس قدر غم ہوتا ہے؟

حضرت سیدنایزید بن خوشب رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ''میں نے حضرت سیدنا حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے بڑھ کر خوف کھانے والا کوئی نہیں دیکھا گویا جہنم ان ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ جب موت کو یاد کرتے توآپ رضی اللہ تعالی عنہ کے بدن کے جوڑ لرزنے لگ جاتے۔''

اے بھائی! حضرت سیدناعمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ عادل ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرتے تھے اور تو ظلم وستم کرنے کے باوجود اس قدر نڈر ہوچکا ہے۔ اے وہ شخص جو تقدیر سے بے خوف ہے اور جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے کوئی عذر نہیں!غور سے سن! وصال کے بارہ سال بعدآپ رضی اللہ تعالی عنہ کو خواب میں دیکھا گیاتو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا: ''ابھی ابھی حساب سے فارغ ہوا ہوں۔''

آخرت کی یاد:
حضرت سیدنا عطا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ''حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ ہر رات فقہاء کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہم کو اکٹھا کرتے اور موت ،قیامت اور آخرت کی باتیں ہوتی رہتیں اور سب اس طرح روتے رہتے گویا ان کے سامنے کوئی جنازہ حاضر ہے۔''

دنیا سے بے رغبتی (کرپشن سے پاک خلافت):
منقول ہے کہ جب سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو عہدۂ خلافت سپرد کیا گیاتب سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمارت میں اضافہ ہوا، نہ جانوروں میں او ر نہ ہی بیویوں یا لونڈیوں میں۔یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔

اے میرے بھائی!انتہائی تعجب کی بات ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کامل ہونے کے باوجود اس قدر خوف رکھتے تھے او ر تم ناقص ہونے کے باوجود کتنے بے خوف ہو؟دنیا آخرت کا آئینہ ہے، جو دنیا میں کرو گے آخرت میں دیکھو گے، آج عمل کروگے کل دیکھو گے، اگرتم عقل مند ہو تو اپنے برے اعمال پر رویا کرو اور اگر غفلت کی نیند میں ہو تو عنقریب نیند کی یہ لذت تم سے دورچلی جائے گی۔

اے میرے بھائی! دنیاجب سلف صالحین کے پاس آتی ہے تو وہ اسے آخرت کے لئے آگے بھیج دیتے ہیں۔ ہمارا ان سے کیا موازنہ ہے؟ ہم میں سے کتنے شب بیداری کرتے اور کتنے خواب غفلت میں رات گزار دیتے ہیں۔
عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں کوغنی کردیا:
حضرت سیدنا عبدالرحمن بن زید بن خطاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ'' حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ اڑھائی سال منصب خلافت پر فائز رہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال سے پہلے ایک شخص کثیر مال لے کر ہمارے پاس آیااور کہنے لگا: ''جہاں مناسب سمجھویہ مال فقراء میں تقسیم کردو۔''مگر اسے اپنا مال لے کر واپس جانا پڑا کیونکہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے عطیات سے لوگوں کوغنی کر دیاتھا۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو زہر دیا گیا:
ولید بن ہشام کا بیان ہے: ''میری ایک یہودی سے ملاقات ہوئی۔ اس نے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے خلیفہ بننے سے پہلے ہی مجھے بتادیا تھا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنیں گے اور عدل کریں گے۔ میں نے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے مل کر انہیں یہ بات بتا دی۔ جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بن گئے اور چند روز بعددوبارہ اسی یہودی سے میری ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگا: ''کیا میں نے تمہیں بتایا نہ تھاکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ عنقریب خلیفہ بن جائیں گے؟اور وہی ہوا جو میں نے کہاتھا۔''میں نے کہا:'' ہاں، ایسا ہی ہوا۔''پھر اس نے مجھے بتایا کہ اب آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے زہر پی لیا ہے، لہذا انہیں کہو کہ اپنا علاج معالجہ کرکے جان کی حفاظت کریں۔ ولید بن ہشام کا کہنا ہے کہ ''پھر میری ملاقات حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوئی،میں نے زہر کا معاملہ ذکر کیا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ کی قسم! میں وہ گھڑی جانتا ہوں جس میں مجھے زہر دیا گیا تھا، اگر میری شفا اپنے کانوں کی لو چھونے یا خوشبو سونگھنے میں ہوتی تو بھی میں انکار ہی کرتا رہتا۔''

