مسجد کی فضیلت اور آداب

(Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi, Narowal)

نحمد ہ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم اما بعد بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم یٰبنی اٰدم خذوا زینتکم عند کل مسجد o (پارہ نمبر 8رکوع نمبر9سورۃ اعراف)ترجمہ کنز الایمان :’’اے آدم علیہ السلام کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ ۔‘‘
شان نزول:مسلم شریف میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں دن میں مرد اور عورتیں رات میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اِس آیت میں ستر چھپانے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑے پہننے کا حکم دیا گیا ہے ۔اِس میں دلیل ہے کہ ستر عورت نماز و طواف اور ہر حال میں واجب ہے ۔
مزید یہ کہ اس آیت کے ضمن میں لباس زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا خوشبو لگانا داخل زینت ہے مسئلہ اور سنت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہئیت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں رب سے مناجات ہے تو اِس کے لئے زینت کرنا عطر لگانا مستحب جیسا کہ ستر طہارت واجب ہے ۔(ترجمہ کنز الایمان مع حاشیہ تفسیر خزائن العرفان صفحہ267از علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی )
ویسے تو دنیا میں بہت سی عمارتیں خوبصورت ہیں اور محل نما کوٹھیاں زیر تعمیر ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔کیونکہ جدید دور میں جدید قسم کی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے نئے ڈیزائن اور نہایت خوبصورت عمارتیں تیار ہو رہی ہیں ۔لیکن اِن سب سے زیادہ خوبصورت اور اعلیٰ قسم کی عمارت اپنے ظاہر اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک صرف و صرف مسجد ہے اور پھر ان کے بنانے والے اور ان کو آباد کرنے اور انکی رونق و صفائی کا خیال رکھنے والے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ۔جو لوگ اﷲ اور اس کے لاڈلے رسول حضرت سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺ پر یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کے گھروں یعنی مساجد کی تعمیر و ترقی کا سلسلہ کرتے ہیں وہ بروز قیامت ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے ۔ارشاد ربانی ہے کہ :انما یعمر مساجد اللّٰہ من اٰمن باللّٰہ والیوم الاٰخر و اقام الصلٰوۃ واتیٰ الزکوٰۃ ولم یخش الا اللّٰہ فعسیٰ اولئک ان یکونوا من المھتدین ۔(پارہ نمبر 10سورۃ التوبہ رکوع نمبر9آیت نمبر 18)
ترجمہ کنز الایمان :’’ اﷲ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اﷲ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں۔‘‘
حضرات ذی وقار:درج ذیل آیات کی روح سے اِس بات کا بخوبی علم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی مساجد کو اہل ایمان لوگ ہی بناتے ہیں اور نماز کی صورت میں یا تلاوت قرآن کی صورت میں آباد کرتے ہیں نہ کہ مشرک لوگ کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے صریح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ جو اﷲ اور اس کے احکامات کو ماننے والے ہیں وہی لوگ مساجد کی آبادی کا خیال رکھتے ہیں ۔مزید خالق کائنات نے اولاد آدم کو مساجد کی تعمیر و ترقی کی ساتھ ساتھ اِس کی صفائی اور پاکیزگی کا بھی درس دیا ہے ۔اب قرآن حکیم کی آیات کے بعد فرمودات نبوی ﷺ کی روشنی میں مساجد کی فضیلت اور اسکی اہمیت اور اسکے ثواب کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ احادیث مبارکہ پڑھ کر ،دیکھ کر یا سُن کر مسجد کی محبت ہمارے دل میں پیدا ہو سکے ۔چنانچہ:
مسجد بنانے والے کے لئے جنت میں گھر:عن عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ سمعت رسول اللّٰہ ﷺ یقول من بنیٰ مسجدا للّٰہ بنی اللّٰہ لہ بیتا فی الجنۃ۔’’حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے مسجد بنائے گا( اﷲ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں اُس جیسا گھر بنا دے گا۔(ابن ماجہ شریف جلد1صفحہ229حدیث نمبر782۔)
