ویلکم ٹو عمران خان لیکن۔۔۔۔

(Ghulam Mustafa Haziq, )

کھلاڑی میں سب سے بڑی خوبی اس کی انتھک محنت ہوتی ہے دھوپ ،چھاوئں،سردی ہو یا گرمی غرض موسم جیسا بھی ہو، ایک کھلاڑی اس کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ ایسی لاپرواہی اس کی گیم کا حصہ ہوتی ہے ۔کرکٹ کے کھیل کی اننگز بھی کافی لمبی ہوتی ہیں پورا پورا دن کیا رات بھی لگ جاتی ہے لگاتار بیٹنگ ،باوئلنگ ،فیلڈنگ اور لگاتار پسینے سے اعصاب تک چٹخ جاتے ہیں لیکن جیت کی امنگ کھلاڑی میں نیا ولولہ بھرے رکھتی ہے خان صاحب کی سیاست کی یہ اننگ بھی مسلسل 22سالہ محنت کا شاہکار ہے جس کے باعث وہ ایک انقلابی اور تاریخ ساز فتح کے حقدار ٹھہرے ہیں۔ دنیا میں کافی کھلاڑی ایسے ہیں جنھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا لیکن جو شہرت اور کامیابی عمران خان کے حصے میں آئی اس کی نظیر نہیں ملتی ،سارا مغربی میڈیا خان صاحب کی ووٹنگ سے پہلے ہی ان کی کامیابی کی پیشکوئی کرچکا تھاجو کہ کافی حیران کن خبر تھی کیونکہ ہمارے پاکستان میں تو حالات پل پل بدلتے ہیں پھر بھی ایسی مستند رپورٹ مغربی میڈیا سے کافی تعجب خیز بات تھی یا تو اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ شفاف الیکشنز کے بارے میں ہونے والی تیاریوں سے واقف تھے جس کے لیے فول پروف پروگرام ترتیب دیئے گیے تھے (یا پھر وہ خان صاحب کی طلسماتی شخصیت سے ہم پاکستانیوں سے زیادہ واقف ہیں) اورپھر ساری دنیا نے تسلیم بھی کیا کہ واقعی پاکستان میں شفاف اور کامیاب الیکشن ہوئے۔
اس میں کوئی شک نہیں عمران خان صاحب آپ بلوچستان کے علاوہ تینوں صوبوں سے بھاری مینڈیٹ سے جیتے ہیں جو کہ ایک تاریخ ساز کامیابی ہے لیکن یہ مت بھول جایئے گا کہ عوام میں پہلی دفعہ بھاری اکثریت کے شعور نے جگہ بنائی ہے اور آپ پر اعتماد کیا ہے شعور کی واضح مثال کراچی ہے جہاں سے ۱۴ سیٹوں سے آپ کو بڑی کامیابی ملی ہے ان کو لازمی یاد رکھیں ان بے چارے پاکستانیوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے یہ خود تو پیاسے رہ سکتے ہیں لیکن یہ اپنی معصوم نسل کو پیاسا رکھنا نہیں چاہتے بس اس لیے ان میں تبدیلی آگئی ہے ان کی تبدیلی کا احترام کیجئے گا ۔عمران خان صاحب میں آپ کو آپکی کامیابی کے اعداد و شمار نہیں گنوانا چاہتا ،میں بس کچھ گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں یوں تو پاکستان کے انگنت مسائل ہیں جن کا آپ سدباب کرنا چاہتے ہیں لیکن۔۔۔۔سب سے پہلے عوام کے وہ مسائل حل کریں جو کہ عوام کے جینے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں وہ یہ ہیں صحت ،تعلیم اور انصاف۔

صحت کے حوالے سے سارے پاکستان میں ایک جیسی سہولیات کا فراہم کرنا بہت ضروری ہے دور دراز علاقوں سے لوگ بعض دفعہ ٹائم پہ ہسپتال نہیں پہنچ پاتے اور ان کی ڈیتھ ہوجاتی ہے چاروں صوبوں میں دل اور گردے کے علاج کے لیے یکساں نظام نہیں ہے زیادہ سہولیات لاہور ، کراچی ، ملتان یا اسلام آباد میں ہی ہیں اور ان میں بھی مریضوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے ایک غریب مریض کنگن پور سے لاہور علاج کے لیے آئے گا توخرچہ سن کے ہی بھاگ جائے گا اور بیماری میں ہی گزارہ کرے گا میری خان صاحب آپ سے یہ گزارش ہے کہ مریضوں کا علاج سارے پاکستان میں امیروں اور غریبوں کے لیے یکساں اور پائیدار ہوبلکہ ہوسکے تو فری کیا جائے اور سو ڈیڑھ سو مربع کلومیٹر کے دائرے میں پورے پاکستان میں ایسی ہنگامی سہولیات فراہم کی جائیں کہ جو مریضوں کو ان کے گھر تک فری سروس دے سکیں اور باقائدہ ان سروسز کو چیک کیا جائے اور سستی کی صورت میں انھیں سزا بھی دی جائے اور اچھی کارکردگی کو سراہا بھی جائے جو ان کی سروس اسیسمنٹ پر اثر ڈالے۔

