عازمین حج کی خدمت میں گزارشات

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

اس وقت دنیا بھر سے عازمین حج کے قافلے یہ اہم ترین فریضہ ادا کرنے کیلئے سر زمین حجاز کی طرف رواں دواں ہیں۔حج ایک ایسا عمل ہے جس سے دل کی کیفیات میں انقلاب رونما ہوتا ہے،سفر کی مشکلات سے حلم وبرد باری،عفو وایثاراور تواضع کی دولت حاصل ہوتی ہے اور وجدان میں اﷲ پاک کے مشاہدہ کا احساس اٹھکیلیاں لینے لگتا ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے جہاں مناسک حج کی ادائیگی سے متعلق دینی مسائل و احکامات سے آگاہی ضروری ہے وہاں اپنی صحت، تحفظ اور سفری احوال سے متعلقہ معاملات کی واقفیت بھی بہت اہم ہے۔ ماضی میں ہونے والے بہت سے سانحات( جن میں ہزاروں افراد جان گنوا بیٹھے)کا بنیادی سبب انتظامی خامیوں کے ساتھ ساتھ عازمین حج میں وہاں کے معروضی حالات سے آگہی کافقدان بھی تھا۔ حج بیت اﷲ شریف مالی لحاظ سے صاحب حیثیت اور شرعی شرائط پر پورااترنے والے مسلمان مردو عورت پر زندگی میں ایک دفعہ فرض ہے۔ تفصیلی مسائل جاننے کیلئے مستند کتب اور آڈیو و ڈیو ڈیوائسز عام دستیاب ہیں البتہ ان کے مستند ہونے کے بارے کسی صاحب علم سے پوچھ کر اطمینان کر لیں۔ عمومی طور پر حج گروپ کے منتظمین بھی اس سلسلے میں مدد کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے تجربات کی روشنی میں چند معروضات پیش کرنی ہیں تاکہ عازمین حج آسانی سے یہ فریضہ ادا کر سکیں اور ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ جب اس مبارک سفر کیلئے گھر سے روانگی ہوتی ہے تو احرام کی چادریں اور لوازمات ساتھ لے جانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ مختلف صورتوں میں گھرسے، ائرپورٹ پر یا کبھی جہاز میں بھی احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ میقات کی سرحد تک پہنچنے سے پہلے احرام باندھ کر نیت کر لی جائے۔ اس سلسلے میں ایک عام غلطی کا ارتکاب پریشانی کا باعث بنتا ہے۔وہ یہ کہ جب اہل خانہ پیکنگ کر رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات صورت حال سے مکمل واقف نہیں ہوتے۔ احرام کی چادریں بڑے سوٹ کیس میں رکھ دیتے ہیں جو ائر پورٹ سے بک ہو کر جدہ میں وصول ہوگا۔ جب راستے میں احرام باندھنے کا وقت آتا ہے تو احرام نہیں ہوتا۔ دوران سفر کئی دفعہ ہم نے ایسی صورت حال کا مشاہدہ کیا۔ اب دو ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو کسی دوسرے ساتھی کے پاس اضافی احرام کی چادریں ہوں تو عنایت کردے یا ائرپورٹ پر کوئی دکان ہو جہاں سے خریدا جا سکے۔ لھذا اپنا احرام اور دوران احرام پہننے کیلئے جوتے وغیرہ دستی سامان والے بیگ میں ڈالیں نہ کہ بڑے بیگ میں۔ ہم جتنی بھی عبادات کی نیت کرتے ہیں ان میں سے سوائے حج اور عمرے کے کسی بھی عبادت کے آغاز میں یہ نہیں کہا جاتا کہ’’ اے اﷲ پاک اسے میرے لئے آسان کرنا ‘‘ لیکن اس سفر میں جب عمرہ یا حج کے احرام کی نیت کی جاتی ہے تو اس طرح کہ ’’ اے اﷲ پاک میں حج/ عمرہ کی نیت کرتا /کرتی ہوں اسے میرے لئے آسان کرنا اورمیری طرف سے قبول کرنا‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مشقت والی عبادات ہیں جنہیں صبر و استقامت اور ہمت و حوصلہ کے ساتھ بجا لانا ہوتا ہے۔۔عبادات کی تین قسمیں ہیں، زبانی عبادت، بدنی عبادت اور مالی عبادت۔ حج بیت اﷲ شریف ان تمام عبادات کا مجموعہ ہے۔ جب احرام باندھتے ہیں تو نیت کے ساتھ ہی زبان سے بآواز بلند تلبیہ پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ اسی طرح مختلف مقدس مقامات پردعائیں اور التجائیں، تلاوت قرآن اور تسبیح و تہلیل ، یہ سب زبانی عبادات ہیں۔ جسم سے بنفس نفیس اس سفر کو طے کرنا بدنی عبادت ہے۔ مالی حیثیت مستحکم ہو نے کی صورت میں ہی حج فرض ہوتا ہے۔ جو مال اس سفر کے دوران خرچ کیا جاتا ہے وہ مالی عبادت ہے۔ہر عبادت کیلئے نیت کی درستگی ضروری ہے۔ لھذاحج بیت اﷲ شریف کے لئے روانگی سے قبل اپنی نیتوں کا قبلہ درست کرنا از حد ضروری ہے۔ انسان کمزور ہے بسا اوقات کسی کج فہمی یا خوش فہمی میں مبتلا ہو کر گناہ کر ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ زندگی کے اس اہم ترین سفر پر روانگی سے قبل صدق دل کے ساتھ اﷲ تعالی کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں۔ خدا نخواستہ کسی سے زیادتی کی ہو، کسی کا ناحق مال کھایا ہو یا کسی کی زمین، جائداد پر قبضہ کیا ہو تو پہلے اس کا ازالہ کریں۔کچھ لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ ساری زندگی حرام حلال کی تمیز کیے بغیر لوگوں کا مال ہڑپ کرتے رہو اور پھر جا کے حج کرلو۔ اس طرح گناہ بھی معاف ہوگئے اور عیش و عشرت بھی کر لی۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو تو دھوکا دے سکتے ہیں لیکن اﷲ کریم کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ لھذا جن عبادات کی قضا ہوسکتی ہی ان کی قضا کرے۔ مثلا نماز روزے کی قضا۔ جن مالی عبادات کی ادائیگی ہو سکتی ہے انہیں ادا کرے مثلا ذکوۃ و صدقہ فطر۔ جن حقوق العباد کی خلاف ورزی ہوئی ہو ان میں سے جن کی معافی مانگنا ضروری ہے وہاں معافی مانگے۔ جہاں مالی لحاظ سے کسی کا حق ادا ہوسکتا ہے وہ ادا کرے۔یہ حاضری خوشبخت لوگوں کو نصیب ہوتی ہے لھذا اس کی قدر دانی بھی بہت ضروری ہے۔ نبی محتشمﷺ نے فرمایا کہ جب خانہ کعبہ شریف پر تمہاری پہلی نظر پڑے تو جو دعا کروگے قبول ہوگی۔ ایک شخص نے حضرت امام ابو حنیفہ رح سے پوچھا کہ اس موقع پر میں کیا دعا کروں تو آپ نے جوابا فرمایا کہ اس وقت یہ دعا کرو کہ ’’ اے اﷲ پاک آج کے بعد میں جو بھی دعا کروں اسے شرف قبولیت عطا فرمانا‘‘۔ حج کے دوران تین چار ملین کے قریب افراد کا اجتماع ہوتا ہے۔ ان میں بوڑھے، بچے، مرد اور عورتیں بھی شریک ہوتے ہیں۔ جہاں کسی ہم سفر کو مدد کی ضرورت ہو اخوت اور بھائی چارے کا ثبوت دیتے ہوئے، اس کی خلوص کے ساتھ مدد کریں۔مختلف مقامات پر اور خصوصا دوران طواف عورتیں بھی شریک عبادت ہوتی ہیں۔ شیطان اور نفس امارہ وسوسے ڈال کر بد نگاہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ زندگی بھر کے گناہ معاف کروانے کیلئے وہاں حاضری ہوتی ہے۔ کیوں کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ جس کا حج قبول ہوجائے اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ نو مولود بچہ ‘‘۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں بھی بے احتیاطی کر کے پہلے سے بڑا گناہوں کا ٹوکرا ساتھ لے کر واپس آجائیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں مقامات مقدسہ کے ادب و احترام کا ہر لمحہ خیا رکھیں۔ اس سفر کے دوران جب مدینہ طیبہ میں اپنے پیارے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری نصیب ہو تو انتہائی ادب و احترام سے عاجزانہ سلام پیش کریں۔ حرکات و سکنات، چلنے پھرنے اور گفتگو سے بھی کوئی بے ادبی نہ ہونے پائے۔
ادب گائیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ مے آید ، جنید و با یزید ایں جا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 126805 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
06 Aug, 2018 Views: 435

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