نظریات اور برادری ازم

(Dr B.A Khurram, Karachi)

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر وقاص خرم
این اے 162 بوریوالا میں 2018ء عام انتخابات کے لیے کل چار لاکھ 23 ہزار 613 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں سے دو لاکھ 38 ہزار 501 مرد اور ایک لاکھ 85 ہزار 112 خواتین ووٹرز رہیں جوڑ توڑاور سیاسی سرگرمیاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ملک عزیز کی تین بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی اور پی پی پی سمیت لبیک یا رسول اﷲ اور متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ ’’جٹ گروپ‘‘بھی میدان میں آمنے سامنے ہیں سابق ایم این اے چوہدری نذیر احمد آرائیں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد ان کے برادر حقیقی چوہدری فقیر احمد آرائیں،پی پی 230 سے سردار خالد محمود ڈوگر اورپی پی 229سے چوہدری یوسف کسیلیہ اپنی جیت کے لئے بہت پر امید دکھائی دے رہے ہیں سابق ممبر پنجاب اسمبلی چوہدری خالد محمود چوہان کو این اے 162 اور نیچے پی پی 230 خالد نثار ڈوگر شہری حلقہ جبکہ دیہی حلقہ پی پی 229سے ہمایوں افتخار چشتی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں واضح رہے کہ چوہدری خالد محمد چوہان کے والد محترم چوہدری قربان علی چوہان 1988میں آزاد حیثیت سے ایم پی اے اور 1993میں پی پی پی کے پلیٹ فارم سے ایم این اے منتخب ہوچکے ہیں پی ٹی آئی کے امیدوار قومی اسمبلی کو گجر برادری اور پی ٹی آئی کے نظریاتی ووٹر کی بھر پور حمایت حاصل ہے پی پی پی کے پلیٹ فارم سے این اے 162سے چوہدری کامران یوسف گھمن میدان میں ہیں یوں تو حلقہ میں پی پی پی کا نظریاتی ووٹ موجود ہے لیکن یہ نظریاتی ووٹ اپنی قیادت سے خفا ہے اگر پی پی پی کے امیدوار پارٹی ووٹ کو متحرک کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کم ازکم ضمانت ضبط ہونے سے بچ جائیں گے-

پی ٹی آئی نے این اے 162اور نیچے دو صوبائی حلقوں کے لئے ’’جٹ گروپ ‘‘ کا ٹکٹ جاری کئے تونظریاتی گروپ نے پارٹی قیادت کے فیصلے کو مسترد کر دیا احتجاج کرتے ہوئے ہائی کمان سے پینل کے ٹکٹ کی منسوخی کا مطالبہ بھی کیا جو بعد ازاں ’’جٹ گروپ ‘‘ کے پارٹی ٹکٹ کینسل دیئے بدلتے منظر نامہ میں ’’جٹ گروپ ‘‘نے اپنا نیا پینل ترتیب دیا اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کااعلان کردیا نئے بننے والے پینل میں عائشہ نذیر جٹ قومی اسمبلی جبکہ پی پی 230 عبدالحمید بھٹی اور پی پی 229چوہدری عثمان وڑائچ شامل ہیں عبدالحمید بھٹی بورے والہ سے 1993میں ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہو ئے تھے جبکہ چوہدری عثمان وڑائچ دوبار تحصیل ناظم رہ چکے ہیں سابق ایم این اے چوہدری نذیر احمد جٹ کی سربراہی میں آزاد حیثیت سے ’’ٹیلی ویژن‘‘ کے انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں سرگرم ہے ’’جٹ گروپ ‘‘نے اپنے دور حکومت میں حلقہ میں اربوں کے ترقیاتی کام کرائے اور میگا پروجیکٹ سوئی گیس کی فراہمی ان کا عظیم کارنامہ ہے حلقہ کی جٹ برادری کے ساتھ ساتھ مختلف برادریوں کی بااثر شخصیات نے عائشہ نذیر جٹ کی حمایت کا اعلان کیا جس سے ان کی پوزیشن کافی مستحکم دکھائی دیتی ہے -

سابق ایم پی اے چوہدری ارشاد آرائیں نے اپنی جماعت مسلم لیگ ن سے بغاوت کرتے ہوئے پی پی 230 سے آزاد حیثیت سے انتخابات میں ’’گھڑے‘‘ کے انتخابی نشان کے ساتھ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں مسلم لیگ کے کونسلرز کی اکثریت بھی ان کے ساتھ ہے اپنے پچھلے پانچ سالہ دور میں بہت متحرک رہے ترقیاتی کام بھی خوب کرائے اور اپنے ووٹروں سے مسلسل رابطے میں رہے ووٹوں کی تقسیم سے ’’ن ‘‘ کے ٹکٹ ہولڈڑسردار خالد محمودڈوگرکو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ’’ن ‘‘ کا باغی امیدوار ’’ن ‘‘ کے ووٹ بنک اثر انداز ہوگا پی ٹی آئی کے سردار خالد نثارڈوگرکے ساتھ بھی یہی مسلہ درپیش ہے ایک ہی حلقہ سے ڈوگر برادری کے دوامیدوار آمنے سامنے اور پی ٹی آئی کے آزاد امیدواران کے لئے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں متحدہ مجلس عمل بھی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے لئے اپنے امیدوار میدان میں اتار چکی ہے این اے 162میں قاری شاہیں اقبال قصوری اور پی پی 230 میں توصیف مجید چوہدری الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں یہ امیدوار یقینا مذہبی ووٹ حاصل کریں گے گگو منڈی کے صوبائی حلقہ میں مسلم لیگ ن ، جٹ گروپ کے امیدوارچوہدری عثمان وڑائچ اورپی پی پی کے سابق ایم پی اے چوہدری محمود اختر گھمن کے صاحبزادے سلمان محمود گھمن جو کہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ان تینوں امیدواروں کوخوب محنت کی ضرورت ہے کیونکہ جٹ برادری کاووٹ بنک تین دھڑوں میں بٹ چکا ہوا ایسے حالات میں پی ٹی آئی کے امیدوار ہمایوں افتخارچشتی اگر لوکل ووٹ بنک اپنے پلڑے میں ڈالنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کی جیت کے امکانات روشن ہیں جٹ برادری کا ووٹ تقسیم ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری یوسف کسیلیہ اپنی سابقہ کارکردگی کی بنا جیت کے لئے پر امید نظر آتے ہیں ’’جٹ گروپ‘‘ کے چوہدری عثمان احمد وڑائچ کو الیکشن کے ’’داؤ پیج ‘‘خوب آتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں یہاں پہ سخت محنت کی ضرورت ہے اب سیاست مین نظریات کی جگہ برادری ازم نے لے لی ہے ووٹر نظریات رکھنے کے باوجود اپنی برادری کے امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ بورے والہ سے قومی اور صوبائی پینل میں نظریاتی حاوی ہوتے ہیں یا برادری ازم کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اس کا فیصلہ 25جولائی کی شام کو بیلٹ بکس کھلنے کے بعد ہوگا-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 550 Articles with 233734 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2018 Views: 257

Comments

آپ کی رائے