دوسری آپ سے گزارش تعلیم کے متعلق ہے یہ انتہائی اہم فیکٹر ہے جس میں بہت سے ملک دشمن این جی اوز ملوث ہوچکی ہیں جنھوں نے ہماری نسلوں کی کتابوں سے قومی ترانہ غائب کرنے کے علاوہ ہمارے آقا فخر موجوداتﷺکی سیرت کے متعلق کمی بیشی کرنی شروع کر رکھی ہے( حد یہ کہ این جی اوز جو کتابیں ہمارے اداروں کو دے رہی ہیں ان میں پاکستان کے نقشے سے آزاد کشمیر کو غائب ہی کردیا گیا ہے) جو ہمیں کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے اور سب سے اہم بات ہمارے ملک میں تعلیم امراء کے بچوں کے لیے اور غریبوں کے بچوں کے لیے یکساں نہیں رہی،یہ بہت غلط بات ہے کیونکہ اس وجہ سے آئندہ نسل ذہنی طور پر دو طبقات میں تقسیم ہوجائے گی جو آگے چل کے پاکستان کے لیے بہت بڑا رسک ثابت ہوگی جس کا بھیانک نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک طبقہ ذہنی طور پر غلام ہوگا اور دوسرا طبقہ خود کو آقا متصور کرے گا۔اس کے علاوہ نصاب میں بہت سی خامیاں ہیں جن میں تبدیلی کی کبھی کوشش بھی نہیں کی گئی حالانکہ کے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ نصابی تبدیلیاں بھی ناگزیر ہوتی ہیں یقین مانیے آج کل گریجویشن پاس اسٹوڈنٹ کا اتنا کیلیبر نہیں ہوتا کہ وہ کسی سے انگلش میں روانی سے گفتگو کرسکے،ایک ایم اے اردو کی اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ اسے شاعری کی بحر کا وزن کرنا ہی آتا ہو اور تو اور ایک وکالت کا اسٹوڈنٹ اپنے تین سالہ یا پانچ سالہ نصاب پاس ہونے کے بعد وہ کسی سینئر وکیل کے انڈر رہ کر سارا ڈاکومنٹری پراسس سیکھتا ہے اور کافی لمبی پریکٹیکل لائف کے بعد وہ پریکٹس کرنے کا رسک لیتا ہے جب کہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ طالب علمی کے دور میں ہی اسے کم از کم آخری دوسال کسی سینئر کے ساتھ پریکٹس کرنے کی نہ صرف اجازت ہو بلکہ سینئر وکیل اسے پریکٹیکل کے نمبروں سے بھی نوازے اور غلط نوازش کی صورت میں اس کا وکالتی لائسنس تحویل میں لیا جائے اس سے سب پریکٹیکل ہوجائیں گے اور ملک و قوم کو فائدہ ہوگا ،خان صاحب تعلیم میں بے پناہ خامیاں ہیں یہ لمبا ٹاپک ہے لب لباب بس یہی ہے کہ تعلیم میں انقلابی اصلاحات ناگزیر ہیں

اب خان صاحب ہم آخری فیکٹر کی طرف آتے ہیں جو کہ ہماری عوام کے زندہ اور آزاد قوم کا آزاد شہری رہنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے یہ فیکٹر ہے کہ سستے اور فوری انصاف کا فراہم کرنا ۔یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انصاف کس طرح بک رہا ہے اور جب انصاف کی بولیاں لگ جائیں تو معاشرہ تو زوال پزیر ہوگا ہی اور پھر غرباء انتقام لینے کو ترجیح دیں گے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ انصاف پیسے سے ملتا ہے اس لیے وہ انصاف کی طرف راغب نہیں ہونگے جس سے معاشرے میں عدم اتحکام پیدا ہوگااور لازمی بات ہے ایسے انصاف کی وجہ سے معاشرہ دو دھڑوں میں بٹ رہا ہے جو سراسر جمہوریت کی ناکامی ہے اس لیے سستا اور فوری انصاف عوام الناس کو مہیا کرناانتہائی ناگزیر ہے ۔حالت یہ ہے کہ کئی نسلیں جیلوں میں انصاف کی منتظر ہیں جن کا فیصلہ نہیں ہوسکا اور لازمی بات ہے ان میں بے قصور لوگ بھی ہونگے کیونکہ عدالت نے انھیں ابھی قصوروار ثابت نہیں کیا یہ بہت بڑا المیہ ہے جمہوریت کے لیے اور بڑے ہی دکھ کہ بات ہے بے انصافی پنپنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے تفتیشی افسر کا حقائق کو بالائے طاق رکھ کے غط رپورٹ تیار کرنا ،گواہوں کا بک جانا، اور جج یا وکیل صاحب کا رشوت لینا بھی شامل ہے تو ضروری ہے کہ ایسے کرپٹ عناصر سے سختی سے نپٹا جائے اور انھیں انتہائی سخت سزاوئں کی وعید بھی سنائی جائے بلکہ جو قابو آئے اسے نشان عبرت بنایا جائے کیونکہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی انتہائی ناگزیر ہے ۔ویلکم ٹو عمران خان لیکن۔۔۔۔پہلے وہ مسائل حل کریں جو ہماری عوام کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Haziq

Read More Articles by Ghulam Mustafa Haziq: 12 Articles with 4514 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2018 Views: 346

Comments

آپ کی رائے