زہر پلانے والا غلام آزاد:
حضرت سیدنا مجاہد علیہ رحمۃاللہ الواحد فرماتے ہیں: ''حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مرض الموت میں مجھ سے دریافت فرمایا: ''لوگ میرے متعلق کیا کہتے ہیں؟''میں نے عرض کی: ''لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے۔'' تو ارشاد فرمایا:''مجھ پر کوئی جادو نہیں کیا گیا،ہاں! مجھے زہر پلایا گیاہے۔''پھر غلام کو بلوایااور استفسار فرمایا: ''تو نے مجھے زہر کیوں دیا تھا؟'' وہ کہنے لگا:''مجھے ایک ہزار دینار دئیے گئے اور آزادی کا بھی وعدہ کیاگیا۔''آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:''وہ ہزار دینار لاؤ۔'' پس وہ رقم لے آیا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے بیت المال میں جمع کروا دیااور غلام سے فرمایا: ''جہاں جی چاہے چلے جاؤ، آج سے تم آزاد ہو۔''

خواب میں اچھے خاتمہ کی بشارت:
حضرت سیدنا ابو حازم علیہ رحمۃاللہ الناصر فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک بار حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کسی تکلیف پہنچنے کے فورا بعد محو خواب تھے، پہلے آپ رضی اللہ تعالی عنہ روئے، پھر مسکرانے لگے۔ جب آنکھ کھلی تو میں نے عرض کی، ''اے امیر المؤمنین! خواب میں کیسا معاملہ پیش آیا کہ آپ رو پڑے، پھر مسکرانے لگے۔'' آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا: ''کیا تم نے دیکھ لیا تھا؟''میں نے عرض کی:''جی ہاں! اور ارد گرد کے تمام لوگوں نے بھی دیکھ لیا تھا۔''پھر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا: ''میں نے دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے، قبروں سے اٹھنے کے بعد لوگوں کی ایک سو بیس صفیں ہیں،جن میں سے اسی (80) امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کی ہیں۔اچانک منادی نے ندا دی: ''(حضرت سیدنا) عبداللہ بن ابی قحافہ (ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ) کہاں ہیں؟'' آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے لبیک کہاتو فرشتوں نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو بارگاہ خداوندی میں کھڑا کر دیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے آسان حساب لیا گیا۔ فارغ ہونے کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ کوحکم فرمایا گیاکہ دائیں جانب والوں (یعنی جنتیوں) کی طرف آ جاؤ۔ پھر امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو لایا گیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا حساب کتاب بھی بآسانی مکمل ہو گیا پھر دونوں حضرات(یعنی ابوبکر وعمررضی اللہ تعالی عنہما) کو دخول جنت کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعد امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو لایاگیا۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ویسا ہی حساب لیا گیاپھر جنت میں جانے کا حکم دیاگیا۔'' پھرامیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو لایاگیا۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ویسا ہی حساب لیا گیا اور دخول جنت کا حکم دیاگیا۔''

حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں،''جب پکاراگیا کہ'' عمر بن عبدالعزیز کہاں ہے؟'' تو مجھے پسینہ آ گیااور ملائکہ نے مجھے پکڑ کر بارگاہ الہی میں کھڑا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے معمولی معمولی چیزوں اور میرے تمام فیصلوں کے متعلق پوچھ گچھ فرمائی،پھر مجھے بخش دیا اورجنت میں جانے کاحکم ہوا۔ پھر میرا گزر ایک نیم مردہ شخص پرہوا۔ میں نے ملائکہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ خود اس سے پوچھیں یہ جواب دے گا۔ میں نے اپنے پاؤں سے اسے ٹھوکرماری تواس نے سر اٹھا کر اپنی آنکھیں کھول دیں۔ میں نے پوچھا،''تم کون ہو؟''تو وہ کہنے لگا،''آپ کون ہیں؟'' میں نے اپنا نام بتایا۔ اس نے پھر پوچھا، ''اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' میں نے جواب دیا:''اس نے مجھ پر اپنا رحم وکرم فرمایا اور میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمایا جوگذشتہ خلفاء(یعنی چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین) کے ساتھ فرمایا۔''یہ سن کر اس نے مجھے مبارک باد دی۔ میں نے پھر اپنا سوال دہراتے ہوئے پوچھا،''تم کون ہو؟''جواب ملا،''میں حجاج بن یوسف ثقفی ہوں،مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو میں نے اسے شدید غضب میں پایا۔ مجھے میرے ہر مقتول کے بدلے قتل کیا گیا اورحضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے بدلے ستر مرتبہ قتل کیا گیا اوراب میں اپنے رب کی بارگاہ میں اسی چیز کا انتظار کر رہاہوں جس کا تمام کلمہ گو انتظار کر رہے ہیں یعنی جنت یا جہنم۔''حضرت سیدنا ابو حازم رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: '' حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ خواب سننے کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کر لیا کہ آئندہ کسی بھی''لا الہ إلا اللہ محمد رسول اللہ ''پڑھنے والے کو آگ کی تکلیف نہیں دوں گا ۔''

نصیحت کے موتی:
اے بھائی! گناہوں کے بوجھ کی وجہ سے ظالموں کے لئے ہلاکت ہے، ان کو دنیا بھر میں برے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے لئے بطور ننگ وعاریہی کافی ہے کہ انہیں ''اشرار''یعنی برے لوگ کہا گیا۔ ان کے ظلم کی لذات ختم ہو گئیں اور صرف شرمندگی باقی رہ گئی۔ انہوں نے عذاب کے گھر میں ٹھکانہ بنا لیا اور ان کے گھروں پر غیروں نے قبضہ جما لیا۔ ان ظالموں کو جہنم کے کنوؤں اور پتھروں میں عذاب کے لئے تنہا چھوڑ دیا گیا۔اب ان کے لئے راحت ہے نہ سکون اور نہ ہی قرار۔ یہ کثرت سے نہروں کی مثل آنسو بہائیں گے۔ انہوں نے لمبی امیدوں کی عمارت کو بہت مضبوط بنایا تھا مگر وہ اچانک گر گئی۔ حجاج بن یوسف نے کتنے قتل کئے۔ ظلم کے کتنے پہاڑ توڑے ۔کیا اسے معلوم نہ تھا کہ اللہ عزوجل ظلم وستم کرنے والوں سے انتقام لے گا؟ بروزقیامت جب وہ اٹھیں گے تو ان کا حشر فاجروں کے ساتھ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ان کے کرتے رال کے ہوں گے اوران کے چہرے آگ ڈھانپ لے گی۔ (پ13،ابراھیم:50)

مرضِ وفات:
حضرت سیدنا ہلال بن قیس رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سن101 ہجری ماہ رجب المرجب کی ابتداء میں مرض الموت میں مبتلا ہوئے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ مرض بیس دن تک رہا۔''

مدت خلافت اور وصال باکمال:
منقول ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کی مدت خلافت دس دن کم تیس مہینے تھی اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات حسرت آیات پینتالیس ( 45) سال کی عمر میں ہوئی۔
ماخوذ از: (الروض الفائق فی المواعظ والرقائق)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabi Ul Alam

Read More Articles by Rabi Ul Alam: 15 Articles with 16455 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 528

Comments

آپ کی رائے