خشیت الٰہی کی اہمیت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: معصومہ ارشاد سولنگی ، سندھ
عبادت کی لغوی معنی کسی کی تعظیم کے غرض سے عاجزی اختیارکرنا ہے۔عبادت کا تعلق ہمارے دل ،زبان اور ہمارے اعضا سے ہے۔عبادت ہر اس عمل کو کہتے ہیں جو ہم رضائے الہی کی لیئے کرتے ہیں۔عبادات کی ساری اقسام زبانی ،مالی و جسمانی سب کی سب صرف اﷲ رب العالمین کے لیے مختص ہیں۔ ان عبادات میں روزہ، نماز، حج، زکوۃ اور دوسرے کئی ایسے عوامل پر دل و جان سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جن کی تعلیم ہمارے نبی نے دی ہے۔ جیسے کہ جہاد، امانتداری، زبان و قول کی پاسداری، اچھے کاموں کی ترغیب دینا، برے کاموں سے روکنا، اﷲ رب العالمین کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا جیسے عمل بھی شامل ہیں۔ جو صرف اﷲ رب العالمین کی خوشنودی و رضا کے لیے کیے جائیں اور جو کام اﷲ کی خوشنودی و رضا کے لیے کیا جائے اس میں تقویٰ، اخلاص اور خشیت الٰہی کاشامل ہونا نہایت ضروری ہے۔

جو انسان اپنے اندر خشیت الٰہی پیدا کرتا ہے۔ اخلاص اور اس کی تقویٰ کا معیار اسے اﷲ رب العالمین کے اور زیادہ قریب کردیتا ہے۔ یہ وہ اعمال ہیں کہ جن کا اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی سختی سے حکم دیا ہے۔ فرمان ربانی ہے ’’سب سے زیادہ جنت میں لے جانے والا عمل تقویٰ ہے‘‘۔ اس لیے ہر معاملے میں تقوی اختیار کریں۔خشیت و تقوی کی لغوی معنی کسی چیز سے دور رہنا ہے اور اسلامی لحاظ سے ہر اس کام سے خود کو باز رکھنا ہے جو اﷲ کی ناپسندیدگی کا سبب بنے۔ تقویٰ اور خشیت الٰہی کہلاتا ہے۔ تقوی و خشیت الٰہی کی خوبی انسان کو اﷲ کے بہت زیادہ قریب کر دیتی ہے۔

سورہ آل عمران میں اﷲ رب العالمین فرماتے ہیں’’اے ایمان والو! دل میں اﷲ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے‘‘۔سورہ النساء کی میں فرمایا ’’ہم تم سے پہلے اہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کرتے ہیں کہ اﷲ سے ڈرو‘‘۔سورہ طلاق میں فرمایا ’’اور جو شخص اﷲ سے ڈرے گا، اﷲ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا، بے شک اس رب زوالجلال کا ڈر دنیا و اخرت میں کامیابی کا ضامن ہے اور باقی ہر ڈر نجات دلانے والا ہے‘‘۔ ایک اور مقام پر فرمایا’’اگر تم اﷲ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں(حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی(بصیرت )عطا فرما دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گااور تمہیں بخش دے گا اور اﷲ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے‘‘۔

ہماری عبادت میں اگر خشیت و تقوی شامل رہے تو ہم ہر برائی سے دور کردیے جاتے ہیں ۔ سورہ انفال میں اﷲ رب العالمین فرماتے ہیں کہ ’’گر تم اﷲ سے ڈرو گے تو اﷲ تعالیٰ تم کو ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گااور تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا‘‘۔ایک اور مقام پر فرمایا ’’مومن تو وہ ہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اﷲ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل اس کی عظمت و جلالت اور خشیت سے کانپ اٹھتے ہیں‘‘۔
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ ’’اے اﷲ! میں تجھ سے ہدایت کا، پرہیزگاری (تقویٰ) کا، پاک دامنی کا اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں‘‘۔ (مسلم)

جس کے دل میں اﷲ کا خوف ہو وہ انسان کبھی کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا۔ وہ اپنی زندگی کو خالص اﷲ کی عبادت کے لیے وقف کرتا ہے۔ اپنی عبادت کو دنیاوی دکھاوے یا ریاکاری سے پاک رکھتا ہے۔ فرمان ربانی ہے کہ ’’اور انہیں حکم دیا گیا تھاکہ اخلاص کے ساتھ اﷲ کی عبادت کریں‘‘۔ ایک اور جگہ فرمایا ’’کہہ دو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کی میں خلوص (نیت)کے ساتھ اﷲ کی عبادت کروں‘‘۔

ان آیت کریمہ کی روشنی میں واضح ہے کہ کس بھی عبادت کے لیے نیت کا خالص ہونا کتنا ضروری ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں نبی آخر زماں کا فرمان ہے۔ ’’اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے اور ہر مرد کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی‘‘۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہر عمل کے لیے نیت کا صاف ہونا بہت ضروری ہے۔ جب نیت ہی نہیں صاف ہوگی تو یقینا ہمیں وہ قرب الٰہی نہیں ملے گا جس کی تمنا ہر مومن کے دل میں ہوتی ہے۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’ ایک شخص کو اﷲ وعزوجل نے مال و علم عطا کیا ہوتا ہے، وہ اپنے مال سے خرچ کرتا اور علم سے فائدہ دیتا ہے اور وہ دوسرا شخص بھی ہوتا جس کے پاس یہ دونوں چیزیں نہیں ہوتیں تو وہ کہتا کاش اﷲ نے مجھے دیا ہوتا میں بھی اس طرح خرچ کرتا تو اﷲ تعالیٰ اس کی نیت کے حساب سے اسے وہ اجر عطا کرتا ہے‘‘۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ صرف خالص نیت کرنے سے ہی انسان کو وہ اجر عظیم مل جاتا ہے۔

صحیح بخاری و مسلم کی ایک حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’بے شک اﷲ تمہاری صورتوں اور حالتوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ صرف تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے‘‘۔یہاں دلوں سے مراد انسان کی نیت ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے ایک جگہ اور ارشاد فرمایا ہے کہ ’’جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور کسی وجہ سے اس کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکا تو اس کے لیے نیکی لکھ دی جائے گی‘‘۔
انسان کی پیدائش بھی اﷲ رب العالمین کی عبادت کے لیے کی گئی اور کوئی بھی عبادت تقویٰ، اخلاص اور خشیت الٰہی کے بغیر نامکمل ہے۔ اﷲ رب العالمین ہم سب کو تقویٰ اخلاص و خشیت الٰہی کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطا کرے ، آمین یا رب العالمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 502180 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2018 Views: 217

Comments

آپ کی رائے