سب سے پہلے تیار ہونے والی مسجد:عن ابی ذر غفاری رضی اللّٰہ عنہ قال قلت یا رسول اللّٰہ ﷺ ای المساجد وضع فی الارض اول قال المسجد الحرام قلت ثم ای قال المسجد الا قصیٰ قلت کم بینھما قال اربعون سنۃ واینما ادرکتک الصلوٰۃ فصلہ فھو مسجد۔’’حضرت سیدنا ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ (ﷺ)! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟ آپ نے فرمایا مسجد حرام ۔میں نے عرض کیا اِس کے بعد کون سی ؟ آپ نے فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے عرض کیا ان دونوں کی تعمیر میں کتنا عرصہ ہے ؟ آپ نے فرمایا چالیس سال کا اور جہاں نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ اور وہی مسجد ہے ۔(سنن نسائی شریف جلد 1صفحہ210،حدیث نمبر693)
حضرات محترم: اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ بھی تمام انبیاء کرام پر فضیلت دی ہے کہ آپ کے لئے ساری زمین کو مسجدا ً طھوراً بنا دیا گیا ہے ۔آ پ کی امت کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے خواہ جنگل بیاباں اور سفر میں آئے تو وہ نماز وہیں ادا کر لے اگر پانی نہیں مل رہا تو تیمم کر کے پڑھ لے اس کے بر عکس دوسرے انبیاء کرام کو یہ شرف حاصل نہ تھا ۔عبادت کے لئے خاص معبد خانہ ہوتا اور طہارت و پاکیزگی کے لئے اگر پانی میسر نہ آتا تو جہاں سے بھی پانی ملے ڈھونڈ کر طہارت و پاکیزگی حاصل کرتے ۔
حصول ثواب کے لئے تین مساجد کا سفر کرنا :عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺلا تشدالرحال الا الیٰ ثلاثۃ مساجد الکعبۃ ومسجدی ھٰذا ومسجدا القصیٰ۔’’حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔(نماز کے زیادہ ثواب کے حصول کے لئے )صرف تین مساجد کی طرف سفرکیا جائے گا ۔(i)خانہ کعبہ ۔(ii)میری مسجد یعنی مسجد نبوی۔ (iii)مسجد اقصیٰ۔(سنن دارمی شریف 516/1)
مساجد میں خوشبو یا اگر بتی لگانا :عن انس بن مالک قال رای رسول اللّٰہ ﷺ نخامۃ فی قبلۃ المسجد فغضب حتی احمر وجہہ فقامت امراۃ من الانصار فحکتھا وجلعت مکانھا خلوقا قال رسول اللّٰہ ﷺ ما احسن ھٰذا ۔’’ سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدار مدینہ ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی طرف تھوک ملاحظہ فرمائی تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ایک انصاری عورت نے اِسے رگڑ کر اس کی جگہ خوشبو لگا دی ۔آپ ﷺ نے یہ ملاحظہ فرما کر ارشاد فرمایا یہ کتنا اچھا کام ہے ۔(سنن نسائی شریف 223/1)
معزز قارئین : حضور سید الانبیاء جناب محمد رسول اﷲ ﷺ نے دنیائے کائنات کی تمام مساجد میں سے تین مسجدوں کو زیادہ فضیلت بخشی یعنی مسجد حرام ،مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کو تا کہ مسلمانوں کو ان کی عظمت و شوکت کا پتہ چلے وہ ان کی طرف اجر وثواب کی نیت سے رخت سفر باندھیں اور ان کی زیارت اور ان میں نماز پڑھنے کے اجر و ثواب یعنی مسجد نبوی شریف میں ایک نماز پڑھنے پر پچاس ہزار نماز کا ثواب جبکہ مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنے سے ایک لاکھ نماز پڑھنے کے برابر ثواب و اجر حاصل کریں ۔دوسری حدیث شریف میں اس بات کی طرف واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ مسجد میں خوشبو یا اگر بتی جلانا خلاف سنت نہیں ہے بلکہ عمل مصطفےٰ ﷺ کی طرح وہ ایک سنت پر عمل کرتا ہے اُسے سو شہیدوں کا ثوا ب ملتا ہے ۔
اب تک آپ نے قرآن و سنت کی روشنی میں مسجد کی عظمت اور فضیلت اور اس میں نماز کی ادائیگی پر کتنا اجر وثواب ہے خوب واقفیت حاصل کی ۔اب چند گذارشات مسجد کے آداب کے حوالے سے ہیں جوپیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں کہ جن کے کرنے سے ہمارے اجر و ثواب میں بہتری ہو سکتی ہے اور احتیاط نہ کرنے سے ہمارے نامہ اعمال میں ثواب کی بجائے کوتا ہیوں کے انبار لگ سکتے ہیں :چنانچہ۔
مسجد کے آداب :(1) مسجد میں صاف ستھرے کپڑے پہننا اور اسکی تعمیر و ترقی اور دیگر امور کا ضروری اہتمام کر کے مسجد میں پاکیزہ ہو کر آنا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ۔یٰبنی اٰدم خذوا زینتکم عند کل مسجد ۔’’اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ۔‘‘(پارہ نمبر8رکوع نمبر 9سورۃ اعراف)
مساجد کی صفائی اور اِن مین خوشبو کا اہتمام کیا جائے فرمان رسول اﷲ ﷺ ہے :ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے محلوں میں مسجدیں تعمیر کرنا انہیں صاف رکھنا اور اِن میں خوشبو لگانے کا حکم دیا ۔‘‘(سنن ابن ماجہ 234/1)
اس حدیث شریف میں رسول اﷲ ﷺ نے ہم کو مسجد کی صفائی اور ان کو خوشبو سے معطر کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اسلام نے بھی طہارت اور نظافت کی تاکید اور گندگی و نجاست سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے ۔
رسول اﷲ ﷺ نے یہ بھی حکم ارشاد فرمایا ہے کہ جب بھی مسجد میں آؤ خاص کر جمعہ کے دن کپڑے دھلے اور صاف ستھرے ہوں اور خوشبو لگا کر مسجد میں آیا کرو تاکہ آپ کے کپڑوں سے نکلنے والی بد بو دوسرے مسلمانوں کو تکلیف میں نہ ڈالے ۔
2)۔ مسجد میں لہسن ،پیاز اور مولی وغیرہ کھاکر آنے سے منع کیا گیا ہے اور وعید فرمائی جیسا کہ ارشاد مصطفوی ﷺ ہے کہ ۔ترجمہ :’’سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تاجدار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے ۔دوسری روایت میں ہے کہ بے شک فرشتوں کو ان چیزوں یعنی پیاز، لہسن ،مولی وغیرہ کی بوسے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔(مسلم شریف 413/1)
نبی کریم ﷺ نے ہماری زندگی کے ہر گوشہ کو سامنے رکھ کر کس طرح بہترین تعلیم و تربیت فرمائی ہے تاکہ ہر ایک انسان کا خیال رکھا جائے جس سے دوسرے انسانوں کو تکلیف نہ ہو ۔یہاں تک کہ مساجد میں جہاں پر اﷲ تعالیٰ کے فرشتے بھی اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ان کی تکلیف کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا تاکہ ان کو انسانوں کی بدبو کی وجہ سے تکلیف نہ ہو ۔پتہ چلا کہ کچا پیاز اور لہسن اور بد بو دار کچھ سبزی کھا کر مسجد میں جانا ممنوع ہے کیونکہ اِس سے دوسرے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے اور مسجد کے آدب و احترام کے بھی منافی ہے ۔
3)۔ ترجمہ:’’ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسجد میں کسی کو گم شدہ شئے کا اعلان کرتے سنے تو اسے کہنا چاہیے کہ خدا کرے تیری شئے تجھے نہ ملے کیونکہ مسجد اس لئے نہیں بنائی گئی ہے ۔(مسند امام اعظم صفحہ85)
مسجد خانہ خدا کو ایک دکان کی طرح بنا کر خرید و فروخت یا گم شدہ چیزوں کا اعلان کرنے کرانے شروع کر دئیے جائیں جس طرح آج کل مساجد میں ہوتا ہے اور اعلان کرنے پر اجرت بھی لی جاتی ہے اور یہ ایک اچھا کام سمجھا جاتا ہے اس کو مسجد کے ساتھ تعاون کا نام دیا جاتا ہے جو کہ حدیث مصطفےٰ ﷺ کی روشنی میں سراسر اسلام کے منافی عمل ہے ۔
4)۔ حضور تاجدار مدینہ ﷺ مسجد میں داخل ہوتے وقت اﷲ تعالیٰ کے ذکر و دعا کے ساتھ داخل ہوتے اور جب مسجد سے نکلتے تب بھی ذکر و دعا کے ساتھ نکلتے خواہ مسجد حرام ہو یا مسجد نبوی ﷺ ہو یا عام مساجد چھوٹی بڑی سب کی شان یہ ہے ۔اس لیے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دائیں پاؤں کو اندر رکھو اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کوپہلے باہر نکالو اور درج ذیل دعاؤں کو پڑھو ۔چنانچہ
عن ابی اسید رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ اذا دخل احدکم المسجد فلیقل اللّٰھم افتح لی ابواب رحمتک واذا خرج فلیقل اللّٰھم انی اسئلک من فضلک۔ترجمہ :’’ حضرت ابو اُسید رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسو ل اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو یہ کہے کہ اے اﷲ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے نکلنے لگے تو یہ کہے کہ اے اﷲ میں آپ سے آپ کا فضل طلب کرتا ہوں (مشکوٰۃ شریف 524/1)
عزیزان گرامی! غور کرو کتنے پیارے کلمات مساجد میں داخل ہونے اور مساجد سے نکلنے کے بارے تاجدار مدینہ ہﷺ نے اپنی امت کو سکھائے ہیں یعنی جب بھی مومن بندہ مسجد سے نکلتا ہے تب بھی اپنے مالک حقیقی سے اُسکی رحمت اور اُسکے فضل کا سوال ہوتا ہے اور پاکیزہ التجاؤں کے ساتھ اس کی رضا و رحمت کی تمنا کرتا ہے کہ شان کریمی اپنے اِس ملاقاتی کو فضل و رحمت کی عطا کے ساتھ رخصت کرے ۔
ہم سب بارگاہ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ اے مولائے کریم ہم سب کو زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں عبادت کی صورت میں گزارنے اور اس کے فیوض و برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہر ممکنہ غیر شرعی حرکات و سکنات سے بچنے کی بھی توفیق سرمدی مرحمت فرما ۔(آمین بجاہِ سید المرسلین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi

Read More Articles by Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi: 40 Articles with 28031 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jul, 2018 Views: 909

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