مچھلی کے شوقین حضور اکرمؐ کا یہ فرمان بھی پڑھ لیں

(KMR, Karachi)

مچھلی دنیا بھر میں مرغوب غذا سمجھی جاتی ہے، اس کی کئی اقسام ہیں لیکن اس کی ہر قسم جدا طبی خصوصیات کی حامل ہے. طب نبوی ﷺ میں مچھلی کے طبی فوائد کا ذکر ملتا ہے. نبی کریم ﷺ نے بے پناہ غذائی اور طبی فوائد کی وجہ سے ہی مچھلی کے گوشت کی خاص طور پر اِجازت عطا فرمائی. سفید مچھلی میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جبکہ تیل والی مچھلی میں غیرسیرشدہ چکنائی کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے جو کہ کولیسٹرول کے تناسب کو خود بخود کم کر دیتی ہے. اِس لئے اس کا اِستعمال بھی اِنسانی صحت کے لئے مفید ہے.

امام احمد بن حنبلؒ نے اور ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت میں کہا ہے ”نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مردے اور دو خون حلال کئے گئے مچھلی اور ٹڈی‘ جگر اور طحال بستہ خون“ مچھلی کو عربی میں سمک کہتے ہیں. اس کا گوشت اور تیل دل کے امراض کولیسٹرول، موٹاپا، ڈپریشن، کینسر، جلد، زخم اور دوسرے بہت سے امراض میں مفید ہے. مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا دل کے امراض میں ایک بہت مفید چیز ہے.مچھلی کا تیل ماں کے پیٹ میں بچے کی آنکھوں اور دماغ کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتا ہے. محقق و اطبا کہتے ہیں کہ سمندری مچھلیاں بہتر٬ عمدہ٬ پاکیزہ اور زود ہضم ہوتی ہیں . تازہ مچھلی بارد رطب ہوتی اور دیر ہضم ہوتی ہے. اس سے بلغم کی کثرت ہوتی ہے مگر دریائی اور نہر کی مچھلیاں اس سے مستثنیٰ ہیں. اس لئے کہ یہ بہتر اخلاط پیدا کرتی ہیں‘ بدن کو شادابی عطا کرتی ہیں اور گرم مزاج لوگوں کی اس اصلاح ہوتی ہے. مچھلی کا سب سے عمدہ حصہ وہ ہے جو دم کے قریب ہوتا ہے .تازہ فربہ مچھلی کا گوشت اور چربی بدن کو تازگی بخشتا ہے-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 13408 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language: