برساتی پکوائی

(Sana, Lahore)

ایک صاحب سے انکی بیگم نے پوچھا رمضان آرہا ہے روزے رکھو گے؟ وہ بولے گرمی ہے نہیں رکھوں گا۔ تراویح پڑھو گے پوچھا گیا تو ان صاحب نے جواب دیا کہ نہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ افطاری کرو گے تو فٹ سے بولے اب اتنا بھی کافر نہیں کیوں نہیں کروں گا افطاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرور کروں گا۔

اسی طرح ہم لوگوں کو بھی کھانے کا موقع چاہئے۔ سردی میں ہم اسلئے کھاتے یں کیونکہ سردی آتی ہی تھوڑے وقت کے لئے ہے اور سردی میں جو مزے کے چیزیں سوپ اور پائے کھا سکتے ہیں وہ تب ہی کھائی جا سکتی ہیں۔ گرمی میں گولہ گنڈا اور کریلے اسلئے کھاتے پیتے ہیں کہ یہ بھی صرف گرمی کی ہی چیزیں اور سوغاتیں ہیں۔ برسات میں اسلئے خوش ہوتے ہیں کہ اس میں پکوڑے سموسے جلیبی کھانے کا اپنا ہی مزہ آئیگا۔
جہاں ہم رہتے ہیں وہاں یہ ناممکن ہے کہ بارش تھوڑی بھی لگاتار پڑنے لگے اور بجلی نہ جائے۔ جہاں ہم رہتے ہیں وہاں بارش چھم چھم مطلب کھل کر برس جائے اور سڑکیں دریا نہ بن جائیں ۔ جہاں ہم رہتے ہیں وہاں ادھر بوندیں گرنا شروع ہوں ادھر بجلی آںکھ مچولی نہ شروع کرے۔ جہاں ہم رہتے ہیں وہاں اگر ٹرانسفارمر بارش سے خراب ہو جائے تو چوبیس گھنٹوں سے پہلے ٹھیک ہو جائے۔ جہاں ہم رہتے ہیں وہاں کھڑے پانیوں میں تیرتی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دھکوں کا انتظار کرتی نظر نہ آئیں۔

جہاں ہم رہتے ہیں اِدھر بوندں گرنے سے بھی پہلے کے بادل نظر آئیں اور ہر گھر میں کوئی نہ کوئی ایک جتنا پکوڑے چاہئیں نہ چلائے۔ سموسوں کی دکان پر رش نہ نظر آئے۔ یہی تو اچھی بات ہے جی کہ بارش کے ساتھ بہتے ندی نالوں سڑکوں کھت کھلیانوں کے باوجود بھی ہم اس بات پر اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کہ کچھ کھانے کے لئے مل جائے۔

یہ ہی تو اچھی بات ہے یہی تو اچھی سپرٹ ہے کہ ہم بارش میں اور اتنے مسئلوں میں بھی یہ نہیں بھولتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ مزے کا کچھ اچھا سا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھانا کھانا کھانا

انسان کی زندگی میں بھی اسی طرح اسباب آتے ہیں ۔ لوگ آتے ہیں مسئلے لاتے ہیں لوگ جاتے ہیں مسئلے چھوڑے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ خود کو حالات کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ بہت سے لوگ آنسو بہانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ رو دھو کر چڑ چڑے ہو کر پھر سے دوبارہ زندگی شروع کرتے ہیں۔

انسان کو زندگی میں اپنے لئے دکھوں کی برسات سے نکلنے کا راستہ۔۔ اور مبتلائے دکھ ہوتے ہوئے اپنے لئے ٹحنڈٰ ہوا کا راستہ بالکل اسی طرھ کھلا رکھنا چاہئے جس طرح ہم کسی بھی نئے آنے والے اور خاص طور پر کچھ کھلانے والے کے لئے راستہ خوشی سے چھڑے رکھتے ہیں۔

برسات میں ہم ہمیشہ کتنا قیمتی پانی ضایع ہونے دیتے ہیں۔ اپنی گلیاں سڑکیں کھمبے اسی طرح سے ہی رکھتے ہیں کہ وہ بارش کے ساتھ ہی بیٹھ جائے۔ ہم پھر بھی پانی سے لڑ کر صیح سلامت گھر پہنچ کر "فرنچ فرائز" اُڑا سکتے ہیں۔ اسکا مطلب ہے ہم سب کے اندر ایک بات ہے جو ہمیں مشکل میں ہمت بندھائے رکھنے کی توفیق دیتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 181970 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
20 Jul, 2018 Views: 676

Comments

آپ کی رائے