آنکھیں بولتی ہیں

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

آنکھیں بھی کتنی لاجواب تخلیق ہیں قدرت کی اور کتنی بڑی نعمت ہیں کہ اسی سے دنیا دیکھی جاتی ہے اور ہر طرح کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور ان کا بند ہونا بھی منفعت سے خالی نہیں
آنکھیں بند کرو تو آدمی تصور کی دنیا میں کھو جاتا ہے خواب بھی بند آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے

ظاہر کی آنکھ بند ہو تو باطن کی آنکھ کھلتی ہے جس کو مراقبہ بھی کہتے ہیں

ایک آنکھ کے بے شمار استعمال ہیں اور شاعروں سے بڑھ کر ان کا استعمال تو شائد ہی کسی نے کیا ہو
جیسے

آنکھیں اونچی ہویں تو ادا بن گئیں
آنکھیں نیچی ہوئیں تو حیا بن گئیں

ایک دیکھنا یہ بھی ہوتا ہے

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوے سورج کو زرا دیکھ

اگر کوئ آپ سے ٹکرا جاے تو آپ کہیں گےدیکھ کر نہیں چلتے حالانکہ وہ دیکھ کر ہی چل رہا ہوتا ہے مگر کہیں اور دیکھ رہا ہوتا ہے اور جس کو دیکھ رہا ہوتا ہے وہ ٹکراتا نہیں لیکن نظریں ٹکرا گئ ہوتی ہیں اور محبت کی ابتدا ہو جاتی ہے

اور کسی کی ایک نگاہ کام کر جاتی ہی جو اقبال نے کہا
کوی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زورِبازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

نظر کی بات ہو رہی ہے تو گہری نظر شوخ نظر ترچھی نظر اور نظر لگ بھی جاتی ہے اور کسی کی نظر مستقبل پر اور کسی کو سامنے پڑا نظر نہ آے

واپس آنکھوں پر آجاتے ہیں جو خوبصورت تو سب ہوتی ہیں مگر انداز الگ ہوتے ہیں کوئ بادامی آنکھیں تو کسی کی غزالی اور کسی کی نشیلی آنکھیں

میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

کسی کی آنکھ میں نمی تو کسی میں خوشی کسی میں اُداسی تو کسی میں اتنی گہرائ کہ اگر اُس میں اُتر جاو تو اترتے ہی چلے جاو پھر اپنے آپ کو ہی ڈھونڈتے پھرو۔
اس سے یاد آیا ایک زمانے میں اداکاری کا شوق چڑھا سین ہیروئن کے ساتھ تھا ہدایت ملی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنی ہے فوری عمل کیا دیکھا تو دیکھتا ہی چلا گیا بھول گیا کہاں ہوں
اصل میں کردار کو طاری کرنا ہوتا ہے اپنا کردار بچاتے ہوے ورنہ ہدایت کار کی نظروں میں گرے تو وہ حکومت کی طرح کیفر کردار تک پہنچا سکتا ہے

آنکھوں سے جزبوں کا اظہار بھی ہوتا ہے ناراضگی ناپسندیدگی غصہ خوف چالاکی اطمنان خوشی غم سب جھلکتا ہے اور پانی بھی انہی سے چھلکتا ہے جو آنسو بن جاتا ہے ۔کوئ آنکھوں میں بستا ہے تو کوئ آنکھوں میں کھٹکتا ہے
کوئ گھورنے پر نہ سمجھے اور کسی کو آنکھ کا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ آنکھ کا تارہ ہوتے ہیں مگر کبھی آنکھ کا بال بھی بن جاتے ہیں اور کچھ چیزیں آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہوتی ہیں ۔ اہل و عیال کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے کی دعا بھی سکھائ گئ ہے

ایک تیسری آنکھ ہوتی ہے
مائنڈ سائینس کے مطابق یہ دونوں آنکھوں کے درمیان ذرا سا اوپر اندر کی طرف اس کا مقام ہوتا ہے کچھ لوگ اس پر توجہ کر کے کچھ انہونئ معلومات اور کمالات دکھاتے رہتے ہیں مگر اس میں شعبدہ بازیاں زیادہ اور منفعت کم نظر آتی ہے

ایک بزرگ کی کتاب میں ذکر تھا آنکھ کی مشق کا جس سے آنکھوں کی شفائ قوت کو بروے کار لا کر بنی نوع انسان کی خدمت کی جا سکتی ہے

لوگ کہتے ہیں سگرٹ میں نشہ ہے میں نے بھی ایک دو کش لیے مجھے تو سواے دھوئیں اور بے چینی کے کچھ نہ ملا ہاں گھر والوں نے ضرور مشکوک انداز میں پوچھا

یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے

میں نے کہا مہدی حسن کو پتہ ہو گااور بھی نشہ آور چیزیں ہیں جن سے بچنے کا حکم ہے مگر چاے اور آنکھ کے نشے سے میں بھی نہ بچ سکا

ایک دل کی آنکھ ہوتی ہے اگر وہ کُھل جاے تو ہر چیز میں خُدا نظر آتا ہے

جدھر دیکھتا ہوں میں
اُدھر تُو ہی تُو ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 233 Articles with 92108 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2018 Views: 516

Comments

آپ کی رائے