راستہ

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا کہ زندگی کے کسی موڑ پر دو راستے آ جاتے ہیں اور فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس طرف کو جانا ہے آخر کار ایک طرف تو جانا ہی ہوتا ہے کبھی کبھی دل میں آتا ہے موڑ پر ہی بیٹھ جاوں اور آس پاس کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا رہوں جیسے فلموں میں ہوتا ہے کوی پری آے اور ہاتھ پکڑ کر کوہ قاف کی سیر کرانے لے جاے

ایک اڑن کھٹولہ آے گا
کسی لال پری کو لاے گا

مگر کوی دھکہ پڑتا ہے اور ایک طرف چل پڑتا ہوں
ایسا محبت کاروبار مزہب ہر محاز پر ہی ہوتا ہے انسان کے ساتھ اور تھک ہار کر یا تو خود بیٹھنا پڑتا ہے مصلے پر یا مولوی صاحب کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور دروازہ کھلنے پر شفقت بھری آواز آتی ہے

آپ یہاں کیسے؟

ہم بھی کب کسی کو چھوڑتے ہیں کسی دن جب بیچارے مولوی صاحب کو دیکھتے ہیں ساحل سمندر پر تو ہم کہتے ہیں

آپ یہاں کیسے؟

اس پر یاد آیا ایک ہمارے کزن آے ہوے تھے ہمیں ایک شادی پر جانا تھا تو انہیں ساتھ لے گئےاب وہ کسی کو وہاں پہچانتے تو تھے نہیں ایک صاحب ملے جن کو کہیں دیکھا ہو گا بے ساختہ اِن کے منہ سے نکلا

آپ یہاں کیسے

اُنہوں نے بھی فوری جواب دیا میری تو بیٹی کی شادی ہے مجھے تو یہیں ہونا چاہئیے اور یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ

آپ یہاں کیسے؟

بات ہو رہی تھی مولوی صاحب کی تو مولوی صاحب لاکھ متقی پرہیزگار ہونے کے باوجود وہ مضطرب دل کہاں سے لائنگے جس کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے

انہی راستوں پر چلتے چلتے کچھ لوگ مل جاتے ہیں "کچھ لوگ " جو روٹھ کر بھی اچھے لگتے ہیں
بعد میں کیا ہوتا ہے یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں

ان ہی راستوں پر چلا بھی جا سکتا ہے اور دوڑا بھی
میں نے ایک ڈاکٹر کی لکھی ہوی کتاب پڑھی لکھا دیکھا صحت کا انحصار غزا ورزش اور نیند پر ہوتا ہے دوڑیے دوڑییے جان بچانے کے لیے دوڈیے

اور میں دوڑ گیا

میں بہت دور نکل گیا
انسان چلتے چلتے بہت دور نکل جاتا ہے مگر خوش قسمتی آڑے آتی ہے کوئ رہنما مل جاتا ہے

بحر حال جب بھی بھولے سے کبھی کوئ نیک ارادہ کرتا ہوں تو نہ جانے کہاں سے ایک شعر گونجتا ہے

میں سر بسجدہ ہوا کبھی
تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے صنم آشنا
تجھے کیا ملے گا نماز میں

پھر خود کو تسلی دیتا ہوں جو بزرگوں سے سُنا ہے کہ

وساوس اور خیالات کا آنا ایمان کی نشاندہی کرتا ہے
ایسے موقع پر ان کو آنے دو زیادہ دیہان نہ دو ورنہ عمل بھول کر آدمی ان کے ساتھ لڑنا شروع کر دیتا ہے

ایک راستہ جو آج کل زیرِ بحث بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ باثِ تشویش ہے کچھ ملکوں کے لیے جو چائنا سے پاکستان کے گوادر تک جاتا ہے جسے معاشی راہداری بھی کہا جاتا ہے جو کہ خوشحالی کا راستہ ہے

راستے اونچے نیچے آسان دشوار سیدھے ٹیڑھے طویل غرض کئ طرح کے ہوتے ہیں
کچھ دائرہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور والہانہ طور پر کسی ایک کے گرد گھومتے ہوے طواف کی شکل اختیار کر لیتے ہیں

ایک راستہ دینا ہوتا ہے جو قابلِ ستایش ہے مگر دوسروں کا راستہ روکنا اور راستہ پر ہی بیٹھ جانا جو کسی نیک مقصد کے لیے بھی مناسب نہیں جس کا رواج پڑتا جا رہا ہے

ایک راستہ جو سمندر نے دیا تھا قومِ موسیٰ کو جو خُدا پر بھروسہ کرنے والوں کی لیےآج بھی بن جاتا ہے مشکلوں کے درمیان

بات ہو رہی تھی راستوں کی تو راستہ چھوڑ کر پوری قوم مجھ سمیت بحث میں پڑی ہوئ ہے اگر مقصد خدا ہے تو رستہ مل جاتا ہے اور سارے نیک راستےاُسی کی طرف جاتے ہیں اور ایک راستہ ہے انعام یافتہ بندوں کا راستہ

اھدنا الصراط المستقیم

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 91861 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jul, 2018 Views: 207

Comments

آپ کی رائے